سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

اسمارٹ فون کی بیٹری کی کارکردگی دُگنی کرنے میں اہم کامیابی

میسا چیوسیٹس: اسمارٹ فون میں جدید ترین ترقیوں کے باوجود بھی اس کی بیٹری میں کوئی خاص جدت نہیں آسکی جب کہ اسمارٹ فون میں بند ہوتی  بیٹری اور اس کی جارچنگ ایک مسئلہ بن چکی ہے۔

لیکن اب ایک کمپنی نے بیٹری کی جسامت آدھی اور افادیت کو دُگنا کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خاص میٹریل سے تیارشدہ یہ بیٹری دُگنے وقت تک چلے گی اور مارکیٹ میں دستیاب تمام بیٹریوں سے اس کی صلاحیت سب سے بہترین ہوگی۔

سالڈ انرجی سسٹمز کی جانب سے تیار کردہ بیٹری جسامت میں آدھی اور افادیت میں دُگنی ہوگی جب کہ کمپنی کے سی ای او نے بتایا کہ  بیٹری کی جسامت نصف رہ جائے گی اور یہ لیتھیئم بیٹری جتنے وقت تک فون کو چلاسکے گی اور اگر بیٹری کو آج کی عام بیٹریوں جتنا بڑا کرلیا جائے تو یہ ازخود دُگنی کارکردگی فراہم کرے گی۔

عام طور پر ہم لیتھیئم آئن بیٹری استعمال کررہے ہیں جس میں گریفائٹ کیتھوڈ سے منفی چارج کے حامل الیکٹران مثبت چارج والے اینوڈ کی جانب سفر کرتے ہیں۔دوسری جانب لیتھیئم کی ہائی انرجی دھاتی پرت کو بھی استعمال کیا گیا ہے جو نہ صرف بیٹری کو زیادہ چارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ بیٹری کی عمر بھی بڑھاتا ہے۔

مستقبل کی 5 سواریاں جو سفر کا انداز بدل دیں گی

ہوسکتا ہے کہ پاکستان میں ابھی پبلک ٹرانسپورٹ یا کس بھی طرح کے ٹرانسپورٹ نظام کی ایک باقاعدہ شکل موجود نہیں مگر دنیا جس تیزی سے ترقی کررہی ہے، اسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں اس شعبے کا نقشہ بدلنے والا ہے۔

خودکار ڈرائیونگ کرنے والی گاڑیوں سے لے کر ہائپر لوپ تک، کمپنیاں ٹرانسپورٹ کی شکل بدلنے میں مصروف عمل ہیں۔

یہاں کچھ ایسے ٹرانسپورٹ سسٹمز اور سواریوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو ابھی تیار ہورہی ہیں اور سامنے آنے کے بعد زمین پر سفر کرنے کے انداز کو ڈرامائی حد تک بدل کر رکھ دیں گی۔

خودکار ڈرائیونگ کرنے والی گاڑیاں

خود ڈرائیونگ کرنے والی گاڑیاں اب کوئی خواب نہیں بلکہ ان کے تجربات مختلف ممالک میں جاری ہیں۔

متعدد بڑی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اس عزم کا اظہار کرچکی ہیں کہ وہ 2020 تک ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی انتہائی جدید نیم خودکار گاڑیاں مارکیٹ میں لے آئیں گی، جبکہ ایک دہائی تک انہیں مکمل خودکار بنادیا جائے گا۔

ایسی گاڑیوں کے سامنے آنے سے تحفظ کے حوالے سے چند بڑے فوائد بھی انسانوں کو حاصل ہوں گے، جبکہ کاربن کا اخراج بھی کم ہوگا اور جو لوگ گاڑی چلانا نہیں جانتے، انہیں بھی گاڑی خرید کر رکھنے میں دشواری نہیں ہوگی۔

57b5fdea76123اڑن گاڑیاں

اڑن گاڑیاں ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی تیاری پر تیزی سے کام کا آغاز ہوچکا ہے

رواں سال جون میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ گوگل کے شریک بانی لیری پیج نے 100 ملین ڈالرز ایک کمپنی زوو ایرو پر لگائے ہیں جو ایک اڑنے والی گاڑی کی ٹیکنالوجی پر کام کررہی ہے۔

