- الإعلانات -

فٹبال میں بڑی بغاوت، بڑے کلبز کی یورپیئن سپر لیگ کا منصوبہ بے نقاب

عالمی فٹبال میں بڑے بڑے انٹرنیشنل کلبز نے فیفا اور فٹبال کی یورپییئن تنظیموں اور فیڈریشنز سے بغاوت کرتے ہوئے یوئیفا چیمپیئنز لیگ کی ٹکر پر یورپیئن سپر لیگ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جس سے عالمی فٹبال میں نیا بحران پیدا ہو گیا ہے۔یورپ کے 12 بڑے فٹبال کلبز نے یورپیئن سپر لیگ کی بنیاد رکھی ہے جس کا انکشاف ہوا ہے اور ان میں سے کسی بھی کلب کی تنزلی نہیں ہو گی۔

اس لیگ میں ان 12 ٹیموں سمیت مجموعی طور پر 20 ٹیمیں ہوں گی اور بقیہ 8 میں سے پانچ ٹیمیں مقابلے میں کوالیفائی کریں گی۔ان 12 میں سے چھ کلب انگلینڈ کے ہیں جن میں مانچسٹر یونائیٹڈ، لیورپول، چیلسی، مانچسٹر سٹی، آرسینل اور ٹوٹنہم شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسپین کے ریال میڈرڈ، بارسلونا اور ایٹلیٹکو میڈرڈ بھی شامل ہیں جبکہ اٹلی کے اے سی میلان، یوونٹس اور انٹرمیلان بھی منصوبے میں شامل ہیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ جلد جرمنی کے مشہور کلب بھی اس کا حصہ بن جائیں گے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اس لیگ کے تمام میچز ویک اینڈ کے بجائے درمیانی دنوں میں کھیلے جائیں گے جس سے اس کا براہ راست تصادم چیمپیئنز لیگ سے ہو گا اور اس منصوبے کا مقصد اعلیٰ مسابقت کے حامل بڑے کلبز کو زیادہ سے زیادہ میچز کھیلنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

اس لیگ کے یہ 12 بانی اراکین مستقل یورپیئن سپر لیگ کا حصہ رہیں گے اور ان کی کلبز کی کبھی بھی تنزلی نہیں ہو گی۔سب سے دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ تمام کلب اپنے ملک میں لیگ کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے جس سے امید ہے کہ یہ لیگ مقامی سطح پر مقبول رہے گی۔

اس لیگ میں 15 ٹیموں کی تنزلی نہیں ہو گی اور یہی اس لیگ پر سب سے بڑی تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ بقیہ پانچ کلبز سے زیادتی ہو گی اور مسابقت کا عنصر ختم ہو جائے گا۔

مثلاً آرسینل کی ٹیم گزشتہ چار پانچ سال سے مؤثر کن کھیل پیش کرنے سے قاصر ہے اور اسی وجہ سے وہ 17-2016 سے چیمپیئنز لیگ کے لیے بھی کوالیفائی نہیں کرسکی لیکن یورپیئن سپر لیگ میں اچھی یا بری کارکردگی سے قطع نظر ان کی لیگ میں جگہ یقینی ہے اور ان کی تنزلی یا اخراج نہیں ہو گا۔

اسی طرح اگر کوئی ٹیم انگلش پریمیئر لیگ کا ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہتی ہے تو اگر وہ مستقل رکن نہیں تو یہ شاندار فتح بھی اس بات کی ضامن نہیں ہو گی کہ وہ سپر لیگ میں جگہ بنا سکے گی۔

اس لیگ کی بنیاد رکھنے والے تمام کلب اس اقدام کو کھیل کی بقا کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں اور ان میں ریال میڈرڈ کے صدر فلورنٹینو پیرز بھی شامل ہیں۔

فلورنٹینو نے کہا کہ یہ فٹبال کو بچا لے گی کیونکہ متعدد خراب معیار کے میچز کی وجہ سے نوجوان اب اس کھیل میں بددل اور زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے۔تمام بانی اراکین کو ساڑھے تین ارب ڈالر کی مجموعی رقم میں سے مساوی حصہ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے اور یہ سرمایہ کاری جے پی مورگن بینک کررہا ہے۔

