سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

سست پرانا کمپیوٹر کو کروم بک بنائیے

اگر تو آپ کے پاس سست پرانا کمپیوٹر ہے اور اس کو پھینکنے کی بجائے بہتر بلکہ مارکیٹ میں دستیاب گوگل کے کروم بک جیسا بنانا چاہتے ہیں تو اب ایسا ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ممکن ہے۔

ایک امریکی کمپنی نیور ویئر نے ایسا سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو آپ کے ایک دہائی پرانے ونڈوز یا ایپل کمپیوٹر کو مکمل طور پر فعال کلاﺅڈ کمپیوٹر میں تبدیل کردیتا ہے۔

یہ سافٹ ویئر پرانے کمپیوٹر کو تبدیل کرکے گوگل کروم کے آپریٹنگ سسٹم میں بدل دیتا ہے۔

اس سافٹ ویئر کو کلاﺅڈ ریڈی کا نام دیا گیا ہے اور یہ پرانے کمپیوٹرز کو تیز اور کروم آپریٹنگ سسٹم میں تبدیل کرنے پر زیادہ کارآمد بنادیتا ہے کیونکہ اس کے لیے زیادہ پاور یا ریسورسز اور ہیوی آپریٹنگ سسٹمز کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کلاﺅڈ ویئر سافٹ ویئر ذاتی استعمال کے لیے مفت ہے جسے اسلنکسے یو ایس بی پر ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے جس میں صرف 42 منٹ لگتے ہیں۔

آپ کو بس ایک 8 سے 16 جی اسٹوریج والی یو ایس بی، ایک لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر جو دس سال سے زیادہ پرانا نہ ہو اور جی میل ایڈریس کی ضرورت ہوگی۔

اس انسٹالیشن سے پہلے اپنی اہم معلومات کا بیک اپ بنالیں، کلاﺅڈ ویئر پر اپنے کمپیوٹر ماڈل کو چیک کرلیں یہ اس پر کام کرسکتا ہے اور پھر ڈاﺅن لوڈ کرلیں۔


اسٹیم سیلز سے آنکھوں کے لینس بنانے کا کامیاب تجربہ

پیرس: روزبروز دھندلی ہوتی نظر اور نابینا پن میں مبتلا مریضوں کی بینائی اب جلد بحال ہونے کی اُمید پیدا ہوگئی ہے کیونکہ مریضوں کے اسٹیم سیلز سے آنکھوں کے لینس اور قرنیہ بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی سائنسی جریدے کے مطابق سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے تجربہ گاہ میں اسٹیم سیل کے ذریعے انسانی آنکھ کا لینس اور دوسری ٹیم نے قرنیہ (کورنیا) بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کی جانب سے ان دونوں رپورٹوں کو بہت اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے جس سے اسٹیم سیل کے ذریعے دوبارہ نمو ( ری جنریشن) اور علاج کی راہ ہموار ہوگی۔ آنکھ کا قرنیہ اور لینس شفاف ہوتا ہے اور بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے یہ دھندلا جاتا ہے جس کے بعد انہیں کسی سے عطیہ لیا جاتا ہے یا پھر مصنوعی لینس لگایا جاتا ہے لیکن اکثر مریض کے جسم کا دفاعی نظام دوسرے شخص کا قرنیہ یا لینس مسترد کردیتا ہے اور مصنوعی لینس بھی ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اس کے برخلاف اسٹیم سیل خود مریض کے جسم سے لیے جاتے ہیں اور بہت کم مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسٹیم سیلز (خیلاتِ ساق) ایسے ابتدائی سیلز ہوتے ہیں جو ہر طرح کے خلیات میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں خواہ وہ جگر کے خلیات ہوں یا دماغ کے ہوں۔ لیکن اب انڈیوسڈ پلوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز ( آئی پی ایس سی) کے عمل میں فروغ پانے والے خلیات کو دوبارہ ان کی پہلی حالت میں لایا جاتا ہے اور ان سے مختلف قسم کے خلیات بنائے جاسکتے ہیں جن میں آنکھ کے مخلتف حصے کے خلیات بھی شامل ہیں۔

