- الإعلانات -

رمیز راجہ نے شاہد آفریدی کو ٹاپ آرڈر میں کھلانے کی مخالفت کردی

لاہور: رمیز راجہ نے شاہد آفریدی کو ٹاپ آرڈر میں کھلانے کی مخالفت کردی، سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا ہے کہ کپتان کی فارم اچھی نہیں،کوئی خطرہ مول لینا مناسب نہیں ہوگا،شرجیل خان کمزور مہرہ ثابت ہوسکتے ہیں، محمد حفیظ کو اوپنر، تیسرے نمبر پر سرفراز احمد کو بھیجا جائے، سری لنکا کیخلاف وارم اپ میچ میں 170کا ٹوٹل ہونا چاہیے تھا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کولکتہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ٹاپ آرڈر میں بیٹنگ کیلیے آسکتے ہیں، ایک انٹرویو میں رمیز راجہ نے اس تجویز کی مخالفت کردی ہے، سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہاکہ اس وقت کپتان کی فارم اچھی نہیں، ایشیا کپ میں کوئی بڑی اننگز نہ کھیلنے کی وجہ سے وہ ردھم میں آنے کیلیے جدوجہد کررہے ہیں، اوپر آکر کوئی خطرہ مول لینا ٹیم کیلیے مناسب نہیں ہوگا۔انھوں نے کہا کہ سری لنکا کیخلاف وارم اپ میچ میں محمد حفیظ کی فارم کا بحال ہونا گرین شرٹس کیلیے خوش آئند بات ہے، البتہ شرجیل خان کمزور مہرہ ثابت ہوسکتے ہیں،اوپنر کی تکنیک ایسی ہے کہ ابتدا میں بولرز خراب گیندیں کریں،ایک آدھ کیچ بھی چھوٹ جائے تو ان سے اچھے اسکور کی توقع کرسکتے ہیں، وہ سنگلز،ڈبلز لینے کے بجائے صرف چوکوں چھکوں پر انحصار کرتے ہیں، رمیز نے کہا کہ خالد لطیف کا معاملہ بھی شرجیل خان جیسا ہے۔ان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا دبا برداشت کرنے کا تجربہ بھی نہیں، بہتر فارم میں نظر آنے والے سینئر بیٹسمین محمد حفیظ کو اوپنر بھیجنا درست فیصلہ ہوگا،انھوں نے کہا کہ احمد شہزاد کا ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں،کم بیک کے بعد ان کو اعتماد کی بحالی کا سفر تیزی سے مکمل کرکے دوسرے اوپنر کا خلا پر کرنا چاہیے، سرفراز احمد رنز بٹورنے میں مہارت رکھتے اور ضرورت پڑنے پر جارحانہ اسٹروکس بھی کھیل سکتے ہیں، ان کو تیسرے نمبر پر بھیجا جائے۔اس کے بعد عمراکمل اور شعیب ملک اننگز کے اختتام تک بیٹنگ کی کوشش کریں، سابق کپتان نے کہا کہ سری لنکا کیخلاف وارم اپ میں 170کا ٹوٹل ہونا چاہیے تھا لیکن چند اوورز میں زیادہ رنز نہ بن سکے، انھوں نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بنگلہ دیش سے مقابلے میں محمد نواز کو شامل کرنے سے بولنگ میں زیادہ ورائٹی آجائے گی، مڈل اور آخر کے اوورز میں وہ اور عماد وسیم مفید ثابت ہوسکتے ہیں،آئی لینڈرز سے میچ میں شاہد آفریدی نے اپنے 4اوورز میں 40رنز دیے،ہمارے پاس بولنگ میں زیادہ آپشنز ہونے چاہئیں۔