سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

فواد چوہدری نے چاند دیکھنے کی ایپلی کیشن ‘دی رویت’ متعارف کرادی

چاند کی رویت کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے والی پاکستان کی پہلی ویب سائٹ کے بعد وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے چاند کے بارے میں مختلف معلومات فراہم کرنے والی موبائل ایپلی کیشن بھی متعارف کرادی۔

‘دی رویت’ کے نام سے ایپلی کیشن کو گوگل کے پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

گوگل پلے پر موجود ایپلی کیشن کے بارے میں معلومات میں بتایا گیا کہ ‘دی رویت’ کو وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے پاکستان میں چاند اور اس کی رویت کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اس ایپلی کیشن کے فیچرز یہ ہیں۔

  • چاند کی موجودہ عمر
  • اسلامی ہجری کیلنڈر
  • پاکستان میں کسی بھی مقام کی معلومات حاصل کرنا
  • اسلامی مہینوں کے حساب سے نئے چاند کی تفصیلات
  • چاند کے حساب سے کیلنڈر
  • چاند، سورج و تمام دیگر سیاروں کی پوزیشن کی معلومات

قبل ازیں سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر نے اعلان کیا تھا کہ چاند کی رویت کے لیے پاکستان کی ویب سائٹ (http://www.pakmoonsighting.pk/) لانچ کردی گئی ہے

20 مئی کو فواد چوہدری نے اعلان کیا تھا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے سائنسی بنیادوں پر چاند دیکھنے کے معاملے کے لیے قمری کیلنڈر تیار کرلیا، یہ قمری کیلنڈر 5 سال کے لیے تیار کیا گیا ہے اور 5 سال بعد اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘کیلنڈر میں سائنسی طور پر بتایا گیا ہے جس میں پاکستان کی حدود میں چاند کن کن تاریخوں میں نظر آئے گا، غروب ہوگا اور اس پر گرہن کب لگے سے متعلق معلومات ہوں گی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘قمری کیلنڈر سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کیلنڈر جاری کرنے سے قبل علما سے بھی مشاورت کی جائے گی اور اس سلسلے میں مفتی منیب الرحمٰن اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو دعوت دی جائے گی’۔

ایپل کا 4 برس میں پہلا آئی پوڈ متعارف

ایپل نے 4 برس بعد پہلی بار ایک نیا آئی پوڈ متعارف کرایا ہے۔

منگل کو ایپل کی جانب سے نیا آئی پوڈ ٹچ متعارف کرایا گیا جو کہ درحقیقت ایک آئی فون ہی ہے بس اس سے فون کالز نہیں ہوسکتیں۔

ایپل کے پراڈکٹ مارکیٹنگ کے نائب صدر گریگ جوسویاک نے اس بارے میں بتایا کہ ہم نے سب سے سستی آئی او ایس ڈیوائس کو پہلے سے زیادہ بہتر بنایا ہے جو کہ پہلے کے مقابلے میں دوگنا تیز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ انتہائی پتلا اور ہلکے وزن والا آئی پوڈ ٹچ گیمز، میوزک، ملٹی میڈیا اور ایسے ہی متعدد چیزوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے بہترین ڈیوائس ہے۔

خیال رہے کہ ایپل نے پہلا آئی پوڈ ڈیجیٹل میوزک پلیئر کے طور پر 2001 میں متعارف کرایا تھا۔

آئی پوڈ بہت جلد لوگوں میں مقبول ہوگیا خصوصاً انٹرنیٹ کے شوقین نوجوانوں میں، جو ایسی موبائل ڈیوائسز چاہتے تھے جس کے لیے ٹیلی کمیونیکشنز سروسز کی ضرورت نہ ہو مگر وہ وائی فائی کی مدد سے انٹرنیٹ کنکٹ ہوجائے۔

ایپل نے رواں سال اپنی اسٹریمنگ ویڈیو سروس کو متعارف کرایا تھا جس کے ساتھ نیوز اور گیمز سبسکرائپشن بھی صارفین کے لیے پیش کی گئیں جس کا مقصد آئی فونز کی فروخت پر انحصار ختم کرکے ڈیجیٹل مواد اور سروسز پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

یہ نیا آئی پوڈ اس مقصد کے لیے ہی ممکنہ طور پر پیش کیا گیا ہے کیونکہ اس میں میوزک اور گیمز سمیت دیگر ملٹی میڈیا سروسز کا استعمال ممکن ہے۔

