سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

پاک سوزوکی کی آلٹو 660 سی سی مارکیٹ میں آگئی

اسلام آباد: پاک سوزوکی موٹرز نے ’مہران کار‘ کی جگہ اپنی نئی گاڑی ’آلٹو 660 سی سی‘ متعارف کروادی۔

پاک چین فرینڈشپ سینٹر میں ہونے والی پروقار تقریب میں پاک سوزوکی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ماسومی ہرانو نے سرخ رنگ کی گاڑی متعارف کروائی جس کے مزید 6 رنگ بھی موجود ہیں۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ کمپنی کے سینئر منیجرز بھی موجود تھے۔

پاک سوزوکی نئی آلٹو 660 سی سی کمپنی کی کامیاب ترین کار ’مہران 800 سی سی‘ کی جگہ متعارف کروائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاک سوزوکی نے 30 سال قبل 1989 میں مہران کار کو پاکستان میں متعارف کروایا تھا، جبکہ اُس وقت اس کار کا نام بھی ’آلٹو‘ ہی تھا جس بعد میں مہران کا نام دیا گیا۔

نئی آلٹو 660 سی سی پہلی مرتبہ مکمل طور پر پاکستان میں تیار کی جانے والی کار ہے جس کے تین ماڈل ہیں جن میں 2 مینول جبکہ ایک آٹومیٹک۔

پاک سوزوکی نے پاکستان میں پہلی مرتبہ 660 سی سی انجن سے لیس مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑی آلٹو کو رواں سال اپریل میں متعارف کرایا تھا۔ فوٹو: فیس بک
پاک سوزوکی نے پاکستان میں پہلی مرتبہ 660 سی سی انجن سے لیس مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑی آلٹو کو رواں سال اپریل میں متعارف کرایا تھا۔ فوٹو: فیس بک

کمپنی کی جانب سے اپنی نئی گاڑی کی قیمت 9 لاکھ 99 ہزار سے 12 لاکھ 95 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔

نئی آلٹو گاڑی جاپانی ٹیکنالوجی کے 660 سی سی کے آر-سیریز انجن کی حامل ہے۔ یہ گاڑی جدید ڈیزائن کے انٹیریئر سے مزین ہے۔

مذکورہ گاڑی کو کراچی میں کمپنی کے بن قاسم پلانٹ میں تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس گاڑی کی مدد سے ایندھن کی بچت کی جاسکتی ہے، گاڑی کی 3 سال یا 60 ہزار کلومیٹر کی وارنٹی بھی دی گئی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک سوزوکی کپنی کے سی ای او ماسومی ہرانو کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے اور گاڑیوں کی صنعت ملکی معیشت کو تیز کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

انہوں نے پاکستان میں آٹوموبائل سیکٹر میں حاصل ہونے والی کامیابیوں میں پاک سوزوکی کمپنی کے کردار پر روشنی ڈالی۔

خیال رہے کہ اپریل کے مہینے سے ہی کمپنی نے مہران کار کی بکنگ بند کردی تھی، جبکہ پاکستان آٹو شو 2019 میں نئی آلٹو 660 سی سی متعارف کروادی تھی۔

گلوبل بی ایچ بی ڈی نے بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی کو رکن تسلیم کرلیا

کراچی: جامعہ کراچی میں واقع بین الاقوامی مرکز برائے حیاتیاتی و کیمیائی علوم (آئی سی سی بی ایس) کو گلوبل اوپن بایوڈائیورسٹی اینڈ ہیلتھ بِگ ڈیٹا الائنس (بی ایچ بی ڈی) کی رکنیت دی گئی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے۔

آئی سی سی بی ایس کے ترجمان کے مطابق عالمی حیاتیاتی تنوع اور صحت کا ڈیٹا الائنس 14 اکتوبر 2018 کو بیجنگ میں قائم کیا گیا۔ اس کے پہلے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، تھائی لینڈ، روس، سنگاپور اور امریکا کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔

بی ایچ بی ڈی کا مقصد صحت اور حیاتیاتی تنوع کے میدان میں عالمی تحقیق و تعاون کو فروغ دینا ہے، تاکہ دنیا کے تمام ممالک یکساں طور پر مستفید ہوسکیں اور یکساں طور پر اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے تحت چین میں جینوم اور ڈی این اے پر ایک بہت بڑا ڈیٹا بیس بھی قائم کیا گیا ہے۔

بی ایچ بی ڈی نے آئی سی سی بی ایس کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر محمد اقبال چوہدری کی غیرمعمولی سائنسی خدمات پر ادارے کو اپنی رکنیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، اس ضمن میں ان کی تقریباً 2120 سائنسی اشاعتیں بین الاقوامی سطح پر شائع ہوچکی ہیں۔ امریکا اور یورپ میں ان کی تحریر و ادارت کردہ 68 کتب اور کتب میں 40 چیپٹر شائع ہوچکے ہیں۔ بین الاقوامی سائنسی جرائد میں 1141 تحقیقی اشاعتیں اور 51 پیٹینٹ بھی قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری کیمیا سے متعلق متعدد غیرملکی کتب و جرائد کے مدیر ہیں، جبکہ ان کے سائنسی کام کو 23 ہزار مرتبہ بطور حوالہ پیش کیا گیا ہے۔ ان کے زیر نگرانی 87 طالبعلم پی ایچ ڈی اور 36 ایم فل مکمل کرچکے ہیں۔

سام سنگ 64 میگا پکسل کیمرا والا فون بنانے میں مصروف؟

اسمارٹ موبائل فون بنانے والی جنوبی کورین کمپنی ’سام سنگ‘ نے رواں برس فروری میں ایس سیریز کے تین فونز استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا یہ فون کمپنی کے اب تک کے سب سے بہترین فونز ہیں۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ چوں کہ یہ تینوں فونز کمپنی کے 10 سال مکمل ہونے کے موقع پر ریلیز کیے گئے، اس لیے انہیں سب سے منفرد کرکے پیش کیا گیا۔

اور اب تک سام سنگ گلیکسی 10، گلیکسی 10 پلس اور گلیکسی 10 اے کو ہی کمپنی کےسب سے بہترین فون سمجھا جاتا ہے۔

لیکن اب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ حال ہی میں جنوبی کورین کمپنی نے ایک نئے فون بنانے کے لیے حقوق دینے والی کمپنی میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں فون کے ماڈل کا نام بتائے بغیر حقوق حاصل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سام سنگ کی جانب سے حقوق حاصل کرنے کے لیے دی جانے والی درخواست—فوٹو: فوربز
سام سنگ کی جانب سے حقوق حاصل کرنے کے لیے دی جانے والی درخواست—فوٹو: فوربز

امریکی اقتصادی جریدے ’فوربز‘ کے مطابق کمپنی کی جانب سے حقوق کے لیے دی جانے والی درخواست اور اب تک لیک ہونے والی سام سنگ کے فون کی پہلی تصویر سے لگتا ہے کہ یہ فون ’بارڈر لیس‘ ہوگا.

یعنی فون میں کوئی بارڈر نہ ہونے کی وجہ سے اس کی اسکرین فل ڈسپلے ہوگی۔

اب تک سامنے آنے والی معلومات اور تصاویر کے مطابق کمپنی اس فون کو ’گلیکسی ایس 11‘ کا نام دے سکتی ہے۔

رپورٹس ہیں کہ اس فون میں کمپنی پہلی بار 64 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرا دے گی جب کہ اس میں ایک سے زائد کیمرے دیے جانے کا بھی امکان ہے۔

ممکنہ طور پر اس فون کو گلیسکی 11 کا نام دیا جائے گا—فوٹو: ٹی تھری
ممکنہ طور پر اس فون کو گلیسکی 11 کا نام دیا جائے گا—فوٹو: ٹی تھری

اس فون کو نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کے تحت تیار کیا جا رہا ہے جو فائیو جی اور ممکنہ طور پر سکس جی ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی۔

سام سنگ الیون میں بھی فنگر پرنٹ سینسر فیچر دیا جائے گا، تاہم ساتھ ہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بارڈر لیس ہونے کی وجہ سے اس فون میں اہم فیچرز نہیں ہوں گے۔

بارڈر لیس ہونے کی وجہ سے اس فون کے کونے اور باڈی دیگر فونز کے مقابلے باریک بنائے جانے کا امکان ہے اور چوں کہ بارڈر لیس شیپ میں اسکرین فون کے بیک سائیڈ سے بلکل ملی ہوئی ہوگی، اس لیے اس فون میں ’ہیڈ فون‘ جیک نہ دیے جانے کی چہ مگوئیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

ممکن ہے کہ اس فون میں وائرلیس ہیڈ فون فیچر دیا جائے، ساتھ ہی کہا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ فون وائرلیس چارچر فیچر کے ساتھ ہوگا، تاہم اس حوالے سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ کچھ ہفتوں میں اس فون کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی اور ممکنہ طور پر کمپنی اس فون کو آئندہ سال کے آغاز میں متعارف کرائے گی۔

اس فون کو کمپنی کے سب سے خوبصورت شیپ والا فون قرار دیا جا رہا ہے—فوٹو: کانسیپٹ فون
اس فون کو کمپنی کے سب سے خوبصورت شیپ والا فون قرار دیا جا رہا ہے—فوٹو: کانسیپٹ فون

ایورسٹ کی چوٹی پر دنیا کا بلند ترین موسمیاتی اسٹیشن قائم

نیپال: سائنسدانوں نے گزشتہ ماہ کے دوران دنیا کا بلند ترین موسمیاتی اسٹیشن ایورسٹ کے پہاڑ پر تعمیر کیا ہے، جس کی بدولت اس علاقے کے ماحول اور موسمیاتی مزاج کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

یونیورسٹی آف مین سے تعلق رکھنے والے ماہرِ موسمیات ڈاکٹر پال میوسکی اور ان کے ساتھیوں نے ہمالیائی علاقے کے پانچ مقامات پر موسمیاتی اسٹیشن تعمیر کیے ہیں جن میں سے ایک ایورسٹ پر بنایا گیا ہے۔

جان جوکھم میں ڈال کر ایورسٹ کی یخ بستہ سردی میں موسمیاتی آلات لگانے کے کئی مقاصد ہیں۔ ماہرین محض یہاں کا درجہ حرارت اور دباؤ وغیرہ معلوم نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ ’جنوبی ایشیا میں سرگرم جیٹ اسٹریم‘ پر تفصیلی تحقیق کرنا چاہتے ہیں، اور یہی اس تجربہ گاہ کا اہم مقصد بھی ہے۔ اسی بنا پر اسے ’سیارے کی کھڑکی‘ یا ونڈو آف دی پلانیٹ کا نام دیا گیا ہے۔

جیٹ اسٹریم ہوا کی ان پتلی تہوں کو کہتے ہیں جو زمین سے کچھ بلندی پر اپنے انداز میں پورے کرۂ ارض پر سفر کرتی رہتی ہیں۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی حرکات سے زمین پر گرمی اور سردی جیسے اثرات پیدا ہوتے ہیں لیکن جیٹ اسٹریم کی پیچیدہ حرکات اور دیگر معاملات کے بارے میں اب بھی ہماری معلومات نہ ہونے کے برابر ہے۔

سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ ایورسٹ زمین پر موجود چند پہاڑوں میں سے ایک ہے جن کی چوٹی جیٹ اسٹریم کو چھوتی ہے اور اسی بنا پر کم وزن اور جدیید آلات پر مبنی خودکار اسٹیشن کےلیے ایک مناسب ترین مقام بھی ہے اور جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تشکیل کرنے والی اہم جیٹ اسٹریم بھی یہاں سے گزرتی ہے۔

دوسرے مرحلے میں موسمیاتی سائنسداں ایورسٹ کے مختلف مقامات کی گہرائی سے قدیم برف کے نمونے حاصل کرنے پر بھی غور کررہے ہیں۔ برف کے ان قدیم نمونوں میں علاقے کا پورا موسمیاتی کیلنڈر مل سکتا ہے، جسے جان کر ہم مزید بہتر پیش گوئی بھی کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب برف کے نمونے ہزاروں سالہ موسمیاتی تاریخ کا پتہ بھی دیتے ہیں۔

