- الإعلانات -

احمد شہزاد کی ٹیم میں واپسی کےلئے بساط بچھا دی گئی

مستقبل میں بہتر رویے کی یقین دہانی کا فرمائشی خط لکھوا لیاگیا، ڈسپلن نظر انداز کرنے کی تیاری
یونس خان کی طرح احمد شہزاد کی بھی معافی قبول کرکے14مئی سے شروع ہونے والے قومی کیمپ میں بلایا جائے گا ڈسپلنری وجوہات کی بنا پر بوٹ کیمپ سے باہر ہونے والے اوپنر احمد شہزادکی واپسی کیلئے بساط بچھا دی گئی، ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں ان سے مستقبل میں بہتر رویے کی یقین دہانی کا فرمائشی خط لکھوا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے سابق کوچ وقار یونس اور ٹیم منیجر انتخاب عالم کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اوپننگ بیٹسمین احمد شہزاد کو بوٹ کیمپ کیلئے مجوزہ کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا تھا، ان کے اس فیصلے کے پیچھے پاکستان کرکٹ بورڈ کی منشا شامل تھی مگر اب حکام خود ہی اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے کیلئے پرتول رہے ہیں، جذبات میں آکر احمد شہزاد کو باہر تو کردیا گیا مگر موزوں متبادل اوپنر نہ ہونے کی وجہ سے اب اس غلطی کی تلافی کی جا رہی ہے۔اس کیلیے احمد شہزاد سے کہا گیا ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر اپنی غلطیوں پر معذرت کریں اور مستقبل میں بہتر رویے کی یقین دہانی کرائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد شہزاد نے ایک خط تحریر کیا جس میں پی سی بی کو یقین دلایا ہے کہ وہ مستقبل میں اپنے رویے میں بہتری لانے کی پوری کوشش کریں گے،کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیا جائے گا، اس کے ساتھ یہ درخواست بھی کی گئی کہ انھیں ایبٹ آباد میں رواں ہفتے شروع ہونے والے کیمپ میں بھی شامل کرلیا جائے، دلچسپ بات ہے کہ اس خط کے حوالے سے خود ہی میڈیا کو آگاہی دی گئی تاکہ احمد کی واپسی کا جواز بنایا جا سکے، ذرائع کے مطابق اس بات کے امکانات روشن ہے کہ یونس خان کی طرح احمد شہزاد کی بھی معافی قبول کرکے انھیں قومی کیمپ میں بلایا جائے گا جو14 مئی سے شروع ہونے والا ہے، اگر ایسا نہ ہوا تو دورئہ انگلینڈ کیلیے اسکواڈ میں واپسی ہو جائے گی۔انضمام نے احمد شہزاد کے ساتھ عمر اکمل کو بھی اسی بنیاد پر ٹیم سے باہر کیا تھا، دونوں کے بارے میں سابق کوچ وقار یونس کی رپورٹ تھی کہ ان کے ڈسپلن معاملات درست نہیں ہیں،انھوں نے گذشتہ برس ورلڈ کپ کے بعد بھی ایسی ہی رپورٹ دی تھی۔ یاد رہے کہ گذشتہ دنوں پاکستان کپ کے دوران یونس خان بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایونٹ