سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

پاکستان میں ہونڈا نے گاڑیوں کی پیداوار روک دی

لاہور: ملک میں حالیہ ہفتوں میں روپے کی قدر میں کمی، بجٹ میں نئے اور زائد ٹیکسز کے نفاذ کے باعث قیمتیں بڑھنے سے گاڑیوں کی فروخت میں کمی ہوئی، جس کے باعث ہونڈا اٹلس کار پاکستان (ایچ اے سی پی) نے 10 روز کے لیے اپنا پلانٹ شٹ ڈاؤن کردیا کیونکہ کمپنی کے مطابق اس کے پاس 2 ہزار یونٹس پہلے ہی اسٹاک میں موجود ہیں۔

اسی طرح پاکستان میں ٹویوٹا ماڈلز بنانے والی انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ کمپنی نے بھی رواں ماہ ہر ہفتے میں 2 روز یعنی کُل 8 روز کے لیے کار کی پیداوار روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ہونڈا کی جانب سے گزشتہ ہفتے 2 روز کے لیے اپنا پلانٹ بند کیا گیا تھا۔

تاہم پاکستان سوزوکی موٹر کمپنی کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ کمپنی رواں ماہ سیلز کے رجحان اور بکنگ آرڈر کو دیکھنے کے بعد کچھ روز میں فیصلہ کیا جائے گا کہ پیداوار بند کریں یا نہیں۔

ایچ اے سی پی اور آئی ایم سی ایگزیکٹو نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ رواں ماہ کے پہلے 10 روز میں انتہائی مایوس کس سیلز کو دیکھتے ہوئے پیداوار کو کم کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہونڈا اٹلس کمپنی کے سینئر ایگزیکٹو نے واضح کیا کہ ’روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ ساتھ تمام درآمدات پر ایڈوانس کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی) اور اسمبلڈ کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے بعد گزشتہ ماہ اور جولائی کے پہلے 10 روز میں ہمارے موجود اسٹاک میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس نے ہمارے پاس پلانٹ کو بند کرنے اور پیداوار کو کم کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں چھوڑا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر یہی رجحان جاری رہا تو ہمیں امید ہے کہ اس کاروباری سال (اپریل 2019 سے مارچ 2020) میں ہماری سیل گزشتہ سال کے 48 ہزار یونٹس سے 30 ہزار یونٹس سے بھی کم ہوجائے گی‘۔

اسی طرح آئی ایم سی کے عہدیدار نے بھی جولائی میں ’8 روز کے لیے پیداوار نہ ہونے‘ کے لیے کچھ وجوہات بیان کیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ان مقامی کار مینوفکچررز کے لیے انتہائی سنگین صورتحال ہے جو اپنی انوینٹریز (اسٹاک) کو بڑھا رہے ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی کمپنی اب تک کتنی انوینٹری بنا چکی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سیلز میں اضافہ نہیں ہوا تو اگلے ماہ پیدوار میں کمی مزید بڑھ سکتی ہے۔

گزشتہ 3 ماہ میں سیلز میں کمی ہوئی ہے اور کُل کار اور لائٹ کمرشل وہیکل (ایل سی وی) کا حکم جون میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد کم ہوکر 17561 یونٹس رہ گیا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کار اور ایل سی وی سیلز گزشہ مالی سال کے دورن 7 فیصد تک کمی ہوئی اور یہ گزشتہ برس سے 2لاکھ 40 ہزار 335 یونٹس تک آگئی۔

اس کے علاوہ یکم جولائی سے مقامی اسمبلی کی جانب سے استعمال کیے جانے والے پارٹس اور خام سامان پر 5 فیصد اے سی ڈی اور 2.5 سے 7.5 فیصد تک ایف ای ڈی عائد ہونے سے سیلز مزید کم ہونا شروع ہوگئی۔

ہواوے کا پہلا 5 جی فون رواں ماہ متعارف ہوگا

ہواوے کا پہلا 5 جی اسمارٹ فون میٹ 20 ایکس رواں ماہ کے آخر میں متعارف کرایا جائے گا۔

گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہواوے میٹ 20 ایکس فائیو جی مخصوص ممالک میں جولائی کے آخر تک متعارف کرایا جائے گا اور یہ اس وقت کیا جارہا ہے جب چینی کمپنی کی جانب سے اینڈرائیڈ ڈیوائسز کی تیاری پر غیریقینی صورتحال موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فون 26 جولائی کو چین میں فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

دوسری جانب وینچر بیٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہواوے کا پہلا فائیو جی فون اس وقت ایمازون کی اٹالین ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور 22 جولائی کو ریلیز کیا جائے گا جبکہ یہ متحدہ عرب امارات میں 12 جولائی کو دستیاب ہوگا۔

ہواوے میٹ 20 ایکس فائیو جی باہر سے میٹ 20 ایکس سے کافی ملتا جلتا ہے یعنی 7.2 انچ اسکرین اور بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ، تاہم اس میں بیٹری 4200 ایم اے ایچ کی بجائے 5000 ایم اے ایچ دی گئی ہے، ریم کو 6 جی بی سے بڑھا کر 8 جی بی جبکہ اسٹوریج 128 جی بی سے بڑھا کر 256 جی بی کردی گئی ہے۔

مختلف ممالک میں ہواوے کے اس پہلے فائیو جی فون کی فروخت امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کے باعث غیریقینی صورتحال کا شکار ہے کیونکہ امریکی پابندی کے باعث گوگل کی جانب سے اینڈرائیڈ لائسنس معطل کیا جاسکتا ہے۔

برطانیہ میں ہواوے نے یہ فون جون میں متعارف کرانا تھا مگر پھر اس فیصلے کو موخر کردیا گیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہواوے پر پابندیوں کو نرم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے مگر ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ چینی کمپنی کے مستقبل کے فون کس حد تک ان نرم پابندیوں سے متاثر ہوں گے۔

امریکی حکام کے مطابق پابندیاں نرم ہونے کے بعد بھی ہواوے کو بلیک لسٹ میں برقرار رکھا جائے گا تاہم اس سے کاروبار کرنے کی خواہشمند امریکی کمپنیوں کو لائسنسز جاری کیے جائیں گے۔

 

گوگل کا ڈیجیٹل اسسٹنٹ کی ریکارڈنگز سننے کا اعتراف

آپ کی نجی اور انتہائی ذاتی لمحات اتنے زیادہ بھی پرائیویٹ نہیں، اگر آپ گوگل اسسٹنٹ استعمال کرتے ہیں۔

جی ہاں گوگل نے آرٹی فیشل (مصنوعی ذہانت) پر مبنی ڈیجیٹل گوگل اسسٹنٹ پر صارفین کی وائس ریکارڈنگ سننے کا اعتراف کیا ہے۔

یہ اعتراف اس وقت کیا گیا جب گزشتہ دنوں ڈچ زبان میں گوگل اسسٹنٹ کی مختلف ریگارڈنگز بیلجیئم کے ایک براڈ کاسٹر ادارے وی آر ٹی این ڈبلیو ایس نے لیک کیں۔

وی آر ٹی کا اپنی رپورٹ میں دعویٰ تھا کہ کہ بیشتر ریکارڈنگز شعوری طور پر تیار کی گئیں، مگر گوگل ایسی گفتگو بھی سنتا ہے جو کہ ریکارڈ نہیں ہوتی اور اس میں حساس معلومات بھی ہوسکتی ہے۔

وی آر ٹی نے ایک ہزار سے زائد ریکارڈنگز لیک کی تھیں جو کہ گوگل ہوم اور گوگل اسسٹنٹ ایپ کی تھیں جو صارفین کے مختلف سوالات اور سرچز پر مشتمل تھیں۔

