سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

دنیا کا پہلا 64 میگا پکسل کیمرے والا فون

دنیا کا پہلا 64 میگا پکسل کیمرے سے لیس اسمارٹ فون آئندہ ہفتے متعارف کرایا جارہا ہے۔

چینی کمپنی رئیل می نے اعلان کیا ہے کہ وہ 8 اگست کو 64 میگا پکسل کیمرے سے لیس کواڈ کیمرا فون 8 اگست کو متعارف کرا رہی ہے۔

اپنے ایک ٹوئیٹ میں کمپنی نے اسے دنیا کا پہلا 64 میگا پکسل کواڈ کیمرا ٹیکنالوجی فون قرار دیا اور یہ ڈیوائس سب سے پہلے بھارت میں پیش کی جائے گی۔

اس فون میں کمپنی کی جانب سے سام سنگ کے 64 میگا پکسل آئی ایس او سیل جی ڈبلیو 1 سنسر استعمال کیا جائے گا جو کہ رواں سال مئی میں پیش کیا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سام سنگ نے اب تک یہ سنسر اپنے کسی فون میں استعمال نہیں کیا بلکہ یہ اعزاز چینی کمپنی کے حصے میں آنے والا ہے۔

اس فون کی دیگر تفصیلات تو معلوم نہیں مگر یہ تو واضح ہے کہ اس کے بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ دیا جارہا ہے۔

اس سے پہلے شیاﺅمی کی ذیلی شاخ ریڈمی نے بھی گزشتہ ماہ بہت جلد 64 میگا پکسل کیمرے سے لیس فون کو جلد متعارف کرانے کا عندیہ دیا تھا تاہم کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تھا۔

ان دونوں کمپنیوں کے درمیان بجٹ اسمارٹ فونز کی تیاری کے حوالے سے مسابقت پائی جاتی ہے اور اب یہی دونوں کمپنیاں 64 میگا پکسل کیمرے والے فون متعارف کرانے والی ہیں۔

اس سے قبل شیاﺅمی اور ہواوے نے دنیا کے پہلے 48 میگا پکسل کیمرے والے فونز متعارف کرائے تھے۔

‘ٹک ٹاک’ پر پابندی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

لاہور کے ایک وکیل نے ملک میں مبینہ طور پر فحاشی اور پورنوگرافی کو فروغ دینے کا باعث بننے والی سوشل میڈیا ویڈیو ایپ ‘ٹک ٹاک’ پر پابندی کے لیے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرلیا۔

ایڈووکیٹ ندیم سورو نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر اپنی درخواست میں کہا کہ ‘ٹک ٹاک حالیہ دور کا بہت بڑا فتنہ ہے، یہ نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے’۔

درخواست گزار نے اپنی پٹیشن میں وفاقی وزارت قانون، پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو فریق بنایا ہے۔

درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ ایپ چائینیز کمپنی نے بنائی ہے اور اسے گزشتہ سال دنیا بھر میں استعمال کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

وکیل نے استدعا کی کہ مذکورہ ایپ کے باعث ملک میں منفی معاشرتی اثرات مرتب ہورہے ہیں، اس کے علاوہ یہ وقت، توانائی اور رقم کا زیاں ہے اور اس سے فحاشی پھیل رہی ہے جبکہ یہ ایپ ہراساں اور بلیک میل کرنے کے ذرائع کے طور پر بھی استعمال ہورہی ہے۔

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ ایپ پر اس کے نامناسب مواد، پورنوگرافی اور لوگوں کا مزاق اٹھانے کے باعث بنگلہ دیش اور ملائیشیا میں پابندی عائد ہے۔

انہوں نے استدعا کی کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں رہنے والے مسلمان شہریوں کی زندگیوں کو اسلام کے نظریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے اقدامات کرے۔

