- الإعلانات -

لاک ڈاؤن کے دوران سعودی شہریوں نے یوٹیوب پر سب سے زیادہ کیا دیکھا؟

سال 2020 کرونا وائرس، لاک ڈاؤن اور کرفیو کی نذر ہوگیا، لوگوں کے گھروں میں رہنے کے دوران دنیا بھر میں آن لائن ویڈیو سروسز اور پلیٹ فارمز کی مقبولیت، استعمال اور بزنس میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔

پچھلے سال سعودی عرب میں یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھنے والے صارفین میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، کرونا وائرس کی وبا اور کرفیو کے باعث آن لائن سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب ایک بڑی مارکیٹ کے طور پر بھی سامنے آیا۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2020 کے دوران سعودی عرب کے اندر یوٹیوب کے صارفین کی تعداد 20 ملین تک پہنچ گئی، جبکہ ویڈیوز دیکھنے کا اوسط دورانیہ 55 منٹ تک ہوگیا۔

یوٹیوب نے سعودی عرب میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والی ویڈیوز کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پہیلیوں اور ایڈونچر ویڈیوز کی فہرست پہلے نمبر پر ہے جبکہ مارشل آرٹس کی ویڈیوز خصوصاً فری اسٹائل ریسلنگ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی نرس نے دوران پرواز خاتون کی جان بچاکر فرض شناسی کی مثال قائم کردی

اسی طرح پچھلے سال سائنس اور کھیل سے متعلق مواد دیکھنے میں 200 فیصد تک اضافہ ہوا، خاص طور پر عملی مہارتیں سیکھنے کی مختلف شکلوں میں، اسی طرح ویڈیو گیمز اور فلمیں دیکھنے کا شوق بھی دوگنا ہوگیا۔

یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب بہت ساری بین الاقوامی کمپنیوں جیسے ایمیزون پرائم نے یوٹیوب پر اپنی فلمیں نشر کرنا شروع کیں۔سنہ 2020 کے دوران یوٹیوب کے لیے نئی ویڈیوز بنانے میں سعودی باشندوں کی خاص رغبت دیکھی گئی، میشابل کے مطابق سعودی عرب میں دیکھی گئی ہر 10 ویڈیوز میں سے 7 ان کی اپنی پروڈکشن تھیں۔