وی آر ٹی کے مطابق گوگل اسسٹنٹ پر مبنی ڈیوائسز گفتگو اور گھروں کے اندر مالکان کی آوازیں ریکارڈ کرکے ان میسجز کو انسانوں (گوگل کے عملے) کو ریویو کے لیے بھیجتا ہے۔

گوگل ہوم ان متعدد ڈیوائسز میں سے ایک ہے جن میں گوگل اسسٹنٹ موجود ہوتا ہے اور یہ ڈیجیٹل اسسٹنٹ لگ بھگ ہر اینڈرائیڈ فون میں بھی موجود ہوتا ہے۔

اس لیک میں سب سے حیران کن یا پریشان کردینے والا امر یہ ہے کہ بیشتر ریکارڈنگز میں صارفین نے وہ جملہ کہا ہی نہیں جو گوگل اسسٹنٹ کو متحرک کرتا ہے یعنی Hey Google یا اوکے گوگل۔

وی آر ٹی کے مطابق ان لیکس ریکارڈنگز میں کچھ جوڑوں کی خلوت کی گفتگو پر مبنی تھی، کچھ میں والدین اور بچوں کی بات چیت ہے، جبکہ ایسی اہم فون کالز بھی ہیں جن میں بہت زیادہ نجی معلومات موجود ہے۔

یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ گھر میں جو کچھ آپ کرتے یا بولتے ہیں وہ سب کچھ ریکارڈ ہوسکتا ہے۔

گوگل نے ایک بلاگ پوسٹ میں لیک کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا الزام ویڈیو کے ریویو کرنے والے ایک فرد کو قرار دیا۔

گوگل کے مطابق ‘ہماری سیکیورٹی اور پرائیویسی ریسپانس ٹیمیں اس معاملے پر متحرک ہوگئی ہیں اور تحقیقات کررہی ہیں جس کے بعد اہم ایکشن لیں گے، ہم اس طرح کی حرکت کو روکنے کے لیے اپنے اقدامات پر مکمل نظرثانی کریں گے’۔

گوگل کے بیان میں صارفین کو یقین دلایا گیا کہ انسانوں کو یہ آڈیو ریکارڈنگز ٹرانسکرپشن کے لیے بھیجی جاتی ہے اور ریویو کا عمل صارف کے اکاﺅنٹ سے جڑا نہیں ہوتا۔

تاہم وی آر ٹی کو ریکارڈنگز کے مواد سے کچھ افراد کی شناخت کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

جہاں تک کسی مخصوص جملے یعنی اوکے گوگل کے بغیر گوگل اسسٹنٹ کی جانب سے ریکارڈنگ کرنے کی بات ہے تو اس پر کمپنی نے اس معاملے پر گول مول جواب دیا۔

بیان کے مطابق ‘بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ گوگل اسسٹنٹ والی ڈیوائسز کو ایک تجربہ ہوتا ہے جسے ہم ‘false accept’ کہتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ پس منظر کی کچھ آوازیں یا الفاظ کو ہمارا سافٹ وئیر ہاٹ ورڈ (جیسے اوکے گوگل) کے طور پر لیتا ہے، ہم نے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے گوگل ہوم میں متعدد حفاظتی اقدامات کیے ہیں’۔

مگر ایسا لگتا ہے کہ کمپنی کے اقدامات کچھ زیادہ موثر نہیں۔

ویسے یہ ڈیجیٹل اسسٹنٹ اتنے بھی اسمارٹ نہیں اور انہیں اب بھی انسانی مدد درکار ہوتی ہے تو اگر آپ اپنی نجی زندگی کی گفتگو کو دور رکھنا چاہتے ہیں تو گوگل اسسٹنٹ کو اپنے فون سے ڈس ایبل کردیں، ورنہ جیسا ہے ویسا چلنے دیں۔

گوگل سرچ میں چھپی دلچسپ گیم کھیلنا چاہتے ہیں؟

اگر انٹرنیٹ پر سرچنگ کے دوران بیزاری محسوس ہورہی ہے تو گوگل سرچ میں چھپا گیم آپ کو ضرور پسند آئے گا۔

