سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

بھارتی ’سیٹلائٹ شکن‘ تجربے سے خلائی کچرے میں اضافے کا خدشہ

ٹمپا: قائم مقام امریکی سیکریٹری دفاع پیٹرک شناہن نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سیٹلائٹ شکن ہتھیار کے ٹیسٹ کے نتیجے میں باقیات خلا میں معلق رہ کر دوسری سیٹلائٹ کے لیے خطرہ بننے کے بجائے فضا میں ہی جل جائیں گی۔

خیال رہے کہ بھارت کے اعلیٰ دفاعی سائنسدان نے دعویٰ کیا تھا کہ باقیات 45 دن میں جل کر راکھ ہوجائیں گی، اس بارے میں جب امریکی سیکریٹری دفاع سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی مخصوص مدت کی تصدیق نہیں کرسکتے۔

فلوریڈا میں صحافیوں کے ہمراہ سفر کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’دوسری اشیا کو اس سے متواتر خطرات لاحق ہیں‘ تاہم میں نے سنا ہے کہ یہ فضا میں جل کر راکھ ہوجائیں گی۔

خیال رہے کہ بھارت نے اپنے خلائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے 186 میل دور موجود اپنی ہی سیٹلائٹ کو ملک میں تیار کردہ بیلسٹک میزائل سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن کے مطابق 2017 میں چین نے قطبی مدار (پولر آربٹ) میں موجود سیٹلائٹ تباہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 3 ہزار ٹکڑوں پر مشتمل باقیات کا خلائی تاریخ کا سب سے بڑا ڈھیر پیدا ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ 500 میل اونچائی پر جانے کے بعد زیادہ تر خلائی کچرا مدار میں ہی موجود رہتا ہے۔

اس بارے میں امریکی سیکریٹری دفاع سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہیں اس بات کا یقین ہے کہ بھارت کا نسبتاً کم اونچائی پر کیا جانے والا تجربہ چینی تجربے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے مختلف ہوگا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میرے خیال سے ایسا ہی ہوگا‘۔

دوسری جانب پینٹاگون کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کا شعبہ اسٹریٹجک کمانڈ بھارتی میزائل کے تجربے سے پیدا ہونے والی باقیات کے 250 ٹکڑوں کا جائزہ لے رہا ہے اور باقیات کے زمینی مدار میں داخل ہونے تک اس سے متعلق ضرورت کے تحت اطلاعات جاری کرتا رہے گا۔

اس سلسلے میں امریکی فضائیہ کے اسپیس کمانڈ کے نائب کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ تھامپسن کا کہنا تھا کہ بھارتی تجربے میں صحیح ہدف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ باقیات سے اب تک کوئی نیا خطرہ پیدا نہیں ہوا۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال کوئی ایسی معلومات نہیں ملیں جس سے بھارتی وزیراعظم کے دعوے پر شک وشبہ ہو۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی صرف امریکا، روس اور چین کے پاس تھی جس سے اب خلا میں ہتھیاروں کی لڑائی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

اس کے علاوہ اس کے نتیجے میں خلا میں باقیات کے ڈھیر کا خطرہ بھی ہوگا جو برسوں تک خلا میں موجود رہ سکتا ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع کا کہنا تھا کہ بھارتی تجربے سے ایک بار پھر اس جانب اشارہ ملتا ہے کہ کس طرح خلائی مقابلہ بازی میں اضافہ ہورہا ہے۔

دنیا کا پہلا 100 میگا پکسل کیمرے سے لیس اسمارٹ فون

اگر تو آپ اسمارٹ فون کیمرے کی وجہ سے لینا پسند کرتے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ اب دنیا کا پہلا 100 میگا پکسل سنسر سے لیس فون جلد سامنے آنے والا ہے، یا کم از کم ایک کمپنی نے ایسا عندیہ دیا ہے۔

