سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

منافع بخش کاروبار کیلئے اوبر کا 8 فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

دنیا کے مختلف ممالک میں سفری سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی اوبر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سروس کو منافع بخش بنانے کے لیے مصنوعات اور انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اپنے 8 فیصد عملے کو فارغ کر رہی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سان فرانسسکو سے تعلق رکھنے والی کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اوبر کے ملازمین کی تعداد 27 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور اب کارکردگی کے لیے اس میں کمی کا وقت آگیا ہے’۔

اوبر کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم دوبارہ ٹریک پر واپس آنے کے لیے کچھ تبدیلیاں کر رہے ہیں، جس میں عملے کی تعداد میں کمی بھی شامل ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہمارا عملہ اولین ترجیحات کے مطابق ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ یہ تبدیلیاں روزانہ کی بنیاد پر ہمارے کام کو بہتر کریں گی اور ہم اعلیٰ میعار کے حوالے سے اپنی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں گے‘۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’اوبر بہترین تکنیکی قابلیت والے افراد کو ملازمت دیتی رہے گی لیکن اس میں خصوصی طور پر اعلیٰ کارکردگی کو مدِ نظر رکھا جائے گا‘۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جولائی کے مہینے میں اوبر نے لاگت میں کمی اور کام کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے مارکیٹنگ ٹیم سے 400 ملازمین سمیت 1200 کارکنان کو فارغ کردیا تھا۔

اس ضمن میں ایک ماہ قبل ہی اوبر کے چیف ایگزیکٹو دارا خوروشاہی نے اسٹاک مارکیٹ قرضوں کے پیشِ نظر کمپنی کے معاملات میں سختی کرنی شروع کردی تھی۔

یاد رہے رائیڈنگ کمپنی کا خیال تھا کہ وہ مستقبل میں ’ٹرانسپورٹیشن کی ایمازون‘ بن جائے گی اور لوگ ذاتی کار رکھنے کے بجائے اس کے ساتھ سفر کریں گے۔

تاہم 2011 میں اپنی پہلی رائیڈ کرنے سے اب تک کمپنی کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔

دوسری جانب کمپنی کار کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک بائیکس اور موٹر سائیکل، کھانے پینے کی اشیا پہنچانے کا کام بھی کرچکی ہے اور اب اس کا اڑنے والی ٹیکسیاں متعارف کروانے کا ارادہ بھی ہے۔

ایپل نے پہلی بار 3 کیمروں والا آئی فون متعارف کرادیا

مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل انکارپوریشن نے 5 ڈالر فی مہینہ میں ٹی وی اسٹریمنگ سروس اور 3 کیمروں والا نیا آئی فون متعارف کرادیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایپل کا یہ اعلان کمپنی کی سال کی سب سے بڑی تقریب کے دوران سامنے آیا جہاں انہوں نے متعدد نئی مصنوعات متعارف کروائیں۔

ایپل ٹی وی پلس اسٹریمنگ ٹیلی وژن سروس 100 سے زائد ممالک میں نومبر کے مہینے سے دستیاب ہوگی تاہم یہ سروس اور ایپل آرکیڈ ویڈیو گیم سبسکرپشن چین میں دستیاب نہیں ہوگی۔

— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

آئی فون، آئی پیڈ اور میک کے خریدار ایک سال کے لیے ٹی وی کی مفت اسٹریمنگ سروس حاصل کرسکیں گے جس کی وجہ سے لاکھوں ناظرین کی توجہ اس سروس کی جانب مبذول ہوگی۔

ایپل کا کہنا تھا کہ ان کا نیا آئی فون 11، دو بیک کیمروں کے ساتھ ہوگا، جس میں الٹرا وائڈ اینگل لینس بھی شامل ہوگا جبکہ اس میں نیو جنریشن کی مائیکرو چپس اے 13 کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس کی تعارفی قیمت بھی گزشتہ سال کے 749 ڈالر کے مقابلے میں تعارفی قیمت 699 ڈالر رکھی گئی ہے۔

اس سے مہنگے آئی فون 11 پرو کے پیچھے 3 کیمرے دیے گئے ہیں، جن میں وائڈ اینگل، ٹیلی فوٹو اور الٹرا وائڈ شامل ہے، یہ فون ایک وقت میں تمام بیک اور فرنٹ کیمروں سے ویڈیوز بناسکتا ہے، اس فون کی قیمت 999 ڈالر سے شروع ہوگی اور مختلف اسٹوریج کے حساب سے الگ الگ قیمت رکھی گئی ہے۔

