- الإعلانات -

پاکستان کرکٹ ایک شخص کی وجہ سے تباہ ہوئی،عمران خان

کراچی: پاکستان کے سابق عظیم کپتان عمران خان نے محمد عامر کو آگاہ کیا ہے کہ وہ انگلینڈ میں ہونے والی سیریز میں کسی بُرے رویے یا استقبال کی توقع نہ رکھیں کیونکہ انہیں کافی لوگوں کی ہمدردی حاصل ہے۔

پاکستانی ٹیم چار ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنے کیلئے چھ سال بعد انگلینڈ پہنچ چکی ہے اور اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامر بھی قومی ٹیم کا حصہ ہیں۔

2010 میں سابقہ دورہ انگلینڈ کے بدنام زمانہ لارڈز ٹیسٹ میں اس وقت کے کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف پر اسپاٹ فکسنگ میں ہونے کے الزام میں پابندی عائد کردی گئی تھی اور گزشتہ سال ہی تینوں کھلاڑیوں کی سزا کا خاتمہ ہوا ہے۔

تمام ماہرین کرکٹ کا ماننا ہے کہ یہ دورہ محمد عامر کیلئے انتہائی اہم مشکل اور اہم ہو گا کیونکہ وہ چھ سال بعد اسی مقام سے دوبارہ اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کریں گے جہاں انہوں نے اسپاٹ فکسنگ کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔

تاہم قومی ٹیم کے سابق عمران خان نے کہا کہ عامر کو پریس کے خراب رویے یا استقبال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ انگلینڈ ان کیلئے کافی ہمدردی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل ہوا تھا تو عامر صرف 18 یا 19 سال کے تھے اور پھر انہوں نے فوراً ہی اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے ہر کسی سے معافی مانگ لی تھی۔

پاکستان کو 1992 کا ورلڈ کپ جتوانے والے قائد نے کہا کہ عامر کیلئے عام طور پر ہمدردی کے جذبات ہیں اور میرا تجربہ کہتا ہے کہ انہیں انگلینڈ میں پریس کی جانب سے مثبت رویے اور ردعمل کا سامنا ہو گا اور اس سے انہیں سیریز میں اچھی کارکردگی دکھانے میں مدد ملے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے اس تاثر کو رد کردیا کہ چھ سال پرانے اسکینڈل کی وجہ سے قومی ٹیم یا محمد عامر کو انگلینڈ کے خلاف سیریز میں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس موقع پر عمران خان نے پاکستان ٹیم کیلئے تینوں فارمیٹ کیلئے الگ کپتانوں کے نظریے کو بھی مذاق قرار دیا۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی کی پاکستان کرکٹ بورڈ میں تقرری کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ ایک شخص کی وجہ سے تباہ ہوئی جسے الیکشن میں فکسنگ کرنے پر پی سی بی میں عہدے سے نوازا گیا۔

عمران نے کہا کہ نجم سیٹھی کے فیصلوں کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ ہمارے پاس تین مختلف فارمیٹس کے تین کپتان ہی اور یہ عجیب مذاق لگتا ہے کیونکہ اگر ایسا کریں گے تو پھر ٹیم میں کس طرح سے ایک مستقل مزاجی برقرار رکھ سکیں گے۔

سابق کپتان نے واضح کیا کہ وہ تمام فارمیٹس کیلئے ایک کپتان بنانے کے حق میں ہیں اور اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ حالیہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں مصباح الحق کو قومی ٹیم کا کپتان بنا کر بھیجتے۔