سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

اوبر کی ہیلی کاپٹر سروس نیویارک میں متعارف

کیا آپ ہیلی کاپٹر پر ایک جگہ سے دوسری جگہ رائیڈ شیئرنگ سروس کے ذریعے جانا پسند کریں گے؟

اگر ہاں تو نیویارک میں اوبر نے پہلی بار ہیلی کاپٹر سروس متعارف کرادی ہے جو مین ہیٹن سے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ تک 200 ڈالرز کے عوض لے جاتی ہے۔

اسے اوبر کاپٹر کا نام دیا گیا ہے جو اب اس رائیڈ شیئرنگ ایپ کے تمام صارفین کے لیے دستیاب ہے، اس سے پہلے یہ صرف پریمیئم صارفین کے لیے ہی دستیاب ھتی۔

7 اکتوبر سے اس سروس کا آغاز ہورہا ہے جس کے لیے فی فرد 200 سے 225 ڈالرز لیے جائیں گے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس سروس کا مقصد سفری وقت کو کم کرنا ہے مگر خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق مڈ ٹاﺅن آفس سے ائیرپورٹ پہنچنے تک 70 منٹ لگ جاتے ہیں، جس کے دوران ایک سب وے رائیڈ اور ہیلی کاپٹر تک جانے اور ائیرپورٹ سے نکلنے کے لیے 2 اوبر رائیڈز بھی لینا پڑتی ہے۔

اور یہ وقت اتنا ہے جتنا ایک ٹیکسی عام ٹریفک میں منزل تک پہنچانے کے لیے لگاتی ہے۔

اس ستوس کا آغاز جون میں پلاٹینیم اور ڈائمنڈ صارفین کے لیے ہوا تھا اور ایک ہیلی کاپٹر میں 5 افراد سفر کرسکتے ہیں جو اپنے ساتھ ایک بیگ اور ہینڈ بیگ یا لیپ ٹاپ کیس لے جاسکتے ہیں۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

سروس استعمال کرنے والے ہر مسافر کو ایک سیفٹی ویڈیو بھی ٹیک آف سے پہلے دیکھنا ضروری ہے اور ہیلی کاپٹر پر بیٹھنے کے بعد ائیرپورٹ میں پہنچنے کے لیے 8 منٹ کا وقت لگتا ہے۔

اس سے پہلے رواں سال اسی کمپنی نے آسٹریلیا میں رائیڈ شیئرنگ سب میرین کی سہولت بھی متعارف کرائی تھی۔

اوبر نے کوئنزلینڈ، آسٹریلیا کی شراکت کے ساتھ آبدوز کی سہولت پیش کی تھی اور عام اوبر ایپ کی مدد سے سب میرین کو طلب کیا جاسکتا تھا۔

یہ سروس صرف 4 ہفتوں کے لیے تھی۔

ایک گھنٹے کے راﺅنڈ ٹرپ رائیڈ کا آغاز کوئنزلینڈ کے مختلف شہروں سے ہوا اور اس سروس کو استعمال کرنے والوں کو اپنی منزل کا پتا گریٹ بیرئیر ریف کے طور پر درج کرنا ہوتا تھا، جس کے بعد اوبر آپریٹر کی جانب سے کال کرکے تصدیق کی جاتی کہ یہ غیرمعمولی رائیڈ غلطی سے تو بک نہیں ہوگئی۔

انسٹاگرام کی نئی مسیجنگ ایپ صارفین کے لیے دستیاب

انسٹاگرام نے اپنی حریف اپلیکشن اسنیپ چیٹ کے خلاف ایک اور اقدام کرتے ہوئے ایک نئی کیمرا فرسٹ ایپ تھریڈز متعارف کرادی ہے، جس کا مقصد مواد قریبی دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا ہے۔

جمعرات کو ایک بلاگ پوسٹ میں فیس بک کی زیرملکیت انسٹاگرام نے اس نئی ایپ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ قریبی دوستوں کے لیے ایک مختص اور نجی جگہ پر رابطے کا نیا ذریعہ ہے۔

