- الإعلانات -

پاکستان میں اسکواش کی قسمت بدلنے کا عزم کیا ہے۔ جان شیر خان

سابق عالمی نمبر ایک جان شیر خان نے پاکستان میں اسکواش کی قسمت بدلنے کا عزم کیا ہے۔

جمعرات کو پاکستان اسکواش فیڈریشن کے صدر کے مشیر مقرر ہونے والے جان شیر نے کہا ’ پاکستان کے پاس اسکواش میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے۔مہارت کے اعتبار سے ہمارے کھلاڑیوں کا ثانی نہیں لیکن ان کی جسمانی فٹنس عالمی معیار تک نہیں پہنچی‘۔ورلڈ اوپن ریکارڈ آٹھ مرتبہ اور برٹش اوپن چھ مرتبہ اپنے نام کرنے والے جان شیر نے بتایا کہ پی ایس ایف صدرسے ملاقات میں انہوں نے ملک میں اسکواش کا معیار بحال اور بہتر بنانے کے ایک منصوبے پر تبادلہ خیال کیا۔’منصوبہ میں بہتر تنظیم اور نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ دوبارہ عالمی سطح پر پہنچنے کیلئے مزید کوششیں کرنا بھی شامل ہے‘۔یاد رہے کہ ماضی میں اسکواش پر راج کرنے والے پاکستان نے 1997 کے بعد سے کوئی برٹش اوپن ٹائٹل نہیں جیتا اس کے علاوہ پاکستانی کھلاڑی 1997 کے بعد ٹاپ ٹین میں جگہ بنانے میں ناکام رہے۔اس وقت پاکستان میں کوئی ایسا کھلاڑی نہیں جو برٹش اوپن کے مرکزی ڈرا میں کوالی فائی کر سکے۔تاہم، ان حالات کے باوجود جان شیر کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس وہ تمام لوازمات موجود ہیں جو اسے ایک بار پھرا سکواش میں بڑا نام بنا سکے۔’ہمارے پاس بے پناہ ٹیلنٹ ہے لیکن ہمیں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم جلد ہی اسکواش چیمپئنز پیدا کرنے لگیں گے‘۔انہوں نے بتایا کہ وہ اسلام آباد میں جاری چیف آف سٹاف انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں پر نظر رکھیں گے۔’میں نے ان کا کھیل دیکھنے کیلئے یہاں رکنے کا فیصلہ کیا ہے۔میں پورے ٹورنامنٹ میں ان کا مشاہدہ کروں گا اس سے مجھے معلوم ہو گا کہ ان میں کہاں کہاں خامی ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ان کی توجہ فرحان محبوب، ناصر اقبال، وقار محبوب اور عامر اطلس کے علاوہ ملکی اسکواش اکیڈمیوں کے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں پر ہو گی۔’ہمارے پاس لاہور، کراچی اور پشاور میں اچھی اکیڈمیاں ہیں، جہاں سے ہم مستقبل کے چیمپئن تلاش کر سکتے ہیں‘۔46 سالہ لیجنڈری کھلاڑی نے بتایا کہ وہ دو معاونین کے ساتھ کام کریں گے جو ان کی نگرانی میں کھلاڑیوں کا تربیتی پروگرام بنائیں گے۔’میں ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہفتہ میں ایک مرتبہ خود کھلاڑیوں کی تربیت کروں گا‘۔ سکوائش کا کھیل تسلسل کے ساتھ سخت محنت اور تربیت کا تقاضا کرتا ہے۔اس کھیل میں لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں اپنے کھلاڑیوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر سخت بنانا ہو گا‘۔