ایپل کے مطابق نیا آئی پوڈ ٹچ متعدد ممالک میں کمپنی کے آن لائن اسٹور سے 199 ڈالرز (لگ بھگ 30 ہزار پاکستانی روپے) میں دستیاب ہوگا۔

ہواوے اپنا آپریٹنگ سسٹم جون میں متعارف کرائے گا؟

امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے بعد ہواوے کے ‘اینڈرائیڈ’ کے متبادل آپریٹنگ سسٹم کا لوگ بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

موبائل فون بنانے والے کئی کمپنیوں کی طرح ‘ہواوے’ بھی اپنے اسمارٹ فون کو چلانے کے لیے گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا استعمال کرتی ہے۔

تاہم رواں ماہ کے آغاز میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے چینی کمپنی پر پابندی کے باعث گوگل نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہواوے کا اینڈرائیڈ کا لائسنس منسوخ کر رہا ہے۔

اس کے بعد سے ہواوے کو 90 روز کا وقت دیا گیا جس کے بعد انہیں گوگل کی سروسز اور ماہانہ اینڈرائیڈ سیکیورٹی اپ ڈیٹس موصول نہیں ہوں گی۔

تاہم ہواوے ایسی صورتحال کے لیے پہلے ہی سے تیاری کر رہا تھا اور اپنا آپریٹنگ سسٹم ‘ہونگ مینگ’ تیار کر رہا تھا۔

ہواوے کی ڈیوائسز کے لیے اینڈرائیڈ کے متبادل کی اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب گوگل نے اپنی سروس سے معذرت کی۔

ٹیکنالوجی کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ سی نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ہواوے اپنے آپریٹنگ سسٹم پر 2012 سے کام کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے ہواوے انٹرپرائز بزنس گروپ کی سربراہ الا الشیمی کا کہنا تھا کہ ‘ہواوے جانتا تھا کہ اسے ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے آپریٹنگ سسٹم جنوری 2018 میں تیار کرلیا گیا تھا اور یہ ہمارا پلان بی تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نہیں چاہتے تھے کہ آپریٹنگ سسٹم کو مارکیٹ میں متعارف کروائیں کیونکہ ہمارے گوگل اور دیگر سے گہرے تعلقات تھے اور ہم ان تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتے تھے، تاہم اب کمپنی آئندہ ماہ اس کو متعارف کروا سکتی ہے’۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ اینڈرائیڈ کی تمام ایپلی کیشنز ہواوے کے نئے آپریٹنگ سسٹم پر بھی چلیں گی جس کا مطلب ہے کہ یہ نیا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کے اوپن سورس ورژن پر قائم ہے۔

اینڈرائیڈ پر ہواوے کا اپنا ایپ اسٹور ‘ہواوے ایپ گیلری’ کے نام سے موجود ہے جو نئے ایپ کا مرکز بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ چین میں گوگل کے پلے اسٹور سمیت کئی معروف ایپلی کیشنز پر پہلے ہی پابندی عائد ہے جس کا مطلب ہے کہ ہواوے کو چین میں اپنی مصنوعات کے فروخت میں پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم دیگر ممالک میں اپنی مصنوعات کے فروخت کے لیے ہواوے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا استعمال کرتا ہے۔

رمضان کے دوران مشرق وسطیٰ میں سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ گیا، رپورٹ

رمضان المبارک کے مہینے میں دن بھر روزے رکھنے اور عبادت کرنے کا مقصد عبادت گزاروں کو خدا کے قریب لانا اور دنیاوی زندگی سے دور کرنا ہے تاہم ٹیکنالوجی نے اس کا مقصد تبدیل کردیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں رمضان المبارک کے مہینے میں 5 کروڑ 80 لاکھ اضافی گھنٹے فیس بک پر گزارے گئے جبکہ یوٹیوب پر بھی بیوٹی ٹپس، کھانے پکانے کی ترکیبوں، کھیل اور ٹی وی ڈراموں کی ویڈیوز دیکھنے میں بھی سال کے دیگر مہینوں کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ اشتہاروں کے لیے سال کا پرائم ٹائم بن گیا ہے۔

فیس بک جس کی ملکیت میں انسٹاگرام بھی ہے اور گوگل جو یوٹیوب کا بھی مالک ہے نے خطے میں کاروبار میں کئی گنا اضافہ دیکھا۔