انہوں نے بتایا کہ متعدد بلیک میلنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں لوگوں نے خفیہ طور پر ویڈیوز بنائیں اور بعد ازاں انہیں ٹک ٹاک پر وائرل کردیا گیا۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ دوست کی جانب سے کلاس روم میں ڈانس کی ویڈیو ریکارڈ کیے جانے اور بعد ازاں یہ ویڈیو مذکورہ ایپ پر وائرل ہونے کے بعد ایک لڑکی نے اہل خانہ کے رد عمل کے خوف سے خود کشی کرلی تھی۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ایسے مزید واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت فوری اور لازمی طور پر ٹک ٹاک ایپ پر پابندی عائد کرے۔

وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ فریقین کو حکم دیں کہ پاکستان میں ثقافت کو نقصان پہنچانے اور پورنوگرافی کی حوصلہ افزائی کرنے پر ٹک ٹاک پر مکمل پابندی لگائی جائے۔

اس کے علاوہ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ وزارت قانون کو ہدایت دے کہ ملک میں بچوں کی آن لائن پرائیویسی سے متعلق قانون سازی کے لیے اقدامات کریں، انہوں نے درخواست کی کہ پیمرا کو حکم دیا جائے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹک ٹاک پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز ٹی وی چینلز پر نہ نشر کی جائیں۔

vچین میں طیاروں کو ’مکمل اسٹیلتھ‘ بنانے والی ’میٹا ممبرین‘ تیار

بیجنگ: چینی ماہرین نے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے ایسا اچھوتا مادّہ بنالیا ہے جسے جھلی کی طرح کسی طیارے، ٹینک یا بحری جہاز کی بیرونی سطح پر چڑھا دیا جائے تو وہ ریڈار سے مکمل طور پر اوجھل ہوجائے گا۔

صوبہ سیچوان میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف آپٹکس اینڈ الیکٹرونکس میں گزشتہ کئی سال سے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کو جدید تر بنانے پر کام ہورہا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک تازہ پیش رفت میں پروفیسر لوو ژیانگانگ اور ان کے ساتھیوں نے ایسا کم خرچ اور ہلکا پھلکا مادہ بنالیا ہے جو ہر قسم کی ریڈار لہریں جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جسے بہت آسانی سے بڑے پیمانے پر تیار بھی کیا جاسکتا ہے۔

ویب سائٹ ’’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘‘ کے مطابق، اس مادّے پر مشتمل خاص جھلی یعنی ’’میٹا ممبرین‘‘ (meta membrane) کو اگر کسی طیارے، ٹینک یا بحری جہاز پر چڑھا دیا جائے تو وہ کسی بھی طرح کی ریڈار لہریں جذب کرلے گا اور یوں کسی بھی قسم کے ریڈار کی نظروں سے اوجھل رہے گا۔

واضح رہے کہ اب تک طیاروں کو اسٹیلتھ بنانے کے لیے جتنے بھی خصوصی مادّے تیار کیے گئے ہیں، وہ ایک طرف تو بہت مہنگے اور وزنی ہیں تو دوسری جانب وہ ایک محدود فریکوئنسی والی ریڈار لہریں ہی جذب کرسکتے ہیں۔

مثلاً اگر کوئی ریڈار بہت بلند (ہائی) فریکوئنسی پر کام کررہا ہو یا طیاروں پر نظر رکھنے کے لیے بیک وقت کئی طرح کی فریکوئنسی استعمال کررہا ہو تو جدید ترین اسٹیلتھ طیارے پر کی گئی کوٹنگ سے بھی اس ریڈار کی لہریں پلٹ کر واپس آئیں گی اور یوں وہ طیارہ ریڈار (اسٹیلتھ ہونے کے باوجود) اس ریڈار کی اسکرین پر بہ آسانی دکھائی دے جائے گا۔

چینی ماہرین نے جو میٹا ممبرین تیار کی ہے، وہ 0.3 گیگا ہرٹز سے 40 گیگا ہرٹز تک کی ریڈار لہروں کا بیشتر حصہ جذب کرلیتی ہے؛ اور یوں وہ اپنے اندر ملفوف کسی بھی طیارے، ٹینک یا بحری جہاز کو جدید سے جدید ریڈار کی نظروں سے بھی اوجھل کردیتی ہے۔

