- الإعلانات -

مصباح الحق نے اپنے ناقدین کو جلی کٹی سنا دیں

لاہور: مصباح الحق نے اپنے ناقدین کو جلی کٹی سنا دیں، ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا خون جلا رہے ہیں، مجھے تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں اپنا سو فیصد کام کرنے کی کوشش کرتا ہوں،۔

مصباح الحق سے پوچھا گیا کہ آپ پر ہمیشہ سخت تنقید ہوتی ہے، شاید کچھ لوگ آپ کو ٹیم کے ساتھ نہیں دیکھنا چاہتے، جواب میں ہیڈ کوچ نے کہا کہ میں نے اپنے کرکٹ کیریئر میں بھی یہی سیکھا ہے کہ ہم محنت کرسکتے ہیں، نتائج ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتے، بطور کوچ مستقبل کے بارے میں پہلے سوچتا تھا نہ اب ایسا کرتا ہوں، صرف جو ہاتھ میں ہو اس میں اپنا سو فیصد کردار نبھاتے ہوئے بہترین کام کرنے کی کوشش کرتا ہوں، تنقید کرنے والے اپنا خون جلا رہے ہیں، مجھے فرق نہیں پڑتا، میں صرف اپنا کام کرتا ہوں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ کرکٹ کمیٹی کا بلاوا صرف ہار یا جیت پر نہیں بلکہ ہر سیریز کے بعد ہونا چاہیے، معاملات میں بہتری کیلیے بات چیت کرتے رہنے میں کوئی حرج نہیں،ہر ٹور کے بعد مثبت اور منفی پہلو دونوں پر تبادلہ خیال ہونا چاہیے۔

کمزور ٹیم زمبابوے کے مقابل کھیلتے ہوئے بھی سست روی سے رنز بنانے کو خوف کا نتیجہ قرار دینے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ میچ کی کنڈیشنز اور صورتحال کو بھی دیکھنا پڑتا ہے، ہرارے کی پچز پر کافی ڈومیسٹک کرکٹ ہوچکی تھی،اس لیے معمول سے زیادہ سست تھیں، بیٹسمینوں کیلیے رنز بنانا آسان نہیں تھا، اگر حریف بولرز بھی ڈسپلن سے بولنگ کریں تو تحمل سے کھیلنا پڑتا ہے،ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں تھوڑی سے جلد بازی دکھانے کا نتیجہ بھی سب کے سامنے ہے،صورتحال کو سمجھنا پڑتا ہے،اس کے باوجود دیکھا جائے تو رن ریٹ اتنا ہی تھا جتنا ہمارا عام طور پر یواے ای میں کھیلتے ہوئے ہوتا تھا۔

مصباح الحق نے کہا کہ بائیو ببل میں زندگی نارمل نہیں، پہلے کیمپ کے دوران بھی اپنی فیملیز سے مل سکتے تھے، اب یہ بھی ممکن نہیں، تیاریوں سے ٹور مکمل ہونے تک بائیو ببل میں ہی رہنا آسان نہیں ہوتا، مشکل صورتحال کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ میں پرفارم کرنے کا دباؤ بھی ہوتا ہے، مشکلات ہیں مگر کھیل سے لگن کی وجہ سے ہمارا جذبہ ماند نہیں پڑتا، سب جانتے ہیں کہ کھلاڑیوں کی بقا اور پرستاروں کی خوشی اسی بات میں ہے کہ کرکٹ جاری رہے، زیادہ وقت ساتھ گزارنے میں کھلاڑیوں کی ہم آہنگی بڑھ گئی ہے،سب ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