موسمیاتی اسٹیشن کو پہلے عین چوٹی پر بنانا تھا لیکن وہاں کوہ پیماؤں کے رش کی وجہ سے منصوبہ بدلنا پڑا۔  اب چوٹی سے صرف 420 میٹر نیچے یعنی 8430 میٹر کی بلندی پر ایک جگہ ’ دی بالکونی‘ پر یہ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

واضح رہے اس سے قبل ایورسٹ پر کئی چھوٹے بڑے اسٹیشن بنائے گئے تھے لیکن اول وہ نیچے کی جانب تھے اور دوم ان میں سے ایک بھی جیٹ اسٹریم پر تحقیق کےلیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔

کیا سام سنگ رولر فون پر کام کررہا ہے؟

سیؤل ، جنوبی کوریا: سام سنگ کمپنی کی جانب سے حقِ ملکیت (پیٹنٹ) کی تصاویر جاری کی گئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک اسمارٹ فون اسکرین نیچے کے رولر سے کھینچ کر بڑا کیا جاسکتا ہے اور اس طرح اسکرین کی لمبائی دوگنی بڑھ جائے گی۔

تجزیہ کاروں نے اسے عمودی طومار والا یعنی ورٹیکل رولنگ فون کا نام دیا ہے جس کے بعد موبائل ماہرین اور سام سنگ مداحوں کےدرمیان ایک بحث شروع ہوگئی ہے اور لوگ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ تاہم سام سنگ نے اسے’ گیلکسی رول‘ کا نام دیا ہے۔

لیکن اس سے قبل شائقین سام سنگ کی جانب سے کتاب کی طرح کھلنے والے یعنی ’فولڈنگ‘ فون کے منتظر ہیں کیونکہ اس کی حتمی تاریخ کا اب تک اعلان نہیں کیا گیا جو اس سال کے وسط تک بتائی جاتی رہی تھی۔ پھر بعض ویب سائٹ نے اندر کی خبر لاتے ہوئے کہا ہے کہ فولڈنگ فون کے ڈیزائن میں ٹوٹ پھوٹ سمیت کئی خرابیاں سامنے آئی ہیں جس کی وجہ سے اب تک سام سنگ فولڈ جاری نہ ہوسکا۔ دوسری جانب امریکی سیل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنی اے ٹی اینڈ ٹی نے بھی سام سنگ فولڈ کے آرڈر منسوخ کردیئے ہیں۔

تاہم اپریل میں منتخب جگہ پر اس کی فروخت کی گئی تو عوام کی جانب سے فولڈ ہونے والے فون میں کئ مشکلات اور مسائل سامنے آئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فولڈ ہونے والا فون اس سال تو حقیقت نہیں بنے گا۔

دیکھنے میں یہ ایک روایتی فون لگتا ہے لیکن اس کے نچلے حصے میں گول رولر ہے جس کے اندر ڈسپلے موجود ہے اور وہ طومار (اسکرول) کی طرح کھلتا ہے۔ ٹیک کرنچ ویب سائٹ کے مطابق اس کی اوپری جانب ایک سیلفی کیمرہ اور ایئرپیس ہے۔ اس آلے کی پیٹنٹ درخواست نومبر 2018 میں دی گئی تھی۔

دوسری جانب ایل جی کمپنی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال مارکیٹ میں ایک ایسا فون لارہی ہے جس میں شیشے کا ڈسپلے ہوگا لیکن اسے موڑا جاسکے گا۔ اسی بنا پر سام سنگ کا رولر فون کا خواب کئی سال بعد ہی شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔

تاہم سام سنگ اس سال واقعی جو فون پیش کررہا ہے وہ گیلکسی نوٹ 10 ہے جو اگست میں فروخت کیا جائے گا۔

بھارت کا اگلے ماہ چاند پر خلائی مشن بھیجنے کا اعلان

بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے ’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائیزیشن(اسرو) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ چاند پر اپنا دوسرا خلائی مشن بھیجے گا۔