مرغی کے آباﺅ اجداد ڈائنوسار

ہر وہ شخص جسے مرغی کا گوشت پسند ہو وہ اس کی ٹانگ کے نچلے جوڑ یا ڈرم اسٹک کی ہڈی سے بخوبی واقف ہوگا جسے پنڈلی کی باہر کی طرف کی ہڈی یا fibula بھی کہا جاتا ہے مگر کیا آپ اس صورت میں اسے کھانا چاہیں گے جب وہ ڈائنوسار کی شکل کی ہو؟

ایسے دلچسپ تجربے کو کامیابی سے چلی کے سائنسدانوں نے کیا ہے۔

اس پرندے کے آباﺅ اجداد یعنی ڈائنو سارز میں یہ ہڈی ٹیوب کی شکل کی تھی جو نیچے ٹخنے تک جاتی تھی۔

ڈائنو سارز سے پرندوں کے ارتقاءتک اس کا نچلا حصہ ختم ہوگیا اور وہ ٹخنوں سے الگ ہوگئی اور ایک دوسری ہڈی tibia نے اس کی جگہ لے لی۔

مگر یونیورسٹی آف چلی کے محققین نے ‘ارتقاءکو ریورس’ کرنے کا تجربہ کیا اور موجودہ چکن کے جینز میں تبدیلی لاکر ڈائنوسار جیسی ٹانگیں چینے کی کوشش کی۔

سائنسدانوں نے طویل عرصے پہلے یہ بتایا تھا کہ اس پرندے کا جینن پہلے ڈائنو سار جیسے fibula کا حامل ہوتا ہے مگر بعد ازاں وہ ہڈی چھوٹی ہوکر ریڑھ کی ہڈی جیسی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے چلی یونیورسٹی کے برازیلین محقق جوآﺅ بوتھیلو نے ارتقائی عمل کو ریورس کردیا۔

تجربات کے دوران محققین نے دریافت کیا کہ ابتدائی نشوونما کے دوران یہ ہڈی زیریں حصے میں متحرک ہوتی ہے مگر بعد میں خلیات تقسیم ہوکر بڑھنے لگتے ہیں۔

ڈائنو سار جیسی لمبی ہڈی کے حصول کے لیے محققین نے ایک جین کو اس میں شامل کردیا اور اس کے نتیجے میں ان کی وہ ہڈی لمبی ہوکر ٹخنوں سے جڑ گئی بالکل ڈائنو سار کی طرح۔

بجلی پیدا کرنے والے درخت

پیرس: فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں چھبیس فٹ اونچا ’ونڈ ٹری‘ نصب کیا جارہا ہے، جس سے بجلی پیدا ہوگی۔

پیرس کے علاقے ’دی لاکون کورڈے‘ میں نصب کیےجانے والے پہلے آٹھ میٹراونچے ونڈ ٹری میں پتوں کے بجائے
تریسٹھ چھوٹی پنکھڑیاں نصب ہیں جنہیں ایرولیوزکا نام دیا گیاہے۔

درخت کےہرپتےکےاندر چھوٹے چھوٹے بلیڈزنصب ہیں جو ہوا کی سات کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتارپربھی بجلی پیدا کرسکتےہیں۔

درخت بنانے والی کمپنی کےبانی کوامید ہےکہ درخت تین اعشاریہ ایک کلوواٹ بجلی ہرسال بنائےگا۔

ان کاکہناتھاکہ درخت کسی قسم کی آوازپیدانہیں کرتا جس سےصوتی آلودگی پیداہونےکاخدشہ نہیں۔

درخت کی ریٹیل مارکیٹ میں قیمت تینتس ہزارچھ سوسترڈالریاپینتیس لاکھ پاکستانی روپے کے لگ بھگ ہے۔

مریخ پر جانے والے افراد کی شکل تبدیل ہوجائے گی، سائنسدان

کراچی: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کے یکطرفہ مشن پر جانے والے افراد کی ہیت تبدیل ہوجائے گی اورممکنہ طورپروہ فلموں میں دکھائی دینے والی خلائی مخلوق جیسے دکھائی دینے لگیں گے۔

محققین کے مطابق زمین کا ماحول اوراس کی فضا میں زندگی کو بقا دینے والے عناصردیگر سیاروں سے بہت مختلف ہیں اورہمارے خدوخال اسی ماحول کی وجہ سے موجودہ شکل میں برقراررہتے ہیں۔

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دیگر سیاروں بالخصوص مریخ پرکشش ثقل اوردیگرعناصر زمین سے مختلف ہونے کی وجہ سے جب کوئی شخص وہاں قدم رکھے گا تو اس کی شکل عام انسان کی طرح نہیں رہے گی بلکہ اس میں نمایاں تبدیلیاں آجائیں گی۔

