- الإعلانات -

جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ، کیا؟ کیوں؟ کیسے؟

پاکستان سے محبت کرنے والے ہر شخص کے لیے ‘حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ’ پڑھنا کسی صدمے سے کم نہیں۔ بالکل اسی طرح کرکٹ کو چاہنے والے کسی بھی فین کے لیے ‘جسٹس قیوم کمیشن’ رپورٹ کا مطالعہ کرنا بڑے دِل گردے کا کام ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے کرکٹ کے میدان تو ویران پڑے ہیں، لیکن اس فراغت میں گڑھے مُردے اکھاڑنے کا سلسلہ ضرور شروع ہوگیا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں سلیم ملک کا معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ کا ذکر بار بار سامنے آیا۔

150 صفحات کی یہ دستاویز پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کے لیے اٹھایا گیا پہلا قدم تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کمیشن نے فیصلہ کرتے ہوئے کھلاڑیوں پر کافی ہلکا ہاتھ رکھا۔ لیکن اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ درست سمت میں اٹھایا گیا ایک اہم قدم تھا اور اگر اس رپورٹ کی سفارشات پر پوری طرح عمل کیا جاتا اور اس کی روشنی میں مستقبل کے لیے قانون سازی کرلی جاتی تو شاید 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل جیسا واقعہ پیش ہی نہ آتا۔

پسِ منظر
90ء کی دہائی کرکٹ کے عروج کا زمانہ تھی۔ جہاں یہ کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں کے چھا جانے کا دور تھا وہیں رنگین ٹیلی وژن عام ہوچکے تھے اور تقریباً سارے ہی کرکٹ میچ براہِ راست نشر ہونا شروع ہوگئے تھے۔ پھر 1992ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان کی کامیابی نے تو گویا مہر ہی ثبت کردی کہ اب پاکستان کا سب سے مقبول کھیل کرکٹ ہوگا۔

پاکستان اور بیرونِ ملک بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ کرکٹ میں پیسے کی ریل پیل بھی بہت زیادہ ہوگئی اور یہیں سے فکسنگ نے بھی پنجے گاڑنے شروع کردیے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ معاملہ سنگین ہوتا گیا یہاں تک کہ پاکستان کے چند بہترین کھلاڑیوں پر فکسنگ کے الزامات لگے اور کچھ پر تاحیات پابندیاں بھی لگ گئیں۔

چند کھلاڑیوں نے زندگی بھر کی بدنامی سمیٹی اور کچھ ہمیشہ کے لیے مشکوک قرار پائے۔ صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی، بھارت، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا میں بھی تحقیقات ہوئیں اور کئی بڑے نام زد میں آئے۔

ویسے تو پاکستان کرکٹ میں فکسنگ کوئی انہونی بات نہیں تھی، بلکہ خود کمیشن کی رپورٹ میں ذکر موجود ہے کہ ‏1979-80ء‎ میں آصف اقبال پاکستان کے کپتان تھے، جن پر ایک میچ کے دوران ٹاس پر شرط لگانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ بھارتی کپتان گنڈاپا وشوَناتھ نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا کہ جب وہ پاکستانی کپتان کے ساتھ ٹاس کے لیے میدان میں اترے تو ٹاس مکمل ہونے سے پہلے ہی انہوں نے مجھے کہا ’مبارک ہو‘۔

پاکستان میں فکسنگ کی خبریں تب اپنے عروج پر پہنچیں، جب سلیم ملک کو کپتان بنایا گیا۔ ان کی زیرِ قیادت تمام ہی دورے متنازع اور مشکوک تھے۔ 1994ء کے دورۂ نیوزی لینڈ سے لے کر ایک سال بعد دورۂ زمبابوے تک۔

ابتدائی دھماکے
تب دو whistleblowers منظرِ عام پر آئے، ایک باسط علی اور دوسرے راشد لطیف، جنہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر پسِ پردہ چلنے والے دھندوں کو بے نقاب کیا۔ ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو ماجد خان نے عدالتی انکوائری کی تجویز دی۔ جس پر 1998ء میں ایک کمیشن ترتیب دیا گیا جس میں جسٹس ملک محمد قیوم کو یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی جانب سے میچ فکسنگ کی تحقیقات کریں، ملوث کھلاڑیوں کی شناخت کرتے ہوئے ان کو سزائیں دیں اور مستقبل کے لیے تجاویز پیش کریں۔

تب میچ فکسنگ کے حوالے سے نہ کوئی قانون موجود تھا، نہ ہی ایسے قواعد و ضوابط تھے کہ جن کو بنیاد بنا کر کمیشن اپنے کام کا آغاز کرتا۔ لیکن کمیشن کی رائے پھر بھی تھی کہ میچ فکسنگ کی سزا تاحیات پابندی ہی ہونی چاہیے لیکن اس کے لیے ٹھوس ثبوت ہونے چاہئیں۔ کچے پکّے ثبوتوں کی بنیاد پر کسی کھلاڑی کے کیریئر کو تباہ نہیں کیا جاسکتا۔

تحقیقات کا آغاز
کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کیا تو 2 نام سب سے زیادہ گردش میں آئے، ایک سلیم ملک اور دوسرے وسیم اکرم جبکہ چند ایسے میچ بھی سامنے آئے کہ جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ میچ فکس تھے۔

پہلا 16 مارچ 1994ء کو نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ میں ہونے والا ایک ون ڈے اور دوسرا 7 ستمبر 1994ء کو سری لنکا میں ہونے والی سنگر ورلڈ سیریز کا دوسرا میچ، جو پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی میچ پر شکوک ظاہر کیے گئے جیسا کہ ورلڈ کپ 1996ء میں بھارت کے خلاف کھیلا گیا کوارٹر فائنل اور 12 اپریل 1999ء کو کوکا کولا کپ میں انگلینڈ کے خلاف شارجہ میں کھیلا جانے والا ایک مقابلہ۔ لیکن جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھتی گئیں کئی دوسرے میچوں پر بھی انگلیاں اٹھنے لگیں۔

کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کیا تو وسیم اکرام اور سلیم ملک کے نام سب سے زیادہ گردش میں آئے—فوٹو: ٹوئٹر
اور پنڈورا باکس کھل گیا!
اب پنڈورا باکس کھل چکا تھا۔ ایسے ایسے الزامات سامنے آنے لگے کہ الامان الحفیظ! سب سے پہلے کمیشن کے روبرو پیش ہوئے سرفراز نواز جن کے مطابق ورلڈ کپ 1987ء کا پاک-آسٹریلیا سیمی فائنل بھی فکس تھا اور 1994ء میں سری لنکا کے خلاف کھیلا گیا ایک میچ بھی کہ جس میں 79 رنز تک پاکستان کا صرف ایک کھلاڑی آؤٹ تھا اور کچھ ہی دیر میں پوری ٹیم 149 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

سرفراز نواز کے بقول اس میچ کے لیے سلیم ملک کو سٹے بازوں نے 40 لاکھ روپے دیے تھے۔ ان کے الفاظ میں سلیم ملک اور وسیم اکرم دونوں کے بھائی سٹے باز تھے اور اعجاز احمد اور سلیم ملک مقامی میچوں پر بھی جوا کھیلتے تھے۔ یعنی سرفراز نواز کے بیانات آج سے 20 سال پہلے بھی ایسے ہی ہوتے تھے کہ الزامات بڑے بڑے لیکن ثبوت ندارد!

یہی حال چند صحافیوں کا بھی تھا کہ جو کمیشن کے روبرو پیش ہوئے بلکہ ایک معروف صحافی نے یہ تک کہا کہ ٹیم میں صرف راشد لطیف، اظہر محمود، شعیب اختر اور عامر سہیل ہی ‘مسٹر کلین’ ہیں، باقی سب کا دامن داغدار ہے۔

سلیکشن کمیٹی کے سابق چیئرمین جاوید برکی کا کہنا تھا کہ انہیں یقین تھا کہ ٹیم میں گڑبڑ چل رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جاتے ہوئے تجویز کیا تھا کہ سلیم ملک کو اب کھیلنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے اور وسیم اکرم کو بھی متنبہ کرنا چاہیے۔

سابق کوچ ہارون رشید کے خیال میں کچھ میچ واقعی فکس تھے، جیسا کہ ایشیا کپ 1997ء میں ہونے والا پاک-سری لنکا میچ، جو پاکستان 15 رنز سے ہارا تھا۔ اسی سال بھارت کے خلاف ایک ون ڈے میں ثقلین مشتاق نے آخری اوور میں 17 رنز دیے تھے۔ ان کے خیال میں ثقلین کے پائے کے کسی کھلاڑی سے ایسی کارکردگی کی توقع نہیں تھی اور ان کے خیال میں یہ میچ بھی فکس تھا۔

ثقلین نے بعد میں ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ انہیں نئے گیند سے باؤلنگ کروانا پڑی، جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ بہرحال، ہارون رشید یہ تک کہتے ہیں کہ اسی سال یعنی 1997ء میں پاک-جنوبی افریقہ فیصل آباد ٹیسٹ بھی فکس تھا کہ جس میں پاکستان کو جیتنے کے لیے صرف 146رنز کا ہدف ملا تھا، لیکن پوری ٹیم صرف 92 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ ان کے خیال میں بھی فکسنگ کے ذمہ دار سلیم ملک، وسیم اکرم اور اعجاز احمد تھے۔ لیکن یہ تمام باتیں محض شبہات اور اندازے تھے، کمیشن ٹھوس ثبوت کا اب بھی منتظر تھا۔

کوچ ہارون رشید نے ثقلین مشتاق پر فکسنگ کا الزام لگایا جسے انہوں نے مسترد کردیا
ایک اور سابق کوچ انتخاب عالم نے بتایا کہ 1994ء میں شارجہ فائنل سے پہلے انہیں فون کالز موصول ہوئیں کہ میچ فکس ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سب کھلاڑیوں کو اکٹھا کیا اور ان سے قرآن مجید پر حلف لیا۔ انتخاب عالم کا بھی کہنا تھا کہ کرائسٹ چرچ میں ہونے والا پانچواں ون ڈے فکس تھا۔ انہوں نے ان افواہوں کی بھی تصدیق کی کہ جنوبی افریقہ میں منڈیلا کپ کے 2 فائنل میچ بھی پاکستان جان بوجھ کر ہارا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں ایک نامعلوم کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ 8 کھلاڑی سلیم ملک، وسیم اکرم، انضمام الحق، باسط علی، اعجاز احمد، مشتاق احمد، معین خان اور وقار یونس سٹے بازوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ میچ فکس کرنے کے لیے کم از کم 5، 6 کھلاڑیوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔ جب یہ پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں کون کون سے کھلاڑی ان حرکتوں میں ملوث نہیں؟ تو انہوں نے رمیز راجہ، عاقب جاوید اور عامر سہیل کے نام لیے۔

