سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

فلیگ شپ فونز کی ٹکر کا سستا اسمارٹ فون

موٹرولا نے اپنا نیا اسمارٹ فون ون زوم متعارف کرایا ہے جو کہ فیچرز کے لحاظ سے فلیگ شپ فونز کی ٹکر کا ہے مگر اس کی قیمت بہت کم ہے۔

جرمنی میں جاری آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران موٹرولا کی جانب سے اس فون کو متعارف کرایا گیا جو کہ کمپنی کا پہلا 4 بیک کیمروں والا فون بھی ہے۔

اس میں 6.4 انچ کا او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جس میں یو شکل کا نوچ موجود ہے۔

اس کے علاوہ 4000 ایم اے ایچ بیٹری 18 واٹ ٹربو پاور چارجنگ سپورٹ کے ساتھ ہے جو کمپنی کے بقول 2 دن تک چل سکتی ہے۔

کوالکوم اسنیپ ڈراگون 675 پراسیسر،4 جی بی ریم، 128 جی بی اسٹوریج، یو ایس بی سی پورٹ، ہیڈ فون جیک، اسپلیش ریزیزٹنٹ، اینڈرائیڈ 9 آپریٹنگ سسٹم وغیرہ قابل ذکر فیچرز ہیں۔

مگر اس کی سب سے خاص بات بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ ہی ہے۔

اس کا پرائمری کیمرا 48 میگا پکسل کا ہے جس میں او آئی ایس اور نائٹ ویژن موڈ دیا گیا ہے، 8 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لینس میں 3 ایکس آپٹیکل جبکہ 10 ایکس ہائیبرڈ زوم موجود ہے۔

تیسرا کیمرا 16 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اینگل لینس ہے جو کہ 117 ڈگری تک کا منظر لے سکتا ہے جبکہ 5 میگا پکسل ڈیپتھ کیمرا دھندلے پس منظر والی تصاویر کا معیار بہتر بنانے میں دیتا ہے۔

اس کے فرنٹ پر 25 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے جو کہ 4 کے الٹرا ایچ ڈی ویڈیو ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ فون پہلے یورپ میں 450 ڈالرز (70 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا جس کے بعد یہ دیگر ممالک میں صارفین کے لیے متعارف کرادیا جائے گا۔

بھارت کا چاند پر پہنچنے کا مشن ایک مرتبہ پھر ناکام

بھارت کا چاند کی سطح پر اترنے کا خواب ایک مرتبہ پھر اس وقت چکنا چور ہوگیا جب اس کے خلائی جہاز کا چاند پر اترنے سے پہلے ہی رابطہ ٹوٹ گیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چندریان 2 نامی خلائی مشن بھارت کا اب تک سب سے پرجوش منصوبہ تھا جس کی وجہ اس کی کافی کم لاگت یعنی ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہونا تھی۔

جولائی میں مشن روانہ کرتے ہوئے بھارت کو امید تھی کہ وہ امریکا، روس اور چین کے بعد کامیابی سے چاند پر اترنے والا چوتھا ملک اور اس کے قطب جنوب تک پہنچنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔

اس مشن سے قبل بھارت نے 2008 میں بھی چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا، تاہم وہ مشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

تاہم ہفتے کی علی الصبح جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور کروڑوں افراد سانسیں روکے بھارتی خلائی پروگرام کے بانی سے منسوب خلائی جہاز ’وکرم‘ کے چاند کی سطح پر اترنے کا منظر دیکھ رہے تھے کہ اس وقت صرف 2.1 کلومیٹر کے فاصلے پر اس کا رابطہ زمین سے ٹوٹ گیا۔

چاند کی سطح پر اترنے میں ناکامی پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس مشن کے سربراہ کو دیر تک گلے لگا کر تسلی دیتے نظر آئے۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بنگلور میں چاند پروگرام کے کمانڈ سینٹر میں خلائی مشن کے چاند کی سطح پر اترنے کا تاریخی منظر دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

