- الإعلانات -

شعیب ملک اور سرفراز احمد کے کوچ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

لاہور: ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بندش کے بعد اس شعبے سے وابستہ قابل افراد معاشی تنگ دستی کا شکار ہوکر سڑک پر آگئے، کچھ کھلاڑی ٹیکسی اور رکشہ چلاکر خاندان کا پیٹ بھر رہے ہیں، کوئی ملک سے باہر چلا گیا تو کسی نے فروٹ کا ٹھیلہ لگا لیا۔ پاکستان میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے مستقبل سے مایوس ہوکر زیادہ تر کھلاڑی محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کیلئے روزی روٹی کا بندوبست کررہے ہیں۔
ان ہی کھلاڑیوں میں ایک نام کرکٹ کوچ اور آرگنائزر عمران رضا کا بھی ہے جو روزگار کی بندش کے بعد کراچی کی سڑکوں پر فروٹ کا ٹھیلہ گھسیٹ کر اپنے اہل خانہ کے پیٹ بھرنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

کوچنگ اور کرکٹ ایونٹ کے انعقاد سے لے کر کراچی کی سڑکوں پر پھل فروخت کرنے کے عمل تک عمران رضا کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

عمران رضا کے ٹھیلے پر پھلوں سے ساتھ رکھی ہوئیں سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ ان کی تصاویر اور بہترین کارکردگی پر ملنے والی شیلڈ اس شعبے کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داستان سنا رہی ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عمران رضا نے بتایا کہ 15 سال قبل میں اصغر علی شاہ کرکٹ سٹیڈیم کا انچارج تھا اور وہاں میں نے دس سال تک خدمات انجام دیں۔انہوں نے بتایا کہ میں نے متعدد کرکٹ سٹارز کی کوچنگ کی ہے جس میں نمایاں نام سرفراز احمد اور شعیب ملک کا بھی ہے جنہوں نے آگے جاکر قومی ٹیم کی قیادت کی۔

انہوں نے وزیر اعظم عمران خان ، گورنر سندھ عمران اسماعیل،سابق کپتان جاوید میانداد، شعیب ملک اور سرفراز احمد سمیت دیگر متعلقہ افراد سے اپیل کی کہ وہ انہیں ملازمت فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