سابق کپتان عمران خان بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ تو ہو رہی ہے لیکن عطاء الرحمٰن کے سوا انہیں کسی کھلاڑی کے حوالے سے کوئی معلومات حاصل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فکسنگ کے لیے کپتان کا ملوث ہونا ضروری ہے کیونکہ کپتان کے علم میں لائے بغیر میچ کے نتائج تبدیل نہیں کروائے جاسکتے۔ عمران خان نے انتخاب عالم کو ایک نفیس آدمی قرار دیا اور کہا کہ ان کی بات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑی پر تاحیات پابندی کی سزا تجویز کی۔

سٹے باز سلیم پرویز بھی انکوائری کمیشن کے روبرو آئے، جنہوں نے اقرار کیا کہ انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف شارجہ فائنل ہارنے کے لیے ایک لاکھ ڈالرز سلیم ملک اور مشتاق احمد کو دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں کھلاڑیوں نے براہِ راست ان سے رابطہ کیا تھا اور اس سے زیادہ رقم طلب کی تھی، لیکن پھر معاملہ ایک لاکھ ڈالر میں طے ہوگیا۔ پاکستان یہ میچ ہار گیا تھا۔

مشتاق احمد سے جب بات کی گئی تو انہوں نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس میچ میں تو ان کی کارکردگی بہت اچھی تھی۔ جب سوال کیا گیا کہ وہ کس میچ کی بات کر رہے ہیں تو مشتاق احمد جھینپ گئے اور کوئی جواب نہ دے پائے۔ سلیم پرویز کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان جنوبی افریقہ میں ہونے والی منڈیلا ٹرافی کے فائنل اور ورلڈ کپ 96ء کا پاک-بھارت کوارٹر فائنل بھی جان بوجھ کر ہارا تھا۔

چیئرمین پی سی بی خالد محمود کا کہنا تھا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ میچ فکسنگ ہو رہی ہے یا نہیں، البتہ انہیں یہ ضرور یقین ہے کہ 1992ء میں پاک-انگلینڈ ناٹنگھم ون ڈے فکس نہیں تھا۔ آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کے الزامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑی حریف کو میدان میں اور میدان سے باہر خوف زدہ کرنے کے لیے ایسے حربے استعمال کرتے رہتے ہیں۔

سابق کپتان اور چیف ایگزیکٹو پاکستان کرکٹ بورڈ ماجد خان نے بتایا کہ آزادی کپ 1997ء میں ناقص کارکردگی کے بعد جب انہوں نے ہارون رشید سے پوچھ گچھ کی تو ان کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم جیتنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ ان کے مطابق وسیم اکرم بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کر رہے تھے جس سے مسئلہ پیدا ہو رہا تھا۔ یہی کچھ انہوں نے شارجہ میں بھی دہرایا کہ جہاں وہ اظہر محمود اور معین خان سے بھی پہلے میدان میں آئے۔ ماجد خان کے مطابق ملوث افراد کو ایسی سزا دینی چاہیے جو دوسرے کھلاڑیوں کے لیے عبرت کا باعث ہو۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو کھلاڑیوں کے اثاثوں کی بھی تحقیقات کرنی چاہیے۔

1997ء کی ایک یادگار تصویر، کوچ ہارون رشید بھی تصویر میں موجود ہیں—فوٹو: ٹوئٹر
کھلاڑیوں کے بیانات
بیانات کا دائرہ جب کھلاڑیوں تک پھیلا تو بڑے متضاد بیانات، دعوے اور تردیدیں دیکھنے میں آئیں جیسا کہ سلیم ملک کا کہنا تھا کہ شین وارن نے مجھ پر اس لیے الزام لگایا کیونکہ میں ہی وہ واحد بیٹسمین تھا جسے وہ آؤٹ نہیں کر پاتا تھا۔ اعجاز احمد تو ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے اور کہا کہ انہوں نے تو میچ فکسنگ اور سٹے بازی کے بارے میں کبھی کچھ سنا بھی نہیں۔

البتہ عاقب جاوید ان کھلاڑیوں میں سے تھے جنہوں نے کھل کر بات کی اور بتایا کہ بدنام زمانہ سٹے باز حنیف کیڈبری کو دورۂ جنوبی افریقہ میں کچھ کھلاڑیوں کے ساتھ آزادانہ گھومتے پھرتے دیکھا۔ انہیں وسیم اکرم نے بھی دوسرے کھلاڑی کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ وہ ٹیم کا حصہ نہیں بن سکتے اور ان کے کپتان ہوتے ہوئے کبھی نہیں کھیل سکتے۔ عاقب کے الزامات کا دائرہ بھی سلیم ملک اور وسیم اکرم کے گرد گھومتا نظر آیا لیکن ثبوتوں کی عدم موجودگی اب بھی ایک سوال تھی۔

بیٹسمین باسط علی کا کہنا تھا کہ سلیم ملک اور دیگر کھلاڑیوں نے ٹیم میں جو ماحول بنایا تھا، اس کی وجہ سے انہیں ریٹائرمنٹ لینا پڑی۔ پھر فاسٹ باؤلر عطاء الرحمٰن نے اپنا بیان بارہا تبدیل کیا۔ پہلے کہا کہ کرائسٹ چرچ میں ہونے والے ون ڈے میں خراب باؤلنگ پر انہیں وسیم اکرم کی جانب سے ایک لاکھ روپے دیے گئے۔ لیکن وسیم اکرم کی جانب سے جرح کے بعد وہ اس بیان سے پلٹ گئے اور کہا کہ وسیم اکرم کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔ یوں معاملہ گمبھیر ہوتا چلا گیا۔

وقار یونس نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ انہیں نہ کبھی کسی سٹے باز نے کوئی رقم دی، نہ گاڑی اور عاقب جاوید کا ان کے خلاف بیان ٹھیک نہیں۔ عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ایک سٹے باز نے وقار یونس کو ایک پجارو دی تھی۔

