کھیل

پلیئرز سری لنکا کا غصہ ایک دوسرے پر نکالنے کیلیے بے چین

لاہور: پاکستانی پلیئرز سری لنکا کا غصہ ایک دوسرے پر نکالنے کیلیے بے چین ہیں۔

قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ اتوار کو فیصل آباد میں شروع ہوگا، سری لنکا سے تینوں میچز ہارنے کے بعد قومی کرکٹرز غصہ ایک دوسرے پر نکالیں گے، اقبال اسٹیڈیم 8 سال بعد ایونٹ کی میزبانی کررہا ہے، اس دوران 6صوبائی ٹیموں میں شامل 96 کرکٹرز ایکشن میں ہوں گے، ان میں قومی ٹیموں کا حصہ بننے والے اسٹار کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

قومی ٹیم کی نوآموز سری لنکن ٹیم کے ہاتھوں ہوم گراؤنڈ پر کلین سوئپ کے بعد نومبر میں کیخلاف سیریز سے قبل اکھاڑ پچھاڑ متوقع ہے،اس کیلیے سلیکٹرز کی نظریں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مرکوز ہونگی،آئی لینڈرز کے ساتھ سیریز میں متاثر نہ کرپانے والے سینئرز فارم بحال کرنے کی کوشش کریں گے،نوجوان کرکٹرز کی خواہش ہوگی کہ وہ ٹیم میں موجود مختلف پوزیشنز پر موجود خلا پُرکرنے کیلیے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کریں۔

کرکٹرز کیلیے اس قومی ایونٹ میں ایک کشش یہ بھی ہے کہ بہتر کارکردگی کی بنیاد پر پی ایس ایل 5کی ڈرافٹ فہرست میں ان کا نام شامل ہوسکتا ہے، فائنل سے قبل روزانہ 2 میچز کھیلے جائینگے، پہلا دوپہر1.30 اور دوسرا شام 5.30 پر شروع ہوگا، تمام میچز براہ راست نشر کیے جائیں گے، سرفراز احمد سندھ، بابر اعظم سینٹرل پنجاب، شان مسعود سدرن پنجاب، عماد وسیم ناردرن،محمد رضوان خیبر پختونخوا اور حارث سہیل بلوچستان کی قیادت کررہے ہیں،اتوار کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی ٹیمیں آمنے سامنے ہونگی، سینٹرل پنجاب اور سندھ کا سامنا ہوگا۔

یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی کپ کی انعامی رقم میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا،فاتح ٹیم کو 50 لاکھ روپے دیے جائینگے،رنرزاپ کو 25 لاکھ ملیں گے، ہر مین آف دی میچ کو 25 ہزار اور فائنل کے بہترین کھلاڑی کو 35 ہزار روپے حاصل ہونگے، پلیئر آف دی ٹورنامنٹ، بہترین بیٹسمین، بولر اور وکٹ کیپر کو بھی ایک،ایک لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جائیگی۔

سندھ کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کے تحت پہلے ٹی ٹوئنٹی کپ ٹورنامنٹ میں معیاری کرکٹ دیکھنے کو ملے گی، والدین اپنے بچوں کے ہمراہ جاوید میانداد انکلوژر کی نشستیں بھرنے کیلیے آئیں۔

سدرن پنجاب کے قائد شان مسعود نے کہا کہ ایونٹ قومی کرکٹ کو نئے اسٹارز دے گا، امید ہے کہ گراؤنڈ میں مداحوں کی بھرپور سپورٹ میسر ہوگی۔

خیبرپختونخواکے کپتان محمد رضوان نے کہا کہ ہمیں میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود مداحوں کی حوصلہ افزائی درکار ہوگی،نیا ڈومیسٹک اسٹرکچر متعارف کرائے جانے کے بعد ہر اسکواڈ میں شامل 10 سے 11 کھلاڑیوں کے پاس انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ موجود ہے۔

سینٹرل پنجاب ٹیم کے نائب کپتان احمد شہزاد نے کہا کہ شائقین کرکٹ کھیل کی جان ہیں، فیصل آباد کے عوام کرکٹرز سے بے حد محبت کرتے ہیں، امید ہے کہ میچز دیکھنے کیلیے آئیں گے۔

بلوچستان کے نائب کپتان عمران فرحت نے کہا کہ ٹیموں میں نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں، شائقین کومعیاری کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