ابھی کسی فون میں سب سے زیادہ میگا پکسل کا ریکارڈ شیاﺅمی اور ہواوےکے فونز کے پاس ہے جن میں 48 میگا پکسل مین کیمرہ استعمال ہورہا ہے۔

چین کی ہی کمپنی لیناوو نے نے اپنے نئے فونز زی سکس پرو کے لیے سو میگا پکسل کیمرا دینے کا اشارہ دیا ہے۔

ابھی تک فون تو سامنے نہیں آیا مگر لیناوو کے نائب صدر نے چینی سوشل میڈیا سائٹ پر اس ڈیوائس کا ٹیزر جس چینی ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کیا، اس کا ترجمہ 100 میگا پکسل بنتا ہے۔

ویسے یہ اتنا حیرت انگیز بھی نہیں کیونکہ پراسیسر بنانے والی کمپنی کوالکوم پہلے ہی رواں برس سو میگا پکسل کیمرا فونز کی آمد کی بات کرچکی ہے۔

لیناوو نے فروری میں بارسلونا میں ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر فائیو جی ٹیکنالوجی سے لیس ایسے فون کی بات کی تھی جس میں ہائپر ویژن کیمرا دیا جائے گا اور زی سکس پرو وہی ڈیوائس ہے۔

اس کمپنی نے اس موقع پر بتایا تھا کہ وہ اپنے نئے فون میں ہائپر ویڈیو اور سپر میکرو کیمرا موڈز دے گی۔

تاہم لیناوو وہ کمپنی جو اس سے پہلے ماضی میں بھی اپنے جلد متعارف کرائے جانے والے فونز کے فیچرز بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کرچکی ہے جیسے گزشتہ سال کے زی فائیو کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ یہ وہ فون ہوگا جس میں بیزل بالکل نہیں ہوں گے جو فون متعارف کرانے پر غلط ثابت ہوا۔

لیناوو زی سکس پرو ممکنہ طور پر اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر اور 12 جی بی ریم سے لیس ہوگا اور یہ رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران کسی وقت متعارف کرایا جائے گا۔

دنیا کے پہلے ڈبل فولڈنگ فون کی نئی ویڈیو سامنے آگئی

سام سنگ نے 20 فروری کو اپنا پہلا فولڈ ابیل فون گلیکسی فولڈ متعارف کرایا جو 4.6 انچ سے 7.3 انچ کے ٹیبلیٹ کی شکل اختیار کرلیتا ہے جس کے بعد ہواوے نے ایسی ہی ڈیوائس میٹ ایکس پیش کی جو فون کی شکل میں 6.6 انچ اور ٹیبلیٹ میں 8 انچ کی ہوجاتی ہے۔

مگر ان دونوں کو ٹکر دینے کے لیے شیاﺅمی اپنا فولڈایبل فون سامنے لارہی ہے جس کا ایک ٹیزر تو کچھ عرصے پہلے سامنے آیا تھا اور اب دوسرا ٹیزر بھی پیش کردیا گیا ہے۔

شیاﺅمی کے چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو کے اکاﺅنٹ میں پوسٹ 10 سیکنڈ کی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ یہ فون ڈبل فولڈ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی گلیکسی فولڈ کے برعکس یہ فون اسکرین کے دونوں جانب فولڈ ہوسکتا ہے جس کے بعد درمیان میں فون اسکرین رہ جاتی ہے، جیسا آپ نیچے ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔

یعنی یہ کمپنی دنیا کا پہلا ڈبل فولڈنگ فون متعارف کرانے والی ہے اور یہ اعلان جنوری میں اس فون کے پہلے ٹیزر کے موقع پر کیا گیا تھا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کا پہلا ڈبل فولڈنگ بنارہے ہیں جو کہ ٹیبلیٹ اور موبائل فون کا تجربہ فراہم کرے گا۔