اس بارے میں انڈین ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے چیئرمین نے کہا کہ ’وکرم منصوبے کے مطابق اترنے والا تھا اور اس کی کارکردگی بھی معمول کے مطابق تھی‘۔

مشن کی ناکامی سے ساکت و جامد رہ جانے والے آپریشن روم میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بعدازاں لینڈر سے زمینی اسٹیشن کا رابطہ منقطع ہوگیا تاہم اس حوالے سے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جارہا ہے‘۔

اسرو کی جانب سے مزید کہا گیا کہ چندریان 2 (چاند گاڑی2) بالکل صحیح حالت میں چاند کے مدار میں چکر لگا کر معمول کے مطابق کام کررہا تھا اور محفوظ تھا۔

ریسرچ ادارے کی جانب سے چاند کی سطح پر پہنچنے کی براہِ راست نشریات جاری تھیں، جس میں دیکھا گیا تھا کہ جب کنٹرول اسٹیشن کو وکرم کی جانب سے سگنلز موصول ہونا رک گئے تو سائنسدان یک دم پریشان نظر آئے اور پورے کمرے میں سناٹا چھا گیا۔

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جو ایک کامیاب مشن کا تمغہ حاصل کرنے کے لیے پُرامید تھے اس واقعے کے بعد خطاب کرتے ہوئے اپنے 5 کروڑ ٹوئٹر فالوورز کو تسلی دینے والے نظر آئے۔

خیال رہے کہ چین جنوری میں وہ پہلا ملک بنا تھا جو چاند کے دور دراز مقام پر اترنے میں کامیاب ہوا تھا، اسی قسم کی کوشش اسرائیل کی جانب سے اپریل میں کی گئی تھی جس کا نتیجہ آخری لمحات میں خلائی جہاز کا انجن فیل ہوجانے کے سبب چاند کی سطح پر تباہ ہونے کی صورت میں نکلا تھا۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ بھارتی خلائی ادارہ (اسرو) 15 اگست 1969 کو وجود میں آنے کے بعد سے اب تک کئی ریموٹ سینسنگ سیٹیلائٹس، فلکیاتی دوربینیں اور موسمی سیٹیلائٹس زمین کے گرد بھیج چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیارہ مریخ اور چاند کے گرد بھی اپنی خلائی گاڑیاں بھیج چکا۔

یہ منفرد ڈوئل اسکرین اسمارٹ فون پسند کریں گے؟

رواں برس فولڈ ایبل فونز کی تیاری کی دوڑ میں تیزی آئی ہے، سام سنگ اور ہواوے کے بعد موٹرولا اور چند دیگر کمپنیاں بھی اس حوالے سے کام کررہی ہیں۔

تاہم جنوبی کورین کمپنی ایل جی نے اس کا حصہ بننے سے بچنے کے لیے ڈوئل اسکرین اسمارٹ فون جی 8 ایکس تھن کیو آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران متعارف کرادیا ہے۔

درحقیقت یہ کمپنی رواں برس کے شروع میں ایل جی وی 50 تھن کیو میں سیکنڈری اسکرین منسلک کرنے کا آپشن دیا گیا تھا جو کہ الگ سے خریدنی پڑتی ہے مگر جی 8 ایکس تھن کیو میں دوسری اسکرین فون کے ساتھ ہی منسلک ہے۔

یہ دونوں اسکرین ایک جیسے او ایل ای ڈی ڈسپلے پر مشتمل ہے، دونوں 6.4 انچ کی ہیں، یکساں ریزولوشن اور نوچ بھی موجود ہے، مگر سیکنڈری اسکرین کو الگ کیا جاسکتا ہے۔

بنیادی طور پر یہ دوسری اسکرین ایک فون کیس ہے جس میں ایک 2.1 انچ کی مونوکروم اسکرین بھی باہر کی جانب موجود ہے جو وقت اور میسج وغیرہ ڈسپلے کرتی ہے۔

تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ درحقیقت اس فون میں 3 اسکرینیں ہیں جو کسی اسمارٹ فون میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے۔

