- الإعلانات -

وسیم اکرم کے بارے میں نیا انکشاف

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کرکٹ میں پاکستان ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے اور اس سرزمین نے ایسے ایسے مایہ ناز کھلاڑی پیدا کئے جنہوں نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا۔ اگرچہ آج ہماری کرکٹ زبوں حالی کا شکار ہے لیکن لیجنڈ کرکٹرز کی بدولت آج بھی یہ زندہ ضرور ہے۔ وسیم اکرم اور وقار یونس نے باﺅلنگ کے شعبے جس مہارت اور تباہ کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، ان کے دور کے بلے باز آج بھی یاد کر کے گھبرا جاتے ہیں۔‎‎
ایسا ہی ایک سوال بھارت کے معروف بلے باز اجے جدیجا سے کیا گیا۔ بھارتی ٹی کے پروگرام میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے دور میں دھواں دار بلے باز کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے، آپ ایسے باﺅلر کانام بتائیں کہ جو آپ کی نظر میں خطرناک تھا۔ اس سوال پر اجے جدیجا نے جواب دیا کہ ”سب ہی خطرناک تھے لیکن پہلا میچ سری کانت کے ساتھ ورلڈکپ میں پہلا میچ پاکستان کے خلاف کھیلا تھا، وہاں سے وسیم اکرم باﺅلنگ کرتا تھا اور معین خان بال پکڑتا تھا، ہم تو کھڑے ہی تھے، وہ کھیلتے رہتے تھے، ادھرسے ، ادھر سے بال گزرتی تھی۔ وہ اتنا خطرناک تھا کہ آپ یہ سوچ لو کہ پوری اننگز میں مجھے یاد ہی نہیں سری کانت صاحب نے کوئی لفظ بھی بولا ہو“۔
پروگرام کے خصوصی میزبان اور معروف کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے اجے جدیجا کے جواب کی تائید میں اپنا بھی ایک واقعہ سنا دیا اور بتایا کہ ”پاکستان میں گرین پچز ہوتی تھیں، میں بیٹنگ کر رہا تھا اور روی شاستری دوسرے رینڈ پر کھڑے تھے، وسیم اکرم نے باﺅنسر مارا مجھے تو میں نے یوں چھوڑا اور گیند ”شوں“ کر کے گزر گئی۔ روی شاستری میری حوصلہ افزائی کرنے آیا اور کہا کہ بہت اچھی چھوڑی، ویری ویل لیفٹ ، تو میں نے کہا ، مجھے تو بال دکھی ہی نہیں“