سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

انسٹاگرام میں صارفین کو بدزبانی سے بچانے کے لیے 2 فیچرز متعارف

انسٹاگرام نے اپنے صارفین کو آن لائن نفرت انگیز جملوں سے بچانے کے لیے 2 نئے فیچرز متعارف کرادیئے ہیں۔

ان میں سے ایک فیچر ری تھنک کوئی منفی کمنٹ پوسٹ کرنے پر انتباہ دیتا ہے جبکہ دوسرے فیچر رسٹرکٹ (restrict)میں آپ اپنی پوسٹ میں مخصوص افراد کو کمنٹ کرنے سے روک سکتے ہیں بلکہ یوں کہہ لیں انہیں آگاہ کیے بغیر بلاک کرسکتے ہیں۔

رواں سال اپریل میں ایف ایٹ کانفرنس کے دوران کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ نئے وارننگ لیبز پر کام کررہی ہے، پہلا فیچر لوگوں کو منفی کمنٹ کرنے سے روکتا نہیں مگر کمنٹ پوسٹ ہونے سے قبل دوبارہ سوچنے کا کہتا ہے۔

منفی کمنٹ پر صارف کے سامنے یہ جملے آتے ہیں ‘کیا آپ اسے پوسٹ کرنا چاہتے ہیں؟ ہم لوگوں سے کمنٹ پر دوبارہ سوچنے کا کہہ رہے ہیں کیونکہ اس طرح کے کمنٹس رپورٹ ہوتے رہتے ہیں’۔

انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے ایک بلاگ میں بتایا کہ اس فیچر کے ابتدائی ٹیسٹ میں مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ‘یہ کچھ لوگوں کو اپنے کمنٹ بدلنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور وہ کم تکلیف دہ جملے پوسٹ کرتے ہیں’۔

فوٹو بشکریہ انسٹاگرام
فوٹو بشکریہ انسٹاگرام

دوسرا فیچر ایسے افراد کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے جن کو اکثر آن لائن بدزبانی یا ہراساں ہونے کا تجربہ ہوتا ہے اور یہ بنیادی طور پر بلاکنگ اور کچھ نہ کرنے کے درمیان کا سمجھا جاسکتا ہے۔

اس فیچر کی آزمائش چند ممالک میں کی جارہی ہے اور رواں سال کسی وقت دنیا بھر میں صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔

اس فیچر کے تحت جب کسی کو رسٹرکٹ کیا جاتا ہے تو اس کا کمنٹ بس صرف آپ اور وہ ہی دیکھ پاتا ہے (اگر آپ اسے پبلک نہ کردیں تو)، مگر بلاک کرنے کے برعکس جب کسی کو رسٹرکٹ کیا جاتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوپاتا کہ اس کے کمنٹس کی آپ اسکریننگ کررہے ہیں۔

ایڈم موسیری کے مطابق یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ کئی بار کسی کو بلاک کرنا صورتحال کو زیادہ خراب کردیتا ہے اور حالات بدتر ہوسکتے ہیں۔

انسٹاگرام میں آن لائن نفرت انگیز رویے کا اظہار کافی بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور نوجوانوں کو اس کا بہت زیادہ سامنا ہوتا ہے۔

ہواوے سے امریکی کمپنیوں کو کاروبار کی اجازت لائسنس سے مشروط

امریکی کمپنیاں ہواوے کو آلات و پرزے فروخت کرسکیں گی، مگر اس وقت جب انہیں حکومتی لائسنس ملے گا اور اس سے امریکی سلامتی کو خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔

یہ بات امریکی کامرس سیکرٹری ولبر روس نے ایک ایونٹ کے دوران بئائی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے چینی کمپنی پر پابندیوں کو نرم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

واشنگٹن میں ایونٹ کے دوران ولبر روس نے کہا ‘ہواوے کا نام بلیک لسٹ میں موجود رہے گا اور امریکی صدر کے اعلان سے امریکی کمپنیوں کو محکمہ تجارت سے درکار لائسنس کی شرط پر کوئی اثر نہیں پڑے گا’۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ہواوے کو مصنوعات کی فروخت کے لیے لائسنسز کے اجرا کا عمل جاری رہے گا اور ایسی مصنوعات کے لیے لائسنس جاری کیا جائے گا جو کہ امریکی سلامتی کے لیے خطرہ نہ ہو۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواوے کو رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بلیک لسٹ کیا تھا جس کے لیے کمپنی کے چینی حکومت سے مبینہ روابط کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

