- الإعلانات -

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی پھر بہار آ گئی

لاہور: پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی پھر بہارآ گئی تاہم آج راولپنڈی میں زمبابوے سے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل کے ساتھ کورونا میں بین الاقوامی میچز کی میزبانی کرنے والے دوسرے ملک کا اعزاز بھی حاصل ہوجائے گا۔
پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں ایک اور سنگ میل عبور کرنے جارہا ہے، زمبابوے سے ون ڈے سیریز کا جمعے کو پنڈی اسٹیڈیم میں آغاز ہوگا،یاد رہے کہ زمبابوین ٹیم کی 2015 میں آمد کے ساتھ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کا سلسلہ بحال ہوا تھا، اس کے بعد ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور بنگلہ دیش نے بھی میدانوں کی رونقیں بڑھائیں،کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں انگلینڈ کے بعد پاکستان کسی انٹرنیشنل سیریز کی میزبانی کرنے والا دوسرا ملک بھی بن گیا ہے۔

ورلڈ کپ 2023 کوالیفائرز کا درجہ رکھنے والی آئی سی سی سپر لیگ میں شامل سیریز میں پاکستان اور زمبابوے کی ٹیمیں اپنی اولین مہم میں فتح کے ساتھ پوائنٹس کا کھاتہ کھولنے کی منتظر ہوں گی، میزبان کو ہوم گراؤنڈز پر کمزور حریف کو زیر کرنے کا آسان موقع مل رہا ہے، ماضی کا ریکارڈ اس کی گواہی دینے لگا۔
گذشتہ باہمی سیریز میں پاکستان نے میزبان زمبابوے کو 5-0سے کلین سوئپ کیا تھا، یوں تو ریکارڈز اور ٹیموں کی قوت کو دیکھا جائے تو ہر چیز گرین شرٹس کو ہاٹ فیورٹ قرار دینے کیلیے کافی ہے مگر پاکستان کمزور حریفوں اور ناکام کھلاڑیوں کا اعتماد بحال کروانے کی شہرت بھی رکھتا ہے، اس لیے کسی انہونی کا انجانا خوف اعصاب پر سوار ہوگا، توقعات کا تمام تر بوجھ میزبان ٹیم پر ہے۔

مہمانوں کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں، پہلے میچ کیلیے پاکستان نے 15کرکٹرز کا اعلان کیا ہے، ان میں سے امام الحق، عابد علی، فخر زمان میں سے کسی ایک اوپنر کو ڈراپ کرنا پڑے گا، بابر اعظم ہمیشہ کی طرح امیدوں کا محور ہوں گے۔
حارث سہیل، محمد رضوان، افتخار احمد، خوشدل شاہ میں سے مڈل آرڈر کا انتخاب ہوگا، بطور آل راؤنڈر فہیم اشرف کی عمدہ فارم کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، عماد وسیم بیٹ اور بال دونوں سے مفید ثابت ہونے کے اہل ہیں، شاداب خان کی عدم موجودگی میں عثمان قادر کی شمولیت کا موقع بن گیا ہے، شاہین آفریدی، حارث رؤف، وہاب ریاض اور محمد موسٰی خان میں سے پیس بیٹری کا انتخاب ہوگا۔

ویڈیو کال پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ میں بطور کپتان پہلی ون ڈے سیریز جیتنا چاہتاہوں، کسی انٹرنیشنل ٹیم کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا، ہم زمبابوے کو آسان حریف نہیں سمجھ رہے، مہمان ٹیم 2018سے مختلف ہے، اسے4، 5 سینئر بیٹسمینوں کی خدمات حاصل ہیں، ہم نے ہر کھلاڑی پر قابو پانے کیلیے حکمت عملی تیار کرلی، کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ جس طرح انگلینڈ اور آسٹریلیا کیخلاف کھیلتے ہیں اسی طرح 110فیصد صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں، ہم آئی سی سی سپر لیگ میں شامل ہوم سیریز میں فتوحات کا اعتماد لیے آئندہ مشکل مقابلوں کیلیے میدان میں اترنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں تو جواب میں وہ بھی بھرپور سپورٹ کرتے ہوئے مثبت نتائج کیلیے جان لگاتے ہیں،سینئرز اور جونیئرز کو شامل کرتے ہوئے متوازن کمبی نیشن میدان میں اتاریں گے۔دوسری جانب اپ سیٹ کی امیدیں لیے میدان میں اترنے والی زمبابوین ٹیم سکندر رضا، برینڈن ٹیلر،سین ولیمز اور ٹینڈائی چتارا جیسے سینئرز پر انحصار کرے گی،کپتان چھامو چھیبھابھا کا کہنا ہے کہ سینئرز اور جونیئرز کی مدد سے ہم ایک متوازن اسکواڈ کے ساتھ میدان میں اترتے ہوئے میزبانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے،ایک بار میچ میں حاوی ہونے کا موقع ملا تو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔انھوں نے کہا کہ میں اپنی کارکردگی سے بھی قیادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کروں گا،پچ پر گھاس موجود مگر بیٹنگ کے لیے سازگار لگ رہی ہے، پلیئرزبڑے اسکور کی توقع کررہے ہیں۔