ماہور شہزاد ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کے لیے پُرعزم

کراچی: پاکستانی بیڈمنٹن پلیئر ماہور شہزاد آئندہ برس ٹوکیو اولمپکس میں ملک کی نمائندگی کا عزم رکھتی ہیں جب کہ 22 سالہ پلیئر انٹرنیشنل ایونٹس میں کھیل کر خود کو کھیل کی ٹاپ70 پلیئرز میں شامل کرانے کیلیے پُراعتماد ہیں۔

ماہور شہزاد نے کہا کہ رواں برس اپنے کیریئر کا پہلا انٹرنیشنل میڈل جیتنے پر مجھے بے انتہا مسرت ہوئی ، میں اسے اپنے لیے انتہائی اہم خیال کرتی ہوں، میں نے اس ایونٹ کیلیے تنہا سفر کیا اور تمام معاملات کو اپنے طور پر خود سنبھالا جو کہ میرے لیے چیلنجنگ تھا لیکن بلغارین ایونٹ میں وکٹری اسٹینڈ پر پہنچ کر میڈل حاصل کرنے سے تمام باتوں کا ازالہ ہوگیا، میں نے کافی عرصے سے سخت محنت جاری  رکھی ہوئی تھی اور مجھے اس لمحے کا ہی انتظار تھا، پاکستان میں کرکٹ کا بہت جنون ہے اور اس میں کوئی شبہ بھی نہیں لیکن میں سوشل میڈیا کی مشکور ہوں جس پر دیگر کھیلوں کی ایتھلیٹس بھی شناخت بنانے میں کامیاب ہورہی ہیں۔

ماہور کی برانز میڈل فتح کو پاکستانی افراد نے سوشل میڈیا پر بھی خوب سراہا ، انھوں نے اس حوالے سے کہا کہ میرے لیے یہ سب کچھ بہت حیران کن تھا جب لوگوں نے میری ستائش کی، میری کامیابی کو لوگوں نے سراہا اور میڈیا نے بھی مجھے نمایاں جگہ دی، مجھے سوشل میڈیا پر خیرمقدمی پیغامات دیکھ کر بھی بہت خوشی ہوئی، انھوں نے اپنا اگلا ہدف ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کا حق پانے کو قرار دیا۔

ان کا کہناتھا کہ میں انٹرنیشنل ایونٹس میں حصہ لے رہی ہوں، مجھے ٹوکیو گیمز 2020 میں رسائی یقینی بنانے کیلیے عالمی رینکنگ کے ٹاپ70 میں جگہ بنانا ہوگی، میں رواں برس اب تک پانچ انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کرچکی ہوں، جس میں بینن، آئیوری کوسٹ، گھانا، نائیجیریا اور بلغاریہ میں منعقدہ ایونٹس شامل ہیں، میرا پہلا ہدف ٹاپ 50 میں جگہ بنانا ہے اس کے بعد میں ٹاپ 20 اور پھر ٹاپ10 میں خود کو دیکھنا چاہوں گی، پاکستان میں ایتھلیٹس کو خاطرخواہ کوریج اور نام بنانے کیلیے زیادہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا استعمال محدود ہونا چاہیے۔

نیشنل گیمز : سندھ کی ایتھلیٹکس ٹیم کے تعین پر تنازع

کراچی: پشاور میں شیڈول33 ویں قومی گیمز میں شرکت کے لیے سندھ ایتھلیٹکس ٹیم کے تعین کے لیے نیا تنازع ہوگیا، پی اواے اور پاکستان ایتھلیٹکس کی  باہمی چپقلش  کے سبب سندھ متعدد میڈلز سے محروم ہوسکتا ہے۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی ہدایت پرسندھ اولمپک ایسوسی ایشن  نے قومی گیمز کے لیے صوبائی ایتھلیٹکس ٹیم کے انتخاب کے لیے ٹرائلز منگل کوپی ایس بی کوچنگ سینٹر پر لینے کا اعلان کردیا، سلیکشن کمیٹی چیئرمین زاہد علی رضوی ہونگے جبکہ اراکین میں محمد اسلم (کراچی ڈویژن )،سید محمد ندیم (حیدرآبادڈویژن )، شبیر احمد چانڈیو (بینظیرآباد ڈویژن)، سجاد کھوسو(لاڑکانہ ڈویژن)، محمد سلیم (میرپورخاص ڈویژن)، اسفندیارمنگی (سکھرڈویژن ) اور محمد اسلم (کراچی ڈویژن ) شامل ہیں۔

سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری احمد علی راجپوت اور محمد اصغربلوچ بطور آبزرور ٹرائلزدیکھیں گے جبکہ سندھ حکومت کا ایک نمائندہ بھی ٹرائلزدیکھے گا،ان ٹرائلز کا انعقاد پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی ہدایات پرہورہا ہے،ان ٹرائلزمیں منتخب کھلاڑی ہی پشاور میں شیڈول قومی گیمز میں شرکت کے اہل ہونگے۔

سلیکشن کمیٹی16اکتوبرکو منتخب کھلاڑیوں کے نام سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کو جمع کرائے گی جوگیمزکی آرگنائزنگ کمیٹی کوارسال کیے جائیں گے ،ٹرائلز میں شرکت کے خواہشمند ایتھلیٹس  کواپنے ہمراہ قومی شناختی کارڈ یا ’ب‘ فارم کی کاپی اور دوعدد تصاویرہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان  ایتھلیٹکس فیڈریشن کی زیر نگرانی سندھ ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کی جانب سے 25 ستمبر کو پی ایس بی کوچنگ سینٹر پر ہی ہونے والے ٹرائلز میں صوبائی ٹیم منتخب کی جاچکی ہے۔

قبل ازیں گزشتہ برس پشاور ہی میں ہونے والے تیسرے بین الصوبائی گیمز میں بھی سندھ کی2 ایتھلیٹکس ٹیمیں میدان میں پہنچ گئی تھیں جس کے بعد منتظمین نے ایتھلیٹکس مقابلوں ہی کوگیمزسے خارج کردیا تھا جبکہ باہمی تنازع کے سبب سندھ متعدد میڈلزسے بھی محروم ہوگیا تھا۔

سری لنکا سے عبرتناک شکست کے باجود پاکستان کی پہلی پوزیشن برقرار

دبئی: سری لنکا کے ہاتھوں کلین سوئپ کے باوجود پاکستان کا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر قبضہ برقرار ہے۔

گرین شرٹس کے 7935پوائنٹس ہیں،انگلینڈ 4353پوائنٹس کیساتھ دوسرے اور جنوبی افریقہ 4720پوائنٹس کیساتھ تیسرے نمبر پر ہے،اس کے بعد ٹاپ 10میں بھارت چوتھی، آسٹریلیا پانچویں،نیوزی لینڈ چھٹی، سری لنکا ساتویں، افغانستان آٹھویں، ویسٹ انڈیز نویں اور بنگلہ دیش دسویں پوزیشن پر موجود ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی رینکنگ میں آٹھویں نمبر کی سری لنکن ٹیم نے عالمی نمبر ون پاکستانی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کردیا تھا۔

اولمپک کوالیفائنگ راونڈ کے لیے قومی ہاکی ٹیم کا اعلان

لاہور: ٹوکیو اولمپکس کوالیفائنگ راؤنڈ کے لئے18 رکنی پاکستان ہاکی ٹیم کا اعلان کردیا گیا،رضوان سینئر کپتان ہوں گے جبکہ حماد بٹ نائب کپتانی کے فرائض انجام دیں گے۔

امجد علی اور وقار  گول کیپرز ہوں گے، ہاف بیکس میں معین شکیل،تصور عباس، راشد محمود، ابوبکر اور اظفر یعقوب شامل ہیں،فارورڈز میں اعجاز احمد،عمر بھٹہ،رانا سہیل،رضوان سینئر(کپتان) اور علی شان،رانا وحید،غضنفر علی اور حماد انجم بھی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

انیسویں کھلاڑی محمد عرفان ہیں، ان کی ٹیم میں شمولیت ویزہ سے مشروط ہے۔ نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں شیڈیول ٹرائلز میں 35 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ ٹرائلز کی نگرانی چیف سلیکٹر منظور جونیئر نےدوسرے سلیکٹرز کے ہمراہ کی۔

قومی ٹی 20 کپ، مصباح الحق نے نئے ٹیلنٹ کی تلاش کا بیڑا اٹھا لیا

لاہور / پشاور: چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق نے فیصل آباد میں شیڈول قومی ٹی20 کپ سے نئے ٹیلنٹ کی تلاش کا بیڑا اٹھا لیا،وہ ایسوسی ایشن ٹیموں کے کوچز کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔

سری لنکا کیخلاف ہوم سیریز میں قومی ٹیم کلین سوئپ کی خفت کا شکار ہوئی، دہری ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے والے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے بطور چیف سلیکٹر اسکواڈ کا انتخاب کیا تھا، پی سی بی نے روایتی سلیکشن کمیٹی کو ختم کرتے ہوئے 6ایسوسی ایشنز کی ٹیموں کے کوچز کوانکا معاون مقرر کیا ہے، مصباح نے کمیٹی کا اجلاس فیصل آباد میں طلب کرلیا جو آئندہ 2 سے 3 روز میں ہورہا ہے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ انٹرویو میں مصباح الحق نے کہاکہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں ناقص کارکردگی کے بعد فیصل آباد میں شیڈول قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی اہمیت بڑھ گئی ہے، آئی لینڈرز کے ساتھ میچز میں جو مسائل نظرآئے ہمیں ان کا حل تلاش کرنا ہے، جن پوزیشنز پر خلا دیکھا گیا ان کو پُر کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ تمام کھلاڑیوں خاص طور پر نئے ٹیلنٹ کیلیے بہترین موقع ہے کہ وہ خود کو قومی ٹیم کا اہل ثابت کریں،امید ہے کہ قومی ٹورنامنٹ سے اچھے کھلاڑیوں کی کھیپ سامنے آئے گی۔

کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ پاکستان نے سری لنکا کیخلاف سیریز میں اچھی کرکٹ نہیں کھیلی، حریف نے پاور پلے میں بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں دباؤ میں رکھا،انھوں نے کہا کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل کو ہوم سیریز میں کم بیک کا موقع دیا، بدقسمتی سے وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا پائے، قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں ان سمیت کھلاڑیوں کیلیے بہترین موقع ہوگا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہارکرتے ہوئے مستقبل کیلیے افادیت ثابت کریں۔

دوسری جانب سلیکشن کمیٹی کے رکن کبیر خان نے پشاور میں ’’ایکسپریس نیوز‘‘ سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کی مینجمنٹ تبدیل ہونے سے کھلاڑی خود کو نئے سسٹم میں سیٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہوم سیریز ہونے سے بھی ان پر کافی دباؤ تھا، وہ طویل عرصے بعد ہوم گراؤنڈ پر تماشائیوں کے سامنے کھیل رہے تھے، اب ہم فیصل آباد میں قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوران مصباح الحق کی سربراہی میں سرجوڑ کر بیٹھیں گے۔

ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر ساری صورتحال بتائیں گے اس کی روشنی میں فیصلے ہوں گے، انھوں نے کہا کہ سری لنکا سے سیریز کیلیے عمدہ پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا تھا، اگر کسی نے بہتر کھیل پیش نہیں کیا تو اگلی سیریز کیلیے اس کے بارے میں سوچا جائے گا،ڈومیسٹک ایونٹ ان کھلاڑیوں کیلیے آخری موقع ہے جنھوں نے اچھی کارکردگی نہیں دکھائی۔کبیر خان نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کسی کو کھیلنے سے روک نہیں سکتی البتہ ٹیم میں وہی آئے گا جو پرفارم کرسکے۔

یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان کی اگلی مصروفیات نومبر میں آسٹریلیا کیخلاف 3میچز کی سیریز ہے، نوآموز سری لنکن ٹیم کیخلاف ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے گرین شرٹس جارح مزاج کینگروز کا کس طرح سامنا کریں گے یہ سوال ابھی سے شائقین کو ستا رہا ہے۔

ہمارا دورہ پاکستان پوری دنیائے کرکٹ کیلئے پیغام ہے، سری لنکن کوچ

سری لنکن ٹیم کے کوچ رمیش رتنائیکے نے بہترین انداز میں میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب سری لنکا سمیت دنیا کی دیگر کرکٹ ٹیموں کو پاکستان کا دورہ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ پیش نہیں آنی چاہیے۔

10 سال قبل مارچ 2009 میں پاکستان کے دورے پر آئی سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا جس کے بعد پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے۔