اس کامیابی کے بعد چینی ماہرین مذکورہ میٹا ممبرین کی زیادہ مقدار میں پیداوار کی تیاری کررہے ہیں جس کے بعد اسے بطورِ خاص لڑاکا طیاروں پر آزمایا جائے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ یہ ممبرین شدید دباؤ اور درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔

فیس بک نے سعودی حکومت کی حمایت کرنے والے 350 اکاؤنٹس معطل کردیے

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے پہلی مرتبہ سعودی عرب کی حکومت کی مبینہ حمایت کرنے والے 350 جعلی اکاؤنٹس کو معطل کردیا۔

اس ایکشن سے قبل فیس بک نے سعودی عرب کی مبینہ مخالفت کے لیے ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے چلائے جانے والے جعلی فیس بک اکاؤنٹس بند کیے تھے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فیس بک انتظامیہ نے یکم اگست کو فیس بک پر سعودی عرب کی حکومت کا پروپیگنڈا عام کرنے اور مبینہ طور پر علاقائی حریفوں کے خلاف استعمال ہونے والے اکاؤنٹس کو معطل کردیا۔

فیس بک انتظامیہ کے مطابق جن اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا وہ مبینہ طور پر سعودی حکومت سے منسلک افراد چلا رہے تھے۔

جن اکاؤنٹس اور پیجز کو معطل کیا گیا ہے ان پر مبینہ طور پر سعودی حکومت کی حمایت اور ان کے لیے سیاسی پروپیگنڈا کیا جاتا تھا۔

مجموعی طور پر ان 350 اکاؤنٹس کو 14 لاکھ افراد فالو کر رہے تھے۔

فیس بک نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے کس طرح کے سعودی حکومت کے پروپیگنڈے کی تشہیر کی جاتی تھی اور ان اکاؤنٹس کے ذریعے سعودی عرب کے کن علاقائی حریف ممالک کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔

تاہم دوسری جانب سعودی حکومت نے معطل کیے گئے اکاؤنٹس کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

سعودی حکومت کی جانب سے رائٹرز کو بھجوائے گئے بیان میں کہا گیا کہ فیس بک کی جانب سے معطل کیے گئے اکاؤنٹس کا حکومت یا اس سے منسلک افراد سے کوئی تعلق نہیں۔

سعودی حکومت کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈا سے بھی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔

واضح رہے کہ فیس بک نے رواں برس فروری اور مارچ کے درمیان ایران کے 783 مشکوک اور جعلی اکاؤنٹس کو معطل کردیا تھا۔

ان اکاؤنٹس کو سعودی حکومت مخالف مواد کی وجہ سے معطل کیا گیا تھا۔

ایران کے بعد اب مبینہ طور پر سعودی حکومت کے حمایتی اکاؤنٹس کو بھی معطل کیا گیا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سلسلے میں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے بھی جعلی اور پروپیگنڈا کی تشہیر کرنے والے اکاؤنٹس کو معطل کیا جائے گا۔

مشرق وسطی ممالک میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران فیس بک اور ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر خاص پروپیگنڈا کو پھیلانے اور حریف ممالک مہم چلائے جانے میں اضافہ ہوا ہے۔

خاص طور پر عرب اسپرنگ کے بعد مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک میں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ کئی ممالک ایک دوسرے کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پھیلانے کے تحت درجنوں اکاؤنٹس چلا رہے ہیں۔

گوگل پکسل 4 ٹچ اسکرین ٹیکنالوجی کے خاتمے کا آغاز؟

گوگل اپنا نیا فلیگ شپ فون پکسل 4 رواں سال اکتوبر میں متعارف کرائے گا مگر اس کی جانب سے ڈیوائس کے نئے فیچرز کے بارے میں تفصیلات جاری کی جارہی ہیں اور اس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ فون ٹچ اسکرین ٹیکنالوجی کے خاتمے کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔

درحقیقت گوگل نے رواں ہفتے اس ڈیوائس کے حوالے سے کئی لیکس کی تصدیق خود کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ پہلا اسمارٹ فون ہوگا جس میں راڈار ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے گا جس کی بدولت صارفین دور سے محض ہاتھ کو حرکت دے کر متعدد فیچرز استعمال کرسکیں گے۔