اگر صارفین تھریڈز کو استعمال کرتا ہے تو وہ میسجز، فوٹوز، ویڈیو اور اسٹوریز کو اپنے دوستوں کی مخصوص فہرست کے ساتھ شیئر کرسکے گا اور ضروری نہیں کہ وہ مواد ہر ایک کے ساتھ شیئر کیا جائے۔

اس ایپ میں اسٹیٹس یا آٹو اسٹیٹس کی سہولت بھی دی جارہی ہے جو دوستوں کو بتاسکے گا کہ آپ اس وقت کہاں ہیں جیسے گھر میں موجود ہیں، اور یہ عمل خودکار ہوگا، جس کے لیے خود انگلیوں کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

صارفین اس میں اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لوکیشن، اسپیڈ اور بیٹری لائف شیئر کرسکیں گے، جبکہ ٹیکسٹ، فوٹو اور ویڈیو پیغامات کی سہولت تو موجود ہوگی ہی۔

اس ایپ کو اس وقت متعارف کرایا گیا ہے جب انسٹاگرام نے اپنی میسجنگ ایپ ڈائریکٹ کو مئی میں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر 2017 سے کام ہورہا تھا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ بیٹا ٹیسٹرز کی جانب سے میسج بھیجنے کے لیے انسٹاگرام سے دوسری ایپ پر جانا پسند نہیں تھا مگر کمپنی نے اس وقت بھی ایک نئی میسجنگ ایپ کی تیاری میں دلچسپی ضرور ظاہر کی تھی۔

کمپنی کے خیال میں ایسی میسجنگ ایپ جو صرف قریبی دوستوں سے رابطے کے لیے استعمال ہو، زیادہ مقبول ثابت ہوگی، جبکہ اس طرح وہ اپنے صارفین کو اسنیپ چیٹ کے مقابلے میں زیادہ وقت ایپ کے اندر گزارنے پر بھی مجبور کرسکے گی۔

فیس بک اور انسٹاگرام کئی برس سے اسنیپ چیٹ کی نوجوانوں کی مقبولیت ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور تھریڈز مخالف ایپ کی کشش ختم کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔

اسنیپ چیٹ کی طرح تھریڈز بھی صارفین کو خودکار طور پر کلوز فرینڈز لسٹ کو اپ ڈیٹس ارسال کرے گی۔

اسنیپ چیٹ میں رواں سال اسنیپ میپ فیچر متعارف کرایا گیا تھا جس کی مدد سے صارفین دیکھ سکتے تھے کہ ان کے دوست کہاں ہے اور اس سے ملتا جلتا فیچر تھریڈز میں بھی دیا جارہا ہے۔

گوگل پکسل 4 کی تمام تر تفصیلات قبل از وقت لیک

اگر کسی اسمارٹ فون کو دنیا میں سب سے زیادہ لیک ہونے والا قرار دیا جائے تو یہ اعزاز ممکنہ طور پر گوگل کے پکسل 4 کے پاس جائے گا۔

درحقیقت ایسا لگتا ہے کہ اس فون کے بارے میں روز ہی کوئی نہ کوئی لیک سامنے آتی ہے جیسے فیس آئی ڈی، گاڑی کے حادثے کو پکڑنا، اپ ڈیٹڈ ریکارڈر ایپ اور ٹچ لیس جیسپر، مگر اب تو اس کے تمام سپیسی فیکیشن بھی سامنے آگئے ہیں۔

نائن ٹو 5 گوگل کی رپورٹ کے مطابق آفیشل سپیسی فیکیشن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فون میں اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، 6 جی بی ریم اور 90 ہرٹز ڈسپلے صارفین کو دستیاب ہوگا۔

پکسل 4 اور پکسل 4 ایکس ایل میں بڑا فرق ڈسپلے سائز اور بیٹری کا ہوگا یعنی پکسل فور 5.7 انچ جبکہ پکسل فور ایکس ایل 6.3 انچ ڈسپلے سے لیس ہوگا جبکہ پکسل فور میں 2800 ایم اے ایچ اور پکسل فور ایکس ایل میں 3700 ایم اے ایچ بیٹری دی جائے گی۔

دونوں فونز میں 64 سے 128 جی بی اسٹوریج کا آپشن ہوگا۔

دونوں ڈیوائسز میں ایک نئی چیز پکسل نیورول کور بھی ہوگی جو کہ پکسل ویژول کور کا نیا نام لگتا ہے جو پکسل 3 میں دیا گیا تھا۔