6 سال بعد بتدریج کرکٹ کی بحالی کا عمل شروع ہوا اور پاکستان سپر لیگ کے میچز، چند غیر ملکی ٹیموں اور ورلڈ الیون کے دورے کے بعد ملک میں عالمی کرکٹ کی بحالی کا عمل شروع ہوا۔

گزشتتہ ماہ سری لنکن ٹیم ون ڈے اور ٹی 20 سیریز کے لیے پاکستان پہنچی اور پاکستان میں تمام چھ میچز کا بہترین سیکیورٹی کے ساتھ انعقاد کیا گیا۔

سری لنکن ٹیم نے ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد بہترین انداز میں واپسی کرتے ہوئے ٹی 20 سیریز میں عالمی نمبر ایک پاکستان کو کلین سوئپ کرتے ہوئے سیریز 0-3 سے اپنے نام کر لی تھی۔

سری لنکا روانگی سے قبل رمیش رتنائیکے نے پاکستان کی شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دورہ پاکستان بہت اچھا رہا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے والی واحد ٹیم نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دورہ پوری دنیا خصوصاً مستقبل میں پاکستان کا دورہ کرنے کے سلسلے میں سری لنکن ٹیم کے لیے پیغام ہے، ہمارے دورہ پاکستان سے کئی ملکوں کی یہاں دورہ کرنے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

رمیش رتنائیکے نے کہا کہ پاکستانیوں کی مہمان نوازی کا تجربہ بہت شاندار رہا، مجھے بہت عرصے بعد اس کا تجربہ ہوا، ہم یہاں آتے ہوئے شکوک و شبہات کا شکار تھے لیکن یہاں ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہوئے لہٰذا میں اس دورے کو یقینی بنانے کے لیے آپ سب کا شکر گزار ہوں۔

اس موقع پر سری لنکن کوچ نے کہا کہ اس کامیاب دورے میں شاندار سیکیورٹی انتظامات کے ساتھ ہی سری لنکن ٹیم کے پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیلنے کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں اور وہ کھلاڑیوں کو پاکستان آنے کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان میں 7 ٹیسٹ اور 16 ون ڈے میچ کھیلنے والے رمیش رتنائیکے نے کہا کہ پاکستانی عوام بالکل ویسے ہی ہیں جیسے آج سے 30 سال پہلے تھے اور پاکستانی عوام نے جس طرح ہمیں خوش آمدید کہا اس پر ہم ان کے بہت مشکور ہیں۔

یاد رہے کہ سیکیورٹی خدشات کے سبب 10 اہم اور سینئر سری لنکن کھلاڑیوں نے دورہ پاکستان سے انکار کردیا تھا۔

آئرلینڈ نے 2020 میں دورہ پاکستان کی آس دلادی

لاہور: پاکستان کے دورے پر آئے آئرلینڈ اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ حکام نے پی سی بی کے عہدیداروں سے ملاقات میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی میں تعاون کا یقین دلادیا۔

کرکٹ آئرلینڈ کے چیئرمین راس میکولم، چیف ایگزیکٹو وارن ڈیوٹرم اور انگلینڈ اینڈویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیریسن نے لاہور میں پاکستان اور سری لنکا  کے درمیان آخری ٹی ٹوئنٹی میچ دیکھا۔

ذرائع کے مطابق غیر ملکی مہمانوں کو سیکیورٹی انتظامات پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ آفیشلز نے سیکیورٹی انتطامات کو تسلی بخش قرار دیا، گرین شرٹس کا جولائی میں دورہ آئرلینڈ پہلے سے ہی شیڈول ہے۔ بورڈ حکام سے  ہونے والی اس ملاقات میں  آئرش حکام نے اگلے برس  پاکستان میں ٹیم بجھوانے کا عندیہ دیتے ہوئے اس بات پراتفاق کیا  کہ اس سلسلے میں فیوچر ٹورز پروگرام میں سے کوئی ونڈو تلاش کرنا ہوگی۔ اس معاملے پر مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

دوسری جانب انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیریسن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرکٹ کے لیے بحالی کے لیے کی جانے والی کوششیں زبردست ہیں۔ اسی طرح اعتماد بڑھتا رہا تو پاکستان میں ایک بارپھر پہلے کی طرح ٹیمیں آکر ضرور کھیلیں گی۔

Google Analytics Alternative