گوگل اکثر اپنے سرچ انجن میں دلچسپ فیچرز چھپا دیتا ہے اور ایسا برسوں سے ہورہا ہے۔

اور ایسا ہی دلچسپ گیم آپ اپنے براﺅزر (ڈیسک ٹاپ یا موبائل) یا گوگل ایپ پر کھیل سکتے ہیں، خصوصاً اگر آپ کو ٹینس میں دلچسپی ہو تو۔

درحقیقت اس وقت لندن میں جاری ومبلڈن ٹورنامنٹ کے موقع پر گوگل نے ایک ٹینس گیم اپنے سرچ رزلٹس میں چھپائی ہے اور اس وقت نظر آتی ہے جب آپ Wimbledon یا ومبلڈن (انگلش یا اردو دونوں میں سے جس میں دل کرے) لکھ کر سرچ کرتے ہیں۔

ومبلڈن لکھنے کے بعد جب سرچ رزلٹ سامنے آتے ہیں تو نیچے اسکور بورڈ سا بنا نظر آجاتا ہے، جس میں مینز سنگلز، ویمن سنگلز اور دیگر میچز کے اسکور دیکھے جاسکتے ہیں۔

اسی میں ایک مکسڈ ڈبلز کا آپشن ہے جس کے بعد ایک چھوٹی ٹینس بال نظر آئے گی، جس پر کلک کرنے پر گیم سامنے آجائے گی اور ڈیسک ٹاپ پر کی بورڈ کے ایرو آگے پیچھے کرنے میں مدد دیں گے جبکہ موبائل پر سوائپ کرکے ااپ یہ کام کرسکتے ہیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

گوگل کے مطابق 14 جولائی کو ومبلڈن کے اختتام کے بعد بھی اس گیم کو کھیلنا ممکن ہوگا او راس کے لیے Wimbledon 2019 scores لکھ کر سرچ کرنا ہوگا یا کسی بھی سال کے ومبلڈن کے اسکورز لکھ کر سرچ کرنے پر اسے کھیل سکیں گے۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

گوگل کے مطابق یہ گیم دیگر بڑے ٹورنامنٹس کے اسکور سرچ کرنے پر کھیلی جاسکتی ہے۔

گوگل کی جانب سے اکثر اس طرح کی گیمز سرچ انجن میں چھپا دی جاتی ہے اور عام طور کسی ایونٹ یا اہم دن کے موقع پر گوگل ڈوڈل میں بھی گیمز دے دی جاتی ہیں۔

سام سنگ گلیکسی نوٹ 10 کی آفیشل تصاویر لیک

سام سنگ کا نیا فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 10 آئندہ ماہ متعارف کرایا جائے گا اور پہلی بار یہ ڈیوائس 2 مختلف ورژن میں پیش کی جائے گی۔

ویسے تو ان فونز کی تصاویر پہلے بھی لیک ہوچکی ہیں مگر اب ان کے حتمی ڈیزائن کی تصاویر جرمن سائٹون فیوچر نے لیک کی ہیں جس میں تمام تر تفصیلات واضح ہیں اور ان لیکس کی تصدیق ہوتی ہے جو گزشتہ مہینوں میں سامنے آچکی ہیں بلکہ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ڈیزائن کے لحاظ سے کسی حد تک ہواوے فونز سے متاثر ہے۔

ون فیوچر کے مطابق یہ تصاویر درحقیقت سام سنگ کی آفیشل مارکیٹنگ مقاصد کے لیے تیار کی گئی تھیں۔

پہلی بار گلیکسی نوٹ 10 میں بیک پر تین کیمروں کا سیٹ اپ دیا جارہا ہے جبکہ فلیش کو اس کے برابر میں منتقل کیا جارہا ہے۔

اسی طرح گلیکسی نوٹ 10 پلس میں بیک پر تین کی بجائے 4 کیمرے ہوں گے، مگر ایک کیمرا تھری ڈی ٹائم آف لائٹ سنسر سے لیس ہوگا۔