عاقب جاوید نے مزید کیا کہا؟
ورلڈ کپ 96ء کوارٹر فائنل اور عامر سہیل کا دعویٰ
ورلڈ کپ 1996ء کا پاک-بھارت کوارٹر فائنل پاکستانی شائقین کی ان یادوں میں سے ایک ہے، جسے وہ اپنے ذہنوں سے کھرچ دینا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے عامر سہیل نے کمیشن کو بتایا کہ اس اہم میچ سے پہلے وسیم اکرم ایک نائٹ کلب بھی گئے تھے۔ جب عامر سہیل نے پوچھا تو وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ وہ میچ کھیلنے کے لیے فٹ ہیں اور اس اہم میچ کو نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے علاوہ ہر اہم مقابلے سے پہلے ایک ٹیم میٹنگ ہوا کرتی تھی، جو پاک-بھارت کوارٹر فائنل سے پہلے نہیں ہوئی۔ عامر سہیل کے مطابق انہیں میچ سے صرف 5 منٹ پہلے بتایا گیا کہ قیادت ان کے ہاتھ میں ہوگی کیونکہ وسیم اکرم یہ میچ نہیں کھیلیں گے۔ عامر سہیل کے خیال میں وسیم اکرم ایک دن پہلے تک مکمل فٹ تھے۔

میچ سے صرف 5 منٹ پہلے مجھے بتایا کہ قیادت میں کروں گا: عامر سہیل—فوٹو: ٹوئٹر
راشد لطیف کے اہم بیانات
اس معاملے کو سامنے لانے والے اہم کردار راشد لطیف کا کہنا تھا کہ دورۂ نیوزی لینڈ 1994ء میں کرائسٹ چرچ پانچویں ون ڈے سے پہلے سلیم ملک نے انہیں 10 لاکھ روپے دیے اور میچ ہارنے کی پیشکش کی۔ اس وقت کمرے میں 5 دوسرے کھلاڑی بھی موجود تھے۔ راشد لطیف نے تو یہ رقم لینے سے انکار کردیا لیکن پاکستان یہ میچ ہار گیا اور ان کے مطابق وہ میچ جان بوجھ کر ہارا گیا اور اس کے ذمہ دار وسیم اکرم اور سلیم ملک تھے۔

راشد لطیف کے مطابق اس میچ کے دوران جب انہوں نے وقار یونس کی گیند پر برائن ینگ کا کیچ پکڑا تو سلیم ملک نے ان کی سرزنش کی اور کہا کہ ہمیں یہ میچ ہر صورت میں ہارنا ہے۔ راشد لطیف کے مطابق یہ میچ پاکستان جان بوجھ کر ہارا اور اس کے ذمہ دار وسیم اکرم اور سلیم ملک تھے۔

کمیشن نے اس میچ کی ویڈیو دیکھی تو اندازہ ہوا کہ باؤلرز کی جانب سے کئی وائیڈز اور نو-بالز پھینک کر حریف ٹیم کو مفت میں رنز دیے گئے بلکہ 2 بار تو اتنی بڑی وائیڈز پھینکی گئیں کہ وکٹ کیپر راشد لطیف بھی نہیں پکڑنے پائے۔ صرف وائیڈز اور نو-بالز کے رنز ہی 17 تھے، یعنی اضافی 17 رنز بھی اور مفت کی 17 گیندیں بھی۔

راشد لطیف کے مطابق جو فیلڈنگ سیٹ کی گئی تھی عطاء الرحمٰن اور دوسرے باؤلرز اس لحاظ سے باؤلنگ بھی نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے سلیم ملک کو سٹے بازوں سے ملنے والے کچھ چیکس کی کاپیاں اور عطاء الرحمن اور سعید انور سے ہونے والی اپنی گفتگو کی آڈیو ٹیپس بھی پیش کیں۔

کوچ جاوید میانداد کی نظر میں
ایک اور سابق کپتان جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑی سچ بول رہے ہیں۔ انہوں نے مرتکب کھلاڑیوں کو سخت سے سخت سزا دینے اور ان پر تاحیات پابندیاں لگانے کی تجویز دی۔

جاوید میانداد نے سنگر ورلڈ سیریز 1994ء میں پاکستان کے کھلاڑیوں کے کردار کو مشکوک قرار دیا اور کہا کہ ان کے خیال میں وہ فکسنگ میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار مشتاق احمد نے ان کے سامنے اقرار کیا تھا کہ وہ فکسنگ میں ملوث تھے۔ میانداد نے بتایا کہ سینئر کھلاڑی نوجوان کھلاڑیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں تاکہ انہیں بھی فکسنگ کے جال میں پھنسا سکیں اور جو نوجوان رضامند نہیں ہوتے، انہیں ٹیم سے باہر کردیا جاتا ہے۔

جب کمیشن نے جاوید میانداد سے سوال کیا کہ انہوں نے 1999ء میں دورۂ شارجہ کے بعد کوچ کے عہدے سے استعفیٰ کیوں دیا؟ تو جاوید میانداد نے کچھ ہچکچاہٹ کے بعد بتایا کہ شارجہ میں انگلینڈ کے خلاف میچ کے دوران انہیں کسی قابلِ بھروسہ شخص کی جانب سے ایک کال موصول ہوئی تھی، جس کا نام وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے، جن کا کہنا تھا کہ میچ فکس تھا۔ انہوں نے میانداد کو بتایا کہ شاہد آفریدی، معین خان، اظہر محمود، سلیم ملک اور انضمام الحق نے میچ فکس کرنے کے لیے پیسے لیے ہیں۔ انہوں نے اس شخص کی بات وسیم اکرم سے بھی کروائی۔

مرتکب کھلاڑیوں کو سخت سے سخت سزا دینے اور ان پر تاحیات پابندیاں لگانے کی تجویز دی تھی
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اس حوالے سے وسیم اکرم سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ فون کرنے والا وہ شخص داؤد ابراہیم تھا۔ بہرحال، میانداد کے مطابق کہ اس میچ میں کھانے کے وقفے کے دوران وہ سخت غصے میں تھے کہ انگلینڈ 40 رنز پر 5 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے باوجود آخر 206 رنز بنانے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟ لیکن جب تک ان پر معاملہ کھلتا، تب تک ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی آدھی ٹیم آؤٹ ہوچکی تھی اور کچھ ہی دیر میں 135 رنز پر ڈھیر ہوکر میچ ہار گئی۔

اس پر کمیشن نے 3ستمبر 1999ء کو ان پانچوں کھلاڑیوں یعنی شاہد آفریدی، معین خان، اظہر محمود، سلیم ملک اور انضمام الحق کو طلب کیا۔ سب نے میچ فکسنگ کی تردید کی بلکہ یہ کہا کہ اس میچ کے دوران جاوید میانداد کے جارحانہ رویّے کی وجہ سے وہ اچھا کھیل پیش نہیں کرسکے اور ہار گئے۔ ان کھلاڑیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جاوید میانداد نے اس کے علاوہ 2 مزید مواقع پر کھلاڑیوں پر فکسنگ کا الزام لگایا تھا، ایک مرتبہ کینیڈا میں سہارا سیریز کے دوران اور ایک مرتبہ موہالی میں بھارت کے خلاف اور دونوں بار ٹیم یہ میچ جیتی تھی۔

عامر سہیل کی دوبارہ پیشی
عامر سہیل نے اپنی دوبارہ پیشی میں بتایا کہ سنگر ورلڈ سیریز کے میچ کے دوران ایک موقع پر 12ویں کھلاڑی زاہد فضل ایک پیغام لے کر میدان میں آئے اور کچھ ہی دیر میں سعید انور ریٹائرڈ ہرٹ ہوگئے۔ انہیں سمجھ نہیں آیا کہ سعید انور میدان کیوں چھوڑ گئے۔ اس کے بعد جب جنوبی افریقہ کے دورے پر سعید انور اچھی کارکردگی نہیں دے پا رہے تھے تو عامر سہیل کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ میرے گناہوں کی سزا ہے جو میں نے میچ فکسنگ کی صورت میں کیے۔ اس پر عامر سہیل نے انہیں کہا کہ وہ توبہ کریں اور کفارہ ادا کریں۔

سعید انور اور عامر سہیل پر مبنی پاکستان کی کامیاب ترین اوپننگ جوڑی—فوٹو: ٹوئٹر
عامر سہیل کے مطابق آسٹریلیشیا کپ 1994ء کے فائنل سے پہلے انہیں ایک بھارتی سٹے باز کی کال موصول ہوئی، جس کا کہنا تھا کہ اگر میں 10 رنز سے پہلے آؤٹ ہوجاؤں اور سعید انور کو رن آؤٹ بھی کرواؤں تو مجھے 25 لاکھ روپے ملیں گے۔ حالات ایسے ہوگئے کہ ٹیم کے تمام اراکین سے قرآن مجید پر حلف لیا گیا۔ عامر سہیل کے مطابق عطاء الرحمٰن اور راشد لطیف ٹیم سے نکالے ہی اس لیے گئے کیونکہ انہوں نے تمام میچ فکسرز کو بے نقاب کیا تھا۔ عامر سہیل کا کہنا تھا کہ فکسنگ زیادہ تر شارجہ میں ہوتی تھی اور سٹے باز سلیم پرویز نے انہیں بتایا تھا کہ وہ سلیم ملک، مشتاق احمد، انضمام الحق اور وقار یونس کو ادائیگی کرچکے ہیں۔

وسیم اکرم کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ کھلاڑیوں پر فکسنگ کا الزام جتنے بھی کھلاڑیوں نے لگایا ہے، ان سب کا تعلق ایک ہی ٹیم سے ہے اور اس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ راشد لطیف، عطاء الرحمٰن، عاقب جاوید، عامر سہیل اور رمیز راجہ، یہ سب الائیڈ بینک سے کھیلتے تھے۔ یہ دلیل بھی بعد میں وسیم اکرم کی حمایت میں گئی۔

ویسے زیادہ تر کھلاڑیوں، خاص طور پر نوجوان پلیئرز کے خلاف فکسنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ بڑے کھلاڑیوں کے خلاف بھی باتیں تو بہت سامنے آئیں لیکن ٹھوس ثبوت سلیم ملک کے خلاف ہی آئے کیونکہ ان کے خلاف آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی گواہیاں موجود تھیں۔

منظرِ عام پر آنے والے کچھ نئے ‘فکس’ میچ
اس پوری گفتگو سے ظاہر ہوا کہ بدنامِ زمانہ میچوں کے علاوہ بھی کچھ ایسے مقابلے تھے کہ جن سے فکسنگ کی بُو آ رہی ہے جیسا کہ سنگر ورلڈ سیریز 1994ء میں پاک-آسٹریلیا ون ڈے۔ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کے بعد 15 دن کا وقفہ تھا جس کے بعد سنگر ورلڈ سیریز کھیلی جانی تھی، جس میں پاکستان کا مقابلہ میزبان سری لنکا کے علاوہ بھارت اور آسٹریلیا سے بھی ہونا تھا۔

اس وقفے کے دوران سلیم ملک وطن واپس آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کی طبیعت خراب تھی جبکہ ٹیم انتظامیہ کہتی ہے کہ سلیم ملک ایک شادی میں شرکت کے لیے گئے تھے لیکن راشد لطیف الزام لگاتے ہیں کہ سلیم ملک اس لیے پاکستان آئے تاکہ سٹے بازوں کے ساتھ معاملات طے کریں۔

سلیم پرویز نے بھی اپنے بیان میں بتایا تھا کہ انہوں نے سنگر ورلڈ سیریز کا پاک-آسٹریلیا میچ ہارنے کے لیے 1 لاکھ ڈالرز دیے تھے اور وہ اس دوران سری لنکا بھی آئے تھے۔ اس میچ میں قومی ٹیم صرف 180 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 151 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ یہی وہ میچ تھا جس میں سعید انور 43 رنز پر ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے تھے اور 5 وکٹیں گرنے کے بعد جب دوبارہ بھیجے گئے تو کچھ رنز کا اضافہ ہی کر پائے اور آؤٹ ہوگئے۔

اسی میچ کے بعد انتخاب عالم نے سلیم ملک، وقار یونس اور باسط علی سے تفتیش کی تھی۔ سلیم ملک اور وقار یونس نے فکسنگ میں ملوث ہونے کی تردید کی جبکہ بقول انتخاب عالم باسط نے اقرار کیا تھا۔ اس میچ میں باسط علی نے 13 گیندوں پر کوئی رن نہیں بنایا تھا۔ ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی میچ تھا کہ جس کے بارے میں آسٹریلیا کے مارک واہ اور شین وارن نے بھی بعد میں اقرار کیا تھا کہ انہوں نے ایک موسم اور پچ کی معلومات دینے کے بدلے ایک بھارتی سٹے باز سے رقم لی تھی۔

پھر انگلیاں اٹھیں منڈیلا ٹرافی 1994ء کے فائنل پر۔ منڈیلا ٹرافی میں پاکستان اور میزبان جنوبی افریقہ کے علاوہ نیوزی لینڈ اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیمیں کھیلی تھیں۔ پاکستان نے پہلے مرحلے میں 6 میں سے 5 میچ جیتے اور جنوبی افریقہ کے خلاف فائنل تک پہنچا۔ بیسٹ آف تھری فائنل کے پہلے میچ میں پاکستان 216 رنز کے تعاقب میں 178 رنز پر آل آؤٹ ہوگیا جبکہ دوسرے فائنل میں تو قومی ٹیم نے حد ہی کردی۔ 267 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے صرف 109 رنز پر آل آؤٹ۔

یہ دونوں ہی میچ انتہائی متنازع انداز میں ہارے۔ ان میچوں کے حوالے سے راشد لطیف کی رائے تھی کہ انہیں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنی چاہیے کیونکہ میچ ڈے اینڈ نائٹ تھے اور رات کے وقت ہدف کا تعاقب مشکل ہے لیکن سلیم ملک نے دونوں مرتبہ ٹاس جیتا اور ہدف کے تعاقب کا فیصلہ کیا۔ اس دورے کے بعد راشد لطیف کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا اور وجہ ٹیم کے کھلاڑیوں کا میچ فکسنگ میں ملوث ہونا قرار دیا۔

فیصلہ کُن مرحلہ
کمیشن کے روبرو راشد لطیف نے بھی جو ثبوت پیش کیے، وہ بھی سلیم ملک کی طرف ہی اشارہ کرتے تھے۔ عاقب جاوید نے بھی جن 2 کھلاڑیوں کا نام لیا وہ وسیم اکرم اور سلیم ملک تھے۔ عمران خان نے بھی کہا کہ انہیں پہلی بار ایک ڈومیسٹک میچ میں فکسنگ کا پتہ چلا کہ جس میں حبیب بینک کی ٹیم شامل تھی اور اس کے کپتان سلیم ملک تھے۔ بلکہ جاوید میانداد کا یہ کہنا تھا کہ عمران خان نے انہیں بتایا تھا کہ حبیب بینک کے 5 کھلاڑی ملوث تھے، سلیم ملک، اعجاز احمد، ندیم غوری، اکرم رضا اور نوید انجم۔

یعنی تحقیقات کے دوران تقریباً سبھی کی زبان پر ایک ہی نام تھا۔ لیکن سلیم ملک کو اصل دھچکا آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کے بیانات کی وجہ سے لگا اور یہی ان پر تاحیات پابندی کا سبب بنا۔ باقی سارے شواہد مضبوط نہیں تھے اور نہ ہی انہیں فیصلہ کُن قرار دیا جا سکتا تھا۔ بہرحال، سلیم ملک پر تاحیات پابندی لگی، نہ وہ کرکٹ کھیل سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی عہدے پر رہ کر کرکٹ کے معاملات چلا سکتے ہیں۔ ان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی لگایا گیا۔ جبکہ کمیشن نے عطاء الرحمٰن کو تاحیات پابندی اور 4 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

مشتاق احمد پر سابق کھلاڑی اور سٹے باز سلیم پرویز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے سلیم ملک کو اور انہیں 1 لاکھ ڈالرز دیے تھے کہ وہ 1994ء میں آسٹریلیا کے خلاف سنگر ٹرافی کا میچ فکس کریں۔ اس میچ میں مشتاق نے 10 اوورز میں 34 رنز دیے اور 2 وکٹیں لیں۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ جب وہ کمیشن کے روبرو ہوئے تو انہیں پہلے سے اندازہ تھا کہ کس میچ کی بات ہو رہی ہے کیونکہ انہوں نے وہاں یہ جملہ ادا کیا کہ ’اس میچ میں تو میری کارکردگی مناسب تھی‘۔

سلیم ملک کو اصل دھچکا آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کے بیانات کی وجہ سے لگا اور یہی ان پر تاحیات پابندی کا سبب بنا—فوٹو: ٹوئٹر
جاوید میانداد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مشتاق نے ایک مرتبہ میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی تصدیق کی تھی۔ گوکہ کمیشن نے سلیم پرویز کے بیان کو اہمیت دی اور جرح میں بھی اپنے بیانات پر قائم رہے لیکن مشتاق احمد کی کارکردگی دیکھ کر یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ جان بوجھ کر بُری کارکردگی دکھا رہے تھے تاکہ میچ ہار جائیں۔ میچ کے لحاظ سے ان کی کارکردگی اچھی تھی۔ انہوں نے جو 2 وکٹیں لیں وہ بھی مارک واہ اور اسٹیو واہ جیسے کھلاڑیوں کی تھیں۔ اس لیے ان کے ملوث ہونے پر شک کیا جاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مشتاق نے کسی دوسرے کھلاڑی کو استعمال کیا ہو، لیکن اس کا اب تک کوئی ثبوت نہیں ہے۔ پھر بھی ان کے خلاف کافی شکوک پیدا ہوئے۔ اس لیے کمیشن نے فیصلہ کیا کہ مشتاق احمد پر گہری نظر رکھی جائے اور انہیں کوئی ذمہ داری نہ دی جائے یعنی انہیں سلیکشن یا قیادت کی ذمہ داری نہ دی جائے، نہ ٹیم میں اور نہ بورڈ میں۔ ان پر 3 لاکھ روپے جرمانہ بھی لگایا گیا۔

وسیم اکرم کے خلاف فاسٹ باؤلر عطاء الرحمٰن نے بیان دیا تھا کہ انہوں نے 1994ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے ایک میچ میں خراب باؤلنگ کرنے پر انہیں ایک لاکھ روپے دیے۔ عطاء کا کہنا تھا کہ اصل میں تو ان کو 2 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن پہلے آدھے پیسے دیے گئے اور تعاون کرنے پر باقی بعد میں ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم نے بتایا تھا کہ یہ میچ اعجاز احمد نے فکس کیا ہے۔ لیکن بعد میں وسیم اکرم کی جرح پر وہ اپنے بیان سے یوٹرن لے گئے اور کہا کہ پچھلا بیان غلط تھا، جو انہوں نے عامر سہیل کے دباؤ پر دیا تھا، جنہوں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ وسیم اکرم کے خلاف بیان دیں۔

ایک تو عطاء الرحمٰن کے بیان بدلنے سے بھی وسیم اکرم کی کچھ بچت ہوئی اور پھر ورلڈ کپ 96ء کے کوارٹر فائنل کے حوالے سے ٹیم فزیو ڈین کیزل کا بیان وسیم اکرم کو بچانے میں کامیاب ہوگیا، جن کا کہنا تھا کہ بنگلور کے لیے سفر کرنے سے پہلے وسیم اکرم کو معمولی انجری تھی۔ گوکہ وسیم اکرم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے لیکن کمیشن نے یہ ضرور قرار دیا کہ اس معاملے میں کچھ شک و شبہ ضرور ہے۔ پھر وسیم اکرم نے کمیشن کے ساتھ کچھ خاص تعاون بھی نہیں کیا۔

بہرحال، کمیشن نے وسیم اکرم پر 3 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا اور ساتھ ہی کہا کہ ان پر کڑی نظر رکھی جائے اور ان کے اثاثوں کی تحقیقات کی جائیں۔ وسیم اکرم کو قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کی تجویز بھی دی گئی کیونکہ کپتان کو بے داغ کردار کا حامل ہونا چاہیے۔

وقار یونس کے خلاف کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا اور بات محض الزامات تک ہی محدود رہی، جیسا کہ پجارو وصول کرنے کا الزام، جس کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ انہوں نے واپس بھی کردی تھی۔ اگر وقار میچ فکس کرتے تو گاڑی واپس نہ کرتے بلکہ اپنے پاس رکھتے۔ البتہ وقار یونس کی کڑی نگرانی کرنے اور ان کے خلاف تحقیقات کی تجویز دی گئی اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی لگایا گیا۔

کرائسٹ چرچ کے میچ کے حوالے سے سوالات پر انضمام الحق اور اکرم رضا نے سوالات کے کھل کر جوابات نہیں دیے۔ حیرانی کی بات یہ کہ ان کھلاڑیوں کو اس میچ کی کوئی بات یاد ہی نہیں تھی۔ ایک کھلاڑی کو موسم کی کچھ باتیں تو یاد آ رہی تھیں لیکن مزید تفصیلات بھول گئے۔ اس سے لگتا ہے کہ وہ کچھ چھپا رہے تھے اور یہی وجہ ہے کہ تعاون نہ کرنے پر انہیں ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا اور ساتھ ہی ان کی کڑی نگرانی کی تجویز بھی دی گئی۔

باسط علی کے خلاف عدم ثبوت اور ان کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کی وجہ سے کمیشن نے انہیں ملک کی ساکھ خراب کرنے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا اور کہا کہ باسط علی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ وہ کچھ عزتِ نفس اور عقلِ سلیم تو رکھتے ہیں کہ ریٹائر ہوگئے۔

سعید انور کے حق میں بھی کئی بیانات آئے، لیکن ان پر کچھ شبہات کی وجہ سے ایک لاکھ روپے جرمانہ ضرور کیا گیا۔

اعجاز احمد کے خلاف کمیشن کو کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا، اس لیے ان پر میچ فکسنگ ثابت نہیں ہوئی، البتہ ان کو اپنے مالی معاملات بورڈ کے سامنے پیش کرنے کو کہا گیا۔

زاہد فضل پر بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔

سب کو سبھی پر شک ہے!
راشد لطیف نے جو آڈیو ریکارڈنگز پیش کی تھیں، ان میں سے ایک کیسٹ میں سعید انور کی گفتگو کا ایک جملہ تھا کہ ’اس وقت تو سب کو سبھی پر شک ہو رہا ہے‘۔ بس یہی جملہ اس پوری صورتحال کا عکاس تھا۔ بغیر کسی ثبوت کے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جا رہے تھے، خود کو بچانے کے لیے یا کسی اور کو بچانے کے لیے لیکن معاملہ اتنا گمبھیر ہوچکا تھا کہ کمیشن کے لیے چند کھلاڑیوں کے خلاف کوئی بڑا فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا تھا۔

راشد لطیف کے بقول تو آصف مجتبیٰ اور عامر سہیل کے سوا تمام کھلاڑی فکسنگ میں ملوث تھے۔ لیکن ان کے اس دعوے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ پھر کمیشن نے کہا کہ کئی کرکٹ ماہرین جیسا کہ عمران خان اور جاوید میانداد وغیرہ کا کہنا تھا کہ میچ فکس کرنے کے لیے کم از کم 5 سے 7 کھلاڑیوں کا ملوث ہونا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے کئی کھلاڑیوں کے خلاف ثبوت ٹھوس اور فیصلہ کُن نہیں تھے اور مجموعی طور پر ٹیم کو میچ فکسنگ کے الزام سے بری کردیا گیا۔ البتہ تحفظات کے باوجود کمیشن نے راشد لطیف کے کردار کو سراہا۔ اگر وہ اقدامات نہ اٹھاتے تو شاید آسٹریلیا کے کھلاڑی بھی 4 سال بعد سامنے نہ آتے اور بات کمیشن کے قیام تک کبھی نہ پہنچتی۔

کمیشن کے روبرو راشد لطیف نے بھی جو ثبوت پیش کیے، وہ بھی سلیم ملک کی طرف ہی اشارہ کرتے تھے
کمیشن نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بیشتر کھلاڑیوں نے خاص تعاون نہیں کیا بلکہ بغیر شواہد کے غیر ضروری الزامات بھی لگائے جیسا کہ عامر سہیل نے۔ انہوں نے کئی انٹرویوز تو دیے لیکن کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ کمیشن کو ایسا بھی محسوس ہوا کہ بیشتر کھلاڑی یا تو سچ بتا ہی نہیں رہے یا پھر مکمل سچ سے اجتناب کر رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک رویہ ان کھلاڑیوں کا رہا کہ جن کا کہنا تھا انہوں نے کبھی میچ فکسنگ کے بارے میں سنا ہی نہیں۔ جیسا کہ وقار یونس اور انضمام الحق۔

سفارشات
آخر میں کمیشن نے مستقبل میں میچ فکسنگ کو روکنے کے لیے چند سفارشات بھی پیش کیں جن میں کہا گیا کہ کپتان اور منیجر کے لیے صاحبِ کردار شخص کو مقرر کرنا چاہیے کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ فکسنگ کے معاملے میں کپتان کا کردار اہم ہوتا ہے۔

ساتھ ہی کھلاڑیوں کے لیے نیا ضابطہ اخلاق ترتیب دینے، ان کے اثاثے سالانہ بنیاد پر چیک کرنے، پریس سے گفتگو کرنے پر پابندی لگانے، میچ کے دوران موبائل فون اور رابطے کے دیگر ذرائع استعمال کرنے پر کڑی پابندی لگانے اور ٹیم کے مجموعی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔

کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک مستقل ریویو کمیٹی بھی تشکیل دی جانی چاہیے کہ جو آزاد افراد پر مشتمل ہو اور مستقبل میں ایسے الزامات کے حوالے سے کام کرے۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ یہ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ کھلاڑیوں کی تربیت کا اہتمام کرے۔ سٹے باز انہیں مختلف لالچ دے کر پھنسا سکتے ہیں اور بعد میں بلیک میل بھی کرسکتے ہیں، اس لیے بورڈ کو انہیں اس سے بچنے کی تربیت دینی چاہیے۔ شارجہ کا نام لیے بغیر یہ بھی کہا گیا کہ ان مقامات پر کھیلنے کے لیے ٹیم نہ بھیجی جائے کہ جو بدنام ہیں۔

کمیشن کے مطابق پی سی بی کھلاڑیوں کی تنخواہیں بڑھائے۔ پے اسٹرکچر میں تبدیلی ضروری ہے، محض سینیارٹی کی بنیاد پر کسی کھلاڑی کو زیادہ تنخواہ نہیں ملنی چاہیے بلکہ اس کا انحصار ماضی اور حال کی کارکردگی پر ہونا چاہیے۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ اس وقت پے اسٹرکچر اتنا بودا ہے کہ اگر سلیم ملک کو کھیلنے کی اجازت دے دی جائے تو انہیں شعیب اختر سے زیادہ تنخواہ ملے گی۔

اس کے علاوہ کھلاڑیوں کی آمدنی کے ذرائع میں بھی اضافہ کیا جائے۔ کھلاڑیوں کی آمدنی اتنی نہیں ہوتی جتنی غیر ملکی کھلاڑیوں کو ملتی ہے۔ میچ جیتنے کو کھلاڑیوں کے لیے فائدہ مند بنایا جائے۔ اس حوالے سے وِننگ بونس متعارف کروایا جائے۔ کھلاڑیوں کو اچھا کھیلنے اور ٹورنامنٹس جیتنے پر بڑے انعامات ملنے چاہئیں۔