مریخ پرجانے والے جن لوگوں کے نام حتمی طور پرطے کرلیے گئےہیں ان میں مشہور امریکی سائنس دان جیسن سٹینفورڈ کی اہلیہ سونیا وین میٹربھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس ناقابل واپسی مشن پرجانے کے لیےرضاکارانہ طور پرخود کو پیش کیا ہے۔

جیسن کا کہنا ہے کہ مریخ کے ماحول کو دیکھتے ہوئے انہیں توقع ہے کہ ان کی اہلیہ میں نہ صرف ظاہری بلکہ اندرونی طورپربھی تبدیلیاں رونما ہوں گی جس کے نتیجے میں انہیں پہچاننا مشکل ہوجائے گا۔ جیسن کے مطابق مریخ پر ان کا چہرہ کچھ اس طرح ہوجائے گا کہ انہیں انسان کہنے کے بجائے کچھ اورہی نام دینا ہوگا۔

اگرچہ فی الوقت مریخ کا سفرناقابل واپسی دکھائی دیتا ہے تاہم اگراس سیارے سے واپسی ممکن ہوئی تو لوگ انہیں پہچان نہیں پائیں گے بلکہ غالب امکان یہی ہے کہ اہل زمیں انہیں دیکھ کرڈرجائیں گے۔

مریخ کے سفرپرتحقیق کرنے والےسائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سیارے کی کشش ثقل وہاں جانے والے خلا بازوں کے جسم میں انتہائی بڑے پیمانے پرتبدیلیاں پیدا کردے گی، ممکنہ طورپران کی ناک اورکان بڑے ہوجائیں گے جبکہ ہاتھ اورپاؤں بھی ٹیڑھے ہوسکتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کشش ثقل انسانی جسم کی ہڈیوں اور پٹھوں یعنی ہماری شکل کو ترتیب دیتی ہے جب کہ مریخ یا دوسرے سیاروں پر کمزور یا طاقتور کشش ثقل کے باعث وہاں جانے والی مخلوق کی جسامت بھی پہلے جیسی نہیں رہے گی۔

فیس بک میں ایک اور بڑی تبدیلی لانے پر کام شروع

فیس بک میں ایک اور بڑی تبدیلی جلد آنے کا امکان فیس بک نے اپنی ویب سائٹ میں ری ایکشنز کے بعد ایک اور بڑی تبدیلی لانے پر کام شروع کردیا ہے۔

جی ہاں فیس بک نے ایک مقبول موبائل ایپ مسکیوریڈ کو حال ہی میں خریدا ہے جو لوگوں کے چہروں کو بدلنے اور ویڈیوز میں اسپیشل فلٹرز کے اضافے جیسے فیچرز فراہم کرتی ہے۔

یہ ایپ فیس بک کو سنیپ چیٹ جیسا بنا دے گی جو ایک اور مقبول موبائل ایپ ہے جو نوجوان صارفین میں بہت تیزی سے مقبول ہورہی ہے جس کی فلٹرز کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز میں اسپیشل ایفیکٹس کو شامل کرنا ہے۔

فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے اپنی اس نئی ایپ کا مظاہرہ اپنے پیج پر ایک ویڈیو پوسٹ کرکے کیا جس میں وہ ڈیجیٹل آئرن مین ماسک پہنے نظر آئے اور یہ اس ایپ کی بدولت ممکن ہوا۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ مسکیوریڈ کے فیچرز کو اپنے مرکزی سوشل نیٹ ورک کا حصہ بنائے گی۔

تو مارک زکربرگ کی ویڈیو دیکھیں اور اندازہ لگالیں کہ کچھ عرصے بعد ہی آپ بھی اپنے فیس بک فرینڈز کے ساتھ کچھ ایسا ہی شیئر کررہے ہوں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں فیس بک کی جانب سے لائک بٹن میں تبدیلی لائی گئی تھی اور ایموجیز کا اضافہ کرکے اسے ری ایکشنز کا نام دے دیا گیا جسے حالیہ برسوں میں اس سائٹ کی سب سے بڑی تبدیلی بھی قرار دیا گیا۔

