- الإعلانات -

فیس بک کے 50 کروڑ صارفین کا ڈیٹا ٹیلی گرام پر فروخت

سان فرانسسکو: فیس بک کے پچاس کروڑ سے زائد صارفین کا ڈیٹا پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی اپیلکیشن ٹیلی گرام پر فروخت کردیا گیا۔ ٹیلی گرام پر اکاؤنٹ بنانے والے پچاس کروڑ سے زائد صارفین کا ڈیٹا 6 لاکھ بھارتی روپے کے عوض دیگر کمپنیز کو فروخت کردیا گیا ہے۔

ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ مدر بورڈ کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی گرام بوٹ کے ذریعے فیس بک صارفین کا ڈیٹا اور اُن کے نمبرز مختلف کمپنیوں کو فروخت کیے گئے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی پر نظر رکھنے والے ادارے الون گال کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ڈیٹا کو صرف 6 لاکھ روپے کے عوض فروخت کیا گیا ہے۔ ادارے نے فروخت ہونے والے نمبروں میں سے چند کی تفصیلات انٹرنیٹ پر شیئر بھی کی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیکرز نے اُن صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جنہوں نے ایک ہی نمبر سے فیس بک اور ٹیلی گرام کا اکاؤنٹ بنایا ہوا تھا۔
مزید پڑھیں۔ بھارت میں ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپس پر مستقل پابندی عائد

یہ ڈیٹا کسی خاص ملک کے صارفین کا نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایپ استعمال کرنے والے لوگوں کا ہے، جس کے تحت اُن کے فیس بک اکاؤنٹ کی معلومات بھی خریدار کمپنی کو فراہم کی گئی ہے۔ ادارے کی جانب سے ممالک کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی گئی، خوش قسمتی سے اُس میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔

ہیکرز نے ڈیٹا فروخت کرنے کے لیے ٹیلی گرام بوٹ (نامعلوم نمبر) کا سہارا لیا اور اُس نے فیس بک پر بنائے جانے والے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کر کے اسے اپنے پاس پہلے محفوظ کیا اور پھر انہیں فروخت کردیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے ساتھ یہ واقعہ پہلی بار پیش نہیں آیا بلکہ 2019 میں بھی ہیکرز نے اکتالیس کروڑ سے زائد صارفین کا محفوظ ڈیٹا چرا کر فیس بک سے چرا کر اسے فروخت کیا تھا، بعد ازاں فیس بک نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاتھا کہ سیکیورٹی نقص کو دور کردیا گیا ہے اور اب صارفین کا ڈیٹا مکمل محفوظ ہے۔