- الإعلانات -

ہزاروں سال بعد سونے کی تیاری کا راز سامنے آگیا

سونا کیسے بنتا ہے، یہ وہ راز ہے جو ہزاروں برسوں سے کیمیا دانوں کی توجہ کا مرکز ہے اور اب آخر کار سائنسدانوں نے اس معمے کو حل کرلیا ہے۔

یہ قیمتی دھات درحقیقت دو نیوٹرون ستاروں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

یہ ستارے آپس میں ٹکرا کر کائنات میں پھیل گئے اور بتدریج دیگر بڑے ٹھوس اجسام کے ساتھ جڑتے چلے گئے جیسے سیارے یا ستاروں کے جھرمٹ وغیرہ۔

اس سے پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ اس طرح کا خلائی تصادم بڑے پیمانے پر توانائی پیدا کرتا ہے جو کہ سونے، پلاٹینیم اور چاندی کی تیاری کے لیے ضروری ہے مگر اب پہلی بار جانا گیا ہے کہ یہ کیسے ہوتا ہے۔

سترہ اگست کو امریکا سے تعلق رکھنے والے خلاءبازوں نے 130 ملین سال قبل ایک دوسرے سے ٹکرانے والے دو ستاروں کے تصادم کے سگنل کو پکڑا تھا۔

اس تصادم کا دھچکا اتنا طاقتور تھا کہ اس نے نہ صرف خلاءکو ہلا دیا بلکہ وقت میں کشش ثقل کی لہریں بھی پیدا کیں۔

جب یہ لہریں زمین پر سائنسدانوں نے پہچانی تو دنیا بھر کے خلاءبازوں نے اپنی دوربینوں کا رخ خلاءمیں کردیا تاکہ جان سکیں کہ اس کی وجہ کیا ہے اور بہت جلد ہی انہوں نے تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی چمک کو دیکھا۔

اس رشنی کے اندر انہوں نے وہ کیمیائی نشانات دیکھیں جو کہ سونے، چاندی اور پلاٹینیم میں دیکھنے میں آتے ہیں۔

یورپین سدرن آبزرویٹری کے سائنسدانوں نے سب سے پہلے دیگر افراد کو الرٹ کیا تھا کہ وہ ایک نیا ایونٹ دیکھنے والے ہیں۔

واروک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جوئی لیمین کے مطابق ہم نے ایسے عمل کو دیکھا جو انتہائی جوہری ردعمل سے پیدا ہونے والی روشنی جیسا ہوتا ہے اور اس نے ہمیں بتایا کہ بھاری دھاتیں جیسے سونا یا پلاٹینیم درحقیقت ان ستاروں کے اربوں ذرات میں سے ایک ہیں۔

نیوٹرون ستارے اس وقت تشکیل پاتے ہیں جب بڑے ستارے مرتے ہیں اور ان کے پروٹون اور الیکٹرون اکھٹے ہوکر نیوٹرون کو تشکیل دیتے ہیں جن سے چھوٹے مگر انتہائی گنجان ستارے تشکیل پاتے ہیں۔

جن دو ستاروں کا تصادم اگست میں دیکھا گیا تھا وہ ایک کائنات این جی سی 4993 میں واقع تھے، جو لاکھوں برسوں سے ایک دوسرے کی جانب بڑھ رہے تھے، جس کے بعد وہ ایک دوسرے کے گرد گھومنے لگے اور ٹکرا گئے۔

اس نئی تحقیق کے نتائج جریدے جرنلز نیچر، نیچر آسٹرونومی اینڈ سائنس میں شائع ہوئے۔