- الإعلانات -

عامر سمیت ہر میچ فکسرپر تاحیات پابندی کامطالبہ، پیٹرسن

لندن: انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑیوں نے محمد عامر کی کرکٹ میں واپسی کو دل سے قبول نہیں کیا اور اس پر کھل کر اظہار خیال بھی کیا اسی طرح سابق بلے باز کیون پیٹرسن بھی اس صف میں شامل ہوگئے ہیں اور کہنا ہے کہ محمد عامر سمیت کسی بھی قسم کی غلطی کے مرتکب ہونے والے کھلاڑی پر تاحیات پابندی لگا دینی چاہیے۔برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کو اپنی ایک تحریر میں انگلینڈ کے بعض کھلاڑیوں کی طرح پیٹرسن نے بھی عامر کو دوبارہ موقع دینے کی مخالفت کی ہے تاہم انگلش کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو عامر سے خبردار کیا ہے۔کیون پیٹرسن کا کہنا تھا کہ ‘کوئی بھی کھلاڑی خواہ مرد ہو یا عورت جو میچ فکسنگ، اسپاٹ فکسنگ یا ممنوعہ ادویات کے استعمال کرتے ہوئے پکڑا جائے ان ہر تاحیات پابندی ہونی چاہیے’۔’انھوں نے اصول کو توڑا اس لیے اس کی قیمت چکانی چاہیے اور دوسراموقع نہیں دیا جائے’۔محمد عامر 2010 میں اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزاپانے کے بعد مختصر طرز کرکٹ میں واپسی کرچکے ہیں جبکہ 14 جولائی سے انگلینڈ کے خلاف اسی مقام سے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کرنے جارہے ہیں جہاں وہ اس جرم کے مرتکب ہوئے تھے۔

کیون پیٹرسن 2010 میں اس وقت کی انگلینڈ ٹیم کے مضبوط رکن تھے۔ پیٹرسن کا کہنا تھا کہ اگر آپ ادویات یا پیسوں کے عوض کمزور کھیلتے ہیں تو آپ نظام سے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں اسی طرح آپ مداحوں، ساتھی کھلاڑیوں اور کھیل کے ساتھ بھی دھوکا کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگ ہمیشہ دوسرے موقع کے مستحق ہوتے ہیں لیکن کھیل مختلف ہے’۔محمد عامر کا حوالہ دیے بغیر انھوں نے لکھا ہے کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ برصغیر میں کرکٹرز دیہاتوں سے آتے ہیں جہاں غربت اور محرومی ہوتی ہے لیکن زیادہ پیسہ کمانے کی خاطر 50 ہزار پاؤنڈ کے لیے نو بال کرنا صرف لالچ ہے’۔پیٹرسن کا کہنا تھا کہ ‘یہ صرف انگلینڈ کے خلاف لارڈ میں ٹیسٹ میں واپسی کرنے والے عامر کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ تمام دھوکا دینے والوں کے لیے ہے، عامر ان اکثر لوگوں میں سے واحد ہیں جو پکڑے گئے’۔انگلینڈ کے سابق مایہ ناز بلےباز نے سیریز میں پاکستان ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں پی ایس ایل میں شرکت کے بعد ان کے کھیل کی بڑی قدر کرتا ہوں، یہ میرے لیے فخر کی بات تھی کہ انھوں نے اس دورے میں بیٹنگ کنسلٹنٹ کے لیے مجھ سے رابطہ کیا لیکن میں مصروف تھا’۔پاکستان اور انگلینڈ 14 جولائی سے شروع ہونے والی سیریز میں 4 ٹیسٹ ، 5 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلیں گے۔