سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

پاکستان کا موبائل جلد مارکیٹ میں

کراچی: متعلقہ اتھارٹیز سے منظوری اور این او سی حاصل کرنے کے بعد موبائل فون بنانے والی کمپنی ’جی فائیو‘ نے پاکستان میں موبائل فونز بنانے شروع کردیئے ہیں، جن پر ’میڈ اِن پاکستان‘ (Made in Pakistan) کا لیبل بھی درج ہے۔

ٹیلی کام پیپر کی رپورٹ کے مطابق منظوری ملنے کے بعد اب ’جی فائیو‘ کمپنی پاکستان میں ہی اسمارٹ فونز سمیت مختلف طرح کے موبائل فونز بنائے گی، جبکہ اسمبلی پلانٹ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے منظور شدہ مشینیں اور آلات استعمال کیے جائیں گے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کی اس وقت موبائل سیٹ بنانے کی کُل صلاحیت ماہانہ 5 لاکھ یونٹس ہے، جس میں وقت کے ساتھ اضافہ کیا جائے گا۔

کمپنی نے متعلقہ اتھارٹیز سے منظوری ملنے کے بعد جنوری سے ٹرائل پروڈکشن کا آغاز کردیا ہے اور کمپنی اب تک 87 ہزار موبائل یونٹس بنا چکی ہے، جو جلد مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔

یاد رہے کہ الیکٹرونک اشیا بنانے والی کمپنی ’ہائیر‘ نے بھی رواں سال اپریل سے موبائل فون اسمبلی پلانٹ کے آغاز کا اعلان کر رکھا ہے۔

پاکستان میں مختلف موبائل فون کمپنیوں کے پلانٹس لگنے سے نوجوانوں کے لیے ناصرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ یہ امید بھی کی جارہی ہے کہ آئندہ دنوں میں ملک میں اسمارٹ فونز کم قیمت پر دستیاب ہوں گے۔

واضح رہے کہ ملک کی موجودہ حکومت موبائل فون بنانے والی کمپنیوں کے لیے ٹیکس میں خصوصی چھوٹ بھی دے رہی ہے۔

اب اسکائپ سے کسی بھی لینڈ لائن یا موبائل فون پر کال کریں

مائیکروسافٹ کی ایپ اسکائپ کا ویب ورژن گزشتہ سال متعارف کرایا گیا تھا جس میں ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر براﺅزر پر وائس اور ویڈیو کالز کی جاسکتی ہیں تاہم اب میں مزید اپ ڈیٹس کو پیش کردیا گیا ہے۔

مائیکروسافٹ نے اسکائپ کے ویب ورژن کو مزید بہتر بنانے کے لیے اس میں چند نئے اضافوں کا اعلان کیا ہے۔

اب اسکائپ فار ویب کی مدد سے کسی بھی لینڈ لائن یا موبائل فون پر کال کی جاسکے گی۔

اس سے قبل ویب ورژن میں صارفین اسکائپ استعمال کرنے والے افراد سے ہی بات کرسکتے تھے اور یہ نیا اضافہ کافی اچھا ہے۔

یعنی آپ ضرورت پڑنے پر انٹرنیشنل کالز اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی کرسکتے ہیں مگر اس کے لیے آپ کو کچھ اسکائپ کریڈٹ خریدنا ہوگا۔

اسی طرح اسکائپ کے ویب ورژن میں اب کسی بھی شخص کو کال میں شامل کرنے کے لیے مدعو کیا جاسکتا ہے چاہے اس کا کوئی اسکائپ نہ ہو بھی ہو۔

یوٹیوب لنکس بھی چیٹنگ ونڈوز کے اندر چلتے ہوئے نظر آئیں گے جبکہ نوٹیفکشنز کے اضافے کی بدولت اہم پیغامات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

مائیکروسافٹ کی جا نب سے ویڈیو گیمرز کیلئے بڑی خوشخبری

مائیکروسافٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے ویڈیو گیم کنسول ایکس باکس کے صارف جلد ہی پرسنل کمپیوٹرز اور ممکنہ طور پر سونی کے پلے سٹیشن رکھنے والے گیمرز سے آن لائن مقابلہ کر سکیں گے۔

تاحال گیمرز صرف اسی صورت میں آن لائن ایک گیم میں مدِمقابل آ سکتے ہیں اگر ان کے پاس ایک ہی جیسے کنسول یا سسٹم ہوں۔

کمپنی کا کہنا ہے اس سلسلے میں پہلی گیم جو ’کراس پلیٹ فارم‘ پر دستیاب ہوگی اس کا نام راکٹ لیگ ہے جسے ایکس باکس اور عام کمپیوٹرز استعمال کرنے والے ایکس باکس لائیو کے ذریعے آن لائن مل کر کھیل سکیں گے۔