بڑی اسکرین والے آئی فون 11 پرو میکس کی قیمت 1 ہزار 99 ڈالر سے شروع ہوگی۔

نئے آئی فونز کا آرڈر جمعے سے لیا جائے گا جبکہ لوگوں کو اس کی ترسیل 20 ستمبر سے کی جائے گی۔

— فوٹو: رائٹرز
— فوٹو: رائٹرز

واضح رہے کہ آئی فون کے حریف، ہواوے اور سیم سنگ پہلے ہی 3 بیک کیمروں والے موبائل فونز فروخت کررہے ہیں جبکہ ایپل نے اس طرح کا فون پہلی مرتبہ متعارف کروایا ہے۔

مور انسائٹ اینڈ اسٹریٹجی کے تجزیہ کار پیٹرک مور ہیڈ کا کہنا تھا کہ ‘صارفین اب بھی کیمروں کی پرواہ کرتے ہیں اور جس کی وجہ سے گزشتہ چند برسوں میں سیم سنگ اور ہواوے کی فروخت ایپل سے زیادہ ہوئی’۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایپل آئندہ سال تک تقریباً 20 کروڑ آئی فونز فروخت کرلے گا۔

ایپل کی نئی سروس

اسٹریمنگ سروس کی دنیا میں ایپل نے پہلی مرتبہ قدم رکھا ہے جہاں نیٹ فلکس جیسی سروس راج کر رہی ہے۔

— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

والٹ ڈزنی بھی 7 ڈالر فی مہینہ پر 12 نومبر کو اپنی اسٹریمنگ سروس متعارف کروارہی ہے، جس میں ان کے بچوں سے متعلق ویڈیوز بھی شامل ہوں گی۔

تاہم ایپل، ایچ بی او میکس کے گیمز آف تھرونز، فرینڈز جیسے مشہور شوز کو پیچھے چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن ایپل کے لیے مشکل یہ ہے کہ اسے صارفین کو بتانا ہوگا کہ ان کی ڈیوائسز شوز دیکھنے کے لیے بہترین ون اسٹاپ پلیس ہے۔

ایپل نے تقریب کے دوران جدید واچ سیریز 5 بھی متعارف کروائی جس میں ہمیشہ کھلا رہنے والے’ (Always On Display) کا فیچر شامل کیا گیا ہے اور اس کی قیمت 399 ڈالر رکھ گئی ہے۔

— اے ایف پی
— اے ایف پی

تقریب میں ایپل نے اُن کے 7ویں جنریشن کے آئی پیڈ کو بھی متعارف کروایا، جس کی تعارفی قیمت 329 ڈالر ہوگی اور اسے بدھ سے آرڈر کیا جاسکے گا جبکہ اسٹورز میں اسے 30 ستمبر کو پیش کیا جائے گا۔

2019 کے آئی فونز کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

ایپل کی جانب سے 2017 سے ہر سال 3 نئے آئی فونز متعارف کرائے جارہے ہیں اور امکان ہے کہ 2019 میں بھی یہ کمپنی ایسا ہی کرے گی۔

10 ستمبر کو کمپنی کی جانب سے نئے آئی فونز پیش کیے جائیں گے اور اس میں بظاہر سب سے بڑی تبدیلی پہلی مرتبہ بیک پر 3 کیمروں کی موجودگی ہوگی۔

البتہ قیمت کے لحاظ سے ضرور فرق ہوگا یعنی فلیگ شپ آئی فون 11 پرو اور آئی فون 11 پرو میکس (جو بھی نام ہوگا) کی قیمت ایک ہزار سے ایک ہزار 400 ڈالرز کے درمیان ہوسکتی ہے۔

تو جانیں اس سال مختلف لیکس اور رپورٹس میں نئے آئی فونز کے حوالے سے کیا تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

3 نئے آئی فونز

ایپل کی جانب سے ایک مرتبہ پھر 3 نئے آئی فونز پیش کیے جانے کا امکان ہے اور اس حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل اور بلوم برگ نے مختلف رپورٹس میں تفصیلات بھی دی ہیں۔

ڈسپلے کے لحاظ سے گزشتہ سال کے ماڈلز جیسے

2019 کے آئی فونز ڈسپلے سائز کے لحاظ سے گزشتہ سال کے آئی فونز جیسے ہی ہوں گے، مختلف لیکس کے مطابق اس بات کا امکان ضرور موجود ہے کہ اس مرتبہ سستے آئی فون ایکس آر میں ایل سی ڈی کی جگہ او ایل ای ڈی اسکرین دی جاسکتی ہے، جس میں گزشتہ سال ایل سی ڈی اسکرین دی گئی تھی۔

