- الإعلانات -

وسیم اکرم نے 1992 کے بعد ورلڈ کپ نہ جیتنے کو یقینی بنایا، عامر سہیل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز اوپنر عامر سہیل نے سابق کپتان اور عظیم فاسٹ باؤلر وسیم اکرم پر 1992 کے بعد ورلڈ کپ نہ جیتنے کے الزامات عائد کردیے۔

عامر سہیل کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم کو 2003 کے ورلڈ کپ سے قبل تک قومی ٹیم کاکپتان بنایا گیا اور میرے خیال میں 1992 کے بعد کسی ورلڈ کپ میں فتح کے حصول میں ناکامی کی یہی وجہ ہے۔

سابق اوپنر نے کہا کہ ‘یہ بہت آسان ہے، 1992 کے ورلڈ کپ کو ایک طرف رکھ دیجیے اور ورلڈ کپ 1996 کی بات کرتے ہیں’۔تحریر جاری ہے‎

انہوں نے کہا کہ ‘1995 میں رمیز راجا کپتان تھے، اس سے قبل سلیم ملک کپتان تھا اور وہ بہت کامیاب تھے اور اگر وہ مزید ایک سال بھی قیادت کرتے تو وسیم اکرم ٹیم کی قیادت نہیں کررہے ہوتے’۔

عامر سہیل نے کہا کہ وسیم اکرم کا سب سے بڑا کارنامہ اس بات کو یقینی بناناتھا کہ پاکستان 1992 کے بعد کوئی ورلڈ کپ نہ جیتے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘دیکھیئے، پاکستان کرکٹ کے لیے وسیم کی سب سے بڑی خدمت 1992 کے بعد ورلڈ کپ نہ جیتنے کو یقینی بنانا ہے، عمران خان کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے اور انہیں صدارتی ایوارڈ دے رہے ہیں’۔

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے 53 سالہ سابق اوپنر نے کہا کہ ‘اگر وسیم اکرم پاکستان کے ساتھ مخلص ہوتے تو ہم 1996، 1999 اور 2003 کا ورلڈ کپ آسانی سے جیت لیتے’۔

عامر سہیل 1992 میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے اور انہوں نے مطالبہ بھی کیا کہ وسیم اکرم کے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ پورا ڈراما کسی وجہ سے تخلیق ہوا تھا، اس کی تحقیقات ہوجانی چاہیے اور اس سب کے پیچھے جو مجرم ہے اس کو سامنے لانا چاہیے’۔

خیال رہے کہ عامر سہیل نے 1996 میں اپنا آخری ورلڈ کپ کھیلا تھا۔