لیری پیج نے اڑن گاڑی کو حقیقی شکل دینے والی ایک اور کمپنی کیٹی ہاک پر بھی سرمایہ کاری کی ہے۔

اگرچہ ابھی ان دونوں کمپنیوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کا کام کس حد تک آگے بڑھ چکا ہے مگر اطلاعات ہیں کہ ان کے نمونے تیار ہونے کے قریب ہیں۔

اسی طرح ٹیرافیوگا ایک اور کمپنی ہے جو فلائنگ کار کو تیار کررہی ہے جسے ٹی ایف ایکس کا نام دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ 2025 تک فضاﺅں میں اڑتی نظر آئیں گی۔

57b5fdeacd613الیکٹرک گاڑیاں

الیکٹرک کاریں اب تیزی سے مرکزی دھارے کا حصہ بن رہی ہیں اور بیشتر کمپنیاں مکمل الیکٹرک اور لانگ رینج گاڑی 2020 تک سامنے لانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

یہ گاڑیاں کاربن کے اخراج میں تو کمی لانے میں مدد دیں گی ہی، اس کے ساتھ ہی یہ بجلی بنانے والی کمپنیوں کے رویے میں بھی تبدیلی لائیں گی اور انہیں توانائی کے متبادل ذرائع پر مزید سرمایہ کاری پر مجبور کریں گی تاکہ بجلی کی طلب کو پورا کیا جاسکے۔

57b5fdeb1be54خودکار ڈرائیونگ کرنے والی بسیں

شہروں میں آبادی بڑھنے کے نتیجے میں زیادہ محفوظ اور موثر پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔

اسے پورا کرنے کے لیے بیشتر کمپنیاں خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی بسوں کو تیار کرنے پر کام کررہی ہیں۔

مثال کے طور پر جولائی میں مرسڈیز بینز نے نیم خودکار فیوچر بس کو متعارف کرایا تھا جو ٹریفک لائٹس کو پہچاننے، سرنگوں میں سفر سمیت راہ گیروں اور سائیکل سواروں کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور مخصوص مواقعوں پر خود ڈرائیو کرکے بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔

مرسڈیز کا دعویٰ ہے کہ اس کی بس ایندھن بچانے کے لیے بھی عام بسوں کے مقابلے میں موثر ہے کیونکہ اس کا خودکار ڈرائیونگ کا سسٹم بریک، ایکسیلیٹر اور گیئرز کو موثر طریقے سے استعمال کرتا ہے۔

ابھی یہ فیوچر بس 43 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتی ہے اور انہیں صرف بسوں کے لیے مخصوص لینز میں ہی دوڑایا جاسکتا ہے کیونکہ وہاں ٹریفک کم ہونے کی وجہ سے انہیں چلانا آسان ہے تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی میں پیشرفت ہونے کے بعد یہ زیادہ بہتر خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت سے لیس ہوگی۔

57b5fdeb77713ہائپر لوپ سسٹمز

مستقبل میں ٹرینوں کی جگہ مسافر پوڈز یا ہائپر لوپ نظر آئیں گے جو سرنگوں کے راستے 500 میل فی گھنٹہ سے بھی زائد کی رفتار سے سفر کرسکیں گے اور لوگ طیاروں کی طرح جلد اپنی منزلوں تک پہنچ سکیں گے، یعنی لاہور سے کراچی کا سفر دو گھنٹے میں طے ہوجائے گا۔

چونکہ ہائپر لوپ کا کنٹرول مکمل طور پر خودکار ہوگا لہذا موسم کی خرابی یا آپریٹر کی غلطی کی وجہ سے کبھی تاخیر کا سامنا نہیں ہوگا۔

علاوہ ازیں ہائپر لوپ کو تیار کرنے والی کمپنیوں کا عزم ہے کہ اس کی لاگت ہر ممکن حد تک کم کی جائے گی۔

ان کے بقول ہائپر لوپ پبلک ٹرانسپورٹ کی ایسی قسم ہوگی جو انتہائی کم قیمت ہوگی تاکہ لوگ انہیں دیگر ذرائع کے مقابلے میں ترجیح دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انتہائی تیز رفتار، بہت زیادہ محفوظ اور توانائی کی بچت کرنے والی یہ ٹرانسپورٹ جتنی سستی ہو گی لوگ اسے اتنی ہی زیادہ ترجیح دیں گے۔