3 بیک کیمرے

ایپل کے نئے فلیگ شپ آئی فونز میں اس مرتبہ بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ دیئے جانے کا امکان ہے، آئی فون ایکس ایس اور ایکس ایس میکس کے اپ ڈیٹڈ ماڈلز میں یہ نیا کیمرا سیٹ اپ دیا جاسکتا ہے جبکہ ایکس آر کے اپ ڈیٹ ورژن میں اس مرتبہ ایک کی بجائے 2 کیمرے دیئے جائیں گے۔

تین بیک کیمروں میں پہلی مرتبہ آئی فونز میں لارج فیلڈ ویو اور بہتر زوم کی صلاحیت دی جائے گی جبکہ اسمارٹ فریم کے نام سے ایک نیا فوٹوگرافی فیچر دیے جانے کا بھی امکان ہے، جس سے الٹرا وائیڈ فوٹو کو زیادہ بہتر کھینچنے میں مدد مل سکے گی۔

ری ڈیزائن کیمرا سنسر

آئی فونز میں تیسرے کیمرے کی شمولیت کا مطلب یہ بھی ہے کہ آئی فون کے بیک پر کیمرا پوزیشن کا ڈیزائن بھی تبدیل ہوگا جو ایک چوکور ڈبے کی شکل میں ہوگا۔

پہلے سے بہتر فیس آئی ڈی

ایپل کا چہرہ شناخت کرنے والا سسٹم بھی اس سال اپ ڈیٹ ہوگا، میک ریورمرز کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس آئی ڈی کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا جس کی بدولت نادیدہ روشنی کا اثر کم ہوگا اور صارف کے لیے فیس آئی ڈی کے استعمال کا تجربہ زیادہ بہتر ہوجائے گا۔

پہلے سے زیادہ شارپ سیلفی کیمرا

اس مرتبہ صارفین کے لیے زیادہ ریزولوشن والا سیلفی کیمرا دیا جانے کا امکان ہے، یعنی نئے آئی فونز میں 12 میگا پکسل سنسر دیا جائے گا جو گزشتہ سال کے 7 میگا پکسل کیمرے کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہوگا۔

فاسٹ چارجنگ

ایپل کی جانب سے 18 واٹ چارجر نئے آئی فون میں فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے لیے دیا جاسکتا ہے جو اس وقت بیشتر اینڈرائیڈ فونز میں دستیاب ہے۔

ریورس وائرلیس چارجنگ

اس بار نئے آئی فونز میں ریورس چارجنگ کا فیچر بھی ہوگا یعنی یہ تینوں آئی فونز دیگر ڈیوائسز کو بھی چارج کرسکیں گے۔

بڑی بیٹریاں

نئے آئی فونز میں ریورس وائرلیس چارجنگ سپورٹ کے لیے زیادہ بڑی بیٹریاں دی جائیں گی اور بیٹریوں کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 سے 25 فیصد تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

نئے کلر آپشن

آئی فون ایس آر کے اپ ڈیٹڈ ورژن کے لیے لیونڈر اور گرین کلر کے نئے آپشنز دیے جانے کا امکان ہے جو بلیو اور کورل کلر کی جگہ لیں گے۔

نیا پراسیسر

اس سال کے آئی فونز میں نیا اے 13 پراسیسر دیا جائے گا جو پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوگا، اسی طرح آئی فون ایکس آر میں 3 کی جگہ 4 جی بی ریم دیئے جانے کا بھی امکان ہے۔

قیمت

نئے آئی فونز کی قیمتوں کے حوالے سے زیادہ لیکس سامنے نہیں آئیں مگر اس بات کا امکان ہے کہ آئی فون ایکس آر کے اپ ڈیٹ ورژن کی قیمت 799 پاؤنڈز، آئی فون ایکس کا اپ ڈیٹ ماڈل 999 پاؤنڈز جبکہ ایکس ایس میکس کے نئے ورژن کی قیمت 1099 پاؤنڈز سے شروع ہوگی۔

یہ نیا فون فوٹوگرافی کے شوقین افراد کو ضرور پسند آئے گا

اگر آپ کیمرے کے لیے اسمارٹ فون لینا پسند کرتے ہیں تو گوگل کے جلد متعارف کرائے جانے والے پکسل 4 کو ضرور پسند کریں گے۔