گوگل کی جانب سے پراجیکٹ سولی کو پکسل 4 میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

پراجیکٹ سولی میں یہ کمپنی ایسی ٹیکنالوجی تیار کررہی ہے جو مستقبل قریب میں اسمارٹ ڈیوائسز کو دور سے ہاتھ کی حرکت سے استعمال کرنے میں مدد دے گی۔

یہ ٹیکنالوجی انٹرایکٹو کنٹرول سسٹم ہوگا جس میں یوزر راڈار بیسڈ موشن سنسرز ہاتھوں کی حرکات کو شناخت کریں گے۔

اس ہینڈ جیسچر کو ویڈیو میں استعمال کرتے دکھایا گیا ہے اور فون سے کچھ دور کھڑی خاتون ہاتھ کو ہوا میں ہلا کر گانے بدل رہی ہے، جبکہ اس سے الارم کو بند کرنے کے ساتھ فون کالز کو موصول کرنا بھی ممکن ہوگا۔

ابھی واضح طور پر تو کہنا مشکل ہے کہ ہاتھوں کی حرکت سے فیچرز استعمال کرنے کی ٹیکنالوجی کس حد تک بہتر ہوسکتی ہے، تاہم یہ آغاز ضرور ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ گوگل نے اس فون میں فیس ان لاک کا فیچر بھی دیا جارہا ہے جس سے چہرے سے فون کو ان لاک کیا جاسکے گا۔

اس سے قبل سامنے آنے والی لیکس کے مطابق پکسل 4 ایکس ایل میں 6.25 انچ ڈسپلے دیا جائے گا اور چونکہ اس میں بیزل کافی زیادہ ہیں تو یہ کافی بڑا فون محسوس ہوگا۔

پہلی بار اس سیریز میں بیک پر 2 یا اس سے زائد کیمرے دیئے جارہے ہیں، اس سے قبل گزشتہ سال پکسل تھری ایکس ایل کے فرنٹ پر تو 2 کیمرے تھے مگر بیک پر ایک ہی کیمرا دیا گیا تھا۔

کچھ عرصے پہلے لیک تصاویر سے تو عندیہ ملتا ہے کہ پکسل 4 ایکس ایل کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جبکہ فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر منتقل کردیا جائے گا۔

گوگل کی جانب سے پکسل 4 اور پکسل 4 ایکس ایل رواں سال اکتوبر میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

گلیکسی نوٹ 10 گزشتہ ماڈلز سے کس حد تک مختلف ہوگا؟

سام سنگ کا نیا فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 10 آئندہ ہفتے پیش کیا جارہا ہے مگر اس کے بارے میں تفصیلات مختلف لیکس کی شکل میں تاحال سامنے آرہی ہیں۔

ایک بار پھر اس نئے فون کے بارے میں نئی لیکس سامنے آئی ہیں۔

ٹوئٹر صارف ایشان اگروال نے گلیکسی نوٹ 10 سیریز (سام سنگ پہلی بار نوٹ سیریز کے فونز 2 ماڈلز میں متعارف کراسکتی ہے) کے بارے میں مختلف تفصیلات لیک ہیں جن کے مطابق اس میں سپر فاسٹ وائرلیس اور وائر چارجنگ دی جارہی ہے جبکہ 12 میگا پکسل کے مین کیمرے میں ایف 1.5 آپرچر موجود ہوگا۔

ان لیکس کے مطابق گلیکسی نوٹ 10 اسینڈرڈ میں کیو ایچ ڈی ڈسپلے کی بجائے فل ایچ ڈی پلس ریزولوشن دیا جائے گا اور یہ 2013 کے گلیکسی نوٹ 3 کے بعد پہلی بار ہوگا جب اس سیریز کے کسی فون میں فل ایچ ڈی ڈسپلے دیا جارہا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ گلیکسی نوٹ 10 پلس میں کیو ایچ ڈی ڈسپلے دیا جاسکتا ہے تاکہ دونوں ورژن ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔

ایک اور لیک کے مطابق گلیکسی نوٹ 10 آئی پی 69 واٹر اینڈ ڈسٹ ریزیزٹنس ریٹنگ کا حامل ہوگا یعنی پانی کے خلاف زیادہ مزاحمت کرسکے گا۔