اسی طرح ہول پنچ فرنٹ کیمرے کو ایس 10 کی طرح سائیڈ میں دینے کی بجائے درمیان میں رکھا گیا ہے جبکہ فنگرپرنٹ سنسر اسکرین کے اندر نصب ہوگا جیسا ایس 10 میں دیا گیا۔

اسی طرح والیوم اور پاور بٹن فون کے بائیں جانب دیئے گئے ہیں جبکہ دائیں جانب سے بیکسبی بٹن غائب کردیا گیا ہے۔

اسی طرح دونوں فونز میں بیک پر کئی رنگوں کے امتزاج یا گریڈینٹ کلرز دیئے جارہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کا بیک ڈیزائن سام سنگ کی مخالف کمپنی ہواوے کے فونز میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے مگر اب پہلی بار جنوبی کورین کمپنی کے کسی ڈیوائس میں بھی نظر آئے گا۔

ممکنہ گلیکسی نوٹ 10 اسٹینڈرڈ— فوٹو بشکریہ ون فیوچر
ممکنہ گلیکسی نوٹ 10 اسٹینڈرڈ— فوٹو بشکریہ ون فیوچر

یہ سام سنگ کا پہلا فون ہوگا جس میں اوپری اور نچلے بیزل کو لگ بھگ ختم کردیا گیا ہے جبکہ پنچ ہول کیمرا سائیڈ کی بجائے اسکرین کے اوپر سینٹر میں دیاج ائے گا۔

مختلف افواہوں کے مطابق گلیکسی نوٹ 10 کا ایک ماڈل 6.75 انچ اسکرین کے ساتھ ہوگا جبکہ دوسرے ورڑن میں 6.3 انچ ڈسپلے دیا جائے گا۔

اس سے قبل مختلف لیکس میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ گلیکسی نوٹ 10 میں 45 واٹ چارجنگ اسپیڈ دیئے جانے کا امکان ہے جو کہ پہلی بار جنوبی کورین کمپنی کے کسی فون میں دی جائے گی۔

ممکنہ گلیکسی نوٹ 10 پلس — فوٹو بشکریہ ون فیوچر
ممکنہ گلیکسی نوٹ 10 پلس — فوٹو بشکریہ ون فیوچر

ایسا بھی کہا جارہا ہے کہ گلیکسی نوٹ پلس میں سپر امولیڈ ڈسپلے کے ساتھ ایکسینوس 9828 پراسیسر یا اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر دیا جائے گا۔

اس فون میں اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم ہوگا مگر اسے بعد میں اینڈرائیڈ کیو سے اپ ڈیٹ کردیا جائے گا۔

گلیکسی نوٹ 10 کو اگلے ماہ کی 7 تاریخ (7 اگست) کو نیویارک میں ایک ایونٹ کے دوران دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

دور دراز ایسٹیرائیڈ پر جاپانی خلائی جہاز کی کامیاب لینڈنگ اور ڈرلنگ

ٹوکیو: جاپانی خلائی ایجنسی ’’جاکسا‘‘ کا تیار کردہ خودکار خلائی جہاز ’’ہایابوسا2‘‘ اپنے ساڑھے چار سالہ سفر کے بعد ’’162173 ریوگو‘‘ (Ryugu) کہلانے والے شہابیے پر کامیابی سے اتر گیا ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی چند شہابیوں تک خودکار خلائی جہاز پہنچ چکے ہیں لیکن ہایابوسا2 اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس نے ’’ریوگو‘‘ پر اتر کر وہاں کی کھدائی (ڈرلنگ) کی ہے اور شہابیے کی سطح کے اندر سے مٹی کے نمونے جمع کیے ہیں۔

اس طرح یہ انسانی تاریخ میں وہ پہلا موقعہ ہے کہ جب زمین سے بھیجی گئی کسی خودکار مشین نے دوسرے شہابیے پر کھدائی (ڈرلنگ) کا عمل انجام دیا ہے اور نمونے جمع کیے ہیں۔ اس سے پہلے یہ کامیابی صرف مریخ کے ضمن ہی میں حاصل کی جاسکی تھی۔