یہ امیجنگ چپ پکسل فون میں کم روشنی میں بہترین تصاویر میں مدد دیتی ہے تو توقع کی جاسکتی ہے کہ نئے فونز میں یہ صلاحیت پہلے سے بھی زیادہ بہتر ہوگی۔

جہاں تک فون کے ڈبے کی بات ہے تو اس میں یو ایس بی سی کیبل، 18 واٹ یو ایس بی سی پاور اڈاپٹر، ایک کوئیک سوئچ اڈاپٹر، ایک سم ٹول اور ایک کوئیک اسٹارٹ گائیڈ ہوگی، مگر ائیرفون نہیں دیا جائے گا۔

اب پکسل فور سیریز کے فونز کے بارے میں لگتا ہے کہ کوئی نئی تفصیل باقی نہیں رہ گئی اور 15 اکتوبر کو اس کے لانچ ایونٹ میں درحقیقت کچھ نیا دکھانے کی بجائے اس کے فیچرز کا مظاہرہ ہی ہوگا۔

یہاں تک کہ کمپنی نے خود بھی اس فون کے کچھ فیچرز کو قبل از وقت ہی لیک کردیا تھا جیسے نئی راڈار ٹیکنالوجی جو ٹچ اسکرین کو چھوئے بغیر مختلف کام ڈیوائس سے کچھ دور ہاتھ کی حرکت سے کرنا ممکن بنائے گی۔

پہلی بار اس سیریز میں بیک پر 2 یا اس سے زائد کیمرے دیئے جارہے ہیں، اس سے قبل گزشتہ سال پکسل تھری ایکس ایل کے فرنٹ پر تو 2 کیمرے تھے مگر بیک پر ایک ہی کیمرا دیا گیا تھا۔

مگر کون جانتا ہے کہ گوگل نے ابھی بھی کچھ سرپرائز فیچر چھپا کر رکھے ہوئے ہوں۔

جنگل کو آگ سے بچانے کےلیے جیلی دار مادّے کا اسپرے تیار

کیلیفورنیا: اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک ایسا جیلی دار مادّہ تیار کرلیا ہے جسے لکڑی پر اسپرے کی شکل میں چھڑک دیا جائے تو وہ آگ سے محفوظ رہتی ہے۔ اسے جنگلات میں درختوں اور جھاڑیوں پر چھڑک کر جنگل کو آگ لگنے سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔

اس کی تیاری میں سیلولوز پولیمر (پودوں میں قدرتی طور پر پایا جانے والا مادّہ) اور ریت جیسی کیمیائی خصوصیات رکھنے والے سلیکا ذرّات کو آگ بجھانے والے ایک مائع میں ملایا گیا ہے۔

اس ایجاد کی تفصیلات ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ پر 30 ستمبر 2019 کے روز شائع ہوچکی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ یہ مادّہ نہ صرف بے ضرر ہے بلکہ حیاتی تنزل پذیر (بایو ڈیگریڈیبل) بھی ہے۔ یعنی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خود بخود تحلیل ہوجاتا ہے۔

قبل ازیں فن لینڈ کے وی ٹی ٹی ٹیکنیکل سینٹر کے ماہرین نے بھی اس سے ملتی جلتی ایک پالش بنائی تھی جو لکڑی کو آگ لگنے سے بچاتی ہے۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں تیار کیا گیا جیلی دار مادّہ اس سے قدرے بہتر ہے کیونکہ ایک طرف تو اس کی تیاری خاصی کم خرچ ہے تو دوسری جانب اسے اسپرے کی شکل میں وسیع رقبے پر بکھیرنے کا کام بھی کم وقت میں، اور آسانی سے مکمل ہوجاتا ہے۔

