- الإعلانات -

کوچ یا کپتان تبدیل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا,عمران خان

اسلام آباد: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک پاکستان کرکٹ کا بنیادی ڈھانچہ ٹھیک نہیں کریں گے، اس وقت تک کرکٹ میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔

اسلام آباد کے ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ پر تحریک انصاف کے زیر اہتمام کرکٹ کیمپ میں سابق کپتان نے فاسٹ باؤلرز کو مفید مشوروں سے نوازا۔

کیمپ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کہا کہ کیمپ میں چار پانچ باؤلرز ایسے نظر آئے جو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اگر کوچنگ کی جائے تو ان میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی بھی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیمپ میں چار باؤلرز ایسے تھے جو 140 کلو میٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار پر باؤلنگ کر رہے تھے، یہ سڑکوں پر کرکٹ کھیلنے والے لڑکے ہیں جنہوں نے کسی قسم کی کلب یا فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔

پاکستان کو 1992 کا ورلڈ کپ جتوانے والے سابق عظیم آل راؤنڈر نے کہا کہ ہمارے ٹیلنٹ کو بروئے کار لانے کیلئے گراؤنڈز کی ضرورت ہے، ہمارے ملک میں 20 کروڑ کی آبادی ہے اور اس کے مقابلے میں 30 سے 40 لاکھ آبادی کے حامل نیوزی لینڈ میں ہم سے زیادہ گراؤنڈ ہیں، لہٰذا اگر گراؤنڈ ہی نہیں ہوںگے تو ٹیلنٹ کا کیا فائدہ؟۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں اپنی کرکٹ کا ڈھانچہ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ کوچ، منیجر، سلیکٹرز یا کپتان کے جانے سے کوئی فرق پڑے گا، ہمیشہ شکست کے بعد کوچ اور کپتان تبدیل کیے جاتے رہے ہیں لیکن بنیادی مسئلہ پاکستان کرکٹ کو ڈھانچہ ٹھیک کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے اپنی کرکٹ ٹھیک کر لی ہے اور اگر ہم نے اپنی کرکٹ ٹھیک نہ کی تو ہمارے اور ہندوستان کی کرکٹ کے درمیان فاصلے بڑھتے رہیں گے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس دھچکے سے سیکھنے اور اپنی کرکٹ کے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