- الإعلانات -

قدرتی آفات سے بچانے والے پاکستانی منصوبے نے بین الاقوامی ایوارڈ جیت لیا

گلگت بلتستان: پاکستان میں دیہاتوں کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے اور نقصان کا ازالہ کرنے والے ایک ہمہ گیر منصوبے کو قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے ’ورلڈ ہیبیٹیٹ گولڈن ایوارڈ‘ دیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ آغاخان ڈویلمپنٹ فاؤنڈیشن نے شمالی علاقوں کے کئی دیہات میں شروع کیا ہے۔ منصوبے کے تحت سیٹلائٹ اور ڈرون تصاویر اور ڈیٹا سے بہت سے گاؤں کو درپیش خطرات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد کئی جگہ پر منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ تاہم سب سے بڑھ کر دیہاتیوں کی بہت بڑی تعداد کو مناسب معلومات اور تربیت فراہم کی گئی ہے۔ اس طرح وہ اپنے گھروں، جانوں اور مال و متاع کو محفوظ بناسکتے ہیں۔ منصوبے سے دیہاتوں کو کلائمٹ پروف بنایا گیا ہے۔

اس ضمن میں لگ بھگ انتہائی غریب 50 ہزار افراد کو تربیت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ زلزلوں، سیلاب، ماحولیاتی تباہی، برفانی طوفان اور تودے گرنے سے خود کو بچاسکیں۔ ورلڈ ہیبیٹیٹ نامی تنظیم کے سربراہ ڈیوڈ آئرلینڈ نے اس منصوبے کو سراہا ہے۔

’ یہ منصوبہ آبادیوں کو نہ صرف آب و ہوا کی تبدیلی سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے بچاتا ہے بلکہ جانی و مالی نقصان کے خلاف ایک ڈھال ہے جس میں ٹٰیکنالوجی اور شعور کا کردار اہم ہے،‘ ڈیوڈ نے اپنے بیان میں کہا۔ ڈیوڈ کے مطابق تبدیلی ہوتی ہوئی دنیا میں یہ جانوں کی حفاظت کرتا ہے اور اسے پاکستان سمیت دنیاکے دیگر علاقوں میں بھی اپنایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں قدرتی آفات کی زد میں رہنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور شمالی علاقہ جات میں اس کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان گزشتہ 20 برس میں قدرتی آفات سے اموات کا شکار تیسرا بڑا ملک ہے جہاں کشمیر کے زلزلے، 2010 کے سیلاب، ہیٹ ویو اور دیگر آفات نے بڑا جانی نقصان کیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت پاکستان میں متعدد دیہی علاقوں اور بستیوں میں خواتین کو بڑی تعداد میں شامل کیا گیا اور انہیں حادثات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تربیت بھی دی گئی۔ دوسری جانب تمام شرکا کو موسمیاتی کیفیات کا شعور، نقشہ سازی اور خطرناک صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔ آغا خان فاؤنڈیشن سے وابستہ پروگرام کوآرڈنیٹر، ثمرہ سراج نے بتایا کہ اس منصوبے میں بطورِ خاص خواتین کی بڑی تعداد کو شامل کیا گیا ہے۔ قدرتی آفات اور سانحات میں خواتین کی بڑی تعداد متاثر ہوتی ہے اور انہیں حادثات کا مقابلہ کرنے اور خود کو بچانے کی تربیت دی گئی ہے۔