- الإعلانات -

میرے پاس منفی لوگوں کے لیے وقت نہیں، وسیم اکرم کا ناقدین کو جواب

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے میچ فکسنگ کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے پاس منفی لوگوں کے لیے وقت نہیں، اگر میں کتاب لکھوں اور پاکستان کرکٹ کے مسائل بیان کروں تو کئی لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہوگا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں قومی ٹیم کے سابق مایہ ناز اوپنرعامر سہیل نے الزام عائد کیا تھا کہ وسیم اکرم نے 1992 کے بعد 2003 تک ورلڈ کپ میں شکست کو یقینی بنایا اور ان کی کپتانی ہی شکست کی وجہ بنی۔ مطابق وسیم اکرم نے ردعمل میں کہا کہ کہا جاتا ہے کہ بعض لوگوں کی جانب سے توجہ حاصل کرنے کے لیے میرے نام کو استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں 17 برس قبل کرکٹ سے ریٹائر ہوچکا ہوں لیکن لوگ اب تک اپنے مزید ذاتی مفاد کے لیے میرا نام لیتے ہیں لیکن میں اس کو نظر انداز کرتا ہوں، میرے پاس اب منفی لوگوں کے لیے وقت نہیں ہے اور کبھی نہیں ہوگا’۔

وسیم اکرم نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ میدان میں 10 سال گزارے تھے اور جب 22 سال قبل عمران خان سیاست میں آئے تھے تو لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا، ‘ثابت قدمی کے 22 سال بعد اب وہ وزیراعظم پاکستان ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگوں کی منفی سوچ کو چیلنج سمجھیں اس کو تحریک کے طور پر استعمال کریں اور ان کی وجہ سے خود کو نیچا نہ کریں، جب آپ اس طرح کی باتیں سنیں تو آپ کے اندر جوش ہونا چاہیے’۔

سابق کپتان نے کہا کہ ‘یاد رکھیں، ہم سب نے غلطیاں کی ہیں، میں نے بہت زیادہ غلطیاں کی ہیں، اگر مجھے دوبارہ اس وقت جانے کا موقع ملے تو میں دوبارہ وہ غلطی نہیں دہراؤں گا اور دوستوں کا انتخاب خیال سے کروں گا’۔

دوستوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیوں نے کہا کہ ‘آپ بچپن کے دوستوں کو منتخب نہیں کرسکتے لیکن بعد میں بننے والے دوستوں سے آپ کو خبردار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ایسے ہونے چاہیئں جو آپ کو متحرک رکھیں’۔

وسیم اکرم نے کہا کہ ‘زندگی میں اعتماد اور وفاداری دو غیر تحریری عہد ہیں، چند لوگ اس کے بارے میں نہیں جانتے اور معمولی سی شہرت پر وہ جھوٹ بولتے ہیں اور دوسروں کی زندگی تباہ کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں نے مجھے کتاب لکھنے کو کہا لیکن میں اس حق میں نہیں ہوں، اگر میں نے ایسا کیا تو اس سے کئی لوگ بدحال ہوں گے۔

سابق عظیم باؤلر کا کہنا تھا کہ ‘اگر میں نے کتاب لکھی اور میدان سے باہر پاکستان کرکٹ کے مسائل کو بیان کیا، جن کو میں جانتا ہوں، تو میں کئی لوگوں کو پریشان اور مجھ سمیت چند لوگوں کو تباہ کردوں گا’۔

یاد رہے کہ عامر سہیل نے وسیم اکرم پر الزامات عائد کیے تھے کہ وسیم اکرم کو 2003 کے ورلڈ کپ سے قبل تک قومی ٹیم کاکپتان بنایا گیا اور میرے خیال میں 1992 کے بعد کسی ورلڈ کپ میں فتح کے حصول میں ناکامی کی یہی وجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم کا سب سے بڑا کارنامہ اس بات کو یقینی بناناتھا کہ پاکستان 1992 کے بعد کوئی ورلڈ کپ نہ جیتے۔

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے 53 سالہ سابق اوپنر نے کہا تھا کہ ‘اگر وسیم اکرم پاکستان کے ساتھ مخلص ہوتے تو ہم 1996، 1999 اور 2003 کا ورلڈ کپ آسانی سے جیت لیتے’۔

اس سے قبل 30 اپریل کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین خالد محمود نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے فاسٹ باؤلر عطاالرحمٰن کو براہ راست میچ فکسنگ کی پیشکش کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ وسیم اکرم نے سابق فاسٹ باؤلر عطاالرحمٰن کو براہ راست میچ فکسنگ کی پیشکش کرتے ہوئے کمزور کارکردگی دکھانے کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے بدلے انہیں 90 کی دہائی میں 2 سے تین لاکھ روپے کی پیش کش کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں عطاالرحمٰن نے خراب باؤلنگ کی تھی اور انہیں وسیم اکرم نے رقم دی تھی جس کا انہوں نے جسٹس قیوم کمیشن میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں اقرار کیا۔

اسی طرح پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد نے فکسنگ میں ملوث کرکٹرز اور بکیز کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 1999 میں فکسنگ کا اندازہ ہوگیا تھا جس پر کوچنگ چھوڑ دی۔

ان کاکہنا تھا کہ جسٹس قیوم کمیشن کو فکسنگ سے متعلق سب کچھ بتایا لیکن کھلاڑی بچ نکلے، جسٹس قیوم کمیشن نے جن کرکٹرز کو پی سی بی سے دور رکھنے کا کہا آج بھی وہ کرکٹ بورڈ سے جڑے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ پی سی بی نے قومی ٹیم کے بلے باز فکسنگ کی پیش کش سے فوری مطلع نہ کرنے پر عمر اکمل پر گزشتہ ماہ 3 سال کی پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد ماضی میں میچ فکسنگ کے الزامات کا پنڈورا بکس دوبارہ کھل گیا ہے۔

سابق فاسٹ باؤلر عاقب جاوید نے میچ فکسنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں ہمیشہ میچ فکسنگ کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ہی سزا دی گئی اور یہی وجہ ہے کہ انہیں کیریئر کے عروج پر ٹیم سے باہر کردیا گیا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ میرا کیریئر جلد ختم ہو گیا کیونکہ میں نے فکسنگ کے خلاف آواز اٹھائی تھی، مجھے دھمکیاں دی گئیں کہ میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے، اگر آپ فکسنگ کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو، آپ اپنے کیریئر میں ایک حد تک ہی جا سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں آج تک پاکستان کا ہیڈ کوچ نہیں بن سکا۔

عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ مافیا اور میچ فکسنگ کے ماسٹر مائنڈ کو سزا دیے بغیر کرکٹرز کو سزا دینے کے زیادہ فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