دنیا کے خاموش ترین مقام پر وقت گزارنا کیسا ہوگا؟

کیا آپ نے کبھی کسی ایسی جگہ کا دورہ کیا ہے جہاں بالکل خاموشی ہو اور کوئی آواز نہ ہو؟

شاید آپ میں سے بہت سے افراد کسی جنگل کے اندر، پہاڑ تلے، یا سنسان سڑک پر گزاری گئی شام کے بارے میں سوچیں کہ وہ شام آپ کی زندگی کی خاموش ترین شام اور خاموش ترین مقام تھا۔

آپ کو اس جگہ پر جا کر کیا محسوس ہوا؟

یقیناً آپ کا جواب ہوگا کہ وہ شام ایک بہترین شام تھی۔ اس سے آپ کے دماغ اور اعصاب کو سکون ملا اور آپ نے اپنی تخلیقی صلاحیت میں اضافہ محسوس کیا۔

خاموشی کے فوائد:

لیکن درحقیقت ایسا اس لیے ہوا کیونکہ وہ جگہ خاموش ترین جگہ تھی ہی نہیں۔

اسے دیکھیئے۔

room-1

یہ دنیا کا مصدقہ خاموش ترین مقام ہے اور سائنسی مقصد کے لیے اسے مائیکرو سافٹ کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے۔

امریکی ریاست منیسوٹا میں واقع یہ کمرہ اس قدر خاموش ہے کہ یہاں داخل ہو کر آپ اپنے دل کی دھڑکن، سانس اور پیٹ کے اندر کھانے کے ہضم ہونے کی آوازیں تک سن سکتے ہیں۔

اس کمرے کی دیواروں کو تین فٹ موٹے ساؤنڈ پروف فائبر گلاس، اسٹیل اور پتھر سے بنایا گیا ہے اور یہ باہر سے آنے والی 99.99 آوازیں اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔

اس کمرے کو ’ان ایکوئک‘ یعنی بے گونج یا بے آواز کمرے کا نام دیا گیا ہے۔

شور شرابہ کے نقصانات:

اس کمرے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے جاننا ضروری ہے کہ ایک انسان صفر ڈیسیبل تک دھیمی آواز سن سکتا ہے۔ ڈیسیبل کسی شے کی طبعی موجودگی کو ناپنے کا کم ترین پیمانہ ہے۔ اس کمرے میں موجود (یا غیر موجود) آواز کی پیمائش منفی 9.4 ڈیسیبل ہے یعنی انسانی کان کے ہلکی ترین آواز سننے کی صلاحیت سے بھی کم۔

لیکن اس کمرے میں جا کر کیسا محسوس ہوتا ہے؟

اس بات کو جانچنے کے لیے مائیکرو سافٹ کے ایک انجینئر گوپال پرپدی نے اس کمرے کے اندر کچھ وقت گزارنے کا فیصلہ کیا۔

جب ہم کسی خاموش مقام پر جاتے ہیں تب بھی ہمارا کان فطرت کی کئی آوازیں سن رہا ہوتا ہے، دور پانی بہنے کی آواز، ہوا کی آواز، پرندوں کی چہچہاہٹ، آپ کے قدموں کی آواز۔ لیکن یہ کمرہ ان تمام آوازوں سے پاک ہے۔

گوپال پرپدی کے مطابق جب وہ اس کمرے میں داخل ہوئے اور دروازہ بند ہوا، تو پس منظر کی تمام آوازیں یکدم غائب ہوگئیں اور گہرا سکوت طاری ہوگیا.