جی 8 گزشتہ سال کا ماڈل ہے جس میں دوسری اسکرین کے ذریعے جدت پیدا کی گی ہے جو کہ دوہرے جوڑ کی بدولت 360 ڈگری تک گھوم سکتی ہے یعنی اس اسکرین کو کسی بھی اینگل میں رکھا جاسکتا ہے۔

اس فون میں فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر دیا گیا ہے اور سیکنڈ اسکرین کو کہیں بھی گھما کر ڈیوائس کو آسانی سے لاک کیا جاسکتا ہے۔

فوٹو بشکریہ میش ایبل
فوٹو بشکریہ میش ایبل

کمپنی کے مطابق اگر آپ ایک اسکرین پر یوٹیوب ویڈیو دیکھ رہے ہیں یا ویڈیو کال کررہے ہیں تو دوسری اسکرین پر کوئی اور کام کرسکتے ہیں جبکہ کچھ ایپس کو دونوں اسکرینوں پر بیک وقت بھی چلایا جاسکے گا۔

جیسا اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ دونوں اسکرینوں میں نوچ موجود ہے مگر سیکنڈ اسکرین میں موجود نوچ کا کوئی مقصد نہیں کیونکہ اس میں سیلفی کیمرا ہی نہیں، جبکہ اس میں کوئی اضافی بیٹری بھی نہیں، تو دونوں اسکرینیں بیٹری بہت تیزی سے ختم کرتی ہیں۔

اس میں اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، 6 جی بی ریم، 128 جی بی اسٹوریج، 4000 ایم اے ایچ بیٹری اور مخصوص مارکیٹوں میں 5 جی سپورٹ فراہم کی جائے گی۔

یہ فون واٹر پروف قرار دیا ہے جس کے بیک پر 12 اور 13 میگا پکسل کیمرے دیئے گئے ہیں جبکہ سیلفی کیمرا 32 میگا پکسل کا ہے۔

کمپنی کی جانب سے فی الحال اس کی دستیابی کی تاریخ یا قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

سام سنگ کی دنگ کردینے والی ‘جادوئی الماری’

اگر تو آپ کو کپڑے دھونے میں تکلیف ہوتی ہے تو اب یہ کوئی مسئلہ نہیں درحقیقت آپ کی ‘الماری’ ہی اب یہ کام کرے گی۔

جی ہاں جنوبی کورین کمپنی سام سنگ کو ویسے تو اسمار ٹ فونز، ٹیلی ویژن یا فریج وغیرہ کے لیے زیادہ جانا جاتا ہے مگر اس کی نئی ڈیوائس کسی جادو سے کم نہیں۔

آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران سام سنگ نے ایک الماری ائیر ڈریسر متعارف کرائی ہے جو کپڑوں کو سرف یا دیگر کیمیکلز کے بغیر ہی صاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خراب استری کو بھی درست کرسکتی ہے۔

یہ بنیادی طور پر ایل جی اسٹائلر سے ملتی جلتی الماری ہے جو گھر میں کپڑوں کی ڈرائی کلیننگ میں مدد دیتی ہے۔

بس اپنے کپڑوں کو اس الماری کے اندر لٹکائیں اور پھر اسٹیمنگ یا ہیٹنگ سسٹم سے ان کو صاف کرلیں۔

ایل جی کی ایسی الماری کی قیمت 2 ہزار ڈالرز ہے مگر سام سنگ نے فی الحال ائیر ڈریسر کی قیمت کا اعلان نہیں کیا۔

مگر ڈیزائن کے لحاظ سے یہ ایل جی اسٹائلر سے ملتی جلتی ہے تو امکان ہے کہ قیمت بھی اس کے قریب ہی ہوگی۔

ائیر ڈریسر میں ایک جیٹ ائیر سسٹم اور ائیر ہینگرز سپورٹ موجود ہے جو کپڑوں میں جمع ہونے والی گرد کو تیز ہوا کے ذریعے نکال دیتے ہیں، جبکہ جیٹ اسٹیم سسٹم کپڑوں کی صفائی کا کام کرکے ڈرائی کلین کردیتا ہے۔

