- الإعلانات -

ویڈیو سب ٹائٹل وائرس: موبائل اور کمپیوٹر کےلیے خطرے کی نئی گھنٹی

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اب ہیکرز آن لائن ویڈیوز کے سب ٹائٹلز میں ایسا وائرس چھپا رہے ہیں جس سے سب ٹائٹل آن کرکے موویز دیکھنے پر آپ کا کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سے منسلک اسمارٹ ٹی وی بھی ہیک کیا جاسکتا ہے۔

کمپیوٹر سیکیورٹی کمپنی ’چیک پوائنٹ‘ کا کہنا ہے کہ ویڈیو سافٹ ویئر استعمال کرنے والے کروڑوں افراد جو آن لائن فلمیں اور ٹی وی شوز دیکھتے ہیں، ان کے اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر خطرے میں ہیں۔ چیک پوائنٹ اب تک ایسے چار ویڈیو سافٹ ویئر کی نشاندہی کرچکی ہے جن کے ذریعے ہیکنگ کی جاسکتی ہے اور ان میں وی ایل سی، کوڈی، پاپ کارن اور اسٹریمیو شامل ہیں؛ تاہم اس ہیکنگ کے خطرے میں مبتلا ویڈیو سافٹ ویئر کی تعداد ممکنہ طور پر اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ہیکرز انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی جانے والی فلموں کے سب ٹائٹلز میں وائرس کی کوڈنگ شامل کررہے ہیں، خاص کر غیر قانونی طور پر ڈاؤن لوڈ کی گئی فلموں اور پروگراموں کے سب ٹائٹلز میں وائرس شامل کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی مروجہ اینٹی وائرس سافٹ ویئر اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔

واضح رہے کہ زیادہ تر ویڈیوز میں بائی ڈیفالٹ سب ٹائٹلز شامل نہیں ہوتے بلکہ کمپیوٹر میڈیا پلیئرز انٹرنیٹ سے رابطہ کرکے خود ہی متعلقہ ویب سائٹ سے خصوصی ٹیکسٹ فائلز ڈاؤن لوڈ کرلیتے ہیں۔ اور چونکہ یہ ٹیکسٹ فائلز ہوتی ہیں اس لیے عموماً اینٹی وائرس انہیں نہیں کھنگالتے۔

چیک پوائنٹ سیکیورٹی نے مزید خبردار کیا ہے کہ اس طرح سب ٹائٹلز میں کسی بھی قسم کا وائرس کوڈ کیا جاسکتا ہے چاہے وہ کوئی ’’رینسم ویئر‘‘ ہی کیوں نہ ہو جو ایک بار سرگرم ہونے کے بعد سسٹم کا کوئی مخصوص حصہ یرغمال بنالیتا ہے اور اس ڈیٹا تک رسائی کےلیے صارف سے تاوان کی رقم طلب کی جاتی ہے۔