- الإعلانات -

پی سی بی کی جانب سے ڈومیسٹک کھلاڑیوں کے وظیفے میں اضافہ

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے بجٹ میں 7.76ارب روپے کے اخراجات کا اعلان کیا ہے جس میں 71.2فیصد اخراجات کرکٹ کی سرگرمیوں پر کیے جائیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دیگر اہم فیصلے کرتے ہوئے ڈومیسٹک سطح پر چھ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کے ماہانہ وظیفے میں 46فیصد اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان سپر لیگـ(پی ایس ایل) کے معاملات کے لیے ایک علیحدہ محکمہ تشکیل دے دیا ہے۔

یہ فیصلے پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے بورڈ آف گورنرز کے 58ویں اجلاس میں کیے گئے کورونا وائرس کی وبا کے سبب ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔

تحریر جاری ہے‎

اجلاس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ 21-2020 کے مالی سال کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے 7.76ارب روپے کے آپریٹنگ اخراجات کی منظوری دے دی ہے اور پی سی بی کی سادگی کی پالیسی کے تحت بجٹ 19-2020 کے مقابلے میں اس سال بجٹ میں 10فیصد کمی کی گئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ سال 20-2019 میں منعقدہ کرکٹ کی کسی بھی سرگرمی پر سمجھوتہ کیے بغیر رواں سال کے بجٹ کا 71.2 فیصد صرف کرکٹ سے متعلقہ سرگرمیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، یہ اس امر کو یقینی بنائے گا کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب مالی مشکلات کے باوجود کرکٹ نتاثر نہ ہو اور اس ضمن میں پی سی بی مستقبل میں بھی سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا کہ وہ ڈومیسٹک مقابلوں کے لیے اگست کے وسط تک تمام چھ ایسوسی ایشن کی ٹیموں کی تکمیل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور سیزن کے آغاز کا حتمی فیصلہ اس بات کی تصدیق کے بعد ہی کیا جائے گا کہ ملک میں کورونا وائرس میں کمی ہو رہی ہے۔

پی سی بی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مختص کردہ 71.2فیصد بجٹ میں سے 25.2فیصد ڈومیسٹک کرکٹ ، 19.3فیصد انٹرنیشنل کرکٹ، 5.5فیصد ویمن کرکٹ، 19.7فیصد پاکستان سپر لیگ اور 1.5فیصد میڈیکل اسپورٹس سائنسز کے لیے رکھے گئے ہیں۔

نئے ماہانہ ریٹینر اسٹرکچر کے تحت پی سی بی دوبارہ 192کھلاڑیوں(ہر چھ ایسوسی ایشن کے 32کھلاڑیوں) کو پرفارمنس کی بنیاد پر کانٹریکٹ دے گا لیکن تمام کھلاڑیوں کو 50ہزار روپے دینے کے کیٹیگری کی بنیاد پر معاونضہ ملے گا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ 192کھلاڑیوں کو پانچ کیٹیگریز میں تقسیم کیا جائے گا، صف اول کی کیٹیگری کو اے پلس کہا گیا ہے اور 192 میں سے 10 کھلاڑی اس فہرست کا حصہ ہیں جنہیں ماہانہ ڈیڑھ لاکھ ملیں گے، اے کیٹیگری میں شامل 38 کھلاڑیوں کو 85ہزار، بی کیٹیگری کے 48کھلاڑیوں کو 75ہزار ماہوار ملیں گے جبکہ ڈی کیٹیگری کے 24 کھلاڑیوں کو 40ہزار ماہانہ ملیں گے۔

اس کے علاوہ پی سی بی کی جانب سے کھلاڑیوں کی میچ فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے
پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے 21-2020 کے سیزن کے لیے ڈومیسٹک کھلاڑیوں کے 12مہینے کے معاہدے کے حوالے سے بورڈ آف گورننس کو بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال کے مقابلے میں ڈومیسٹک کرکٹ کے معاہدوں کے لیے اپنی سرعمایہ کاری میں 46فیصد اضافہ کیا ہے، ہم نے کیٹیگری کی بنیاد پر معاہدوں کے نظام کو بنایا ہے جو ان کے لیے بہتر انعام ہو گا۔

پاکستان سپر لیگ
بورڈ آف گورنرز رواں کورونا وائرس کے سبب مکمل نہ ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے بقیہ چار میچوں کے انعقاد کے لیے کوئی بھی تاریخ منتخب کر سکتے ہیں اور اگلے سال لیگ کے انعقاد کے سلسلے میں پشاور کو پانچویں مقام کی حیثیت سے منتخب کر لیا گیا ہے۔

بورڈ آف گورنرز کا رواں سال کے آخر میں پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کے انعقاد کا ارادہ ہے اور انہیں بتایا گیا کہ گزشتہ سال پچھلے سال 5لاکھ تماشائیوں نے استیڈیم میں میچ دیکھا۔

پاکستان سپر لیگ کی فرنچائزوں کے مطالبے کو منظور کرتے ہوئے لیگ کے لیے علیحدہ محکمہ بنا دیا ہے اور لیگ کو کمرشل ڈپارٹمنٹ سے الگ کردیا گیا ہے۔ اس محکمے کے سربراہ شعیب نوید ہوں گے جس کا علیحدہ گروپ، چیف ایگزیکٹو، چیف آپریٹنگ آفیسر، چیف فنانشل آفیسر اور ڈائریکٹر کمرشل بھی ہو گا۔

اعلامیے میں مزید کہا کہ گیا کہ کوڈ19 کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ کے ریونیو میں کمی ہوئی ہے کیونکہ بین الاقوامی دوروں کا انعقاد غیریقینی ہے۔

بورڈ آف گورنرز نے ترقیاتی کاموں کی بھی منظوری ے دی ہے جس کے تحت اخراجات کے لیے 1.22ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے جس میں بجٹ 19-2020 کے مقابلے میں 80کروڑ کی بھی کمی کی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی منظوری دی گئی ہے بورڈ آف گورنرز نے پی سی بی کے کوڈ آف ایتھکس کی بھی منظوری دے دی ہے جہاں پی بسی کے آئین 2019 کے آرٹیکل 44ڈی کی روشنی میں پاکستان میں کرکٹ کی نگراں تنظیم کی حیثیت سے کھیل کی سالمیت اور حفاظت پی سی بی کی ذمے داری ہے اور اس کوڈ کے تحت مفادات کا ٹکراؤ، مفادات کا اعلان اور مفادات کا اعلان جیسے امور شامل ہیں۔

پی سی بی چیئرمین احسان مانی نے تصدیق کی کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی چیئرمین شپ کے لیے آئی سی سی کے ڈائریکٹرز نے ان سے رابطہ کیا تھا لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تما تر توانائیاں پاکستان کرکٹ کے لیے ہیں۔

اس کے علاوہ پی سی بی نے بھارت میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں ویزہ کا مسئلہ بھی آئی سی سی کے سامنے اٹھایا۔

بورڈ آف گورنرز نے دورہ انگلینڈ کے لیے قومی ٹیم بھیجنے فیصلے کو سراہا لیکن دورے کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ کے کھلاڑیوں کے مثبت ٹیسٹ آنے پر تحفظات کا اظہار کیا۔