حیاتی تنزل پذیر ہونے کی وجہ سے ہر سال اس کا نیا اسپرے کرنا پڑے گا۔ اس جیلی دار مادّے کو کیلیفورنیا میں محکمہ فائر بریگیڈ کی نگرانی میں گھاس پر کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے۔ ان آزمائشوں سے معلوم ہوا کہ یہ تیز ہوا کے جھکڑوں کے علاوہ تقریباً 13 ملی میٹر جتنی بارش بھی برداشت کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ جنگل کی آگ بہت خطرناک ہوتی ہے کیونکہ یہ بڑی تیزی سے پھیلتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں، ہزاروں درختوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگل کی آگ بجھانا آج بھی انتہائی مشکل کام سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی طرح درختوں کو اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ آگ سے محفوظ رہیں، تو اس طرح نہ جنگل میں آگ لگے گی اور نہ ہی انسانی جانوں اور قدرتی ماحول کو اس سے خطرہ لاحق ہوگا۔

سوزوکی کا دلچسپ کانسیپٹ گاڑیاں پیش کرنے کا عندیہ

معروف کمپنی سوزوکی نے نئی کانسیپٹ گاڑیاں ٹوکیو موٹر شو کے دوران متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے۔

ان میں سے ایک گاڑی جدت و قدامت کے امتزاج کے ساتھ ہے جسے واکو اسپاﺅ کا نام دیا گیا ہے جبکہ دوسری منفرد ڈیزائن کی ہنارے ہے۔

ان گاڑیوں کی تفصیلات تو فی الحال دستیاب نہیں مگر ان کی تصاویر ضرور سامنے آچکی ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ گاڑیاں دیکھنے میں کتنی اچھی ہیں۔

سوزوکی واکو اسپاﺅ نامی کانسیپٹ گاڑی میں ماضی کی گاڑیوں سے متاثر باڈی دی گئی ہے جو کہ 1960 کی دہائی کی سوزوکی فرنٹی سے متاثر لگتی ہے مگر نئی گاڑی میں کچھ نئے اضافے بھی موجود ہیں۔

جیسے رئیر فیسنگ کیمرے نظر آرہے ہیں جبکہ یہ 2 دروازوں والی گاڑی ہے جو کہ ممکنہ طور پر ہائیبرڈ ہوگی جبکہ باڈی شیپ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہوگی اور ڈیش بورڈ پر تفریحی مواد بھی دیکھا جاسکے گا۔

مگر کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ یہ گاڑی خود کو کیسے اور کس حد تک بدل سکتی ہے۔

دوسری جانب ہنارے باکسی وین کانسیپٹ گاڑی ہے جس کی باڈی کافی بڑی نظر آتی ہے۔

ہنارے — فوٹو بشکریہ سوزوکی
ہنارے — فوٹو بشکریہ سوزوکی

کمپنی کے مطابق یہ ایک خودکار ڈرائیونگ والی گاڑی ہے اور ہنارے کا مطلب ڈیٹیچڈ کاٹیج ہے اور ڈیزائن کے لحاظ سے واکو اسپاﺅ سے زیادہ دلچسپ لگتی ہے۔

دیکھنے میں یہ کسی ڈبے کی طرح نظر آتی ہے مگر پھر بھی اس میں ماضی کی واکس ویگن کی جھلک نظر آتی ہے۔

یہ دونوں گاڑیاں ٹوکیو موٹر شو کے دوران پیش کی جائیں گی اور یہ ایونٹ 23 اکتوبر کو شروع ہورہا ہے، جس کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی اور معلوم ہوسکے گا کہ یہ عام صارفین کے لیے بھی دستیاب ہوں گی یا نہیں۔

پہلے عرب خلانورد خلائی اسٹیشن سے واپس آگئے

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ ہزاع المنصوری ’انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن‘ (عالمی خلائی اسٹیشن) پر 8 دن گزارنے کے بعد واپس زمین پر پہنچ گئے۔

ہزاع المنصوری رواں ماہ 25 ستمبر کو وسطی ایشیائی ملک قازقستان کے بیکانور خلائی اسٹیشن سے روسی ساختی اسپیس کرافٹ سوئز ایم ایس 15 میں روانہ ہوئے تھے۔

ان کے ہمراہ روسی خلانورد اولیگ اسکرپوچکا اور امریکی خلانورد خاتون جیسکا میر بھی عالمی خلائی اسٹیشن گئی تھیں۔