بلیک لسٹ کیے جانے کے باعث امریکی کمپنیوں کو امریکا میں بننے والی کوئی بھی چیز ہواوے کو فروخت کرنے کے لیے حکومتی لائسنس کی ضرورت ہوگی، تاہم اس پر عملدرآمد اگست سے شروع ہوگا کیونکہ مئی میں امریکی محکمہ تجارت نے عارضی لائسنس کے ذریعے ان پابندیوں کے اطلاق کو 3 ماہ کے لیے ملتوی کردیا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر کے اقتصادی مشیر لیری کڈلو نے کہا ہے کہ لائسنس کی ضرورت کو محدود وقت تک کے لیے ختم کیا جاسکتا ہے یعنی امریکا اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر ہواوے کو پابندی کا سامنا ہوگا۔

سونی بھی ایپل اور سام سنگ کے ٹکر کا فون بنانے میں مصروف

اگر موبائل فونز کے ڈیزائنز کے حوالے سے ایک دہائی پیچھے دیکھا جائے تو اس زمانے میں فولڈ ایبل فون زیادہ دکھائی دیں گے۔

آج کل کے دور میں نئے اور اچھے ڈیزائن کے فون متعارف کرانے میں کمپنیاں ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں مصروف ہیں۔

موبائل فونز تیار کرنے والی بڑی کمپنیاں، ایپل، سام سنگ اور ہواوے جہاں ایک دوسرے کو فون کے معیار اور کیمرے میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی ریس میں لگی رہتی ہیں۔

وہیں یہ کمپنیاں موبائل فونز کے ڈیزائن میں بھی ایک دوسرے کی حریف سمجھی جاتی ہیں اور اس وقت یہ تینوں بڑی کمپنیاں فولڈ ایبل فونز بنانے میں مصروف ہیں۔

تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ جاپانی ملٹی نیشنل کمپنی سونینے بھی ایپل، سام سنگ اور ہواوے کے ٹکر کے فولڈ ایبل فون پر کام شروع کردیا۔

رپورٹس ہیں کہ سونی رواں برس کے آخر یا پھر 2020 کے آغاز میں فولڈ ایبل فون کو متعارف کرائے گا۔

اگرچہ فون کی زیادہ تر تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم رپورٹس ہیں کہ سونی کے فولڈ ایبل فون سنیپ ڈریگون 855 اور کوالکوم ایکس 50 سے لیس ہوگا، جس وجہ سے یہ فون فائیو جی سپورٹڈ بھی ہوگا۔

رپورٹس ہیں کہ سونی کے فولڈ ایبل فون میں ایل جی کی اسکرین استعمال کی جائے گی جب کہ اس کے کیمرے کو بھی سونی کے دیگر فونز کے مقابلے بہتر بنایا جا رہا ہے اور اس میں نئے فیچرز شامل کیے جائیں گے۔

گوگل کے نئے فلیگ شپ فون کی مزید تصاویر سامنے آگئیں

گوگل کی جانب سے 2016 سے اپنے تیار کردہ اسمارٹ فونز پکسل متعارف کرائے جارہے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ اسے دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں اپنی ڈیوائسز کو زیادہ نمایاں بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

گزشتہ سال پکسل 3 فون بھی اس کے 2 سال پرانے پکسل جیسے ڈیزائن سے لیس تھا جس میں بہت بڑے بیزل دیئے گئے ہیں جبکہ پکسل 3 ایکس ایل میں ایک بہت بڑا نوچ دیا گیا تھا۔

اب اس کے نئے پکسل 4 ایکس ایل کے خاکے لیک ہوکر سامنے آئے ہیں اور ان کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ فرنٹ پر یہ فون دیکھنے میں پکسل تھری جیسا ہے جبکہ بیک پر رواں سال متعارف کرائے جانے والے آئی فون 11 کی نقل کی گئی ہے۔

گوگل پکسل فور سیریز اکتوبر میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے مگر آن لیکس نامی ٹوئٹر صارف نے اس کے رینڈرز لیک کردیئے ہیں۔