اس فون کی تفصیلات تو زیادہ معلوم نہیں مگر یہ واضح ہے کہ یہ ہواوے اور سام سنگ کے فولڈ ایبل فونز کے مقابلے میں کافی سستا یعنی 999 ڈالرز کا ہوگا یعنی گلیکسی فولڈ سے ایک ہزار ڈالر جبکہ ہواوے کے فون سے ڈیڑھ ہزار ڈالرز سستا۔

یہ فون اپریل سے جون کے درمیان متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

جنوری میں شیاﺅمی کے صدر لین بن نے اس فون کے بارے میں کہا تھا کہ اگر اسے کامیابی ملی تو وہ مستقبل میں بڑے پیمانے پر اس کی پروڈکشن کریں گے۔

پی 30 اور پی 30 پرو ہواوے کے طاقتور ترین فلیگ شپ فونز

ہواوے نے اپنے نئے فلیگ شپ فونز پی 30 اور پی 30 پرو متعارف کرادیئے ہیں اور انہیں فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے مثالی ڈیوائسز قرار دیا ہے۔

گزشتہ سال پی 20 سیریز کو دنیا بھر میں کافی سراہا گیا تھا اور اب نئے فونز میں ہواوے نے کافی کچھ بہتر کیا ہے تاہم ڈیزائن کے لحاظ سے یہ دونوں فونز گزشتہ ماڈلز سے ملتے جلتے ہی ہیں۔

مگر نوچ کو پہلے کے مقابلے میں کم کیا گیا ہے جبکہ کیمرا سسٹم بہتر بنایا گیا ہے۔

ان دونوں فونز میں کمپنی نے اپنے کیرین 980 پراسیسر دیا ہے جبکہ دونوں میں فنگرپرنٹ اسکینر اسکرین کے اندر نصب ہیں جس کا ایریا بڑھایا گیا ہے۔

دونوں فونز کے فرنٹ پر 32 میگا پکسل سیلفی کیمرا موجود ہے ، اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کمپنی نے اپنے ای ایم یو آئی سے کیا ہے۔

پی 30 پرو

فوٹو بشکریہ دی ورج
فوٹو بشکریہ دی ورج

اس فون کے بیشتر فیچر تو پی 30 جیسے ہی ہیں مگر کچھ مختلف بھی ہیں جیسے اس میں 6.47 انچ فل ایچ ڈی پلس او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے۔

درحقیقت یہ فون فوٹوگرافی کے شوق رکھنے والوں کے لیے زبردست ثابت ہونے والا ہے جس کے بیک پر 4 کیمرے دیئے گئے ہیں۔

اس کا پرائمری کیمرا 40 میگا پکسل سپر سنسنگ سنسر سے لیس ہے جبکہ 20 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اینگل کیمرا اور 8 میگا پکسل پیری اسکوپ لینس دیا گیا ہے جو کہ 5 ایکس آپٹیکل زوم، 10 ایکس ہائیبرڈ زوم اور 50 ایکس ڈیجیٹل زوم کی سہولت فراہم کرتا ہے اور چوتھا ٹائم آف فلائٹ کیمرا ہے جو کہ پس منظر کو دھندلا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کمپنی کے مطابق پی 30 پرو میں کم روشنی میں فوٹوگرافی کی صلاحیت کو پہلے سے بہتر بنایا گیا ہے اور سپر ہائی آئی ایس او گہری تاریکی میں بھی تصاویر لینے میں مدد دیتا ہے، جبکہ کم روشنی میں ویڈیو ریکارڈنگ کو بھی بہتر کیا گیا ہے۔

فوٹو بشکریہ ہواوے
فوٹو بشکریہ ہواوے

جہاں تک ویڈیو کی بات ہے تو اس کے لیے صارفین زوم لینس اور پرائمری کیمرے کو بیک وقت استعمال کرکے اسپلٹ اسکرین ویڈیو بھی ریکارڈ کرسکیں گے۔