مائیکروسافٹ نے گیمز اور گیمنگ کنسول بنانے والی دیگر کمپنیوں سے کہا ہے کہ یہ ایک کھلی پیشکش ہے اور وہ اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

کمپنی کے ڈائریکٹر کرس چارلا نے کہا ہے کہ یہ اب گیم ڈویلپرز پر منحصر ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا مدد کرتے ہیں

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراس پلیٹ فارم کے باوجود اگر ایکس باکس کے صارف صرف ایکس باکس لائیو والوں کے ساتھ کھیلنا چاہیں تو ان کے لیے ایسا کرنا ممکن ہوگا۔

اس وقت مائیکروسافٹ، سونی اور ننٹینڈو کے اپنے اپنے آن لائن نیٹ ورک موجود ہیں جہاں گیمرز ایک دوسرے کے ساتھ مل کر یا ان کے خلاف کسی گیم میں حصہ لے سکتے ہیں۔

سونی اور مائیکروسافٹ اپنا نیٹ ورک استعمال کرنے والوں سے ماہانہ فیس بھی لیتے ہیں۔

راکٹ لیگ گیم بنانے والے سٹوڈیو کا کہنا ہے کہ جب سے راکٹ لیگ ایکس باکس ون پر آئی ہے گیمرز کا پہلا مطالبہ یہی رہا ہے کہ دیگر نیٹ ورکس والوں کو بھی اس تک رسائی دی جائے۔

سٹوڈیو کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مائیکروسافٹ کا ’یہ اعلان ایک خواب کے سچ ہو جانے جیسا ہے۔‘

فیس بک نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا سودا کرتے ہوئے واٹس ایپ خرید لیا

نیویارک: فیس بک نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا سودا کرتے ہوئے واٹس ایپ خرید لیا۔مگر ایک دن ایسا بھی تھا جب اسی فیس بک نے واٹس ایپ کے بانی برائن اور ان کے ساتھی کو ،نوکری دینے سے انکار کردیا تھا۔دنیا بھر میں کروڑوں افراد واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں مگر کسی کو یہ نہ معلوم ہوگا،کہ واٹس ایپ بنانے والے برائن اور ان کے پارٹنر کو ،ابتدا میں فیس بک اور ٹوئٹر نے نوکری دینے سے انکار کردیا تھا۔مگر انہوں نے ہار ماننے کے بجائے ایک ایسی موبائل ایپلیکیشن بنانے کا سوچا،جس سے مفت میسیجز اور کالز کی جاسکیں۔فروری 2009ئ میں برائن اور ان کا ساتھی واٹس ایپ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ آج واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوچکی ہے۔ 30سے 40کروڑ لوگ روزانہ واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں ، 10لاکھ افراد ہر روز رجسٹر ہو رہے ہیں، 60کروڑ فوٹو روزانہ اپ لوڈ ہوتی ہیں، 20کروڑ وائس میسجزجبکہ 10ارب میسجز روزانہ بھیجے جاتے ہیں۔ ۔

اینڈرائڈ سمارٹ فون میں تیزی سے پھیلنے والا خطرناک وائرس

اسلام آباد : اگر آپ کے پاس اینڈرائڈ سمارٹ فون ہے تو آپ کو ایک خطرناک وائرس سے ضرور آگاہی ہونی چاہیے جو آج کل پھیلا ہوا ہے۔ اس خطرناک وائرس کا نام میزر ہے جس سے ہیکرز آپ کے موبائل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جس کے بعد یہ ہیکرز نہ صرف آپ کے سمارٹ فون میں موجود تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کر سکتے ہیں بلکہ آپ کے ٹیکسٹ میسجز بھی پڑھ سکتے ہیں اور کالیں بھی کر سکتے ہیں۔ سیکیورٹی فرم ہائمڈل کا کہنا ہے کہ وائرس سے بھرے ہوئے یہ ٹیکسٹ میسجز اب تک تقریبا ایک لاکھ سمارٹ فونز کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ ہائمڈل کے چیف ایگزیکٹو نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ خطرناک وائرس سمارٹ فونز کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے

ماحول دوست پلاسٹک دریافت

اسٹینفورڈ: امریکی سائنسدانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اور پودوں کے ذریعے ماحول دوست پلاسٹک تیار کرلیاہے۔ص

ایک سائنسی جریدے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ٹیم نے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس (سی او ٹو ) اورپودے کے مٹیریل کے ذریعے ماحول دوست پلاسٹک تیار کرلیاہے۔

سائنسدانوں نے کاربونیٹ کی کاربن ڈائی آکسائیڈ اورفیرک ایسڈکی آمیزش کے ذریعے پلاسٹک جز پولیسٹر کا متبادل پولیتھین فرنڈیکارباکسیلیٹ (پی ای ایف ) تیار کیاہے۔

