- الإعلانات -

انڈیا نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ہرجانے کا مطالبہ کریں گے۔ شہریار خان

کولکتہ: پاکستانی کرکٹ حکام نے دوطرفہ سیریز کے معاملے پر ہندوستانی بورڈ کے ہاتھوں یرغمال بننے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انڈیا نے سیریز کیلئے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ہم ہرجانے کا مطالبہ کریں گے۔چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریار خان نے ہندوستان کی جانب سے پاکستان سے سیریز منسوخ کرنے کے حوالے سے کہا کہ میں نہیں مانتا کہ ہندوستانی بورڈ ہمیں یرغمال بنا رہا ہے۔’لیکن اگر ہندوستان اپنے دستخط کردہ معاہدے کی یادداشت کی پاسداری نہیں کرتا تو ہم اس بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں‘۔تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ یہ ردعمل کس طرز کا ہو سکتا ہے۔پاکستان اور ہندوستان نے گزشتہ سال ایک معاہدے کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے تحت روایتی حریفوں کو 2015-2023 تک آٹھ دوطرفہ سیریز کھیلنی ہیں جس میں سے پہلی سیریز رواں سال دسمبر میں متحدہ عرب امارات میں شیڈول ہے۔ایک طرف ہندوستانی کرکٹ حکام پاکستان پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام عائد کر کے کرکٹ روابط بحال کرنے سے انکاری ہیں تو دوسری جانب ہندوستانی حکومت نے بھی ابھی تک سیریز کیلئے بورڈ کو کلیئرنس نہیں دی ہے۔ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے سربراہ جگموہن ڈالمیا کے انتقال کی تعزیت کیلئے کولکتہ میں موجود شہریار خان نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر بی سی سی آئی معاہدے سے مکرتا ہے تو پاکستان ہرجانے کا مطالبہ کرے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں مالی اور دیگر بنیادوں پر نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، سیریز ایک معاہدہ ہے اور اگر یہ نہیں ہوتی تو ہرجانے کا مطالبہ کرنے میں ہرج نہیں۔ادھر دوسری جانب بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے دبئی میں ہونے والی آئی سی سی کانفرنس کے موقع پر اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔لیکن انوراگ ٹھاکر نے کہا تھا کہ حتمی فیصلے کا اختیار ہندوستانی حکومت کے پاس ہے۔دو ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز رواں سال دسمبر میں متحدہ عرب امارات میں شیڈول ہے۔گورداسپور میں رواں سال جولائی میں پولیس اسٹیشن پر مسلح افراد کے حملے میں تین شہریوں اور چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے ہندوستانی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے پاکستان سے کسی بھی قسم کے کرکٹ روابط کو خارج از امکان قرار دے دیا تھا۔ہندوستان نے الزام عائد کیا تھا کہ دہشت گرد پاکستان سے ان کے ملک میں داخل ہوئے۔شہریار آئندہ ہفتے آئی سی سی کے اجلاس میں اس معاملے پر انوراگ ٹھاکر سے ہی ملاقات کریں گے جو اپنے سابقہ بیان میں کہہ چکے ہیں کہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بعد کسی کو پاکستان سے سیریز کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔انہوں نے کہا تھا کہ میں مذاکراتی عمل کے خلاف نہیں لیکن اگر اسی کے ساتھ ساتھ اگر اچھے تعلقات نہ ہوں تو اچھی کرکٹ بھی نہیں کھیلی جا سکتی۔تاہم اس کے باوجود چیئرمین پی سی بی سیریز کے انعقاد کیلئے پرامید ہیں۔’بنیادی اور سیدھی سی بات یہ ہے کہ پی سی بی اور بی سی سی آئی نے معاہدے کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس میں ہم نے آئندہ آٹھ سال میں چھ دوطرفہ سیریز کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومتی رضامندی تک انتظار کرنے کی ان کی درخواست مناسب ہے کیونکہ معاہدہ پر دستخط اور منظوری سابقہ حکومت میں ہوئی۔شہریار خان نے باور کرایا کہ ابھی تک بی سی سی آئی میں سے کسی نے دورہ منسوخ نہیں کیا تاہم ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دسمبر میں سیریز کے انعقاد کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔’وقت بہت کم رہ گیا ہے لہٰذا بی سی سی آئی جلد از جلد اس مسئلے پر واضح جواب دے‘۔تاہم ہندوستان کی جانب سے معاہدے کی لاج نہ رکھنے پر شہریار نے کہا کہ ہم کسی مالی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے اور دوسرے بہتر آپشنز پر غور کریں گے کیونکہ گزشتہ آٹھ سال سے بھی ہندوستان سے اپنے ہوم گراؤنڈ کھیلے بغیر جی رہے ہیں۔