- الإعلانات -

محمد آصف کو سیالکوٹ ریجن کی کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کردیا گیا

اسپاٹ فکسنگ میں سزایافتہ پاکستانی فاسٹ باؤلر محمد آصف کو قائد اعظم ٹرافی گریڈ ٹو ٹورنامنٹ کے لیے سیالکوٹ ریجن کی کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کردیا گیا۔

قائد اعظم ٹرافی گریڈ ٹو کا آغاز 5 مارچ سے ہورہا ہے جو آصف کے لیے کرکٹ میں واپسی کے بعد دوسرا ٹورنامنٹ ہوگا۔

محمد آصف اور پاکستان ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں پانچ سالہ پابندی کی سزا پوری کرنے کے چار ماہ بعد رواں سال جنوری میں ڈومیسٹک ون ڈے کپ میں واپڈا کی جانب سےکرکٹ میں واپسی کی تھی جبکہ سیالکوٹ ریجن کی گریڈ ٹو ٹیم کے کپتان مقرر کئے جانے کے بعد ان کی قومی ٹیم میں واپسی کی راہ ہموار ہوتی جارہی ہے۔

آئی سی سی نے محمد عامرسمیت دونوں کھلاڑیوں کو 2010 میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں پیسوں کے عوض نوبال کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

سیالکوٹ ریجن کے صدر نعمان بٹ نے کہا کہ 33 سالہ فاسٹ باؤلر کوٹیم کا کپتان نامزد کیا گیا ہے کیونکہ ’وہ ٹیم میں سب سے سینئر کھلاڑی ہیں‘۔

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق نعمان بٹ کا کہنا تھا کہ’جب سے آئی سی سی اور پی سی بی نے انھیں کھیلنے کے لیے اہل قرار دیا ہے تو ہم نے ان کو کھیلنے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ میری ان سے گذارش تھی کہ وہ کپتان کی حیثیت سے کھیلیں اور عبدالرحمٰن اور بلاول بھٹی جیسے کھلاڑی ان کی قیادت میں کھیلنے جارہے ہیں، کسی کھلاڑی کو ہمارے فیصلے سے کوئی شکایت نہیں ہے اور وہ سب ایک خاندان کے افراد کی طرح ہیں‘۔

سیالکوٹ کرکٹ ریجن کے صدر کا کہنا تھا کہ ’وہ (محمد آصف) ٹیم میں سب سے سینئر کھلاڑی ہیں اور ساتھی کھلاڑیوں سے ایک کپتان کو درکا عزت ان کو حاصل ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کیمپ کے دوران نوجوان کھلاڑیوں کےساتھ ان کا رویہ مثالی تھا اور میں ان کے رویے سے مطمئن ہوں، میں نے تمام کھلاڑیوں سےبات کی ہے اور سب نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انھیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں‘۔

قبل ازیں سال کے آغاز میں محمد آصف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کرکٹ میں واپسی کے بعد انھیں اپنے ردھم کے حصول میں کسی قسم کی کوئی پریشانی کا سامنا نہیں ہے کیونکہ بقول ان کے کہ ’وہ پابندی کے دوران روزانہ پریکٹس کرتے تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ پچھلے 5 سال میرے اور میرے خاندان کے لیے مشکل ترین تھے لیکن اب میں خوش ہوں کہ وہ وقت گزر گیا اور میں میدان میں واپس آگیا ہوں‘۔