اس الماری میں ایک ایسا فلٹر بھی ہے جو کپڑوں میں موجود بو کو ختم کرکے انہیں خوشبودار بناتا ہے۔

اسے سب سے پہلے یورپ میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا مگر ایسا کب ہوگا، فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے۔

نوکیا کے 2 مڈرینج اسمارٹ فونز متعارف

نوکیا نے اپنے 2 مڈرینج اسمارٹ فونز متعارف کرا دیئے ہیں۔

نوکیا 7.2 اور نوکیا 6.2 کو گزشتہ روز جرمن شہر برلن میں جاری آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران پیش کیا گیا۔

دیکھنے میں یہ دونوں فونز لگ بھگ ایک جیسے ہیں تاہم فیچرز اور کیمروں کے لحاظ سے نوکیا 7.2 زیادہ بہتر ہے۔

نوکیا 7.2 میں 6.3 انچ کا ایل سی ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جس میں واٹر ڈراپ نوچ اور ایچ ڈی آر 10 سپورٹ موجود ہے۔

اس کے علاوہ اسنیپ ڈراگون 660 پراسیسر، 4 سے 6 جی بی ریم اور 64 سے 128 جی بی اسٹوریج کے آپشنز موجود ہیں، اسٹوریج کو ایس ڈی کارڈ کی مدد سے 512 جی بی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

اس کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہے ایک 48 میگا پکسل مین کیمرا، دوسرا 8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اور تیسرا میگا پکسل ڈیپتھ سنسر۔

سیلفی کے لیے فرنٹ پر 20 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے، جبکہ 3500 ایم اے ایچ بیٹری کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ عام استعمال میں اسے 2 دن تک آرام سے چلایا جاسکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں نوکیا 6.2 میں بھی 6.3 انچ ایل سی ڈی ڈسپلے واٹر ڈراپ نوچ کے ساتھ ہے جبکہ اسنیپ ڈراگون 636 پراسیسر، 3 سے 4 جی بی ریم اور 32 سے 64 جی بی اسٹوریج کے آپشن ہیں۔

اس کے بیک پر بھی 3 کیمرے دیئے گئے ہیں مگر اس کا مین کیمرا 16 میگا پکسل کا ہے جبکہ باقی دونوں کیمرے 7,2 جیسے ہی ہیں، فرنٹ پر 8 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے۔

دونوں فونزمیں اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم ہوگا مگر جلد اینڈرائیڈ 10 کو اپ ڈیٹ کردیا جائے گا۔

نوکیا 7.2 کے 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا ماڈل رواں ماہ یورپ میں 300 یورو (51 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا جبکہ نوکیا 6.2 کا تھری جی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج والا فون 200 یورو (34 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں دستیاب ہوگا۔

سونی کا نیا فلیگ شپ فون ایکسپیریا 5

سونی نے اپنا نیا فلیگ شپ فون ایکسپیریا 5 متعارف کرا دیا ہے اور ایک بار پھر کامپیکٹ ڈیوائسز کے میدان میں واپسی کی ہے۔

جرمنی میں جاری آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران اس فون کو متعارف کرایا گیا۔

6.1 انچ کے اوایل ای ڈی ڈسپلے والے اس فون میں 2560×1080 ریزولوشن دیا گیا ہے جو کہ ایچ ڈی آر کو سپورٹ کرتا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ فون ڈولبی ایٹموس کو سپورٹ کرتا ہے جبکہ ایکسپیریا 1 کی طرح اس میں 21:9 اسکرین ایسیپٹ ریشو دیا گیا ہے جبکہ چوڑائی محض 68 ملی میٹر ہے۔

اس کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ دیا گیا ہے جس میں مین کیمرا 12 میگا پکسل سنسر اور ایف 1.6 آپرچر سے لیس ہے جبکہ ٹیلی اسکوپک لینس اور وائیڈ اینگل لینس بھی دیئے گئے ہیں۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