تینوں خلا نورد 6 گھنٹوں کی مسافت کے بعد عالمی خلائی اسٹیشن پہنچے تھے۔

تینوں خلانوردوں کا عالمی اسٹیشن پر موجود پہلے سے 6 خلانوردوں نے والہانہ استقبال کیا تھا۔

تاہم اب تینوں میں سے عرب خلانورد واپس زمین پر پہنچ گئے ہیں جب کہ ان کے ساتھ عالمی خلائی اسٹیشن پر پہلے سے موجود 6 میں سے 2 خلانورد بھی واپس زمین پر آگئے۔

عالمی خلائی اسٹیشن کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر کی جانے والی ٹوئٹس میں بتایا گیا کہ تینوں خلانورد قازقستان واپس پہنچ گئے۔

تینوں خلانورد تین اکتوبر کو اسی مقام پر زمین پر اترے، جہاں سے وہ خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

خلانورد پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر اترے اور انہوں نے اترے ہی اپنے اپنے ممالک کے جھنڈوں کو چوما۔

عالمی خلائی اسٹیشن نے تینوں خلانوردوں کو زمین پر بھیجنے کے وقت کی ویڈیو بھی براہ راست چلائی تھی، جس میں تینوں خلانوردوں کو اسپیس کرافٹ میں بھیٹتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اماراتی خلانورد ہزاع المنصوری اپنے ساتھ قرآن پاک سمیت یو اے ای کا جھنڈہ اور کھانے کی اشیا لے گئے تھے جب کہ انہوں نے وہاں سے عربی زبان میں لوگوں کو عالمی خلائی اسٹیشن کی معلومات بھی تھی۔

عرب خلانورد کی جانب سے عربی میں دی گئی معلومات کو یو اے ای میں براہ راست دکھایا گیا تھا جب کہ انہوں نے وہاں سے اپنے عوام کے لیے خصوصی تصاویر بھی بھجوائی تھیں۔

ہزاع المنصور نے عالمی خلائی اسٹیشن پر جانے سے قبل کہا تھا کہ وہ وہاں پابندی سے نماز بھی ادا کریں گے۔

عرب خلانورد کے ساتھ دیگر 2 خلانورد بھی زمین پر آگئے—فوٹو: انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن
عرب خلانورد کے ساتھ دیگر 2 خلانورد بھی زمین پر آگئے—فوٹو: انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن

گوگل میپس میں انکوگنیٹو موڈ اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب

گوگل نے اپنی مقبول ترین سروس میپس کے لیے انکوگنیٹو موڈ کو متعارف کرادیا ہے۔

گزشتہ ماہ گوگل کی جانب سے میپس کے پریویو گروپ کے لیے انکوگنیٹو موڈ کی آزمائش شروع کی گئی تھی اور اب یہ عام صارفین کے لیے پیش کردیا گیا ہے۔

یہ فیچر گوگل کی جانب سے رواں سال ڈویلپر کانفرنس کے دوران وعدہ کیے گئے ان پرائیویسی ٹولز میں سے ایک ہے جو صارفین کے ڈیٹا کو تحفظ فراہم کرے گا۔

انکوگنیٹو موڈ پر آنے کے بعد صارفین گوگل میپس پر اپنی لوکیشن ایکٹیویٹی کو محفوظ ہونے سے روک سکیں گے۔

گوگل کی جانب سے ایک بلاگ میں اس کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اب گوگل میپس پر اپنا ڈیٹا کنٹرول کرنا اتنا ہی آسان ہوگا، جیسے میپس کو استعمال کرکے گھر جانے کا تیز ترین راستہ تلاش کرنا۔

میپس میں یہ انکوگنیٹو موڈ اینڈرائیڈ صارفین کے لیے آج سے متعارف ہونا شروع ہوگیا ہے اور چند دن میں تمام صارفین اسے استعمال کرسکیں گے جبکہ آئی او ایس میں بھی اسے جلد پیش کیا جائے گا۔

گوگل میپس میں انکوگنیٹو موڈ کے استعمال پر جب صارفین کسی لوکیشن یا ڈائریکشن کو سرچ کریں گے تو یہ ڈیٹا ان کے گوگل اکاﺅنٹ میں محفوظ نہیں ہوگا۔

