- الإعلانات -

لاپتا بچوں کی تلاش کے لیے موبائل ایپ ’’ بچہ فائنڈر‘‘ متعارف

کراچی: بچوں کے عالمی دن کے موقع پر روشنی ہیلپ لائن نے لاپتا بچوں کی تلاش کے لیے موبائل ایپلی کشن ’’بچہ فائنڈر‘‘متعارف کروا دی جس پر والدین اپنی شکایات درج کراسکیں گے۔ یہ ایپ کراچی میں منعقدہ ایک تقریب میں متعارف کرائی گئی جس کے مہمان خصوصی ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب تھے۔ تقریب میں شہید زینب کے والد امین انصاری بھی شریک تھے۔

اپنے خطاب میں مرتضی وہاب نے کہا کہ اس ایپ پر والدین لاپتا بچوں کی شکایات درج کرسکیں گے جو کہ بچوں کی تلاش میں مددگار ثابت ہوگی، یہ ایپ جدید نظام پر مبنی ہے جسے گوگل پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا۔
مرتضی وہاب نے کہا کہ تھانوں کا کلچر کافی بہتر ہوا ہے اب بچوں کے لاپتا ہونے کی رپورٹ فوری درج کی جاتی ہے، حاجی امین نے اپنی بیٹی زینب کو کھو کر ملک کی بیٹیاں محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہم ان کے اس عزم و حوصلے پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چائلڈ پراٹیکشن اتھارٹی کے حوالے سے آئین میں ترمیم کی گئی ہے، ترمیم میں زینب الرٹ بل کو خصوصاً ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے، گزشتہ دو ماہ میں 65 لاپتا بچوں میں 55 بچوں کو بازیاب کروایا گیا ہے، پولیس کی بہترین کاوش پر اسے لازمی سراہنا چاہیے خوشی اس وقت ہوگی جب ایسا کوئی واقعہ ہی نہ ہو۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ یہ وہ جدوجہد ہے جو ہمیں زینب کے نام پر کرنی چاہیے، معاشرے کا ہر فرد اپنی انفرادی کوشش کرے تاکہ یہ اس معاملے میں کمی آسکے، عیسیٰ نگری میں مروہ بچی کا زیادتی بعد قتل کا دردناک واقعہ تھا، اس کیس کو رپورٹ کرنے میں 11 گھنٹے کا وقفہ آیا، اگر مروہ کے اہل خانہ وقت پر اطلاع دیتے تو بچی کو بچایا جاسکتا تھا۔ ملک میں جہاں بھی بچہ اغوا ہو والدین فورا مددگار 15 پر اطلا ع دیں۔

روشنی ہیلپ لائن کے عہدے دار محمد علی نے کہا کہ کراچی میں سب سے زیادہ گمشدگی کے کیسز لانڈھی، سرجانی، بلدیہ ٹاؤن میں رپورٹ ہوتے ہیں، پورے ملک کے مقابلے میں کراچی اور سندھ میں حالات بہتر ہیں۔ اس موقع پر حاجی امین انصاری نے کہا کہ ایسے واقعات میں ملزم کو سزا کے لیے سی سی ٹی فوٹیج کو بھی گواہی کے طور پر مانا جائے ورنہ ملزم ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں۔