- الإعلانات -

بھارت اپنے مفادات کیلیے گھر کا چراغ ہی بجھانے پر تل گیا

دبئی / ممبئی: بھارت اپنے مفادات کیلیے ’گھر کا چراغ‘ ہی بجھانے پر تل گیا، ہم خیال بورڈز کے تعاون سے آئی سی سی چیئرمین ششانک منوہر کی مدت میں مزید توسیع کا راستہ روک دیا، آئی سی سی بورڈ نے فوری طور پر انتخابات کی سفارش کردی، آئی سی سی کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا، جمعرات کی میٹنگ میں اس حوالے سے پھر غور کیا جائے گا، ادھر بی سی سی آئی کو یقین ہے کہ موجودہ چیئرمین کی تبدیلی سے ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی چھننے کا خطرہ بھی ٹل جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق نئے چیئرمین کے انتخاب کا طریقہ کار طے کرنے کیلیے آئی سی سی بورڈ کی گذشتہ روز ٹیلی کانفرنس ہوئی، بھارتی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیاکہ دو تہائی اکثریت سے ممبر بورڈز نے موجودہ چیئرمین ششانک منوہر کو مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کرلیا،فوری طور پر انتخابی عمل شروع کرنے کی سفارش کردی گئی، جس کی منظوری جمعرات کو آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں دی جائے گی۔ ادھر کونسل نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا کہ انتخابی عمل کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، اس بارے میں جمعرات کی میٹنگ میں پھر غور ہوگا۔

موجودہ چیئرمین نے واضح کیا کہ مزید توسیع لینے کا ارادہ نہیں رکھتے جبکہ وہ ذمہ داری کی منتقلی کیلیے بورڈ سے مکمل تعاون کریں گے۔ یاد رہے کہ ششانک منوہر خود 2 مرتبہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر رہ چکے جبکہ انھوں نے 4 برس تک آئی سی سی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالے رکھا، انھوں نے ہی ورلڈ گورننگ باڈی سے سب سے غیرمنصفانہ بگ تھری نظام کا خاتمہ کیا، جس کی وجہ سے بی سی سی آئی ان سے کافی ناخوش تھا جبکہ حالیہ دنوں میں آئی سی سی ایونٹس کیلیے ٹیکس استثنیٰ کے معاملے پر کونسل کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کا ذمہ دار بھی منوہر کو ہی سمجھا جا رہا ہے۔
اسی مقصد کیلیے ہم خیال بورڈز کے تعاون سے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ انھیں مزید توسیع نہ ملے اور نئے چیئرمین کا تقرر ہو۔ بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایسا نوجوان چیئرمین دیکھنا چاہتے ہیں جوھیل کی موجودہ صورتحال کو سمجھتا اورکرکٹ کو آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ بی سی سی آئی کورونا وائرس کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار بورڈز کو باہمی ٹورز کی لالچ دے کراپنی راہ ہموار کررہا ہے، اگرچہ یہ رپورٹس بھی موجود ہیں کہ وہ اپنے ہی ملک سے تعلق رکھنے والے چیئرمین کا خواہاں ہے مگر اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