گوگل کو لوکیشن ٹریکنگ اسکینڈل کا بھی سامنا ہوا تھا اور یہ بات سامنے آئی تھی کہ گوگل کی جانب سے صارفین کو ٹریکنگ روکنے کی سہولت اس شکل میں دی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ انکوگنیٹو موڈ کو کروم کے بعد گزشتہ سال یوٹیوب میں بھی متعارف کرایا گیا تھا۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

گوگل میپس میں اس موڈ پر منتقل ہونے کے لیے اسمارٹ فون میں دائیں جانب موجود پروفائل فوٹو پر کلک کرکے ٹرن آن انکوگنیٹو موڈ کا انتخاب کرنا ہوگا۔

ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں یہ فیچر پہلے ہی کروم کی بدولت دستیاب ہے اور جب کروم میں انکوگنیٹو موڈ پر براؤز کرتے ہیں تو پرائیویسی سیٹنگ کا اطلاق خودکار طور پر میپس پر ہوجاتا ہے۔

انسٹاگرام میں صارفین کو آن لائن بدزبانی سے بچانے والا فیچر متعارف

فیس بک کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام نے صارفین کو آن لائن ہراساں اور بدزبانی سے بچانے کے لیے کوششوں کو توسیع دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس مقصد کے لیے نیا فیچر تمام صارفین کے لیے متعارف کرادیا ہے۔

چند ماہ پہلے انسٹاگرام نے رسٹرکٹ نامی ٹول کی آزمائش صارفین کی محدود تعداد میں شروع کی تھی اور اب یہ ہر ایک کے لیے پیش کردیا گیا ہے۔

یہ فیچر صارفین کے اکاﺅنٹ کو غیرضروری رابطے سے تحفظ اور خاموشی سے ہراساں کرنے والے افراد کو فلٹر کرنے میں مدد دیتا ہے۔

رسٹرکٹ (restrict)میں آپ اپنی پوسٹ میں مخصوص افراد کو کمنٹ کرنے سے روک سکتے ہیں بلکہ یوں کہہ لیں انہیں آگاہ کیے بغیر بلاک کرسکتے ہیں۔

یہ فیچر ایسے افراد کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے جن کو اکثر آن لائن بدزبانی یا ہراساں ہونے کا تجربہ ہوتا ہے اور یہ بنیادی طور پر بلاکنگ اور کچھ نہ کرنے کے درمیان کا سمجھا جاسکتا ہے۔

انسٹاگرام کے مطابق یہ نیا ٹول ایسے افراد کے لیے ہیں جو مسائل کا باعث بننے والے کسی فرد کو بلاک کرنے یا اس کو رپورٹ کرنے سے گھبراتے ہیں۔

اس فیچر کے تحت جب کسی کو رسٹرکٹ کیا جاتا ہے تو اس کا کمنٹ بس صرف آپ اور وہ ہی دیکھ پاتا ہے (اگر آپ اسے پبلک نہ کردیں تو)، مگر بلاک کرنے کے برعکس جب کسی کو رسٹرکٹ کیا جاتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوپاتا کہ اس کے کمنٹس کی آپ اسکریننگ کررہے ہیں۔

اسی طرح رسٹرکٹ کیا جانے والا فرد یہ بھی نہیں دیکھ سکتا کہ آپ انسٹاگرام پر کب ایکٹیو ہیں یا اس کے ڈائریکٹ میسجز کو پڑھ رہے ہیں۔

اس مقصد کے لیے اس فرد کے کسی ایک کمنٹ پر بائیں جانب سوائپ کریں، براہ راست کرنے کے لیے پروفائل پیج پر جائیں یا سیٹنگز میں پرائیویسی ٹیب کو اوپن کرکے رسٹرکٹ کو کسی مخصوص فرد کے لیے ان ایبل کردیں۔

اگر آپ کسی رسٹرکٹ اکاﺅنٹ کا کمنٹ اپروو کرنا چاہتے ہیں تو سی کمنٹ پر کلک کریں۔

اسی طرح ایسے صارفین کا ڈائریکٹ میسج براہ راست میسج ریکوئسٹ ان باکس میں چلاجائے گا اور آپ کو کوئی نوٹیفکیشن نہیں ملے گا۔

Google Analytics Alternative