درحقیقت گوگل پکسل 4 سیریز کے فونز فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے کچھ ایسا کرسکیں گے جو اب تک کوئی اسمارٹ فون کیمرا نہیں کرسکا اور وہ ہے آسٹرو گرافی یا ستاروں کی تصاویر لینا۔

اس حوالے سے پرو اینڈرائیڈ نے ممکنہ طور پر گوگل کی آفیشل مارکیٹنگ ویڈیو لیک کی ہے جس کے مطابق گوگل کے نئے اسمارٹ فون میں ایک موڈ نائٹ اسکائی کی تصاویر لینے کے لیے دیا جائے گا۔

تاہم ویڈیو میں اس نئے فنکشن کے حوالے سے تفصیلات بہت کم دی گئی ہیں بس یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ آپ ستاروں کو بھی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرسکیں گے۔

اور اگر یہ درست ثابت ہوا تو اس فیچر کے باعث آپ کو ٹرائی پوڈ کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔

اس فیچر سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ گوگل نے اپنے نائٹ سائٹ فنکشن کو بہت زیادہ بہتر بنالیا ہے اور یہ ایسا فیچر ہے جو اب تک اسمارٹ فون فوٹوگرافی میں ہونے والی تمام تر پیشرفت کے باوجود فون کیمرے سے ممکن نہیں ہوسکا۔

اس ویڈیو میں پکسل فور کے سولی ٹچ لی جیسچر کی جھلک بھی دی گئی ہے، یعنی فون کو چھوئے بغیر بھی آپ بہت کچھ کرسکیں گے۔

گوگل نے اگست میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ پہلا اسمارٹ فون ہوگا جس میں راڈار ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے گا جس کی بدولت صارفین دور سے محض ہاتھ کو حرکت دے کر متعدد فیچرز استعمال کرسکیں گے۔

گوگل کی جانب سے پراجیکٹ سولی کو پکسل 4 میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

پراجیکٹ سولی میں یہ کمپنی ایسی ٹیکنالوجی تیار کررہی ہے جو مستقبل قریب میں اسمارٹ ڈیوائسز کو دور سے ہاتھ کی حرکت سے استعمال کرنے میں مدد دے گی۔

یہ ٹیکنالوجی انٹرایکٹو کنٹرول سسٹم ہوگا جس میں یوزر راڈار بیسڈ موشن سنسرز ہاتھوں کی حرکات کو شناخت کریں گے۔

اس ہینڈ جیسچر کو ویڈیو میں استعمال کرتے دکھایا گیا ہے اور فون سے کچھ دور کھڑی خاتون ہاتھ کو ہوا میں ہلا کر گانے بدل رہی ہے، جبکہ اس سے الارم کو بند کرنے کے ساتھ فون کالز کو موصول کرنا بھی ممکن ہوگا۔

ابھی واضح طور پر تو کہنا مشکل ہے کہ ہاتھوں کی حرکت سے فیچرز استعمال کرنے کی ٹیکنالوجی کس حد تک بہتر ہوسکتی ہے، تاہم یہ آغاز ضرور ہوسکتا ہے۔

اس نئی ویڈیو میں نئے گوگل اسسٹنٹ کو بھی کام کرتے دکھایا گیا ہے اور اس کو بھی بہت بہتر بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل سامنے آنے والی لیکس کے مطابق پکسل 4 ایکس ایل میں 6.25 انچ ڈسپلے دیا جائے گا اور چونکہ اس میں بیزل کافی زیادہ ہیں تو یہ کافی بڑا فون محسوس ہوگا۔

پہلی بار اس سیریز میں بیک پر 2 یا اس سے زائد کیمرے دیئے جارہے ہیں، اس سے قبل گزشتہ سال پکسل تھری ایکس ایل کے فرنٹ پر تو 2 کیمرے تھے مگر بیک پر ایک ہی کیمرا دیا گیا تھا۔

کچھ عرصے پہلے لیک تصاویر سے تو عندیہ ملتا ہے کہ پکسل 4 ایکس ایل کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جبکہ فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر منتقل کردیا جائے گا۔

گوگل کی جانب سے پکسل 4 اور پکسل 4 ایکس ایل رواں سال اکتوبر میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