سونی کے مطابق فون میں وہ آئی آٹو فوکس ٹیکنالوجی دی گئی ہے جو اس کے الفا کیمروں میں استعمال کی جاسکتی ہے۔

اس فون میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون ایس او سی پراسیسر دیا گیا ہے، تاہم اس کے ریم کے حوالے سے کمپنی نے کوئی اعلان نہیں کیا۔

اس میں ایک اہم فیچر اسمارٹ کنکٹیویٹی بھی موجود ہے جو وائی فائی سگنلز کا تجزیہ کرکے اس میں کسی بھی قسم کی کمزوری کی پیشگوئی کرتے ہوئے خودکار طور پر ایل ٹی ای پر منتقل ہوجاتا ہے تاکہ انٹرنیٹ اسپیڈ کم نہ ہو۔

اس فون کی قیمت کا بھی فی الحال اعلان نہیں ہوا تاہم اسے اگلے ہفتے یورپ میں پری آرڈر میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

سام سنگ کا فولڈ ایبل فون نئی تبدیلیوں کے ساتھ پہلے سے زیادہ بہتر

سام سنگ مختلف تبدیلیوں کے بعد اپنے پہلے فولڈ ایبل اسمارٹ فون گلیکسی فولڈ کو متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔

رواں سال مئی میں جب اس فون کو موبائل ورلڈ کانگریس میں پہلی بار متعارف کرایا گیا تو اس کے ریویوز میں سامنے آنے والی خرابیوں کے بعد کمپنی نے اس کی فروخت کو التوا میں ڈال دیا تھا۔

اس کے بعد یہ فون واپس انجنیئرز کے پاس گیا تاکہ اسے زیادہ پائیدار بنایا جاسکے اور ایسا لگتا ہے کہ اب ان مسائل پر قابو پالیا گیا ہے کیونکہ یہ 6 ستمبر کو جنوبی کوریا میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

برلن میں جاری آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران کمپنی کی جانب سے ری ڈی ڈیزائن ڈیوائس کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

سام سنگ کے عہدیداران کا اس موقع پر کہنا تھا کہ فون میں 3 بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں، پہلی تبدیلی تو کیپس کا اضافہ ہے تاکہ اس کے کونوں میں مٹی اور دیگر ذرات جمع نہ ہوسکے۔

اسی طرح ڈسپلے کو نقصان پہنچنے کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے ری ڈیزائن ڈیوائس میں ایک اور حفاظتی تہہ کا اضافہ کردیا گیا ہے تاکہ اسکرین بند کرنے یا کھلنے کے دوران متاثر نہ ہو۔

کمپنی کی جانب سے ڈسپلے کے اندر میٹل کی تہہ کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ اسے زیادہ مضبوط بنایا جاسکے۔

ان اپ ڈیٹس کے ساتھ یہ فون اب پہلے سے زیادہ مضبوط جبکہ مکمل کھلنے پر لگ بھگ 180 ڈگری فلیٹ ہوجائے گا۔

ان تبدیلیوں سے ہٹ کر فون میں کچھ نیا نہیں، یعنی مکمل کھلنے پر 7.3 انچ جبکہ بند ہونے پر 4.6 اسکرین کی شکل اختیار کرے گا۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

فولڈایبل موڈ میں اس کی فرنٹ اسکرین کسی عام اسمارٹ فون کی طرح کام کرتی ہے تاہم کسی ایپ جیسے گوگل میپس کو اوپن کرنے کے بعد ڈیوائس کو بڑے ڈسپلے پر سوئچ کیا جائے تو سب کچھ کافی بڑا ہوجاتا ہے۔

سام سنگ کے مطابق یہ بڑا ڈسپلے ملٹی ٹاسکنگ کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوگا اور صارف بیک وقت 3 ایپس کو استعمال کرسکیں گے۔