فیس بک کے منیجنگ ڈائریکٹر برائے مشرق وشطیٰ اور شمالی افریقہ رمیز شاہدی کا کہنا تھا کہ ‘ہماری ویب سائٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگ رمضان کے دنوں میں رات کے وقت زیادہ جاگتے ہیں اور افطار اور سحری سے قبل اوقات میں سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ دفتروں کے اوقات بھی کم ہوجاتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘رمضان المبارک میں عام مہینوں کے مقابلے میں 20 لاکھ گھنٹے اضافی لوگ فیس بک دیکھ رہے ہیں’۔

گوگل کے مطابق خطے میں رمضان کا مہینہ انتہائی اہم ہوتا ہے اور یوٹیوب پر ٹی وی ڈراموں کو دیکھنے میں 151 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔

رمضان کے مہینے میں اشتہارات پر اتنا زیادہ خرچ کیا گیا کہ گوگل نے ‘دی لینٹرن ایوارڈ’ متعارف کرایا تاکہ سب سے منفرد اور زیادہ دیکھے جانے والے اشتہار کو اعزاز دیا جاسکے۔

گوگل نے رمضان کے مہینے میں یوٹیوب پر گزارا گیا وقت تو نہیں بتایا تاہم اس کا کہنا تھا کہ مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کھیلوں کی ویڈیوز میں 22 فیصد، سفر کی ویڈیوز میں 30 فیصد اور ویڈیو گیمز کے دیکھے جانے میں 10 سے 20 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

گوگل کے مطابق عوام نے یوٹیوب پر مذہبی ویڈیوز بھی عام مہینوں سے 27 فیصد زیادہ دیکھیں۔

گوگل کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ہیڈ آف کمیونکیشن جوئس باز نے کہا کہ ‘ہمارے لیے، یوٹیوب لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ گوگل کی مصنوعات جیسے اس کا سرچ انجن لوگوں کی زندگیاں آسان کرنے کے لیے ہے جیسے گوگل کی قبلہ تلاش کرنے والی ایپلی کیشن مسلمانوں کو مکہ کی سمت بتاتی ہے تاکہ وہ جہاں بھی ہیں، اس سمت میں اپنی عبادت کرسکیں۔

گوگل کا کہنا تھا کہ رواں سال رمضان کے پہلے ہفتے میں مصر، عراق اور سعودی عرب میں سب سے زیادہ، گیم آف تھرونز، نماز کے اوقات، رمضان کے ٹی وی شوز، فلم کے اوقات اور انگلش پریمیئر لیگ کے نتائج سرچ کیے گئے۔

اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں رمضان کے مہینے میں گوگل کے پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ ہونے والی سب سے مشہور ایپلی کیشنز میں اسٹیک بال گیم، اسٹیمنگ ایپ وو اور شاہد اور آن لائن ریٹیلر نون اور جولی شامل ہیں۔

رمضان کے دوران لوگوں کی توجہ گوگل پر افطار کی جانب بھی رہی جہاں انہوں نے گھریلو پکوان سمیت فائیو اسٹار ہوٹل کے بوفے بھی سرچ کیے، یوٹیوب پر بیوٹی مصنوعات کی تلاش میں 16 فیصد اضافہ بیٹی ٹپس میں 18 فیصد اضافہ سامنے آئے اور گوگل میپ پر مال کی جانب جانے کا 20 فیصد زیادہ رجحان پایا گیا۔

فیس بک اور انسٹاگرام نے مشرق وسطیٰ میں 18 کروڑ صارفین کے لیے خصوصی رمضان آئیکنز بھی جاری کیے۔

انسٹاگرام پر رمضان المبارک کے دوران فلاحی کاموں کے فروغ کے لیے مہم بھی جاری ہے۔

دنیا کے خطرناک ترین لیپ ٹاپ کی قیمت 15 کروڑ روپے سے زائد

دنیا کا خطرناک ترین لیپ ٹاپ اب آپ خرید سکتے ہیں، بس جیب میں 10 لاکھ ڈالرز (15 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) ہونے چاہیے۔

اسے بنانے والے نے اسے آرٹ آف پیس قرار دیا ہے کیونکہ اس میں دنیا کے 6 خطرناک ترین وائرسز لوڈ کیے گئے ہیں۔

انٹرنیٹ آرٹسٹ گیو او ڈونگ کا یہ تیار کردہ لیپ ٹاپ اس وقت تک محفوظ ہے جب تک اسے وائی فائی سے کنکٹ یا اس میں یو ایس بی نہیں لگائی جاتی۔

گیو او ڈونگ کے مطابق اس لیپ ٹاپ کی تیاری کا مقصد دنیا کو دکھانا ہے کہ ڈیجیٹل ورلڈ میں کیسے کیسے خطرات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا ‘ہمارا خیال ہوتا ہے کہ کمپیوٹرز میں موجود چیزیں ہمیں متاثر نہیں کرسکتیں مگر یہ درست نہیں، درحقیقت وائرسز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے پاور گرڈ یا پبلک انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے’۔