یہ دوسرا موقع ہوگا کہ بھارت اپنا خلائی مشن چاند پر بھیجے گا اور اگر اس بار انڈیا کا خلائی مشن کامیابی سے چاند پر اتر گیا تو چاند پر پہنچنے والا بھارت دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔

اس مشن سے قبل بھارت نے 2008 میں بھی چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا، تاہم وہ مشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

اب بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے اور سائنسدانوں کو یقین ہے کہ اس بار بھارت اپنے مشن میں کامیاب جائے گا۔

انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرا اپنا دوسرا خلائی مشن آئندہ ماہ 15 جولائی کی شب کو چاند پر بھیجے گا۔

بھارت نے چاند پر بھیجے جانے والے دوسرے مشن کو ’چاند رایان 2‘ کا نام دیا ہے۔

چاند رایان 2 اور اس کے تمام آلات اور مشینیں بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے نے خود تیار کی ہیں—فوٹو: پریس انفارمیشن بیورو، انڈیا
چاند رایان 2 اور اس کے تمام آلات اور مشینیں بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے نے خود تیار کی ہیں—فوٹو: پریس انفارمیشن بیورو، انڈیا

اگر بھارت کا خلائی مشن کامیابی سے چاند پر اتر گیا تو امریکا، سابق سوویت یونین (روس) اور چین کے بعد بھارت دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا جس کا مشن چاند پر اترے گا۔

منصوبے کے تحت بھارت کا چاند مشن 15 جولائی کی شب روانہ کیا جائے گا جو ایک ماہ سے کم عرصے میں 6 ستمبر تک چاند پر اترے گا۔

’چاند رایان 2‘ چاند پر 13 سائنسی خلائی سیٹلائٹس اور مشینوں کے ساتھ چاند پر جائے گا۔

’چاند رایان 2‘ میں کھدائی مشین، لینڈنگ مشین اور موبائل مشین سمیت اعلیٰ درجے کی کوالٹی کا کیمرا بھی چاند پر بھیجا جائے گا جو چاند کے قطب جنوب میں اترے گا۔

بھارت نے چاند پر اپنا دوسرا خلائی مشن بھیجنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب کہ کچھ دن قبل ہی بھارت نے عندیہ دیا تھا کہ وہ اپنا خلائی اسٹیشن بھی قائم کرے گا۔

بھارت کی جانب سے چاند پر خلائی مشن بھیجے جانے اور خلائی اسٹیشن قائم کرنے کے اعلانات سے قبل انڈیا نے رواں برس مئی میں میزائل ٹیسٹ کے دوران نچلی مدار کے سیٹلائٹ کو تباہ کرکے چوتھی خلائی طاقت بننے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

علاوہ ازیں بھارت نے 2020 تک اپنا پہلا انسان بردار مشن کو خلا میں بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے تحت انڈیا ابتدائی طور پر تین انسانوں کو خلا میں بھیجے گا۔

بھارت نے 2020 تک انسان بردار مشن کو بھی خلا میں بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
بھارت نے 2020 تک انسان بردار مشن کو بھی خلا میں بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستانی اسٹارٹ اَپ کمپنی عالمی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

صحت سے متعلق کام کرنے والی پاکستانی اسٹارٹ کمپنی ’آزاد ہیلتھ‘ امریکی اور نیدر لینڈ حکومت کے تعاون سے ہونے والے عالمی مقابلے میں ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔

’آزاد ہیلتھ‘ نے امریکی اور نیدرلینڈ کی حکومت کے تعاون سے ہونے والے اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے سالانہ عالمی مقابلے میں ایوارڈ حاصل کیا۔

پاکستانی اسٹارٹ اپ کمپنی نے ’دی گلوبل انوویشن تھرو سائنس اینڈ ٹیکنالوی‘ (جی آئی ایس ٹی) کے سالانہ گلوبل انٹرپرینرشپ سمٹ (جی ای ایس) مقابلے میں ایوارڈ حاصل کیا۔

دنیا بھر کی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی ہمت افزائی اور انہیں ایوارڈ دینے کے لیے منعقد ہونے والا یہ سالانہ مقابلہ امریکی اور نیدر لینڈ کی حکومتوں کے تعاون سے ہوتا ہے جب کہ اس میلے میں ایوارڈ جیتنے والی کمپنیوں کو مختلف عالمی اداروں کی جانب سے دی جانے والی رقم کے تحت فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