اب آپ کا چشمہ سنیما کا کام بھی کرے گا

چینی کمپنی ٹی سی ایل نے کانسیپٹ اسمارٹ گلاس متعارف کرایا ہے جو کہ ہوم تھیٹر کی طرح کام کرتا ہے۔

جی ہاں اس اسمارٹ گلاس میں 2 او ایل ای ڈی ڈسپلے دیئے گئے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ایسا احساس دلاتے ہیں کہ آپ کسی سنیما میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔

آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران اسے متعارف کرایا گیا اور سونی، گوگل یا دیگر کمپنیوں کے برعکس ٹی سی ایل نے اپنے اسمارٹ گلاس کو تفریحی مقاصد کے لیے تیار کیا ہے جس میں اسپیکر کمانی میں نصب ہیں۔

یو ایس بی سی کی مدد سے اسے اسمارٹ فون (فی الحال ٹی سی ایل فون) سے کنکٹ کیا جاسکتا ہے اور اسے چلتے پھرتے نہیں بلکہ آرام سے بیٹھ کر ہی استعمال کیا جاسکتا ہے، یا ٹرین میں سفر کے دوران ہوم تھیٹر کا مزہ لیا جاسکتا ہے۔

آنکھوں کے سامنے موجود 2 ڈسپلے اتنے بڑے ہیں کہ فلم دیکھتے ہوئے سنیما کا احساس تو ہوتا ہی، مگر آنکھوں کے سامنے منظر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

دماغ کو یہ دھوکا دینے کے لیے کہ آپ 100 انچ اسکرین پر فلم دیکھ رہے ہیں، یہ ڈیوائس بہترین کام کرتی ہے، بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کسی چھوٹے کمرے میں نہیں بلکہ ملٹی پلیکس سنیما میں موجود ہیں۔

ڈسپلے کے گرد موجود ٹرانسپیرنٹ ہالہ صارف کے تحفظ اور آس پاس کے حالات سے آگاہی کے لیے دیا گیا جبکہ ڈیوائس کو چلانے کے لیے سر کو حرکت دینا کافی ہوتا ہے تاہم اسمارٹ فون کو بھی کنٹرولر کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس کمپنی نے اپنا پروٹوٹائپ فولڈنگ فون بھی پیش کیا جو آئندہ سال کسی وقت باقاعدہ متعارف کرایا جائے گا۔

7.2 انچ کے فولڈ ایبل ٹیبلیٹ ڈسپلے والے اس کاسنیپٹ فون میں باہر کی جانب سیکنڈری ڈسپلے نہیں دیا گیا جبکہ 2 کے امولیڈ ڈسپلے دیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ڈیوائس کو 2 لاکھ بار فولڈ کیا جاسکتا ہے تاہم باضابطہ ماڈل میں اسے مزید بہتر کیا جائے گا۔

بھارت کے ناکام خلائی مشن کی باقیات کہاں گئیں؟

بھارت کی جانب سے 22 جولائی کو بھجوایا گیا مشن 20 اگست کو چاند کی مدار میں پہنچ گیا تھا تاہم یہ مشن اپنی آخری منزل سے محض سوا 2 کلو میٹر کی دوری پر ناکامی سے دوچار ہو گیا تھا۔

بھارت کا خلائی مشن 22 دن تک زمین کے مدار میں تھا اور 14 اگست کو اس مشن نے چاند کے مدار کی جانب سفر شروع کیا تھا اور 20 اگست تک ’چندریان ٹو‘ چاند کے مدار میں داخل ہوگیا تھا۔

ریسرچ ادارے کی جانب سے چاند کی سطح پر پہنچنے کی براہِ راست نشریات جاری تھیں، جس میں دیکھا گیا تھا کہ جب کنٹرول اسٹیشن کو وکرم کی جانب سے سگنلز موصول ہونا رک گئے تو سائنسدان یک دم پریشان نظر آئے اور پورے کمرے میں سناٹا چھا گیا۔

بد قسمتی سے لینڈر وکرم کا مطلوبہ منزل تک پہنچنے سے محض 2 اعشایہ ایک کلو میٹر کے فاصلے اور مقررہ وقت سے 45 منٹ قبل بھارتی خلائی ادارے سے رابطہ منقطع ہوگیا اور اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔

لینڈر وکرم کے اپنی منزل تک نہ پہنچنے اور اس کا رابطہ بھارتی خلائی ادارے سے نہ ہوپانے پر خلائی ادارے کے سربراہ کے سیون جذباتی ہوکر رو پڑے تھے۔