اس میں 4200 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جس کے ساتھ 40 واٹ فاسٹ چارجنگ اور 15 واٹ فاسٹ وائرلیس چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے اور ہاں ریورس وائرلیس چارجنگ کا فیچر بھی موجود ہے جس سے آپ دیگر ڈیوائسز کو اس کی مدد سے چارج کرسکتے ہیں۔

یہ فون 8 جی بی ریم کے ساتھ 128، 256 اور 512 جی بی اسٹوریج والے 3 ورژن میں دستیاب ہوگا جس میں ایس ڈی کارڈ سے 256 جی بی تک مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اور ہاں اگر انٹرنیٹ اسپیڈ بہت اچھی ہو تو اس میں 1.4 جی بی فی سیکنڈ کی رفتار سے چیزیں ڈاﺅن لوڈ کرنا بھی ممکن ہے، یعنی ایک منٹ میں عام کوالٹی کی درجنوں فلمیں بھی ڈاو ¿ن لوڈ کی جاسکتی ہیں۔

پی 30

فوٹو بشکریہ ہواوے
فوٹو بشکریہ ہواوے

پی 30 میں 6.1 انچ او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جو کہ ایچ ڈی آر 10 سپورٹ کے ساتھ ہے جبکہ اس کا ڈسپلے فلیٹ ہے (پی 30 پرو میں خم ڈسپلے ہے)۔

اس فون میں سکس جی بی ریم موجود ہے جبکہ صرف 128 جی بی اسٹوریج کا آپشن دیا گیا ہے جس میں ایس ڈی کارڈ سے 256 جی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

3650 ایم اے ایچ بیٹری 25 واٹ فاسٹ چارجنگ اور ریورس وائرلیس چارجنگ سپورٹ کے ساتھ ہے۔

جہاں تک بیک کیمروں کی بات ہے تو اس میں 40 میگا پکسل کا پرائمری کیمرا، 16 میگا پکسل کا الٹراوائیڈ اینگل کیمرا اور 8 میگا پکسل ٹیلی فوٹو کیمرا دیا گیا ہے جو کہ 3 ایکس آپٹیکل زوم، 5 ایکس ہائیبرڈ زوم اور 30 ایکس ڈیجیٹل زوم کے ساتھ ہے۔

یہ فون واٹر اور ڈسٹ ریزیزٹنس ہے جبکہ 1 جی بی پی ایس انٹرنیٹ اسپیڈ دی گئی ہے۔

قیمت

فوٹو بشکریہ ہواوے
فوٹو بشکریہ ہواوے

یہ دونوں فونز یورپ میں فروخت کے لیے پیش کردیئے گئے ہیں۔

پی 30 کی قیمت 799 یورو (ایک لاکھ 26 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

اس کے مقابلے میں پی 30 پرو کے 8 جی بی ریم اور 128 جی بی والا ورژن 999 یورو (ایک لاکھ 58 ہزار پاکستانی روپے سے زائد)، 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج والا ورژن 1099 یورو (ایک لاکھ 74 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 8 جی بی ریم اور 512 اسٹوریج والا ماڈل 1249 یورو (ایک لاکھ 98 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

یہ پاکستان میں کب تک دستیاب ہوں گے ابھی کچھ کہنا مشکل ہے اور یہاں آنے کے بعد اس قیمت میں مزید اضافے کا بھی امکان ہے۔

یعنی قیمت کے لحاظ سے ہواوے کا یہ فون گلیکسی ایس 10 سے بھی مہنگا ہے بلکہ آئی فونز کو بھی اس نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ہواوے نے خاموشی سے پی 30 لائٹ بھی متعارف کرادیا

ہواوے نے گزشتہ روز اپنے فلیگ شپ فونز پی 30 اور پی 30 پرو متعارف کرائے تھے جن کو اس وقت دستیاب سب سے بہترین کیمرا فونز بھی قرار دیا گیا۔

