- الإعلانات -

پاکستان کبھی انٹارکٹیکا اورآسٹریلیا کا پڑوسی تھا، ماہرین ارضیات

کراچی: یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ سچ ہے کہ کسی زمانے میں پاکستان قطب جنوبی کے قریب ہوتا تھا اور اس کے پڑوس میں آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا ہوا کرتے تھے۔

البتہ یہ واقعہ آج سے تقریباً 30 کروڑ سال پہلے کا ہے جس کے بارے میں ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ تب دنیا کے تمام براعظم ایک جگہ پر (ایک بہت ہی بڑے براعظم کی شکل میں) یکجا تھے جسے وہ ’’پین جیا/ پین گائیا‘‘ (Pangaea) کہتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سطح زمین پر براعظموں کے قریب آکر ملنے اور ٹوٹ کر دور جانے کا سلسلہ اربوں سال سے جاری ہے اور ’’پین جیا‘‘ اس سلسلے کا وہ تازہ ترین واقعہ ہے جب دنیا کے تمام براعظم ایک ہی جگہ پر، ایک ہی براعظم کی شکل میں موجود تھے جب کہ ان کے گرد ایک وسیع سمندر پھیلا ہوا تھا۔

یاد رہے کہ زمین کی سطح ٹھوس ضرور ہے لیکن سینکڑوں چٹانی ٹکڑوں میں ٹوٹی ہوئی بھی ہے جنہیں ’’ٹیکٹونک پلیٹیں‘‘ کہتے ہیں۔ زمین پر موجود تمام براعظم اور تمام سمندر ان ہی ٹیکٹونک پلیٹوں پر مشتمل ہیں۔ ٹیکٹونک پلیٹیں سمندر کے نیچے پتلی اور خشکی والے مقامات پر موٹی ہوتی ہیں۔

سطح زمین کے یہ ٹکڑے (یعنی ٹیکٹونک پلیٹیں) مسلسل حرکت میں بھی رہتے ہیں، البتہ ان کی رفتار صرف چند ملی میٹر سالانہ جتنی ہی ہوتی ہے۔

آج سے 30 کروڑ سال پہلے بھی یہ ٹکڑے مسلسل حرکت کررہے تھے جس کی وجہ سے ’’پین جیا‘‘ بتدریج مختلف براعظموں میں ٹوٹتا چلا گیا اور یہ براعظم آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے۔

جس ٹیکٹونک پلیٹ پر پورا برصغیر (پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش وغیرہ) واقع ہیں، وہ بھی آج سے 30 کروڑ سال پہلے ’’پین جیا‘‘ ہی کا حصہ تھی اور قطب جنوبی کے پاس واقع تھی جس کے پڑوس میں موجودہ آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا بھی موجود تھے۔

دوسری ٹیکٹونک پلیٹوں کی طرح یہ پلیٹ بھی ’’پین جیا‘‘ سے علیحدہ ہوگئی، البتہ اس نے شمال کی سمت میں حرکت کرنا شروع کردی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ برصغیر والی ٹیکٹونک پلیٹ (جسے انڈین پلیٹ بھی کہا جاتا ہے) موجودہ مڈغاسکر سے جڑی ہوئی تھی۔

تقریباً 9 کروڑ سال پہلے یہ انڈین ٹیکٹونک پلیٹ، مڈغاسکر سے بھی الگ ہوگئی اور تقریباً 150 ملی میٹر سالانہ کی رفتار سے شمال کی سمت بڑھنے لگی۔ آج سے لگ بھگ 5 کروڑ سال پہلے انڈین پلیٹ نے یورپ اور ایشیا پر مشتمل ٹیکٹونک پلیٹ (یوریشین پلیٹ) سے ٹکرانا شروع کیا جس کی وجہ سے اس کی رفتار کم ہوتے ہوتے موجودہ 65 ملی میٹر سالانہ جتنی رہ گئی لیکن ساتھ ہی ساتھ اس عظیم تصادم کے نتیجے میں ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ بھی وجود میں آیا جہاں آج دنیا کے بلند ترین پہاڑ موجود ہیں۔

نیپال سے لے کر برصغیر پاک و ہند کے شمال اور پاکستان کے مغرب میں افغانستان اور ایران کی سرحد تک، اس پوری پٹی میں بار بار زلزلے آنے کی وجہ بھی انڈین پلیٹ کا یوریشین پلیٹ کے ساتھ مسلسل جاری تصادم ہے۔

ہمالیائی پٹی پر بھارتی پلیٹ ہر سال تھوڑی تھوڑی کرکے یوریشین پلیٹ کے نیچے غائب ہوتی جارہی ہے اور اسی لیے ارضیات میں یہ جملہ بھی مشہور ہوگیا ہے: ہمالیہ، بھارت کو کھارہا ہے!