یہ لیپ ٹاپ سام سنگ کا این سی 10-14 جی بی ہے جس میں 6 وائرسز موجود ہیں جن کا انتخاب ان کی جانب سے پھیلائی گئی تباہی کو دیکھ کر کیا گیا۔

اس میں ایک تو 2000 کا آئی لو یو وائرس نامی کمپیوٹر بگ ہے جو اس زمانے میں ای میلز کے ساتھ بھیجا جاتا تھا۔

اسی طرح وانا کرائی رینسم وئیر بھی اس لیپ ٹاپ میں موجود ہے جس نے 2017 میں دنیا بھر میں ہسپتالوں اور فیکٹریوں کے کمپیوٹرز کو بند کردیا تھا اور اس کا ذمہ دار شمالی کوریا کو قرار دیا گیا۔

گیو او ڈونگ کے مطابق وانا کرائی ایسی مثال ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ڈیجیٹل حملے کس طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ اس وائرس سے 10 کروڑ ڈالرز کا نقصان ہوا جبکہ ڈاکٹرز کی لاکھوں اپائنمنٹس منسوخ ہوئین۔

مجموعی طور پر سام سنگ کے اس لیپ ٹاپ میں جو وائرسز موجود ہیں انہوں نے دنیا بھر میں 95 ارب ڈالرز مالیت کی تباہی مچائی۔

اس لیپ ٹاپ کا تجزیہ سائبر سیکیورٹی کمپنی DeepInstinct نے کیا اور اس وقت آن لائن نیلامی کے لیے دستیاب ہے۔

اس وقت لیپ ٹاپ کے لیے 12 لاکھ ڈالرز کی قیمت لگ چکی ہے جو کہ میل وئیر سے بھرے کسی پرانے لیپ ٹاپ کے لیے بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے مگر اسے ڈیزائنر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ آرٹ ورک ہے۔

سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا نیا نقصان سامنے آگیا

فیس بک، انسٹاگرام یا ٹوئٹر تو لگتا ہے کہ آج کل ہر ایک ہی استعمال کرتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس چند امراض بھی ایک سے دوسرے میں پھیلا سکتے ہیں؟

یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

فلینڈرز یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ڈپریشن اور دیگر ذہنی صحت کے مسائل سوشل میڈیا کے ذریعے ایک سے دوسرے بلکہ تیسرے فرد تک بھی پھیل سکتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس کی وجہ سے لوگ سماجی سپورٹ سے محروم ہورہے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران ڈیڑھ سو افراد کا جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس سے ان میں اور ان کے دوستوں میں کس حد تک منفی یا مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ڈپریشن یا دیگر ذہنی عوارض کے شکار افراد سے یہ امراض دیگر افراد تک پھیل سکتے ہیں۔

اس سے قبل رواں سال کے شروع میں مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ بہت زیادہ سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال ایسے رویوں کو فروغ دیتا ہے جو کہ ہیروئین یا دیگر منشیات کے عادی افراد مٰں دیکھنے میں آتا ہے۔

اسی طرح گلاسکو یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ انٹرنیٹ بہت زیادہ استعمال کرنے والے نوجوانوں کے اندر یہ خوف بیٹھ جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کی نظروں سے کوئی چیز چھوٹ نہ جائے اور ان پر زیادہ سے زیادہ وقت تک ان سائٹس سے جڑے رہنے کا دباﺅ ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں بڑی اکثریت نوجوانوں کی ہی ہوتی ہے اور جو ہر وقت خاص طور پر رات رات بھر اس سے چپکے رہتے ہیں ان میں جذباتی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں فیس بک کے بہت زیادہ استعمال سے طویل المعیاد ذہنی مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔

ٹک ٹاک بنانے والے اب اسمارٹ فون تیار کرنے کے خواہشمند

ٹک ٹاک اس وقت دنیا بھر میں نوجوانوں کی پسندیدہ ترین ایپ ہے اور اب اس کی ملکیت رکھنے والی کمپنی بائیٹ ڈانس چیٹ اپلیکشنز اور اسٹریمنگ میوزک سے ہٹ کر ایک اسمارٹ فون کی تیاری پر کام کررہی ہے۔

