- الإعلانات -

اب آپ ماحولیاتی ایمرجنسی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں

دنیا اس وقت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے ، ہر آنے والا دن ، سال اور مہینہ اپنے اندر لازماََ کچھ نہ کچھ نیا بدلاؤ ضرور لا رہا ہے ۔ ماحولیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال فروری میں اوسط درجہ حرارت ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ رہا، جو کہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں خطرناک اضافے کا واضح اشارہ ہے۔ ماہرین نے فروری 2016ء4 کے بارے میں تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ مہینہ گزشتہ 100 سال کا گرم ترین فروری تھا۔ اخبار دی انڈی پینڈنٹ کے مطابق امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے ڈیٹا کے مطابق اس سال فروری کا درجہ حرارت گزشتہ ایک صدی کے دوران اس مہینے کے اوسط درجہ حرارت سے 1.35ڈگری سیلسیئس زیادہ رہا۔ اس سے پہلے جنوری کے مہینے میں اس وقت ریکارڈ قائم ہوا تھا جب جنوری 2016 کا درجہ حرارت اس مہینے کی گزشتہ کئی دہائیوں کی اوسط سے 1.14 ڈگری سیلسیئس زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ عالمی ماحول کے لئے بڑھتے ہوئے خطرے کا اشارہ ہے۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں بڑھنے والے درجہ حرارت کی وجہ سے پہلے ہی دنیا کے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور سطح سمندر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین ماحولیات پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ آئندہ 50 سال کے دوران دنیا کے متعدد ممالک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے سمندر برد ہوجائیں گے۔ جرمنی کے پورٹس ڈیم انسٹیٹیوٹ آف کلائمیٹ امپیکٹ ریسرچ کے ماہر سٹیفن ریم سٹورف نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’اب ہم ایک ماحولیاتی ایمرجنسی کا سامنا کررہے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر قابو پانا ہوگا ورنہ ہم اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں تباہ کرلیں گے۔ اور یوں دنیا ختم ہو جائے گی۔