- الإعلانات -

فیس بک نے کورونا وائرس سے متعلق لاکھوں جعلی پوسٹس ڈیلیٹ کردیں

ایسا لگتا ہے کہ فیس بک میں کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے افواہیں اور جعلی تفصیلات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

سماجی رابطے کی مقبول ترین سائٹ نے بتایا ہے کہ اپریل سے جون کے دوران اس نے کووڈ 19 کے حوالے سے جعلی تفصیلات پر مبنی 70 لاکھ پوسٹس کو ڈیلیٹ کیا۔

اس سے ہٹ کر 9 کروڑ 80 لاکھ پوسٹس پر ایسے لیبلز کا اضافہ لگایا جو فیکٹ چیکرز کو درست محسوس نہیں ہوئی مگر وہ تفصیلات اتنی اہم نہیں تھی کہ انہیں ڈیلیٹ کیا جاتا۔

کمپنی کی جانب سے کمیونٹی اسٹینڈرڈ رپورٹ کے ساتھ یہ اعدادوشمار جاری کیے گئے جس میں فیس بک سے ہٹائے جانے والے مواد کے بارے میں تفصیلات دی گئیں۔

فیس بک کی جانب سے عموماً اس طرح کی رپورٹس میں جھوٹی تفصیلات پر مبنی پوسٹس کے اعدادوشمار نہیں دیئے جاتے۔

مگر کمپنی کا ککہنا تھا کہ اس نے کورونا وائرس کے خطرات کو مدنظر رکھ کر سخت ترین قوانین کا اطلاق اس وبا کے حوالے سے پوسٹس پر کیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے ایسی پوسٹس کو ہٹایا گیا جن میں کووڈ 19 کے علاج کے حوالے سے جعلی دعوے کیے گئے جبکہ ایسی اطلاعات پر بھی کارروائی کی گئی جن کو طبی اداروں نے خطرناک قرار دیا تھا۔

کمپنی کی جانب سے مستند طبی تفصیلات کو زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے اقدامات کیے گئے جبکہ فیس ماسکس کے استعمال کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔

ان تمام تر اقدامات کے باوجود کووڈ 19 کے حوالے سے فیس بک اور انسٹاگرام پر افواہوں اور جھوٹی تفصیلات کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

مئی میں ایک ویڈیو فیس بک پر وائرل ہوئی تھی جس میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیس ماسکس کا استعمال لوگوں کو بیمار کرتا ہے اور کورونا وائرس لیبارٹری میں تیار ہوا۔

اس ویڈیو کو جب تک فیس بک نے ہٹایا اسے لاکھوں بار دیکھا جاچکا تھا اور ایسا ہی گزشتہ ماہ ایک اور ویڈیو میں دیکھنے میں آیا۔

اس ویڈیو میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ انسداد ملیرا دوا ہائیڈراآکسی کلوروکوئن کووڈ 19 کا علاج ہے، جسے 2 کروڑ سے زائد بار ایک دن میں دیکھا گیا، جس کے بعد فیس بک نے اس کے خلاف کارروائی کی۔

دونوں واقعات میں ویڈیوز کو کاپی کرکے بار بار فیس بک اور انسٹاگرام میں پھیلایا گیا۔

گزشتہ ہفتے فیس بک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پوسٹ کو ڈیلیٹ کیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بچے کووڈ 19 سے محفوظ ہیں۔

یہ ویڈیو بھی سوشل نیٹ ورک پر کئی گھنٹوں تک رہی اور لاکھوں بار دیکھی گئی جس کے بعد اسے ہٹایا گیا۔