اور اب اس کمپنی نے خاموشی سے پی 30 لائٹ بھی پیش کردیا ہے۔

ہواوے کینیڈا کی ویب سائٹ پر پی 30 لائٹ کو پری آرڈر کے لیے پیش کیا گیا جس میں فیچرز تو نہیں بتائے گئے مگر دیگر شراکت دار کمپنیوں نے ان کی تفصیلات بیان کیں۔

پی 30 لائٹ درحقیقت اس سیریز کا مڈرینج فون ہے جس میں کیرین 710 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ 4 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج بھی دی گئی ہے تاہم سکس جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج کا ورژن بھی صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔

اس فون میں بیک پر 3 کیمرے دیئے جارہے ہیں اور یہ ہواوے کا پہلا لائٹ فون ہے جس میں تین کیمروں کا سیٹ اپ دیا گیا ہے۔

ان میں پرائمری کیمرا 24 میگاپکسل کا ہے جبکہ 8 میگا پکسل وائیڈ اینگل لینس اور 2 میگا پکسل ڈیپتھ سنسر کیمرا ہوگا۔

فون کے فرنٹ پر 32 میگا پکسل سیلفی کیمرا موجود ہے جو کہ واٹر ڈراپ نوچ میں دیا گیا ہے۔

یہ فون 6.15 انچ کے ایل سی ڈی ڈسپلے سے لیس ہے جس میں فل ایچ ڈی پلس ریزولوشن دیا گیا ہے۔

پی 30 لائٹ میں 3340 ایم اے ایچ بیٹری موجود ہے جس کے ساتھ کوئیک چارج سپورٹ دی گئی ہے اور چارجنگ کے لیے یو ایس بی سی پورٹ موجود ہے۔

یہ فون کینیڈا میں 320 ڈالرز (44 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں پری آرڈر میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے اور 10 اپریل کو صارفین کو دستیاب ہوگا، دیگر ممالک میں اسے کب تک متعارف کرایا جاتا ہے، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔

اسمارٹ فون بیٹری 17 منٹ میں چارج کرنے والی ٹیکنالوجی متعارف

شیاﺅمی نے ان اولین کمپنیوں میں سے ایک ہے جس نے بجٹ اسمارٹ فونز میں بڑی بیٹریوں کو متعارف کرایا اور اب اس نے دنیا کی تیز ترین سپر چارج ٹربو ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔

جی ہاں چینی کمپنی نے 100 واٹ سپر چارج ٹربو ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو 4000 ایم اے ایچ بیٹری کو محض 17 منٹ میں مکمل چارج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ اسمارٹ فونز کے لیے متعارف کرائی جانے والی دنیا کی تیز ترین فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی ہے جس نے اوپو کی 50 واٹ سپر وی او او سی ٹیکنالوجی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جو کہ 15 منٹ میں 50 فیصد بیٹری چارج کرسکتی ہے۔

شیاﺅمی نے اس ٹیکنالوجی کا مظاہرہ چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو میں کیا۔

شیاﺅمی نے اس ٹیکنالوجی کا تجربہ اوپو کی سپر وی او او سی چارج ٹیکنالوجی کے ساتھ کیا۔

اس آزمائش کے دوران شیاﺅمی کی ٹیکنالوجی نے 4000 ایم اے ایچ بیٹری کو صفر سے سو فیصد تک 17 منٹ میں چارج کیا جبکہ اوپو کی ٹیکنالوجی اس وقت میں 3700 ایم اے ایچ بیٹری کو 65 فیصد تک چارج کرسکی۔

شیاﺅمی کے چیئرمین بن لین کے مطابق یہ نیا چارجر محض 5 منٹ میں فون کو 40 فیصد تک چارج کرسکے گا اور مستقبل میں فون کی چارجنگ کی پریشانی کا سامنا کسی کو نہیں ہوگا۔