ایوانکا ٹرمپ نے تقریب میں خصوصی شرکت کی—فوٹو: جی ای ایس
ایوانکا ٹرمپ نے تقریب میں خصوصی شرکت کی—فوٹو: جی ای ایس

اس بار اسٹارٹ اپ ایوارڈ کے لیے دنیا بھر سے 4 ہزار کمپنیوں نے درخواستیں بھیجیں تھیں، جن میں سے30 کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔

ایوارڈ کے لیے چھ شعبوں سے پانچ پانچ کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا، جن میں سے صرف ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ’اسپیل باؤنڈ‘ کو ایوارڈ دیا گیا۔

’اسپیل باؤنڈ‘ بھی صحت سے متعلق کام کرنے والی نئی امریکی کمپنی ہے۔

اسی ایوارڈ میلے میں سالانہ 2 نئی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو خصوصی ایوارڈز بھی دیے جاتے ہیں اور اس بار 2خصوصی ایوارڈز جیتنے والی 2 کمپنیوں میں ایک پاکستانی کمپنی بھی شامل ہے۔

اس بار خصوصی ایوارڈز کے لیے نیدرلینڈ کی کمپنی ’سول کوبررا‘ اور پاکستانی کمپنی ’آزاد ہیلتھ‘ کو منتخب کیا گیا۔

آزاد ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایوارڈ کے لیے نیدرلینڈ کے شہر ہیگ میں ہونے والی تقریب میں شریک ہوئے اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ، نیدرلینڈ کے شہزادے کونسٹینٹن اور نیدر لینڈ کی وزیر برائے عالمی ترقی سگرگ کاڈ سے ایوارڈ وصول کیا۔

ایوارڈ حاصل کرنے والی کمپنیوں کو 6 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالرز کا فنڈ بھی فراہم کیا گیا، یہ فنڈ گوگل، ایمازون ویب، سلیکون ویلے بینک سمیت دیگر ٹیکنالوجی اداروں نے فراہم کیا تھا۔

’آزاد ہیلتھ‘ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر دنیا بھر کے مریض اور ڈاکٹرز ایک دوسرے سے رپورٹس اور ٹیسٹس سمیت تمام میڈیکل ریکارڈ کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔

اس پلیٹ فارم کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں میں بیماریوں سے متعلق شعور پیدا کرنا اور ان افراد کو معاونت فراہم کرنا ہے، جنہیں بعض اوقات علاج کے دوران مشکلات پیش آتی ہیں۔

یہ پلیٹ فارم ابھی ابتدائی دور میں ہے، اس پلیٹ فارم کو تین سال قبل 2016 میں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں تخلیق کیا گیا تھا اور اب اسے عالمی ایوارڈ ملنے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پلیٹ فارم لوگوں کی مدد میں فعال کردار ادا کرے گا۔

موبائل فون کی درآمد پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس کا خاتمہ

وفاقی حکومت نے موبائل فون کی درآمدی ٹیکس میں کمی کو پیش نظر رکھتےہوئے موبال فونز کی درآمد میں عائد 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس کو ختم کرنے کی تجویز دے دی۔

وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت وقت کی ذمہ داری تھی کہ وہ مناسب اقدامات سے صورت حال کو قابو کرتی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے فوری خطرات سے نمٹنے اور معاشی استحکام کے لیے چند اقدامات کیے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اس وقت کاروباری درآمدات پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے ٹیکس کے بوجھ میں غیر ضروری طور پر اضافہ ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں موبائل فون کی درآمدات پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس کے خاتمے کی تجویز دی گئی ہے جس کے بعد موبائل فون کی درآمد پر عائد ٹیکس میں بھی کمی آئے گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ہمارا مقصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار مساویانہ بنانا اور موثر مگر خوف سے پاک ٹیکس کمپلائنس کو یقینی بنانا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے 70 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا جس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں احتجاج کیا گیا اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

Google Analytics Alternative