- الإعلانات -

فیس بک میسنجر کڈز بچوں کے لیے نقصان دہ؟

کیا بچوں کا سوشل میڈیا استعمال کرنا ٹھیک ہے؟ گزشتہ سال دسمبر تک اس کا جواب نہیں تھا، یہاں تک کہ فیس بک خود تیرہ سال سے کم عمر بچوں کو لاگ ان ہونے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔

مگر پھر کمپنی نے بچوں کے لیے میسنجر کڈز نامی ایپ تیار کی گئی جو کہ بچوں کو اپنے والدین کے منظور کردہ لوگوں سے رابطوں کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

مگر اب بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ نے میسنجر کڈز کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ننھے فرشتوں کو اس وقت تک طرح کی سائٹس سے دور رکھا جانا چاہئے جب تک کسی حد تک باشعور نہیں ہوجاتے۔

امریکا کے کمرشل فری چائلڈ ہوڈ نامی گروپ کے مطابق ‘ چھوٹے بچے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس استعمال کرنے کے لیے ابھی تیار نہیں’۔

اس گروپ کے جاری کردہ بیان پر 19 دیگر گروپس نے دستخط کیے ہیں جبکہ درجنوں ماہرین اطفال کے نام بھی اس میں شامل ہیں جنھوں نے بچوں کو میسنجر کڈز سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

فیس بک کے مطابق میسنجر کڈز کا مقصد والدین اور بچوں کو محفوظ طریقے سے بات کرنے میں مدد دینا اور والدین کو بچوں کے کانٹیکٹس اور رابطوں پر کنٹرول دینا ہے۔

تاہم اب ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں ایپس جیسے فیس بک کے ڈیزائن اور طریقہ کار پر تحفظات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اجارہ داری کا حربہ استعمال کرتی ہیں اور تحقیقاتی رپورٹس میں مسلسل اس کے منفی نتائج سامنے آرہے ہیں۔

کمرشل فری چائلڈ ہوڈ کے بیان میں کہا گیا کہ تیرہ سال سے کم عمر بچے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ آن لائن تعلقات کی پیچیدگیوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے۔

فیس بک کے مطابق جب اس ایپ کو ڈاﺅن لوڈ کیا جائے گا تو سب سے پہلے آپ کو اپنے فیس بک اکاﺅنٹ کو اتھارٹی دینا ہوگی جس کے بعد بچوں کے پہلے اور آخری نام سے ایک اکاﺅنٹ تیار کرنا ہوگا، جنھیں پبلک سرچ میں تلاش نہیں کیا جاسکے گا جبکہ یہ ایپ اشتہارات سے بھی پاک ہوگی۔

والدین ہی بچوں کے اس اکاﺅنٹ میں کانٹیکٹس کا اضافہ کرسکیں گے اور رشتے دار اپنے میسنجر اکاﺅنٹ سے ان بچوں سے رابطہ کرکے بات چیت کرسکیں گے۔

اور اگر وہ اپنے کسی دوست کو ایڈ کرنا چاہیں گے تو یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب والدین دوست کے والدین کے فیس بک فرینڈ ہوں۔