نوٹ سیریز کے ان دونوں فونز میں بیسک اسٹوریج 256 جی بی سے شروع ہوگی جو کہ گلیکسی ایس 10 سے ڈبل ہے، جس کی وجہ نوٹ 10 میں ممکنہ طور پر مائیکرو ایس ڈی سپورٹ نہ دیئے جانے کا امکان ہے، جبکہ ہیڈفون جیک کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

یہ سام سنگ کا پہلا فون ہوگا جس میں اوپری اور نچلے بیزل کو لگ بھگ ختم کردیا گیا ہے جبکہ پنچ ہول کیمرا سائیڈ کی بجائے اسکرین کے اوپر سینٹر میں دیاج ائے گا۔

مختلف افواہوں کے مطابق گلیکسی نوٹ 10 کا ایک ماڈل 6.75 انچ اسکرین کے ساتھ ہوگا جبکہ دوسرے ورژن میں 6.3 انچ ڈسپلے دیا جائے گا۔

ایسا بھی کہا جارہا ہے کہ گلیکسی نوٹ پلس میں سپر امولیڈ ڈسپلے کے ساتھ ایکسینوس 9828 پراسیسر یا اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر دیا جائے گا۔

اس فون میں اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم ہوگا مگر اسے بعد میں اینڈرائیڈ کیو سے اپ ڈیٹ کردیا جائے گا۔

پہلی بار گلیکسی نوٹ 10 میں بیک پر تین کیمروں کا سیٹ اپ دیا جارہا ہے جبکہ فلیش کو اس کے برابر میں منتقل کیا جارہا ہے۔

اسی طرح گلیکسی نوٹ 10 پلس میں بیک پر تین کی بجائے 4 کیمرے ہوں گے، مگر ایک کیمرا تھری ڈی ٹائم آف لائٹ سنسر سے لیس ہوگا۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ گلیکسی نوٹ 10 کی قیمت یورپ میں 999 یورو (ایک لاکھ 77 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) سے شروع ہوگی۔

دوسری جانب گلیکسی نوٹ 10 پلس کی قیمت 1159 یورو (2 لاکھ 6 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) سے شروع ہوگی۔

یہ فون 7 اگست کو نیویارک میں ایک ایونٹ کے دوران متعارف کرایا جائے گا۔

ٹک ٹاک میں انیمیٹڈ تصاویر شیئر کرنا بھی ممکن

ٹک ٹاک بلاشبہ 2019 کی مقبول ترین سوشل میڈیا ایپ ہے اور اب اس کو استعمال کرنے کا تجربہ پہلے سے بھی بہتر ہونے والا ہے کیونکہ اب آپ اس میں انیمیٹڈ تصاویر بھی استعمال کرسکیں گے۔

مختصر ویڈیو ٹک ٹاک کی جان ہے اور اب اس اپلیٹ فارم میں ساﺅنڈ لائبریری اور اینڈلیس فلٹرز کے ساتھ ایک نئے فیچر کو شامل کرلیا گیا ہے اور وہ ہے جی آئی ایف یا جفز۔

ایسا لگتا ہے کہ انسٹاگرام اسٹوری میں جف تصاویر کی مقبولیت کا نوٹس ٹک ٹاک نے بھی لیا اور اب اس ویڈیو شیئرنگ ایپ نے آن لائن جف ڈیٹا بیس جفی سے شراکت داری کرلی ہے اور صارفین اب جف اسٹیکرز اپنی ویڈیوز میں شامل کرسکیں گے۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے لوگوں کو ہنسنے یا فخر کو شیئر کرنے کا موقع فراہم کیا، یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ اپنی تخلیقی صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں، اب ہمیں توقع ہے کہ تخلیقی اظہار کو جفی کے ساتھ شراکت داری کے بعد مزید جلا ملے گی۔

