- الإعلانات -

ورلڈ ٹی 20 میں ایک ٹیم کیخلاف کرپشن کی تحقیقات کا انکشاف "ICC”

ممبئی: ورلڈ ٹوئنٹی 20میں شریک ایک ٹیم کے خلاف کرپشن تحقیقات کا انکشاف ہوا ہے، آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ رونی فلینگن کہتے ہیں کہ کھلاڑیوں نے سٹہ بازوں کو سہولت دینے کیلیے میچز کے ساتھ گڑ بڑ کی پلاننگ کی ہوئی تھی۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ رونی فلینگن نے انکشاف کیا ہے کہ ایک انٹرنیشنل ٹیم کرپشن کے حوالے سے تحقیقات کی زد میں ہے، انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے مخصوص تفصیلات کو ظاہرکرنا مشکل اور میں یہ نہیں بتاسکتا کہ اس وقت کون سے کیس پر کام ہورہا ہے لیکن حال ہی میں ہم اس بات پر یقین کرنے پر مجبور ہوئے کہ ایک ٹیم آنے والے میچز کے ساتھ گڑ بڑ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ ایک انٹرنیشنل ٹیم تھی مگر چونکہ اس حوالے سے تحقیقات شروع ہوچکی ہیں، اس لیے میں تفصیلات میں نہیں جاسکتا۔ہمیں یقین ہے کہ چند انفرادی کھلاڑی کرپٹ سرگرمیوں کا ارادہ رکھتے تھے، ہم نے پولیس کی طرح ہی اس کیس میں کچھ اہم فیصلے کیے، جن کے تحت ہم نے فوری طور پر کارروائی کا فیصلہ کیا، ہماری توجہ ان انفرادی پلیئرز کی جانب ہوگی جن پر ہمیں شک ہے جبکہ ہم پورے اسکواڈ کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں گے، ہم نے اس مخصوص کیس میں ایک دو کھلاڑیوں کے خلاف ایکشن لیا اور مزید کارروائی بھی کریں گے۔ یاد رہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ پر کرس کینز کیس میں شدید تنقیدہوئی جس میں وہ کچھ بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا تھا، کھلاڑیوں کے یونٹ پر اعتماد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر فلینگن نے کہا کہ ہم نے ورلڈ ٹوئنٹی 20 کیلیے ایک ہاٹ لائن قائم کی اور اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ کھلاڑی ہم پر اعتماد کریں، ہم صرف رپورٹس پر کارروائی نہیں کرتے بلکہ ان کی حمایت میںشواہد کو مقدم رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ گذشتہ 12 ماہ کے دوران ہمیں 450 انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئیں، میں اس حوالے سے یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ ان رپورٹس پر ضرور کارروائی ہوگی، ان میں سے کسی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ فلینگن نے ایک بار پھر اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس پولیس کے اختیارات نہیں مگر ہم مختلف ممالک میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے تعاون سے اپنا کام کررہے ہیں، انھوں نے مزیدکہا کہ قانونی کٹہرے میں آنے والے افراد کی تعداد سے ہماری کارکردگی کا اندازہ نہیںلگایا جاسکتا یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری کارروائیوں سے کھیل زیادہ محفوظ ہورہا ہے۔آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ رونی فلینگن کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں جوئے کو قانونی شکل دلوانا ہمارا کام نہیں،یہ درست ہے کہ جہاں پر یہ چیز قانونی ہے وہاں پرہمیں متعلقہ انڈسٹری سے مل کر کام کرنے میں آسانی ہوتی مگر بلیک مارکیٹ سے نمٹنے کیلیے بھی ہم اپنی پوری کوششیں بروئے کار لارہے ہیں، یہ ہمارا کام نہیں کہ کسی ملک کو مخصوص قانون سازی کیلیے مشورہ دیں۔