فنانشنل ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کمپنی اپنے اسمارٹ فون کی تیاری پر کام کررہی ہے اور اس کے لیے چینی کمپنی اسمارٹسین کے ڈیزائن اور ٹیلنٹ کو حاصل کیا گیا ہے۔

اور یہ حیران کن نہیں کہ یہ اسمارٹ فون بائیٹ ڈانس ایپس سے بھرا ہوا ہوگا۔

تاہم رپورٹ میں اس فون کے فیچرز یا متعارف کرائے جانے کی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ بائیٹ ڈانس کے بانی زینگ یمینگ طویل عرصے سے ایک فون کی تیاری کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

بائیٹ ڈانس نے اس رپورٹ پر کوئی بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

اب یہ فون کتنا کامیاب ہوگا یہ کہنا تو مشکل ہے مگر عام طور پر کسی انٹرنیٹ کمپنی کے ارگرد گھومنے والے فونز اکثر ناکام ہوجاتے ہیں، کیونکہ ان میں صارفین کے تجربے کی بجائے کمپنی کی سروسز پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔

ایمازون کا فائر فون بھی اس وجہ سے ناکام ہوگیا جبکہ فیس بک کا ایچ ٹی سی فرسٹ بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

ان دونوں کمپنیوں نے فون کے انٹرفیس اور ہارڈ وئیر کی خامیوں کو نظرانداز کیا گیا۔

تاہم بائیٹ ڈانس کو دیگر کمپنیو ں کے مقابلے میں زیادہ ایڈوانٹیج حاصل ہے جس کو نوجوانوں میں ٹک ٹاک کی بدولت بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوچکی ہے۔

زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ فون امریکا یا یورپ کی بجائے چین یا بھارت جیسے ممالک کے لیے ہوگا جہاں کم قیمت فونز لوگوں کی زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں

ڈوئل اسکرین والا منفرد لیپ ٹاپ

کیا آپ کو کبھی خیال آیا کہ لیپ ٹاپ میں میں ایک اسکرین کافی نہیں؟

اگر ہاں تو تائیوان کی کمپنی اسوز نے ایسا نیا لیپ ٹاپ متعارف کرا دیا ہے جس میں ڈوئل اسکرین دی گئی ہے۔

زین بک پرو ڈو نامی لیپ ٹاپ میں ڈوئل اسکرین کا کانسیپٹ ایچ پی کے اومین ایکس 2 ایس لیپ ٹاپ سے ملتا جلتا ہے جس میں بھی ایک چھوٹی اسکرین ریگولر اسکرین کے نیچے اور کی بورڈ سے اوپر دی گئی تھی۔

ایچ پی کے لیپ ٹاپ میں یہ سیکنڈری اسکرین 6 انچ کی تھی جبکہ اسوز کے زین بک پرو میں 14 انچ کی فورکے ٹچ اسکرین دی گئی ہے، جس میں متعدد ایپس کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

درحقیقت اسکرین پیڈ پلس نامی سیکنڈری اسکرین کے ساتھ اسوز نے لیپ ٹاپ میں ایک تیسری اسکرین بھی دی گئی ہے جو کہ ٹریک پیڈ کی شکل میں ہے۔

یہ ٹریک پیڈ کی بورڈ کے دائیں جانب دیا گیا ہے۔

زین بک پرو ڈو میں 15 انچ کی مین اسکرین فورکے او ایل ای ڈی پینل سے لیس ہے جبکہ اس میں 8 کور انٹیل کور آئی نائن پراسیسر، نویڈا جی فورس آر ٹی ایکس 2060 گرافکس چپ دی گئی ہے۔

فوٹو بشکریہ اسوز
فوٹو بشکریہ اسوز

اس کے علاوہ تھنڈر بولٹ 3 پورٹ، 2 یو ایس بی اے پورٹس، ایچ ڈی ایم آئی پورٹ اور ہیڈفون جیک بھی دیئے گئے ہیں۔

اس کمپنی نے زین بک ڈو لیپ ٹاپ بھی متعارف کرایا جو کہ اس کے ڈوئل اسکرین لیپ ٹاپ کا چھوٹا ورژن ہے جس میں 14 انچ کی مین اسکرین اور 12.6 انچ کی سیکنڈری اسکرین دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ انٹیل کور آئی سیون پراسیسر کے ساتھ نویڈا جی فورس ایم ایکس 250 گرافکس چپ دی گئی ہے۔

ان دونوں لیپ ٹاپس کی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا گیا اور کمپنی کے مطابق یہ ڈیوائسز 2019 کی تیسری سہ ماہی کے دوران صارفین کو دستیاب ہوں گے۔

Google Analytics Alternative