تاہم اتوار کو اس خلائی مشن کی باقیات کی چاند کی سطح پر موجودگی کا انکشاف ہوا ہے اور اس سے رابطہ قائم کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈین اسپیس اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن کے چیئرمین کے سیوان کے مطابق کیمروں سے مشن کے آربیٹر کی چاند کی سطح پر موجودگی کا پتہ چلا ہے اور یہ ایک مشکل لینڈنگ رہی ہو گی۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس خلائی مشن کو چاند کے ایک دن کی مناسبت سے تیار کیا گیا تھا جو زمین کے 14دن کے برابر بنتا ہے اور صحیح طریقوں پر عملدرآمد کی بدولت یہ اب بھی توانائی پیدا کرنے اور سولر پینل کی مدد سے بیٹری چارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم اس مشن سے منسلک ایک آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بات کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

ایک اور آفیشل نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مشن کے چاروں ٹانگوں پر نہ اترنے کے سبب بیٹری کو چارج کرنے کے عمل کو صحیح طریقے سے انجام نہیں دیا جا سکتا اور دوبارہ رابطہ بھی ممکن نہیں۔

اگر بھارت کا خلائی مشن کا یہ تجربہ کامیاب رہتا تو وہ دنیا کا چوتھا ملک ہوتا جس کا خلائی مشن چاند پر اترا ہو جبکہ روبوٹک روور کی مدد سے آپریٹ کرنے والا دنیا کا تیسرا ملک ہوتا۔

جولائی میں مشن روانہ کرتے ہوئے بھارت کو امید تھی کہ وہ امریکا، روس اور چین کے بعد کامیابی سے چاند پر اترنے والا چوتھا ملک اور اس کے قطب جنوب تک پہنچنے والا پہلا ملک بن جائے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

چندریان 2 نامی خلائی مشن پر بھارت نے 140ملین ڈالر خرچ کیے تھے لیکن اس کے خلائی جہاز کا چاند پر اترنے سے پہلے ہی رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔

اس مشن سے قبل بھارت نے 2008 میں بھی چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا، تاہم وہ مشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

خیال رہے کہ چین جنوری میں وہ پہلا ملک بنا تھا جو چاند کے دور دراز مقام پر اترنے میں کامیاب ہوا تھا، اسی قسم کی کوشش اسرائیل کی جانب سے اپریل میں کی گئی تھی جس کا نتیجہ آخری لمحات میں خلائی جہاز کا انجن فیل ہوجانے کے سبب چاند کی سطح پر تباہ ہونے کی صورت میں نکلا تھا۔

یہ بات مدِنظر رہے کہ بھارتی خلائی ادارہ (اسرو) 15 اگست 1969 کو وجود میں آنے کے بعد سے اب تک کئی ریموٹ سینسنگ سیٹیلائٹس، فلکیاتی دوربینیں اور موسمی سیٹیلائٹس زمین کے گرد بھیج چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیارہ مریخ اور چاند کے گرد بھی اپنی خلائی گاڑیاں بھیج چکا۔

واٹس ایپ میں خاموشی سے انتہائی کارآمد فیچر کا اضافہ

کیا آپ اکثر اپنے دوستوں سے واٹس ایپ آڈیو یا ویڈیو کال کے ذریعے بات کرنے کے عادی ہیں؟

اگر ہاں تو اب آپ کو اس کام کے لیے واٹس ایپ اوپن کرنے کی بھی ضرورت نہیں بس گوگل اسسٹنٹ سے مدد لیں۔

اس وقت گوگل اسسٹنٹ مختلف سروسز جیسے فیس بک میسنجر، ٹیلیگرام، واٹس ایپ اور ایس ایم ایس ایپ میں تحریری پیغام بھیجنے میں مدد دیتا ہے مگر جہاں تک ویڈیو یا آڈیو کال کی بات ہے تو ایسا ممکن نہیں۔

مگر اب کم از کم واٹس ایپ پر آپ اپنے اسمارٹ فون پر گوگل اسسٹنٹ کو آڈیو یا ویڈیو کال کا کہہ سکتے ہیں۔

بس یہ کہنے کی ضرورت ہے ‘ ہے گوگل واٹس ایپ ویڈیو ڈان (دوست کا نام) یا ہے گوگل واٹس ایپ کال ڈان’۔

اس سے قبل گوگل اسسٹنٹ پر آڈیو کال صرف نیٹ ورک ڈائلر پر ہی ممکن تھی جبکہ ویڈیو کال بھی گوگل کے اپنی ہینگ آﺅ یا ڈو سروس میں کی جاسکتی تھی۔

