- الإعلانات -

ٹیسٹ کرکٹ دولت کے پجاریوں کو چبھنے لگی

کراچی: ٹیسٹ کرکٹ دولت کے پجاریوں کی آنکھوں میں چبھنے لگی جب کہ نئے فیوچر ٹور پروگرام میں طویل فارمیٹ کے میچز کا حجم مختصر کرنے خطرہ ظاہر کردیا گیا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین گریگ برکلے کہتے ہیں کہ مسلسل بڑھتی ہوئی ڈومیسٹک ٹی 20 لیگز دو طرفہ کرکٹ کو محدود کررہی ہیں، ٹیسٹ کرکٹ ایک دہائی کے عرصے میں اپنے حجم میں کمی کا خطرہ مول لے رہی ہے۔

ہر سال مردوں اور خواتین کا ایک ایونٹ ہوتا ہے اور ٹوئنٹی 20 ڈومیسٹک لیگز کی نشوونما نیچے سے چیزوں کو مجبور کر رہی ہے، اس سے جو چیز کم ہورہی ہے وہ دو طرفہ مقابلے ہیں، ہم ہر چیز کو فٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، کھیل کے تجربے اور ان ممالک میں سے کچھ کے لیے آمدنی کے نقطہ نظر سے کچھ بدقسمتی سے نتائج برآمد ہوں گے جنھیں وہ کرکٹ کی وہ مقدار نہیں ملے گی جس کی وہ امید کر سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ میں 10-15 سالوں میں میں اب بھی ٹیسٹ کرکٹ کو کھیل کا لازمی حصہ بنتا ہوا دیکھ رہا ہوں، ہو سکتا ہے کہ اس میں کمی ہو۔ برکلے نے عندیہ دیاکہ عالمی کرکٹ کے ” 3 بڑے ” بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ بڑی حد تک ٹیسٹ کرکٹ میں ایڈجسٹمنٹ سے متاثر نہیں ہوں گے، کچھ ممالک کو جگہ بنانا پڑ سکتی اور کم ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا پڑ سکتی ہے، کچھ چھوٹے مکمل ممبران کو یہ قبول کرنا پڑے گا کہ وہ اتنی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکتے جو وہ چاہتے ہیں، لہذا ہم اس میں کمی دیکھ سکتے ہیں۔

برکلے نے کہا کہ آئی سی سی خواتین کی کرکٹ میں طویل فارمیٹ کو نمایاں رفتار سے تیار ہوتے نہیں دیکھ رہی ہے،ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے لیے آپ کے پاس مقامی طور پر ڈھانچے کا ہونا ضروری ہے جو آپ کو طویل طرز کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دیتا ہے اور اس وقت وہ کسی بھی ملک میں موجود نہیں ہیں، انھوں نے مزید کہاکہ اگر آپ اسٹریٹجک انداز میں دیکھیں کہ کرکٹ جس طرح جا رہی ہے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وائٹ بال کرکٹ مستقبل کا راستہ ہے۔