چند سیکنڈز بعد ہی انہوں نے اپنا دماغ سن ہوتا محسوس کیا اور اس کے بعد انہیں یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی غار میں سفر کر رہے ہوں۔ ساتھ ہی انہیں خدشہ محسوس ہوا کہ ان کا جسم بے جان ہوگیا ہے اور وہ حرکت نہیں کرسکتے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر وہ مزید کچھ دیر اس کمرے میں ٹہرتے تو انہیں ڈر تھا کہ شاید ان کا دماغی توازن ٹھیک نہ رہ پاتا۔

یقیناً آپ ایسا نہیں چاہیں گے لہٰذا اپنے ارد گرد موجود آوازوں کی قدر کیجیئے۔

مزار قائد اب شمسی بجلی سے روشن ہوگا

 

کراچی: بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثے کی میٹنگ میں کیا گیا۔ میٹنگ میں سینیٹر نہال ہاشمی، عبدالکریم خواجہ اور اشوک کمار شریک تھے۔

میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے بتایا کہ 7 ستمبر کو اس حوالے سے ایک عوامی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں اس معاملے سمیت مزار قائد کی مزید سجاوٹ کے بارے میں بھی گفتگو کی جائے گی۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی اور یہ مزار پر آنے والے افراد سے ٹیکس کی شکل میں نہیں وصول کیے جائیں گے۔

مزار قائد کے انتظامی بورڈ کے سربراہ محمد عارف نے بتایا کہ کام کے آغاز سے قبل کمیٹی کے ارکان کو ایک تفصیلی بریفنگ دی جائے گی تاکہ تعمیرات میں کسی قسم کی فنی خرابی سے بچا جاسکے۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی ان غلطیوں سے اپنی بہنوں بیٹیوں کو بھی بچائیں

سوشل میڈیا کا استعمال جس قدر بڑھ رہا ہے، اسی طرح بہت محتاط رہنے کی بھی ضرورت ہے، چلیے جان لیتے ہیں کہ آن لائن محفوظ رہنے کے لیے خاص طور پر نو عمر لڑکیوں کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے اور والدین کو کس قدر حساس ہونے کی ضرورت ہے؟انٹرنیٹ کی دنیا کتنی ہی رنگ برنگی اور چمک دمک سے بھرپور کیوں نہ ہو، اس پر بھروسہ ہرگز نہیں، خاص طور پر نو عمر لڑکیوں کو انٹرنیٹ کی اس دنیا میں بہت سنبھلنا ہوگا، کسی پر اندھا اعتماد نہ کریں۔اجنبیوں کی جانب سے آنے والی فرینڈ ریکوئسٹ ہرگز قبول نہ کریں، آن لائن یا حقیقی زندگی، اگر کوئی نئے دوست بنائیں، تو آپ کے ان دوستوں کے بارے میں گھر والوں کو ضرور معلوم ہونا چاہیے۔اکثر دھوکے اعتماد کے نام پر ہی ہوتے ہیں، اس لیے اگر کوئی 146کیا تمہیں مجھ پر اعتماد نہیں145 جیسی لفاظی کرکے حدود کراس کرنے کی کوشش کرے، اسے وہیں روک دیں۔کبھی کسی اجنبی کے ساتھ کسی اجنبی مقام پر اکیلے نہ جائیں،کوئی آپ کو باہر ملنے کی درخواست کرے تو اپنے گھر والوں کو مطلع کریں،یاد رکھیے، آپ کا گھر ہی آپ کی اصل پناہ گاہ ہے اور گھر والے ہی اصل محافظ ہیں۔والدین بھی اپنے بچوں کے دوست بنیں، انہیں اتنا قریب رکھیں کہ درمیان ایسا کوئی فاصلہ نہ ہوجس کے بیچ کسی اجنبی کی گنجائش بنے۔بچوں کی ایکٹوٹیز پر صرف نظر نہ رکھیں بلکہ خود بھی ان کے ساتھ شریک ہوں اور ہاں صرف بیٹیاں ہی نہیں بلکہ بیٹوں کی ایکٹوٹیز پر بھی اتنی ہی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

