- الإعلانات -

ٹینس میچ فکسنگ، ٹاپ پلیئرز کو بھی شامل تفتیش کرنے کا امکان

لندن:  ٹینس میں کھلاڑیوں پر وسیع پیمانے پر سٹہ بازی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے،اب ٹاپ پلیئرز کو بھی شامل تفتیش کرنے کا امکان بڑھ گیا۔ایک اطالوی پراسیکیوٹر رابرٹو ڈی مارٹینو کی جانب سے ٹاپ پلیئرز کو بھی میچ فکسنگ کی تحقیقات میں شامل کیے جانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 2 درجن سے زیادہ کھلاڑیوں کو سٹہ بازوں سے تعلقات ہونے کی وجہ سے شامل تفتیش کیا جانا چاہیے، ڈی مارٹینو نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کے نام میچ فکسنگ میں ملوث مشکوک سٹہ بازوں کے پاس سے حاصل کردہ شواہد میں موجود ہیں، ان میں وہ 2 کھلاڑی بھی شامل ہیں جن کا شمار دنیا میں ٹینس کے 20 بہترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے، ابھی تک 2 اطالوی کھلاڑی پوٹیٹو اسٹاراس اور ڈینیئل براسیالی پر تفتیش کے بعد مقدمہ دائر کیا جا چکا ہے۔ڈی مارٹینو کا کہنا ہے کہ فہرست میں شامل دیگر کھلاڑیوں کی تفتیش بھی ہونی چاہیئے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹینس حکام کو ان کے حاصل کردہ شواہد پر مزید کارروائی کرنی چاہیے، ڈی مارٹینو نے کہا کہ یقینا اگر یہ تمام کھلاڑی اطالوی ہوتے تو کم از کم ان سے سوال ضرور کیا جاتا، ان کو اپنے اس عمل کی وضاحت دینی چاہیے۔ ڈی مارٹینو گذشتہ 2 برسوں سے میچ فکسنگ میں ملوث ٹینس کے اطالوی کھلاڑی اور سٹے بازوں پر تفتیش کر رہے ہیں۔ اس دوران انھیں کھلاڑیوں اور سٹے بازوں کے درمیان انٹرنیٹ پر بات چیت اور ٹیلیفون کالزکے شواہد ملے ہیں، ڈی مارٹینو کا مزید کہنا ہے کہ سٹہ بازوں نے2 درجن سے زیادہ غیر اطالوی کھلاڑیوں کے نام بھی لیے، ہمیں یقین ہے کہ ان تمام سے ٹینس انٹیگریٹی یونٹ (ٹی آئی یو) تفتیش کریگی، انھوں نے شواہد میں موجود کھلاڑیوں کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کوئی دوسرے درجے کے کھلاڑی نہیں بلکہ ان میں کئی کھیل میں کافی اہمیت رکھتے ہیں، اطالوی پلیئرز پوٹیٹواسٹراس اور براسیالی پر 2007 اور 2011 کے درمیان 50 ہزار یورو تک کی رقم کے عوض میچ فکسنگ کا الزام لگایا گیا ہے۔توقع ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کو مئی میں عدالت میں پیش کر دیا جائے گا،انھوں نے کسی بھی قسم کے اسپورٹس فراڈ میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے، ڈی مارٹینو نے دعوی کیا کہ میرے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اسٹراس نے بارسلونا میں 2009 اور 2011 میں 2 الگ الگ میچزمیں فکسنگ کی تھی، ان کو یہ بھی شک ہے کہ دیگر 30 میچوں میں بھی مختلف کھلاڑی بدعنوانی میں ملوث ہیں، ان میں ومبلڈن اور فرنچ اوپن جیسے ایونٹس کے میچز بھی شامل ہیں۔ان تمام کھلاڑیوں کے نام ڈی مارٹینو کی تفتیشی فائل میں موجود ہیں، تفتیش میں شامل قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ 2کھلاڑیوں کا نام انٹرینٹ پر دو سٹہ بازوں اور سودے بازوں کے درمیان بات چیت کے ریکارڈ سے نکالا گیا، ممکن ہے کہ یہ دونوں سٹہ بازوں کے کنٹرول میں ہوں، یہ بات چیت پراسیکیوٹر کی جانب سے تین ماہ قبل ٹی آئی یو کو بھیجی جانے والی سیکڑوں فائلوں میں بھی شامل ہے۔ڈی مارٹینو نے کہا ٹی آئی یو کے تفتیش کار میرے پاس آئے اور واضح طور پر کہا کہ ان کو صرف اطالوی کھلاڑیوں کی تفتیش میں دلچسپی ہے، ابھی تک دو اطالوی کھلاڑی پوٹیٹو اسٹراس اور ڈینیئل براسیالی پر تفتیش کے بعد مقدمہ دائر کیا جا چکا ہے،انھوں نے کہا کہ چند اطالوی کھلاڑیوں کی تفتیش سے زیادہ ٹینس کی بین الاقوامی ساکھ کوسنبھالنے کی ضرورت ہے۔اس جرم میں شامل غیر اطالوی کھلاڑیوں کی شناخت اور پکڑ بھی ممکن ہے۔ڈی مارٹینو نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹینس میچزکے مشکوک ہونے کی سیکڑوں بار نشاندہی کے باجود ٹی آئی یو نے ان کو نظر انداز کیا،انھوں نے مزید کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس گھناونے کام کو روکنے کیلیے ٹی آئی یو نے اب تک کوئی ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کیے۔ٹینس کے کھیل میں کھلاڑیوں کے وسیع پیمانے پر سٹہ بازی میں ملوث ہونے کا لزام لگایا جاتا ہے۔جنوری میں بی بی سی نے خبر دی تھی کہ ٹی آئی یو 16 کھلاڑیوں کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی بار بار اشارے ملنے کے باوجود اس ضمن میں کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔اس خبر کے بعد حکام نے بدعنوانی کیخلاف انکوائری کا آغاز کیا تھا۔ٹی آئی یو نے ایک بیان میں کہاکہ وہ ٹینس میں میچ فکسنگ سے متعلق ہر قسم کی بدعنوانی کو ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ان تمام شواہد پر کارروائی کریگا۔محکمے نے کہا وہ براسیالی اور اسٹراس کیخلاف الزامات کی تفتیش کر رہا ہے۔