اب صارفین جفی کے ٹرینڈنگ اسٹیکرز کو اپنی ویڈیوز کا حصہ ایپ میں موجود جفی بٹن پر کلک کرکے بناسکیں گے جبکہ مقبول ٹک ٹاک ویڈیوز کو بھی ہر اس پلیٹ فارم میں جف کی شکل میں استعمال کریں گے جہاں جفی کو استعمال کیا جاتا ہے جیسے انسٹاگرام یا فیس بک وغیرہ۔

کمپنی کے توقع ہے کہ یہ نیا فیچر اسے دیگر حریف اپلیکشنز پر مزید سبقت دلانے میں مدد فراہم کرے گا۔

اس ایپ نے گزشتہ سال ڈاﺅن لوڈ نمبرز میں اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام کو شکست دی تھی اور انیمیٹڈ تصاویر استعمال کرنے کا آپشن نوجوانوں کو بھی ضرور پسند آئے گا۔

یہ پہلی بار ہے جب ٹک ٹاک نے کسی تھرڈ پارٹی جف اسٹیکر مواد کو اپنی ایپ کا حصہ بنانے کے لیے شراکت داری کی ہے۔

ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد کتنی ہے، یہ تفصیلات کمپنی نے شیئر نہیں کیں مگر اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہ ایک ارب کے آس پاس ہوسکتی ہے جبکہ اس کی ویڈیوز دیگر پلیٹ فارمز پر بھی بہت زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔

جاز، ٹیلی نار کو لائسنس تجدید کیلئے 21 اگست کی نئی ڈیڈ لائن

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جاز اور ٹیلی نار کو لائسنس کی تجدید کروانے کے لیے 21 اگست کی نئی حتمی تاریخ دے دی۔

تاہم ٹیلی کام سیکٹر کی ان 2 بڑی کمپنیوں کو یقین ہے کہ ان کی سروسز بند ہونا تو درکنار متاثر بھی نہیں ہوں گی، دونوں کمپنیوں کو لائسنس کی تجدید کے لیے درکار رقم پر اعتراض ہے۔

مذکورہ لائسنس دونوں کمپنیوں نے 2004 میں ایک نیلامی کے دوران 29 کروڑ 10 لاکھ ڈالر یعنی تقریباً 17 ارب روپے میں حاصل کیا تھا جس کی مدت 2 ماہ قبل 25 مئی کو اختتام پذیر ہوچکی ہے۔

حکومت اب لائسنس کی تجدید کے لیے 45 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کررہی ہے یہ رقم بظاہر 4 جی سروسز کے لیے سال 2016 اور 2017 میں ہونے والی نیلامی کو بنیاد بنا کر طے کی گئی ہے۔

تاہم مئی میں جاز نے عدالت میں لائسنس کی تجدید کے لیے مقرر کردہ رقم کو چیلنج کردیا تھا جہاں یہ معاملہ اب تک زیِر التوا ہے۔

کمپنی کا موقف ہے کہ وہ لائسنس کی اصل شرائط اور 2015 کی ٹیلی کام پالیسی کی بنیاد پر لائسنس کی تجدید چاہتی ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کا کہنا تھا کہ عدالت نے پی ٹی اے کو 25 جون کی ڈیڈ لائن واپس لینے اور سیلولر کمپنیوں کی شکایات 15 جولائی تک دور کرنے کی ہدایت کی تھی۔

تاہم موبائل آپریٹرز اب بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی شکایات حل نہیں ہوئیں جبکہ پی ٹی اے نے بھی عدالت میں جواب جمع کروادیا جو گزشتہ موقف سے مختلف نہیں اور اسی شرائط پر آپریٹر سے لائسنس تجدید کے لیے 45 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ٹیلی نار کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اب معاملہ عدالت کے ذمے ہے جس نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس طرح ردِ عمل دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپریٹرز کے پاس 3 راستے ہیں یا تو ہم لائسنس تجدید کے لیے زیادہ فیس ادا کرنے پر راضی ہوجائیں یا اس معاملے کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کریں یا ریگولیٹری باڈی سے مزید توسیع کی درخواست کریں‘۔

انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ 21 اگست کے بعد آپریٹرز کو لائسنس تجدید کے لیے جرمانے کے ساتھ فیس بھی جمع کروانی پڑے گی۔

Google Analytics Alternative