اس لیگ کا حصہ بننے کی سب سے بنیادی وجہ پیسہ نظر آتی ہے اور اس بھاری رقم سے ان کلبز کو کافی مالی مدد ملے گی کیونکہ یہ تمام کلب اس وقت شدید قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ناقدین کا ماننا ہے کہ محض اپنی جگہ یقنی بنانے کے لیے مسابقت کا عنصر ختم کرنے سے کھیل اپنی قدر کھو دے گا۔

ابھی تک یہ تجویز پیش کی گئی ہے یہ لیگ ہر سال اگست میں شروع ہو گی اور 20 ٹیموں کو 10، 10 ٹیموں کے دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا، ہر گروپ سے بہترین تین ٹیمیں کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیں گی جبکہ بقیہ دو ٹیموں کو مزید میچز کے بعد اپنی جگہ پکی کرنی ہو گی۔

اس اعلان کے منظر عام پر آنے کے بعد فیفا اور یوئیفا سمیت کھیل کی بڑی عالمی تنظیموں نے یورپیئن ملکوں سے ان تمام کلب پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے لیگ کا منصوبہ بنایا ہے۔

یوئیفا کے صدر الیگزینڈر سیفرین نے تمام کلبز پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے عندیا دیا کہ ایسا اس سال ہی چیمپیئنز لیگ یا یوروپا لیگ میں ہو سکتا ہے۔

ادھر یوئیفا نے انگلش، ہسپانوی اور اطالوی فٹبال لیگز اور فیڈریشنز کے ساتھ مل کر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لیگ میں حصہ لینے والے تمام کلبز پر پابندی اور عدالتی چارہ جوئی سمیت ہر طرح کی پابندی کے نفاذ پر غور کررہے ہیں۔

فیفا کے سربراہ گیانی انفنٹینو نے بھی اس نئی لیگ کے منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان 12 کلبز کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے ان کلبز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تھوڑے اور مختصر فائدے کے لیے آپ بہت کچھ گنوا دیں گے لہٰذا آپ کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ آپ اس لیگ کا حصہ ہیں یا اس سے باہر ہیں۔انفنٹینو نے اس لیگ کی ٹیموں کے ساتھ ساتھ متنازع منصوبے کا حصہ بننے والے کھلاڑیوں پر بھی پابندی لگانے کا اعلان کردیا۔

ادھر برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی اس منصوبے کی مکمل طور پر مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کھیل کے بنیادی اصول ‘مسابقت’ کے خلاف ہے۔

انہوں نے اس مجوزہ منصوبے کو مافیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس اقدام کو کو روکنے کے لیے ضرورت پڑی تو قانون سازی بھی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ شائقین اور فٹبال کے بہترین مفاد میں نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ مافیا کی شکل میں اس طرح کی صورتحال کیسے پیدا کر سکتے ہیں جس میں کلبز کے مابین مقابلہ سازی اور مسابقت کی فضا ختم ہو جائے کیونکہ آپ نے پہلے ہی اپنے اصول طے کر لیے ہیں جو مقابلے کی فضا کی مکمل نفی کرتے ہیں۔

اس منصوبے کے حوالے سے کوچز اور کھلاڑی بھی مختلف آرا رکھتے ہیں اور مانچسٹر سٹی کے منیجر پیپ گارڈیولا نے بھی اس کے حوالے سے کچھ اچھی رائے کا اظہار نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کی فتح یقینی قرار دے دی گئی ہے اور آپ کی فتح یا شکست سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو یہ اسپورٹس ہرگز نہیں ہے ، میں کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ میں ایک کامیاب پریمیئر لیگ چاہتا ہوں بجائے اس کے کہ محض ایک ٹیم سرفہرست رہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوشش اور انعام کے درمیان تعلق ختم ہو جائے تو پھر کھیل، کھیل نہیں رہتا۔

لیسٹر سٹی کے منیجر برینڈن راجرز بھی ناقدین میں شامل ہیں اور انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے لگتا ہے کہ کاروبار کو کھیل پر فوقیت دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ اسپورٹس اور کھیل کا شائقین اور کھلاڑیوں سے براہ راست تعلق ہے اور کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے ان کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی لیگوں کی کامیابی کی وجہ مسابقت ہے کہ جہاں کوئی کم درجے کی ٹیم بھی کسی دن بہترین کھیل پیش کر کے صف اول ٹیم کو شکست دے سکتی ہے لہٰذا اس مقابلے بازی کی فضا کو ختم کرنا کھیل کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