مگر واٹس ایپ کے اضافے سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے لیے واٹس ایپ پر کسی سے بھی رابطہ کرنا بہت آسان بنادیا ہے۔

گوگل نے واٹس ایپ کے لیے اس اضافے کا اعلان آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران کیا اور فی الحال یہ فیچر صرف اینڈرائیڈ صارفین کو ہی دستیاب ہوگا۔

ویسے کیا آپ اس میں چھپے ایک ایسے کارآمد فیچر سے واقف ہیں جس کی بدولت آپ انگلیوں کو زحمت دیئے بغیر بھی میسج لکھ کر بھیج سکتے ہیں؟

جی ہاں واقعی واٹس ایپ میں ایک ایسا فیچر ہے جس میں آپ کی آواز ہی ٹائپنگ کا کام کرتی ہے۔

واٹس ایپ ڈیٹیکٹ نامی اس فیچر میں آپ کو پیغام ٹائپ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ زبان سے مدد لیں اور بس، مگر ہاں آپ کو سینڈ بٹن ضرور دبانا ہوگا۔

یہ فیچر گوگل اسسٹنٹ اور ایپل کے ڈیجیٹل اسسٹنٹ سری میں بھی دستیاب ہے مگر اب واٹس ایپ نے اسے اپنی ایپ میں بلٹ ان کردیا ہے۔

اس کی بدولت صارفین براہ راست اپنا پیغام ایپ میں ایک نئے مائیک آئیکون کی بدولت لکھوا سکتے ہیں جو کہ کی بورڈ میں موجود ہوتا ہے۔

اسے استعمال کرنے کے لیے واٹس ایپ اوپن کریں اور اس کانٹیکٹ کی چیٹ ونڈو کھولیں جس کو میسج بھیجنا چاہتے ہیں۔

اب کی بورڈ اوپن کریں جو کہ واٹس ایپ میسج ٹائپ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہاں دائیں جانب بلیک مائیک آئیکون نظر آئے گا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

تاہم اگر آپ اس نئی سروس کو آزما رہے ہیں اور یہ کام نہیں کررہی، تو کچھ انتظار کرلیں کیونکہ یہ آئندہ چند دنوں یا ہفتوں تک تمام صارفین کو دستیاب ہوگی۔

یہ پیغام رومن اردو میں بھی لگ بھگ درست ہی ٹائپ ہوگا جبکہ انگلش میں تو کوئی مسئلہ نہیں، اسی طرح کوما، ? اور فل اسٹاپ کے لیے بس ان کے الفاظ بول دیں، وہ خود آجائیں گے۔

ویسے پیغام بول کر لکھوانے کے بعد آپ اس کا جائزہ لے کر غلطی خود ٹھیک کرسکتے ہیں، جس کے بعد اسے بھیج دیں۔

اسمارٹ فون کے 5 حیرت انگیز فیچر جو اس سال پیش کیے جا رہے ہیں

لندن: اسمارٹ فون ہر روز جدت سے گزررہے ہیں اور اب 2019 کا سال اس ضمن میں کئی اختراعات سے بھرپور ہے۔

اس برس اسمارٹ فون حیرت انگیز جدتوں سے مرصع ہوں گے اور ان میں زائد لینس اور کیمروں کی پیشگوئی بھی کی جارہی ہے۔ لیکن سب سے پہلے ’’ففتھ جنریشن‘‘ کا احوال سن لیجئے۔

فائیوجی فون

اس سال سے پانچویں نسل یعنی ’’فائیو جی‘‘ اسمارٹ فونز کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے لیکن توقع ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آئندہ برس یعنی 2020 تک بھرپور انداز میں ہمارے سامنے ہوگی۔ اگلے سال فائیوجی فون عام ہوں گے جبکہ موٹرولا نے اپنے بعض اسمارٹ فونز کو فائیو جی موڈ کے ساتھ پیش کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ اگرچہ فائیو جی انفراسٹرکچر پوری دنیا میں ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیون نے اس کی تیاری شروع کردی ہے۔

اگلے 12 ماہ میں فائیو جی سروس جاری ہونے کا امکان تو ہے اسی بنا پر اس عرصے میں ون پلس، سام سنگ، سونی اور ہواوے نے ایسے فون لانچ کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ تاہم ایپل اور گوگل نے اب تک خاموشی نہیں توڑی ہے۔ فائیو جی سروس کے بعد فون میں ڈیٹا کی رفتار کئی گنا بڑھ جائے گی اور لوگ اس حیرت انگیز خوبی کو بہتر طور پر محسوس کریں گے۔