یہ فون کوریا میں 24 لاکھ کورین وون (3 لاکھ 13 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے جبکہ 18 ستمبر کو مختلف یورپی ممالک میں اسے متعارف کرایا جائے گا۔

ہواوے کا امریکا پر سائبر حملے کرنے کا الزام

چینی کمپنی ہواوے نے امریکی حکومت پر اس کے نیٹ ورکس میں مداخلت اور ملازمین کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

یہ الزامات امریکا اور ہواوے کے درمیان جاری تنازع میں شدت لانے والا نیا پہلو ثابت ہوں گے کیونکہ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ چینی حکومت اس کمپنی کو جاسوسی کے لیے استعمال کررہی ہے جبکہ کمپنی کی جانب سے اس کی بار بار تردید کی جاتی ہے۔

رواں ہفتے جاری ایک بیان میں ہواوے کا کہنا تھا ‘امریکی حکومت کی جانب سے ہر چیز بشمول عدالتی اور انتظامی اختیارات کے ساتھ ساتھ غیرقانونی ذرائع کو استعمال کرکے ہواوے اور اس کے شراکت داروں کے معمول کے کاروباری آپریشنز کو متثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے’۔

کمپنی کی جانب سے ماضی میں بھی اسی طرح کے الزامات عائد کیے گئے ہیں مگر اس بار چند نئی باتیں بھی بیان میں شامل ہیں جیسے امریکا کی جانب سے کمپنی کے اندرونی معلوماتی سسٹمز کو ہیک کرنے کی کوشش کرنا۔

بیان میں اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دی گئیں جیسے کہ یہ حملے کس حد تک کامیاب ہوئے۔

ہواوے کا دعویٰ تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کمپنی کے ملازمین کو ہراساں کیا جارہا ہے اور ان کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔

یہ بیان اس وقت جاری ہوا ہے جب گزشتہ ہفتے وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے کمپنی پر اسمارٹ فون کیمرا پیٹنٹس کو چرانے کے الزامات کی تفتیش کی جارہی ہے۔

کمپنی کی جانب سے بیان میں ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹیو آرڈر میں ہواوے کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو ہواوے سے کاروباری تعلقات منقطع کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم اس پابندی کا مکمل اطلاق فوری طور پر التوا میں ڈالتے ہوئے چینی کمپنی کو 90 دن کے لیے عارضی لائسنس جاری کیا گیا تھا جس سے ہواوے کو اپنے اینڈرائیڈ فونز کو اپ ڈیٹ کرنے کا موقع ملا۔

اس عارضی لائسنس کی مدت 19 اگست کو ختم ہورہی تھی مگر امریکی کامرس سیکرٹری ولبر روس نے فاکس بزنس سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر 90 دن کے لیے عارضی لائسنس جاری کرنے کا اعلان کیا جس کی مدت 19 نومبر کو ختم ہوگی۔

عارضی لائسنس کے باوجود ہواوے کے لیے امریکی پابندیاں مختلف مسائل کا باعث بن رہی ہیں کیونکہ متعدد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے چینی کمپنی سے اپنے تعلقات ختم کرلیے ہیں، جس سے اہم سافٹ وئیر اور پرزہ جات تک اس کی رسائی محدود ہوئی ہے۔

گزشتہ ہفتے گوگل کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ہواوے پر عائد امریکی پابندی کے حوالے سے ریلیف دینے والے عارضی لائسنس کا اطلاق اس کمپنی کی نئی مصنوعات میں نہیں ہوتا اور ممکنہ طور پر وہ میٹ 30 سیریز میں گوگل پلے اسٹور، گوگل ایپس اور لائسنس اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال نہیں کرسکے گی۔

گوگل نے بعد ازاں وضاحت کی تھی کہ ہواوے اینڈرائیڈ کو استعمال کرسکے گی کیونکہ یہ ایک اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم ہے مگر اس کے باوجود ایسا ممکن ہے کہ اس میں لائسنس گوگل ایپس نہ ہوں۔

Google Analytics Alternative