واضح رہے کہ ریوگو شابیے (ایسٹیرائیڈ) کا مدار زمین اور مریخ کے درمیان واقع ہے۔ اس شہابیے پر اترنے کےلیے جاپانی خلائی ایجنسی ’’جاکسا‘‘ نے ہایابوسا2 مشن کو دسمبر 2014 میں روانہ کیا تھا۔ یہ گزشتہ برس کے اختتام تک ریوگو تک پہنچ چکا تھا اور اسی کے ساتھ ساتھ مدار میں گردش کررہا تھا۔ ہایابوسا2 لینڈر کو پہلی بار فروری 2019 میں آزمائشی طور پر تھوڑی سی دیر کےلیے ریوگو پر اتارا گیا اور یہ سطح سے کچھ نمونے جمع کرنے کے فوراً بعد اپنے مدار میں واپس پہنچا دیا گیا۔

ہایابوسا2 کی لینڈنگ کے بعد بھیجی گئی اوّلین تصاویر: نچلی تصویر میں ریوگو کی سطح دکھائی دے رہی ہے جبکہ اوپر والی تصویر میں ہایابوسا2 لینڈر کا نچلا حصہ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔


 

ہایابوسا2 کی دوسری اور اصل لینڈنگ آج یعنی 11 جولائی 2019 کے روز، جاپانی وقت کے مطابق صبح تقریباً دس بجے شروع ہوئی جو نہایت آہستگی اور احتیاط کے ساتھ تقریباً پچاس منٹ میں مکمل ہوئی۔ اپنی جگہ پر مستحکم ہونے کے بعد ہایابوسا2 لینڈر نے اپنے ڈرلنگ کے آلات کھول لیے ہیں اور ریوگو کے اندرونی حصوں سے نمونے جمع کرنے میں مصروف ہے۔ متوقع طور پر یہ کام کل یعنی 12 جولائی 2019 تک مکمل ہوجائے گا، جس کے بعد ہایابوسا2 ایک بار پھر وہاں سے بلند ہوگا اور اپنے سابقہ مقام پر واپس آجائے گا۔

منصوبے کے مطابق، یہ دسمبر 2019 میں ریوگو ایسٹیرائیڈ کو خیرباد کہے گا اور ایک سالہ سفر کے بعد دسمبر 2020 تک زمین پر واپس پہنچ جائے گا۔ ریوگو کے اندرون سے حاصل شدہ مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کرکے ماہرین ہمارے نظامِ شمسی کی تاریخ، ارتقاء اور ساخت کے بارے میں اپنی معلومات اور نظریات کو بہتر بناسکیں گے۔

بھارت چاند کے قطب جنوبی پر خلائی مشن بھیجنے کے لیے تیار

رواں سال کے آغاز میں چین کا خلائی مشن چینگ 4 چاند کے تاریک حصے پر اترنے میں کامیابی حاصل کی تھی اور اسے سنگ میل قرار دیا گیا تھا۔

اب بھارت چاند کے قطب جنوبی میں مشن بھیج رہا ہے اور اگر اسے لینڈ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی ملک کا خلائی مشن چاند کے اس حصے پر پہنچ سکے گا۔

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) چندریان 2 مشن کو 15 جولائی کو روانہ کررہا ہے جس میں کوئی انسان تو نہیں، مگر 3 روبوٹ ہوں گے جو سطح اور آسمان سے چاند کا سروے کرسکیں گے۔

یہ خلائی مشن ستیشن دھون اسپیس سینٹر سے روزانہ کیا جائے گا اور چندریان 2 میں ایک چاند گاڑی، لونر لینڈر اور روور پر مشتمل مشن ہوگا جسے بھارتی ساختہ جی ایس ایل وی ایم کے تھری راکٹ سے لانچ کیا جائے گا۔