چینی کمپنی نے اس ٹیکنالوجی کی تفصیلات ابھی ظاہر نہیں کیں اور ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ عام صارفین کے لیے یہ کب تک دستیاب ہوگی یا شیاﺅمی کے کس اسمارٹ فون کا حصہ ہوگی۔

سام سنگ کا 32 میگا پکسل سیلفی کیمرے سے لیس پہلا فون

سام سنگ نے اے سیریز کا ایک اور فون متعارف کرادیا ہے جس میں انفٹنی یو نوچ ڈسپلے اور اسکرین کے اندر فنگرپرنٹ سنسر دیا گیا ہے۔

گلیکسی اے 70 جنوبی کورین کمپنی کا نیا فون ہے جس کے بارے میں سام سنگ کا کہنا ہے کہ اس کی قیمت کا اعلان 10 اپریل کو ایک ایونٹ کے دوران کیا جائے گا۔

یہ رواں سال گلیکسی اے سیریز کا 5 واں فون ہے، اس سے قبل گلیکسی اے 10، گلیکسی اے 30، گلیکسی اے 40 اور گلیکسی اے 50 فروخت کے لیے پیش کیے جاچکے ہیں۔

گلیکسی اے 70 چار رنگوں میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا جس میں اوکٹا کور پراسیسر، 6 سے 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی جائے گی جس میں ایس ڈی کارڈ سے 512 جی بی تک اضافہ کیا جاسکے گا۔

اس فون میں سام سنگ پاس فیچر بھی دیا جارہا ہے جس کی مدد سے صارفین ویب سائٹس اور ایپس میں فنگرپرنٹ کی مدد سے سائن ان ہوسکیں گے۔

اور ہاں یہ گلیکسی ایس 10 اور ایس 10 پلس کے بعد پہلا فون ہے جس میں فنگر پرنٹ سنسر اسکرین کے اندر نصب کیا جارہا ہے۔

اسی طرح یہ یہ سام سنگ کا پہلا فون ہے جس میں 32 میگاپکسل سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

سام سنگ کے اس فون میں 4500 ایم اے ایچ کی طاقتور بیٹری دی گئی ہے جس کے ساتھ سپر فاسٹ چارجنگ سپورٹ موجود ہے۔

اس فون کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ دیا گیا ہے جس میں 32 میگا پکسل پرائمری سنسر، 8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ لینس اور 5 میگا پکسل ڈیپتھ سنسر شامل ہے۔

اس فون میں اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کمپنی نے اپنے ون یو آئی پلیٹ فارم سے کیا ہے جس کی بدولت صارفین کو مختلف فیچرز جیسے ون ہینڈ نیوی گیشن، نائٹ موڈ اور ایپ ٹائمز تک رسائی مل سکے گی۔

اوبر کا 4 کھرب 35 ارب روپے میں کریم کو خریدنے کا باضابطہ اعلان

دنیا بھر کے مختلف ممالک میں آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی اوبر نے باضابطہ طور پر مراکش سے پاکستان تک کریم کمپنی کا کاروبار حاصل کرنے کا اعلان کردیا۔

اوبر کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ اوبر اور کریم 3 ارب 10 کروڑ ڈالر (تقریباً 4 کھرب 35 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، جس کے تحت ایک ارب 40 کروڑ ڈالر نقد جبکہ ایک ارب 70 کروڑ ڈالر شیئرز کی صورت میں ادا کیے جائیں گے اور یہ ٹرانزیکشن آئندہ سال 2020 کی پہلی سہ ماہی تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی اوبر اپنی مشرق وسطیٰ کی حریف سمجھے جانے والی کریم کے مراکش سے پاکستان تک پھیلے بڑے متحرک، ترسیل اور ادائیگی کے کاروبار کو حاصل کرے گی۔

خیال رہے کہ کریم کی بڑی مارکیٹوں میں مصر، اردن، پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

