- الإعلانات -

کراچی: ’واٹس ایپ’ کے مقابلے کی ایپ تیار کرنے والے طالب علم کے چرچے

انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور ٹیلی کام کے وفاقی وزیر امین الحق نے واٹس ایپ کے مقابلے کی ایپلی کیشن تیار کرنے والے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے طالب علم کو تربیت فراہم کرنے کے لیے حکومتی انٹرن شپ فراہم کرنے کا اعلان کردیا۔

کراچی کے 15 سالہ طالب علم نے فیملی فرینڈ ’ایف ایف میٹنگ‘ نامی ایپ بنائی تھی، جس کی ویڈیو فلاحی تنظیم ’جے ڈی سی‘ فاؤنڈیشن کے ظفر عباس نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی۔

نوجوان طالب علم کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کئی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نوجوان نبیل احمد کی مدد کرے تاکہ اس کی تیار کردہ ایپ کو پذیرائی حاصل ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی طالب علم نے واٹس ایپ طرز کی ایپ بنالی

لوگوں کی جانب سے 15 سالہ نبیل احمد کی تعریفیں کیے جانے اور ان کی حکومتی سطح پر مدد کے مطالبے کے بعد وفاقی وزیر امین الحق نے نوجوان اور ان کے والد کو ملاقات کے لیے طلب کیا۔

تحریر جاری ہے‎

وفاقی وزیر امین الحق کی جانب سے ’ایف ایف میٹنگ‘ ایپ تیار کرنے والے نبیل احمد سے ملاقات کی تصاویر ٹوئٹ کی گئیں اور ساتھ ہی بتایا گیا کہ طالب علم کو حکومت کی جانب سے مزید تربیت کے لیے انٹرن شپ فراہم کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ نبیل احمد کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی انٹرن شپ پر نیشنل انکیوبیشن سینٹر (این آئی سی) کراچی بھیجا جائے گا تاکہ ان کی جانب سے تیار کردہ ایپ کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر کی جانب سے طالب علم کی مدد کیے جانے کے بعد حکومت کی تعریفیں کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ ’ایف ایف میٹنگ‘ نامی ایپ تیار کرنے والے طالب علم نبیل احمد نے ظفر عباس کو بتایا تھا کہ انہوں نے واٹس ایپ سے بہتر اور زائد فیچر والی ایپ بنائی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی تیار کردہ ایپ میں بھی واٹس ایپ کی طرح کسی تیسرے فریق کو مواد دیکھنے کی اجازت نہیں ہوتی جب کہ ان کی ایپ خصوصی افراد کے لیے موزوں ہیں۔

ویڈیو میں نبیل احمد کے والد کو بھی دکھایا گیا تھا، جو گلی میں موٹر سائیکل پر چھولے فروخت کرتے دکھائی دیے تھے۔

ایپ تیار کرنے والے طالب علم کے والد کے مطابق وہ کچھ سال قبل تک ایک بہت بڑے میڈیا کے ادارے میں آڈیو انجنیئرنگ کی ملازمت کرتے تھے مگر پھر ان کی نوکری ختم ہوگئی۔

ویڈیو میں ظفر عباس نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نبیل احمد کی معاونت کرے تاکہ ان کی تیار کردہ ایپ کو پذیرائی ملے۔