سام سنگ صارفین ہوشیار, بڑی غلطی کا انکشاف

لگ بھگ ایک ارب اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز سنگین سیکیورٹی خامی کے شکار ہیں جو ہیکرز کو ڈیوائس کے تمام ڈیٹا اور ہارڈ ویئر تک رسائی دے سکتی ہے۔یہ انتباہ بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی کمپنی چیک پوائنٹ کی جانب سے سامنے آیا ہے۔اس کمپنی کے محققین کے مطابق کواڈ روٹر نامی خامی سے دنیا بھر میں 90 کروڑ اینڈرائیڈ فونز اور ٹیبلیٹس متاثر ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے وہ ڈیوائسز متاثر ہوں گی جن میں کوالکوم چپ کا استعمال کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت کسی کی بھی ڈیوائس محفوظ نہیں جبکہ کوالکوم اور گوگل کے درمیان کسی قسم کے تنازع کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین ہوگیا ہے۔اس خامی کا فائدہ اٹھانے کے لیے ہیکر نقصان دہ ایپ انسٹال کرنے کے لیے لنک بھیجے گا اور اس کے ذریعے سسٹم تک رسائی حاصل کرلے گا۔یعنی وہ تمام ڈیٹا دیکھ سکتا ہے جبکہ کیمرہ اور مائیکرو فون بھی استعمال کرسکتا ہے۔کوالکوم کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے ایک حل تیار کیا ہے جو گوگل اگلے ماہ اپنی ماہانہ اپ ڈیٹ کے ساتھ جاری کرے گا۔اس خامی کے نتیجے میں بلیک بیری پریو، گوگل نیکسز فائیو ایکس، نیکسز سکس، نیکسز سکس پی، ایل جی جی فور، ایل جی جی فائیو، ایل جی وی ٹین، سونی ایکسپیریا زی، ایچ ٹی سی ون، ایچ ٹی سی ایم نائن، ایچ ٹی سی ٹین اور سام سنگ کے فونز متاثر ہوں گے۔

کیا اینڈ رائیڈ کازمانہ ختم ہونے والا ہے ؟

گوگل نے ایک نئے آپریٹنگ سسٹم کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے اور وہ اینڈرائیڈ سے بالکل مختلف ہے۔جی ہاں گوگل اکثر نت نئے پلیٹ فارمز متعارف کراتا رہتا ہے مگر اس کا نیا منصوبہ کچھ ہٹ کر ہے۔گوگل کی جانب سے اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم فویشا کو ڈیزائن کیا جارہا ہے جو موبائل فونز، لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز غرض ہر چیز پر کام کرسکتا ہے۔اس کا کیرنل (سسٹم کا وہ حصہ جو میموری، فائلز اور پیریفیرل ڈیوائسز کا انتظام کرتا ہے) میں یوزر موڈز اور سیکیورٹی ماڈل جیسے آپریٹنگ سسٹم کے فیچرز موجود ہیں اور یہ ایڈوانسڈ گرافکس کو سپورٹ بھی کرتا ہے۔گوگل کی ڈارٹ پروگرامنگ لینگویج اس کا دل ہے۔کوڈ شیئرنگ ویب سائٹ GitHub میں اس کے حوالے سے ایک پیج منظر عام پر آیا ہے۔گوگل کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی بتایا گیا ہے کہ آخر اس آپریٹنگ سسٹم کو کس مقصد کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔تاہم ماہرین کے خیال میں یہ ایسی مصنوعات کے لیے تیار کیا جارہا ہے جس میں اینڈرائیڈ اور لینکس کا استعمال مثالی نہیں اور گوگل اس میدان میں دیگر کمپنیوں سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔لیکن جیسا بتایا جاچکا ہے کہ یہ کمپیوٹر اور موبائل میں بھی استعمال ہوسکتا ہے تو یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ گوگل کی جانب سے اسے اینڈرائیڈ اور کروم آپریٹنگ سسٹم کے متبادل کے طور پر بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔

اب معدومی کا خطرہ نہیں

موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ یعنی گوبل وارمنگ جہاں انسانوں کے لیے خطرہ ہیں وہیں جنگلی حیات کو بھی

اس سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ جنگلی حیات کی کئی نسلوں کو ان عوامل کے باعث معدومی کا خدشہ ہے، تاہم امریکا میں ایک معدومی کے خطرے کا شکار لومڑی خطرے کی زد سے باہر آچکی ہے۔

اس بات کا اعلان امریکا کے فش اینڈ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ نے کیا۔ حکام کے مطابق کیلیفورنیا میں پائی جانے والی لومڑیوں کی اس قسم کو، جن کا قد چھوٹا ہوتا ہے اور انہیں ننھی لومڑیاں کہا جاتا ہے، اگلے عشرے تک معدومی کا 50 فیصد خطرہ تھا اور اسے خطرے سے دو چار نسل کی فہرست میں رکھا گیا تھا.

Google Analytics Alternative