ان لیکس کے مطابق پکسل 4 ایکس ایل میں 6.25 انچ ڈسپلے دیا جائے گا اور چونکہ اس میں بیزل کافی زیادہ ہیں تو یہ کافی بڑا فون محسوس ہوگا۔

فوٹو بشکریہ آن لیکس ٹوئٹر اکاؤنٹ
فوٹو بشکریہ آن لیکس ٹوئٹر اکاؤنٹ

گوگل نے بھی اپنے نئے فون کی جھلک خود جاری کی تھی، جن میں بیک پر کیمروں کے لیے چوکور خانہ سا بنا ہوا تھا۔

مگر پہلی بار اس سیریز میں بیک پر 2 یا اس سے زائد کیمرے دیئے جارہے ہیں، اس سے قبل گزشتہ سال پکسل تھری ایکس ایل کے فرنٹ پر تو 2 کیمرے تھے مگر بیک پر ایک ہی کیمرا دیا گیا تھا۔

ویسے نئی لیک تصاویر سے تو عندیہ ملتا ہے کہ پکسل 4 ایکس ایل کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جبکہ فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر منتقل کردیا جائے گا۔

فوٹو بشکریہ آن لیکس ٹوئٹر اکاؤنٹ
فوٹو بشکریہ آن لیکس ٹوئٹر اکاؤنٹ

گوگل کی جانب سے پکسل 4 اور پکسل 4 ایکس ایل رواں سال اکتوبر میں متعارف کرائے جاسکتے ہیں جن میں ٹرو ٹون جیسا ڈسپلے اور جیسٹر کنٹرولز دیئے جانے کا بھی امکان ہے۔

آب و ہوا میں تبدیلی اور جنگلات میں کمی جانوروں کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہوگی

لندن: آب و ہوا میں تبدیلی کے ساتھ جنگلات کی ہولناک تباہی کو اگر شامل کیا جائے تو یہ جنگلی حیات کے لیے مزید تباہ کن ثابت ہوگی اور اس کے اثرات واضح طور پر سامنے آچکے ہیں۔

ماہرین نے مزید خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عین یہی صورتحال جاری ہے اور جنگلی حیات کے لیے زندگی مزید تنگ سے تنگ ہوتی جارہی ہے۔ اس کی تفصیلات ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2000 سے 2012 تک بھارت کے برابر بارانی جنگلات ختم ہوچکے ہیں اور اب وہاں جنگلی حیات کی نشوونما نہیں ہوپارہی۔ رپورٹ کی مصنفہ کہتی ہیں کہ جنگلات ختم ہونے سے جانوروں کا گھر ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے بعد جانداروں کا دوسری جگہ منتقل ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔

جنگل ختم ہونے سے جانور ٹھنڈے علاقوں کی تلاش میں نکلتے ہیں لیکن سرد علاقے نہیں ملتے۔ اگر گرمی کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو 2070 تک عالمی اوسط درجہ حرارت میں دواعشاریہ سات درجے سینٹی گریڈ تک اضافہ ہوگا اور یوں جنگلی حیات کی مشکل میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

آب و ہوا بدلتی ہے تو جانداروں کی اکثریت یا تو پہاڑوں پر جاتی ہے یا اترتی ہے۔ یا قطبین سے پرے ہٹتی ہیں یا اس طرف جاتی ہے۔ یا پھر اگر سمندری مخلوق ہے تو وہ گرم سے سے سرد یا سرد سے گرم پانیوں کا رخ کرتی ہیں۔ لیکن موسم اتنی تیزی سے بدل رہا ہے کہ جانور نہ اسے برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ کہیں منتقل ہوسکتے ہیں۔

منطقہ حارہ یا ٹراپیکل علاقوں کے جانور گرمی اور سردی کے معاملے میں بڑے حساس ہوتے ہیں۔ اب یہ حال ہے کہ 550 جانداروں کی مختلف انواع میں سے نصف یا تو ختم ہوچکی ہے یا فنا کے قریب ہے۔ ان میں چیتے، تیندوے، بندراور اودبلاؤ جیسے جاندار بھی شامل ہیں۔ یہ جاندار بہت سفر کرکے دورنہیں جاسکتے اور یوں کلائمٹ چینج اور جنگلات کی تباہی ان کے تابوت کی آخری کیل ثابت ہوگا۔

