- الإعلانات -

پاکستانی ٹیم کو ہندوستان جانے کی اجازت مل گئی

کراچی: ہندوستانی حکام کی سیکیورٹی ضمانت کے بعد حکومت پاکستان نے قومی ٹیم کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016 میں شرکت کیلئے ہندوستان جانے کی اجازت دے دی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ٹیم کو ہندوستان جانے کی قاباعدہ اجازت دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی جبکہ ہندوستان میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے سیکریٹری سے بھی اس سلسلے میں ملاقات کی جس کے بعد ٹیم کو ہدنوستان بھیجنے کی منظوری دے دی گئی۔

ہندوستان نے آج پاکستانی ٹیم کی سیکیورٹی ضمانت دی جس کے ساتھ ہی قومی ٹیم کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہو گئی تھی۔

ہندوستانی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی نے ایک مراسلے کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ پاکستان کی مردوں اور خواتین کی کرکٹ ٹیموں کو ہندوستان میں قیام کے دوران مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی.

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ایک عہدیدار نے مغربی بنگال کی حکومت کی جانب سے مراسلہ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے.

مذکورہ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مراسلے کو پاکستانی ٹیم کی ہندوستان روانگی کی اجازت لینے کے لیے وزارت داخلہ کو بھجوا دیا گیا ہے.

ہندوستان میں پاکستان مخالف مظاہروں اور وزیر اعلیٰ ہماچل پردیش کے بیان کے بعد پاکستان کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔

پاکستان کو سیکیورٹی کی فراہمی سے انکار کے بعد حکومت پاکستان نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے قومی ٹیم کو روانگی سے روکتے ہوئے سیکیورٹی کی صورتحال جاننے کیلئے ایک ٹیم تشکیل دی تھی۔

سیکیورٹی وفد نے ہندوستان سے واپسی پر منفی رپورٹ پیش کرتے ہوئے پاکستان کو دھرم شالا میں شیڈول پاکستان اور ہندوستان کے درمیان میچ نہ کھیلنے کا مشورہ دیا تھا۔

حکومت پاکستان اور پی سی بی نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے دھرم شالا سے میچ منتقل کرنے اور ہندوستان سے سیکیورٹی کی تحریری طور پر ضمانت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم صورتحال اس وقت بہتری کی جانب گامزن ہوئی جب دھرم شالا کی کشیدہ صورتحال اور پاکستان کے مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 19 مارچ کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان میچ دھرم شالا سے کولکتہ کے ایڈن گارڈنز منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم میچ کا مقام تبدیل کیے جانے کے باوجود پاکستانی حکومت اور کرکٹ بورڈ نے ہندوستانی حکومت کی تحریری یقین دہانی تک ٹیم ہندوستان نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم جمعے کو ہندوستانی حکام نے پاکستانی ٹیم کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے اور وزیر اعلیٰ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کی تحریری یقین دہانی پی سی بی حکام کو ارسال کردی گئی ہے۔

کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال کے صدر اور ہندوستانی ٹیم کے سابق کپتان ساروو گنگولی نے وزیر اعلیٰ مغربی بنگال اور پولیس کمشنر راجیو کمار کی تحریری یقین دہانی کا خط آئی سی سی کو بھی جمع کرا دیا ہے۔

ہندوستان کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا بھی کہنا ہے کہ ‘ہندوستان آنے والی تمام ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، اس حوالے سے کوئی شک نہیں ہونا چاہیے’.