یونیورسٹی کےاسسٹنٹ پروفیسر آف کیمسٹری میتھیو کانان نے میڈیا کو بتایاکہ اس متبادل پلاسٹک کا استعمال گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی کےعلاوہ پلاسٹک بو تلیں، فیبرکس ،الیکٹرونکس اورپیٹرولیم سےتیارکردہ دیگرمصنوعات کا بہترین کم کاربن والا متبادل ثابت ہوگا۔

مریخ پر میتھن گیس کی تلاش

بینکوور: زمین پر موجود میتھن کے ذخیرے کہاں سے آئے یہ وہ سوال ہے جس نے سائنس دانوں کو پریشان کردیا ہے جب کہ کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ عنصر مریخ سے زمین پر آیا اور اب اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے یورپ اور روس نے ایک مشن مریخ روانہ کردیا ہے۔

مریخ کی جانب سفر کرچنے والے اس سیٹلائٹ کو ’’ایکسو مارس ٹراس گیس آربٹر‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس نے قازقستان کے خلائی اسٹیشن بیکور سے اڑان بھری جب کہ اس مشن کے دوران اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جائے گی کہ زمین پر میتھن گیس جیولاجیکل ذریعے یا پھر مائیکروب سے وجود میں آرہی ہے اور ایسا کب سے ہورہا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مشن کامیاب رہا تو اس کے فوری بعد برطانیہ میں تیارکردہ 2 مزید تحقیقاتی روبوٹ خلا میں روانہ کیے جائیں گے جن کی روانگی 2018 یا پھر 2020 تک متوقع ہے۔

مریخ پر جانے والا مشن 10 گھنٹوں کے سفر کے بعد راکٹ سے مریخ کے راستے پر آجائے گا جس دوران سیٹلائٹ کے انجن پروٹون بریز سے جلیں گے جو اسے زمین کی کشش سے باہر نکل جانے میں مدد دیں گے جس کے بعد وہ 33 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے مریخ کی جانب بڑھے گا۔ اگر سب کچھ کامیابی سے ہوا تو یہ مشن 7 ماہ بعد یعنی 19 اکتوبر کو مریخ پر لینڈ کرے گا اور وہاں ایک نیا اور جدید ماڈیلو ’’شیاپریلی‘‘ نصب کردے گا جو وہاں سے معلومات زمین پرروانہ کرے گا۔

اس سے قبل روس نے مریخ کی جانب 19 سیٹلائیٹ روانہ کیے تھے لیکن ان میں سے اکثر ناکام رہے اور کچھ تو زمین سے اپنی پرواز ہی نہ بھر سکے جب کہ کچھ زمین کے مدار سے نکل جانے کے بعد واپس زمین پر گر گئے۔

سست پرانا کمپیوٹر کو کروم بک بنائیے

اگر تو آپ کے پاس سست پرانا کمپیوٹر ہے اور اس کو پھینکنے کی بجائے بہتر بلکہ مارکیٹ میں دستیاب گوگل کے کروم بک جیسا بنانا چاہتے ہیں تو اب ایسا ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ممکن ہے۔

ایک امریکی کمپنی نیور ویئر نے ایسا سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو آپ کے ایک دہائی پرانے ونڈوز یا ایپل کمپیوٹر کو مکمل طور پر فعال کلاﺅڈ کمپیوٹر میں تبدیل کردیتا ہے۔

یہ سافٹ ویئر پرانے کمپیوٹر کو تبدیل کرکے گوگل کروم کے آپریٹنگ سسٹم میں بدل دیتا ہے۔

اس سافٹ ویئر کو کلاﺅڈ ریڈی کا نام دیا گیا ہے اور یہ پرانے کمپیوٹرز کو تیز اور کروم آپریٹنگ سسٹم میں تبدیل کرنے پر زیادہ کارآمد بنادیتا ہے کیونکہ اس کے لیے زیادہ پاور یا ریسورسز اور ہیوی آپریٹنگ سسٹمز کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کلاﺅڈ ویئر سافٹ ویئر ذاتی استعمال کے لیے مفت ہے جسے اسلنکسے یو ایس بی پر ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے جس میں صرف 42 منٹ لگتے ہیں۔

آپ کو بس ایک 8 سے 16 جی اسٹوریج والی یو ایس بی، ایک لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر جو دس سال سے زیادہ پرانا نہ ہو اور جی میل ایڈریس کی ضرورت ہوگی۔

اس انسٹالیشن سے پہلے اپنی اہم معلومات کا بیک اپ بنالیں، کلاﺅڈ ویئر پر اپنے کمپیوٹر ماڈل کو چیک کرلیں یہ اس پر کام کرسکتا ہے اور پھر ڈاﺅن لوڈ کرلیں۔


Google Analytics Alternative