اعلامیے کے مطابق اوبر کے سی ای او دارا خسرو شاہی کا کہنا تھا کہ ’یہ اوبر کے لیے بہت اہم لمحہ ہے کیونکہ ہم اپنے پلیٹ فارم کو پوری دنیا تک پھیلانے کے عمل کو جاری رکھیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کریم مشرق وسطیٰ میں شہری نقل و حرکت کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کررہی ہے اور یہ خطے میں کامیاب ترین کاروبار کا آغاز کرنے والوں میں سے ایک ہے، کریم کے بانیوں کے ساتھ قریبی طور پر کام کرکے مجھے امید ہے کہ ہم دنیا کے تیزی سے ابھرتے حصوں میں صارفین اور ڈرائیورز کو غیر معمولی نتائج فراہم کرسکیں گے‘۔

سی ای او اوبر کا کہنا تھا کہ کمپنی کا ارادہ ہے کہ وہ ’کریم کے شریک بانی اور موجودہ سی ای او مدثر شیخہ کی قیادت میں کریم کو آزادانہ طور پر چلائیں‘۔

معاہدے کے بعد کریم کے آزاد اور علیحدہ آپریشن سے متعلق دارا خسروشاہی کا کہنا تھا کہ ’مشاورت کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ فریم ورک ایک نہیں بلکہ 2 مضبوط برانڈ میں نئی مصنوعات اور خیالات کو اپنانے میں مدد دے گا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’وقت کے ساتھ ساتھ ہم اپنے نیٹ ورک کے حصوں کو مضبوط کرکے زیادہ متحرک طریقے سے کام کرسکتے ہیں، زیادہ گنجائش والی گاڑیاں اور ادائیگیوں جیسی نئی مصنوعات کے دائرے کو بڑھاسکتے ہیں اور خطے میں جدت کے رجحان کو مزید پروان چڑھا سکیں گے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مختلف ممالک میں کریم کا حصول متعلقہ اتھارٹی کی منظوری سے مشروط ہے، جو 2020 سے قبل مکمل ہونا ممکن نہیں لگتا۔

دوسری جانب کریم کے سی ای او اور شریک بانی مدثر شیخہ کا کہنا تھا کہ ’اوبر کے ساتھ ملنے سے کریم کے لوگوں کی زندگیوں کو آسان اور بہتر بنانے کے مقصد میں مزید مدد ملے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں متحرک اور وسیع انٹرنیٹ کے مواقع ہیں اور ہمارے خطے کی ڈیجیٹل مستقبل میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے اور اس موقع کو سمجھنے کے لیے دارا کی قیادت میں اوبر سے بہتر شراکت دار نہیں مل سکتا تھا۔

سی ای او کریم کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہمارے اور خطے کے لیے ایک سنگ میل کا لمحہ ہے اور مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے کاروباری افراد کے لیے وسائل کی دستیابی سے ہم خطے میں اپنے ٹیکنالوجی کے نظام کو مزید بہتر کریں گے۔

تاہم دونوں کمپنیوں کے اشتراک کے باوجود اوبر اور کریم ایک علیحدہ برانڈ کے طور پر کام کرتی رہے گی اور ’ٹیموں اور روز مرہ کے معمولات میں کچھ معمولی تبدیلیاں ہوں گی‘۔

اس معاہدے سے کریم مکمل طور پر اوبر کا ماتحت ادارہ بن جائے گا، تاہم برانڈ کا تحفظ برقرار رکھتے ہوئے کریم کے شریک بانی اور سی ای او مدثر شیخہ کریم کے کاروبار کی سربراہی کریں گے اور وہ اپنے ہی بنائے گئے بورڈ کو رپورٹ کریں گے، جس میں 3 نمائندے اوبر اور 2 کریم سے شامل ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق اس معاہدے کے باوجود دونوں ایپلیکیشن اوبر اور کریم آزادانہ طور پر چلتی رہیں گے اور خطے میں اپنی سروسز فراہم کرتی رہیں گی۔

Google Analytics Alternative