فولڈ ہونے والے فون

کچھ ماہ قبل چین کی غیرمعروف کمپنی رویول نے فلیکس پائی کے نام سے دنیا کے پہلے فولڈ ہوجانے والے فون کی تفصیلات دیتے ہوئے دسمبر 2018 میں اس کی فروخت کا اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد سام سنگ نے اپنے فولڈ ہوجانے والے فون کی تفصیلات جاری کیں اور اگلے برس کئی کمپنیاں ایسے اسمارٹ فون پیش کریں گی جو کھل کر ٹیبلٹ اور بند ہوکر ایک فون کے برابر رہ جائیں گے۔ ہواوے کے سی ای او رچرڈ یو نے بھی کہا ہے کہ وہ 2019 میں اپنا پہلا تہہ ہوجانے والا اسمارٹ فون فروخت کریں گے۔

کناروں تک ڈسپلے اور نوچ کا ارتقا

قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک سال قبل بیزل لیس اسمارٹ فون کا بہت چرچا تھا یعنی فون کے ڈسپلے میں کم سے کم جگہ رکھی جائے اور اوپر تھوڑی سی جگہ پر سینسرز اور فرنٹ کیمرہ لگادیا جائے لیکن وہ بہت کامیاب نہ ہوا ۔ اس کے بعد ایپل نے ایک آپشن متعارف کرایا جس میں اسکرین ڈسپلے کو بڑھایا گیا اور اوپر تھوڑی سی جگہ پر سارے سینسر اور کیمرے سمودیئے گئے۔ ایپل نے اسے نوچ کا نام دیا۔

نوچ ایپ ایک طرح کا وال پیپر ہی ہے اور اس کی مقبولیت کے بعد پورا فون قریباً اسکرین ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس کی مقبولیت کے بعد اینڈرائڈ فون میں بھی نوچ کے آپشن شامل کئے گئے۔ اب ہر جدید اینڈرائڈ فون میں بھی نوچ دیکھا جاسکتا ہے۔ اگلے سال اس نوچ مزید فیشن میں شامل ہوگا۔ اس کا ذیادہ تعلق ڈسپلے سے ہے جس سے اسمارٹ فون فل اسکرین دکھائی دیتا ہے۔

اس ضمن میں تمام کمپنیاں کوشش کررہی ہیں جبکہ ون پلس سکس ٹی کمپنی کے فون میں نوچ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہواوے بھی اس دوڑ میں شامل ہے اور اگلے برس نوچ کا رحجان برقرار رہے گا۔ دوسری جانب فرنٹ کیمرے کو بھی چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس میں کچھ کامیابی ملی ہے۔

کیمرہ لینسوں کی بھرمار

سام سنگ اے نائن نے اپنے فون میں چار لینس لگادیئے ہیں اور اگلے سال ان کی تعداد بڑھتی جائے گی بلکہ شاید آپ 12 یا 16 لینس والے فون بھی دیکھ سکیں گے۔ ایل جی نے بھی 16 لینس والے کیمرے کی خبر دی ہے۔

لیکن اتنے لینس والے فون کس کام کے ہیں؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ لینس کے اضافے سے تصویر میں گہرائی پیدا ہوتی ہے اور نئے زاویوں سے تھری ڈی ویڈیو اور تصاویر بنانے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ اسمارٹ فون سے سیلفی اور تصاویر کا رحجان اب بھی تازہ ہے اور اسی بنا پر اگلے برس بہت سے لینس والے فون عام ہوں گے۔

مصنوعی ذہانت میں اضافہ

آئی فون میں اے 12 بایونک چپ کے اضافے سے مصنوعی ذہانت یا آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا عنصر اسمارٹ فون میں شامل ہوگیا ہے۔

اگلے سال ایسے فون بازار میں مل سکیں گے جو تصویر دیکھ کر ایک کتے یا بلی کے درمیان تمیز کرسکیں گے اور یہ سب کچھ مصنوعی ذہانت کی بدولت ممکن ہوگا۔ اسی طرح آگمینٹیڈ ریئلٹی کے فیچرز بھی بہت بہتر ہوتے جائیں گے۔ اسی طرح گوگل اسسٹنٹ اور دیگر سافٹ ویئر بھی بہتر ہوں گے۔

Google Analytics Alternative