یہ مشن 6 ستمبر 2019 کو چاند تک پہنچے گا اور اگر لینڈنگ میں کامیابی کی صورت میں بھارت چوتھا ملک بن جائے گا جس کا مشن چاند پر اترنے میں کامیاب ہوا، دیگر ممالک میں امریکا، روس اور چین شامل ہیں، جس کا چینگ 4 روور ابھی بھی چاند کے تاریک حصے میں موجود ہے۔

چاند پر اترنے کے بعد لونر لینڈر اور روور چاند کے قطب جنوبی کی جانب جائیں گے اور سائنسی طور پر اہم اس خطے کی کھوج کریں گے، جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہاں برفانی پانی موجود ہے۔

اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے کہ یہ مشن چاند پر کہاں اترے گا اور کہاں تک جائے گا۔

اس سے پہلے گزشتہ سال بھارت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ 2022 تک پہلا انسان بردار خلائی مشن بھیجے گا اور اس کے لیے پہلی 3 بھارتی خلابازوں کے ساتھ خلائی گاڑی کو دسمبر 2021 میں زمین کے گرد نچلے مدار میں بھیجا جائے گا۔

ڈھائی کروڑ اینڈرائیڈ ڈیوائسز ایک میل وئیر سے متاثر ہونیکا انکشاف

ایک نیا اینڈرائیڈ میل وئیر دریافت کیا گیا ہے جس نے ڈھائی کروڑ سے زائد ڈیوائسز کو ایپس بدل کر متاثر کیا ہے۔

یہ بات آن لائن سیکیورٹی کمپنی چیک پوائنٹ کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے جسے ایجنٹ اسمتھ کا نام دیا گیا ہے جس کی وجہ اس کا کسی ڈیوائس پر حملے کا طریقہ اور پکڑے جانے سے بچنا ہے۔

یہ میل وئیر صارف کا ڈیٹا چوری نہیں کرتا بلکہ ایپس ہیک کرتا ہے اور زیادہ اشتہارات ڈسپلے کرتا ہے تاکہ میل وئیر کے آپریٹر ان ویوز سے منافع حاصل کرسکیں۔

چیک پوائنٹ کے مطابق یہ میل وئیر کسی ڈیوائس میں مختلف ایپس جیسے واٹس ایپ کے کوڈ میں کچھ حصوں کو بدل دیتا ہے اور انہیں اپ ڈیٹ ہونے سے روکتا ہے۔

اس میل وئیر نے بھارت اور اس کے ارگرد کے ممالک (ممکنہ طور پر پاکستان بھی) میں صارفین کو زیادہ متاثر کیا ہے، جس کی وجہ اس خطے میں ایک تھرڈ پارٹی ایپ اسٹور 9 ایپس کی مقبولیت ہے۔

چیک پوائنٹ کے مطابق یہ میل وئیر فوٹو یوٹیلیٹی، گیمز اور سیکس پر مبنی ایپس میں چھپا ہوسکتا ہے اور جب کوئی صارف اسے ڈاﺅن لوڈ کرلیتا ہے تو یہ خود کو گوگل کی ایپ کی شکل میں ظاہر کرتا ہے اور اپنا نام گوگل اپ ڈیٹر بتاتا ہے، جس کے بعد دیگر ایپس کے کوڈ بدلنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔

اس میل وئیر کو آپریٹرز نے گوگل پلے اسٹور تک توسیع دینے کی کوشش کی تھی اور 11 ایپس میں اس کے سادہ ورژن کا کوڈ شامل کردیا تھا، تاہم گوگل نے اب ان تمام مشتبہ ایپس کو پلے اسٹور سے ڈیلیٹ کردیا ہے۔

اس میل وئیر سے اینڈرائیڈ 5 اور 6 پر کام کرنے والی ڈیوائسز زیادہ متاثر ہوئی ہیں تاہم چیک پوائنٹ کا کہنا ہے کہ اپنی ایپس کو اپ ڈیٹ کردینا اس سے تحفظ دے سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative