- الإعلانات -

کمزور کرکٹ بورڈ نے طاقتور کھلاڑی کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے

یونس خان کے تنازعات نے ثابت کردیاکرکٹ کے معاملات نااہل لوگ چلا رہے ہیں ¾یونس خان کو معاف ہی کرنا تھا تو پریس ریلیز جاری کر کے گناہ گنوانے کی کیا ضرورت تھی.
لاہور پاکستان کرکٹ بورڈ نے طاقتور کھلاڑیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ،یونس خان کے تنازع نے یہ بات واضح کر دی کہ کرکٹ کے معاملات اس وقت بالکل نااہل لوگ چلا رہے ہیںکئی دن تک میڈیا کو بریکنگ نیوز دینے کے بعد یونس خان کیس کی فائل بند کر دی گئی، اس دوران کسی جاسوسی فلم کی طرح اس میں کئی چونکا دینے والی باتیں سامنے آئیں، پنجابی فلم کے روایتی ہیرو کی طرح بڑھکیں بھی ماری گئیں، مگر ڈراپ سین دیکھ کر لوگوں نے سوچا ہوگا یہ کیا، اگر ایسا ہی کرنا تھا تو اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت تھی، دراصل اس تنازع نے یہ بات واضح کر دی کہ کرکٹ کے معاملات اس وقت بالکل نااہل لوگ چلا رہے ہیں،ان میں آپس میں ہم آہنگی کا بھی بے حد فقدان ہے، انھیں اس بات کی بھی کوئی پروا نہیں کہ میڈیا میں مسلسل منفی خبروں سے پاکستان کے امیج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔سب کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح اپنی کرسی محفوظ رکھی جائے، ہماری ٹیم ایشیا کپ، ورلڈٹی20 میں بدترین ناکامیوں کا شکار ہوئی تب بھی کسی نے استعفی دینے کی ضرورت محسوس نہ کی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب بس اپنے عہدوں سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں، اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونس خان کو اگر معاف ہی کرنا تھا تو ایک روز قبل لمبی چوڑی پریس ریلیز جاری کر کے ان کے گناہ گنوانے کی کیا ضرورت تھی، پیر کو ٹوٹی پھوٹی انگلش میں جو چند الفاظ میڈیا کو بھیجے گئے تھے انہی پر اکتفا کر لیا جاتا،سب جانتے ہیں کہ بورڈ حکامبے حد کمزور ہیں اور اسی کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے، پاکستانی سیاستدان ویسے ہی بدنام ہیں۔ہمارے کرکٹرز بھی سیاست میں کسی سے پیچھے نہیں، چاہے ایک دوسرے کیخلاف سازشیں کرنا ہوں یا کچھ اور سب کا دماغ خوب کام کرتا ہے، اب بھی ایسا ہی ہوا، یونس خان نے پاکستان کپ میں قوانین کی دھجیاں اڑائیں، چاہے کتنی خراب امپائرنگ ہو انھیں اس طرح امپائرز و ریفری پر دھونس نہیں جمانا چاہیے تھی، میں مانتا ہوں کہ پاکستان کپ میں امپائرنگ کا معیار اچھا نہیں ہے مگر اس کیلیے اسٹار بیٹسمین تحریری شکایت کرتے تو زیادہ مناسب رہتا، انھوں نے ریفری کے سامنے پیش نہ ہو کر سب سے پہلے یہ ثبوت دیا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کی ان کے نزدیک کیا اہمیت ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ کسی ٹیسٹ میچ میں امپائر سے ایسی شکایتیں کریں گے۔ کیا ان میں اتنی ہمت ہے کہ آئی سی سی ریفری کی سماعت میں شریک نہ ہوں اس وقت انھیں اپنا کیریئر یاد آ جاتا ہو گا مگر ڈومیسٹک کرکٹ قوانین کو قدموں تلے روندنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ، پھر وہ ناراض ہو کر گھر واپس چلے گئے، اس پر انھیں سزا ضرور دینی چاہیے تھی مگر بورڈ نے ایسا نہ کیا، پھر جب سابق کرکٹرز اور میڈیا کے یاد دلانے پر قوانین یاد آئے تو شوکاز نوٹس جاری کر دیا، ایسے میں یونس خان نے اپنا آخری کارڈ شو کر دیا جو کارآمد بھی رہا، ایک بات یاد رکھیں ریٹائرمنٹ ایسا فیصلہ نہیں جو کوئی کرکٹر آسانی سے کر لے۔یہی وجہ ہے کہ 42 سال کا ہونے کے باوجود مصباح الحق کا جانے کو دل نہیں چاہتا، شاہد آفریدی کئی بار کہنے کے باوجود ورلڈٹی ٹوئنٹی کے بعد ریٹائر نہیں ہوئے، یونس کے دل میں بھی ابھی کئی اہداف ہوں گے، اگر غصے میں آکر وہ ریٹائر ہونا چاہتے تو فورا ہو جاتے، یہ اعلانات نہ کرائے جاتے کہ جلد اہم فیصلہ کرنے والے ہیں یہ صرف بورڈ کو بلیک میل کرنے کا حربہ تھا جو کامیاب رہا، ٹاپ آفیشلز ویسے ہی دبا ﺅکا شکار ہیں، انھیں لگا کہ یہ کیا نئی مصیبت گلے پڑ رہی ہے، اگر یونس نے ہمارے خلاف پریس کانفرنس کر دی تو دبا ﺅمزید بڑھ جائے گا، اسی لیے اب پھر ان کے ساری خطائیں معاف کر کے ہیپی اینڈنگ کی پریس ریلیز  جاری کر دی گئی، اگر کے پی کے نے فائنل میں رسائی حاصل کی تو یونس دوبارہ اس کی نمائندگی بھی کر لیں گے، مشکل وقت میں احمد شہزاد نے ٹیم کو سہارا دیا ان کی کپتانی کا اب کیا ہوگا؟پی سی بی حکام نے سینئر کرکٹر کو کلین چٹ دے کر اچھی مثال پیش نہیں کی، اب عمر اکمل اور احمد شہزاد کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لینے کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، سب کے ساتھ یکساں سلوک کریں، بڑوں کی سب غلطیاں معاف ہیں تو چھوٹوں کو بھی چھوڑ دیں، جس طرح ہمارے ملک میں بااثر افراد بڑے سے بڑا جرم کر کے بچ جاتے ہیں، ایسا ہی کرکٹرز کے ساتھ بھی ہے، بس بیچارے پتلی گردن والے ہی پھنستے ہیں، بورڈ یونس خان کے معاملے کو ٹیسٹ کیس بنا کر اچھی مثال قائم کر سکتا تھا،اگر ان کیخلاف کوئی معمولی سا بھی ایکشن لیا جاتا تو میڈیا بھی اتنا شور نہ مچاتا کیونکہ بیشتر افراد اس بات سے متفق ہیں کہ انھوں نے غلط کیا تھا، اس کے باوجود معاملے کو غلط انداز میں ہینڈل کیا گیا۔ ہم تو اس سسٹم کو جھیل رہے ہیں جہاں اسپاٹ فکسنگ کرنے والے ٹیم کا حصہ ہیں، جسٹس قیوم کمیشن نے جن پر جرمانے کیے وہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو رہے ہیں، ایسے میں اگر بڑے کھلاڑی قوانین کی دھجیاں اڑائیں تو انھیں کیسے روکا جا سکتا ہے، مجھے یونس خان سے کوئی عناد نہیں، میری تحریریں مستقل پڑھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ جب کبھی ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ضرور آواز اٹھائی، مگر میں اس کیس میں ان کے ساتھ نہیں ہوں، میرے ساتھی زبیر نذیر خان گواہ ہیں کہ جب بدھ کو انھوں نے پر جوش لہجے میں یونس کے اہم اعلان کی بات کی تو میں نے یہی کہا تھا کہ یہ محض بورڈ کو دبا میں لینے کی کوشش ہے کچھ نہیں ہوگا۔برسنے والے بادل انتظار نہیں کرتے، گرجتے ہی برس پڑتے ہیں اس معاملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پلیئرز پاور کے سامنے بے بس ہے۔