گوگل کروم میں کارآمد فیچر کی آزمائش

گوگل بہت جلد کروم براﺅزر میں ایک نئے بٹن کا اضافہ کرنے والا ہے جس کی بدولت کسی بھی ٹیب میں ویڈیو کو پلے یا پوز کرنا ممکن ہوجائے گا۔

زی ڈی نیٹ کی رپورٹ کے مطابق کروم کے بیٹا یا Canary ڈویلپمنٹ ورژن میں ایک نیا فیچر سامنے آیا ہے جسے گلوبل میڈیا کنٹرول کا نام دیا گیا ہے۔

جب یہ فیچر تمام صارفین کے لیے ان ایبل ہوجائے گا تو یو آر ایل کے برابر میں بک مارک اسٹار کے ساتھ ایک پلے آئیکون اس وقت نظر نظر آنے لگے گا جب آپ نے کسی ٹیب میں کوئی ویڈیو پلے کی ہوئی ہو۔

==

اس آئیکون پر کلک کرنے پر ایک بڑا کنٹرول پوپ اپ ونڈو کی شکل میں نظر آئے گا جو ویڈیو پلے، فارورڈ/ بیک ورڈ یا پوز کرنے میں مدد دے گا اور اس کے لیے ویڈیو والی ٹیب اوپن کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یہ بظاہر معمولی فیچر لگتا ہے مگر اس وقت بہت کارآمد ہوگا جب کسی آٹو پلے ویڈیو کو روکنا ہوگا یا کسی دوسرے ٹیب سے یوٹیوب ویڈیو کو کنٹرول کرنا ہوگا۔

یہ فیچر اس لیے بھی خوشگوار اضافہ ہے کیونکہ گوگل نے حال ہی میں اسپیکر آئیکون کو کلک کرکے میوٹ کرنے کی سہولت ختم کردی ہے، تاہم ٹیب پر رائٹ کلک کرکے کسی سائٹ کو مستقل میوٹ کیا جاسکتا ہے۔

یہ نیا گلوبل میڈیا فیچر آڈیو اور ویڈیو دونوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دے گا اور بظاہر یوٹیوب کے لیے کام کرے گا، تاہم عام دستیابی کے بعد اندازہ ہوگا کہ کتنی ویب سائٹس پر یہ کام کرے گا۔

ویسے اس فیچر کو آزمانے کے لیے آپ گوگل کروم Canary براﺅزر یہاں سے ڈاﺅن لوڈ کریں اور پھر chrome://flags/#global-media-controls پر جاکر اسے ان ایبل کردیں۔

آواران زلزلے سے بننے والا جزیرہ چھ سال بعد غائب ہوگیا

لندن: اب سے چھ برس قبل بلوچستان میں آنے والے جان لیوا زلزلے کے بعد بحیرہ عرب میں بننے والا ایک جزیرہ اب دھیرے دھیرے تقریباً مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے۔

24 ستمبر 2013 کو بلوچستان کے ضلع آواراں میں اس زلزلے نے شدید تباہی مچائی تھی اور مرنے والوں کی تعداد 400 سے 600 بتائی گئی تھی۔ آواراں کے علاوہ بلوچستان کے دیگر چھ علاقے بھی زلزلے سے متاثر ہوئے تھے جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 7.7 تھی ۔

اس سانحے کے بعد گوادر کے پاس ایک جزیرہ نمودار ہوگیا تھا جسے ’کوہِ زلزلہ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ زلزلے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے اسے دیکھا تھا ۔ ماہرین کا خیال تھا کہ اس جزیرے پر ہائیڈروکاربنز موجود ہوسکتے ہیں کیونکہ 2010 میں ہنگول کے قریب پانیوں میں بھی ایسا ہی ایک زلزلہ پھوٹ پڑا تھا جس سے میتھین گیس خارج ہورہی تھی۔

اب ناسا کی خلائی تصاویر سے عیاں کہ ہے دھیرے دھیرے سمندر میں جاتا ہوا جزیرہ اب مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے اور ثبوت کے طور پر اس کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ ناسا کے مطابق اس مقام پر نرم گاڑھے کا ایک آتش فشاں پہاڑ ہے جس کی وجہ جزیرہ نمودار ہوا تھا۔

