- الإعلانات -

پاک انگلینڈ سیریز؛ کرکٹ کا گھر لارڈز کورونا کے سبب سونا

لاہور: پاک انگلینڈ سیریز میں کرکٹ کاگھر لارڈزکورونا کے سبب سونا رہے گا جب کہ شیڈول کے مطابق وہاں 30 جولائی سے پہلا ٹیسٹ ہونا ہے مگر حالیہ صورتحال میں ایسا ممکن نہیں لگتا۔

کورونا وائرس سے پیدا شدہ مشکل صورتحال میں بھی انگلش بورڈ انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے بے تاب ہے، اس نے8 جولائی سے سرگرمیاں بحال کرنے کیلیے سنجیدگی سے پلاننگ شروع کر دی، ویسٹ انڈیز کیخلاف 4 سے 29 جون تک شیڈول ٹیسٹ سیریز 8 جولائی سے شروع کرکے اگست کے پہلے ہفتے تک مکمل کرنے کیلیے بات چیت جاری ہے، پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز 30 جولائی سے 24 اگست تک مکمل ہونا تھی،اب اس کا بھی نظرثانی شدہ شیڈول جاری کرتے ہوئے پہلا ٹیسٹ میچ 5 اگست سے شروع کرایا جائیگا۔

انگلش کرکٹ بورڈ دونوں ٹیموں کیخلاف 6 ٹیسٹ میچز صرف 2 وینیوز پر کرانے کے پلان  پر کام کر رہا ہے، ویسٹ انڈیز کیخلاف 2 ٹیسٹ روز باؤل ہیمپشائر جبکہ ایک ایمریٹس اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلا جائے گا، پاکستان سے ابتدائی دونوں میچز ایمریٹس اولڈ ٹریفورڈ، تیسرا اور آخری ایجز باؤل ہیمپشائر میں ہوگا، ٹیسٹ میچز کے دوران 3 دن کا وقفہ رکھا جائے گا، دونوں بائیو سیکیور وینیوز کے ساتھ ہوٹل ملحق ہونے کی وجہ سے انتظامی امور اور حفاظتی انتظامات میں آسانی ہوگی۔

ای سی بی کے ہیڈ آف ایونٹس اسٹیو ایلوردی کھلاڑیوں کے قیام و طعام اور سفر کے معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں، وہ پْراعتماد ہیں کہ تماشائیوں کے بغیر میچزکا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ میچ کے دوران کسی بھی موقع پر کرکٹرز، آفیشلز اور براڈ کاسٹرز سمیت اسٹیڈیم میں موجود افراد کی تعداد 250 سے زیادہ نہیں ہوگی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق گذشتہ دنوں انگلش اور ویسٹ انڈین بورڈ حکام کی بات چیت میں ممکنہ پلان اور اقدامات پر غور کیا گیا، مشاورت کے اس عمل میں انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان جوئے روٹ اور ویسٹ انڈین ہم منصب جیسن ہولڈر بھی شامل تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے چند کرکٹرز کی جانب سے احتیاطی تدابیر کے ساتھ خالی اسٹیڈیمز میں میچز کھیلنے پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے، گرین سگنل دونوں بورڈز کیلیے باعث اطمینان ہے لیکن اس کے ساتھ یہ فیصلہ بھی کیا گیاکہ اگر کوئی شرکت سے انکار کرے تو اس کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

دوسری جانب یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ ویسٹ انڈین ٹیم انگلینڈ پہنچ کر پہلے 14روز کا قرنطینہ کرے اور پھر پریکٹس کے بعد میچز کھیلے،فی الحال قرنطینہ کی شرط موجود نہیں لیکن حکومت اس کا نفاذ کرنے پر غور کر رہی ہے، کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال میں ممکنہ مالی مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ای سی بی اگر بند دروازوں کے پیچھے بھی میچز کرانے میں کامیاب ہو گیا تو نشریاتی حقوق سے ہونیوالی آمدنی کسی حد تک نقصان کی تلافی کر سکتی ہے۔

یہی مقصد سامنے رکھتے ہوئے مختلف امکانات پر غور ہونے لگا،آسٹریلیا کیخلاف3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز ستمبر میں کرانے سے بھی آمدنی ہوگی،البتہ بھارت سے ویمنز ٹیسٹ سیریز اور کاؤنٹی کرکٹ کے مقابلے کرانے کے امکانات بہت کم ہیں۔