کیا آپ کے پرنٹر کی انک بہت جلد ختم ہوجاتی ہے ؟

اگر تو آپ کے پرنٹر کی انک بہت جلد ختم ہوجاتی ہے تو اس کی وجہ اپنی دستاویزات میں Arial فونٹ کا استعمال کرنا ہوسکتا ہے۔

جی ہاں اگر آپ بہت زیادہ دستاویزات اور تصاویر کی پرنٹنگ کرتے ہیں تو ایریل فونٹ آپ کی سیاہی کو بہت تیزی سے ختم کرسکتا ہے۔

ویسے تو بیشتر فونٹس میں صرف اسٹائل کا فرق لگتا ہے مگر ان میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جن پر مبنی دستاویزات میں پرنٹر کی سیاہی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور ایریل اس حوالے سے بدترین ہے۔

ماہرین کے مطابق ایریل کے مقابلے میں ٹائمز نیو رومن کے استعمال کرنے پر پرنٹر انک کو 27 فیصد زیادہ چلایا جاسکتا ہے، جبکہ Calibri اور Century Gothic بھی ایریل کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر فونٹس ہیں۔

انہوں نے Ecofont کو بھی استعمال کرنے کا مشورہ دیا جسے ڈیزائن ہی اس مقصد کے لیے کیا گیا ہے کہ جتنی ہوسکی پرنٹر انک کو بچایا جاسکے۔

تاہم یہ فونٹ مفت دستیاب نہیں اور زندگی بھر کے لیے اس کا لائسنس 20 ڈالرز کے عوض ملتا ہے تاہم اگر بہت زیادہ پرنٹنگ کرتے ہو تو یہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نیا انقلاب، پولارس ٹیکنالوجی

بوسٹن: میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ایک ٹیکنالوجی وضع کی ہے جو پیچیدہ اور بڑی ویب سائٹ کے ویب پیچز بھی ایک تہائی کم وقت میں لوڈ کردے گی اور اس سے انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نیا انقلاب آجائے گا۔

اس ٹیکنالوجی کا نام ’’پولارس‘‘ رکھا گیا ہے جو پیچ پر موجود مختلف اشیا کے درمیان کنیکشنز اور روابط کو دیکھتے ہوئے کم سے کم مدت میں پیچ لوڈ کرتی ہے۔ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے ایک طالب علم کے مطابق ایک چھوٹے ڈیٹا کو اپنے سرور سے موبائل نیٹ ورک تک آنے میں 100 ملی سیکنڈ لگتے ہیں اور اگر پیج زیادہ بھرا ہوا اور پیچیدہ ہو تو یہ وقت اسی لحاظ سے بڑھتا جاتا ہے۔

اس پروجیکٹ پر ایم آئی ٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی نے مشترکہ کام کیا ہے اور دنیا کی 200 مشہور ویب سائٹس کا جائزہ لیا ہے۔ براؤزر پہلے نیٹ ورک پر جاتا ہے اور مختلف آبجیکٹ ( اشیا) کو براؤزر پر ظاہر کرتا ہے جن میں ایچ ٹی ایم ایل فائلز، جاوااسکرپٹ اور دیگر سورس کوڈ شامل ہیں۔ اس دوران براؤزر تمام آبجیکٹ کا جائزہ بھی لیتا رہتا ہے۔ براؤزر جس ترتیب سے آبجیکٹ جمع کرتا ہے اسی رفتار سے ویب پیچ لوڈ ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف بے ترتیبی کی صورت میں براؤزر کو بار بار نیٹ ورک پر جاکر آبجیکٹ کال کرنے ہوتے ہیں۔

اب اگر براؤزر کو تمام آبجیکٹ ترتیب وار معلوم ہوں تو یہ وقت کم ہوجاتا ہے اوریہی کام پولارس کرتا ہے اور ویب پیجز بہت تیزی سے اپ لوڈ کرتا ہے۔ اس طرح گوگل اور ایمیزون جیسی کمپنیوں نے بھی کئی طریقوں سے اپنے پیجز کا لوڈ ٹائم کم کرکے اپنے منافع میں اضافہ اور وقت کی بچت کی ہے۔

پولارس کے ذریعے پیچیدہ اور کئی کوڈز والے بھرے ہوئے ویب پیجز لوڈ ہونے کے وقت کو ایک تہائی کم کیا جاسکتا ہے بلکہ موبائل نیٹ ورک کی دنیا میں بھی ایک انقلاب آجائے گا۔

Google Analytics Alternative