اگرچہ اب بھی یہ تصاویر میں دکھائی دے رہا ہے لیکن جزیرے کی دھندلی تصویر سے عیاں ہے کہ جزیرہ اب اتھلے پانی میں جاچکا ہے۔ سطح آب پر ظاہر ہونے کے بعد کوہِ زلزلہ کی کل لمبائی 20 میٹر اور اونچائی 135 فٹ تک نوٹ کی گئی تھی۔

ناسا کے زمینی مشاہدے کے سیٹلائٹ ارتھ آبزرونگ ون اور لینڈ سیٹ 8 نے یہ تصاویر لی ہیں اور ماہرین نے اس پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔

یوایس جیالوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے پروفیسر بِل برنارٹ ایران اور پاکستان کے زلزلے کے ماہر ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان کا سمندر ایسے جزائر کی تشکیل کے لیے نہایت موزوں جگہ ہے۔ ارضیاتی طور پر کم گہرے پانی میں میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مائعات موجود ہیں۔ زلزلے سے یہ نظام متاثر ہوتا ہے اور اوپر کی جانب ابل پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ مکران کے قریب تین ارضیاتی پلیٹیں انتہائی سرگرم ہیں اور یوں اس خطے میں زلزلے کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔ ان ٹیکٹونک پلیٹوں میں یورپی، عربین اور ایشین پلیٹیں شامل ہیں۔

ہواوے کا اینڈرائیڈ پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ہواوے پر پابندیوں کو نرم کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کے بعد چینی کمپنی کے لیے گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا لائسنس منسوخ ہونے کا خطرہ ختم ہوگیا تھا۔

تاہم صورتحال میں بہتری کے باوجود ہواوے نے دنیا کے مقبول ترین موبائل آپریٹنگ سسٹم پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہواوے کے بانی رین زین فائی نے فرنچ میگزین لی پوائنٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کا ہونگ مینگ آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کے متبادل سے بڑھ کر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ نیا آپریٹنگ سسٹم صرف اسمارٹ فونز یا ٹیبلیٹ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اسے راﺅٹرز، ڈیٹا سینٹرز، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ اور دیگر میں بھی استعمال کی جاسکے گا جبکہ خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں میں بھی اسے استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

اس سے پہلے مختلف رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ہونگ مینگ آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کے مقابلے میں 60 فیصد تیز ہے اور ہواوے کے بانی نے بھی تصدیق کی ہے کہ کمپنی کا یہ نیا آپریٹنگ سسٹم گوگل کے اینڈرائیڈ اور ایپل کے میک او ایس سے تیز ہوسکتا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس سے مقابلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ دونوں پلیٹ فارمز کو اچھی ڈویلپر سپورٹ حاصل ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کمپنی ایک ایپ اسٹور کی تیاری پر کام کررہی ہے تاکہ ڈویلپرز کی توجہ حاصل کی جاسکے اور اس حوالے سے اگست میں چین میں ایک ڈویلپر کانفرنس کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے۔

ہواوے کا یہ نیا آپریٹنگ سسٹم رواں سال کے آخر تک سب سے پہلے چین میں متعارف کرایا جائے گا جس کے بعد اگلے سال کسی وقت دنیا بھر میں صارفین کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ایسا مانا جارہا ہے کہ کمپنی کا نیا فلیگ شپ فون میٹ 30 پرو میں اس آپریٹنگ سسٹم کو دیا جاسکتا ہے، جو کہ اکتوبر یا نومبر میں متعارف کرایا جائے گا۔

خیال رہے کہ رواں سال مئی میں امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد امریکی محکمہ تجارت نے ہواوے کو بلیک لسٹ کردیا تھا، تاہم 3 ماہ کے لیے عارضی لائسنس جاری کیا، تاکہ وہ اپنا کام اگست تک جاری رکھ سکے۔

کچھ دن پہلے امریکی صدر نے پابندیوں کو نرم کرنے کا عندیہ دیا مگر امریکی محکمہ تجارت نے تاحال ہواوے کو بلیک لسٹ کی فہرست سے نہیں نکالا۔

Google Analytics Alternative