- الإعلانات -

پاکستان کے بعد بنگلہ دیش بھی انٹرنیشنل کرکٹ بحران کی زد میں.

ڈھاکا: آسٹریلوی ٹیم کا دورہ ملتوی ہونے کے زخم ابھی تازہ ہی ہیں کہ بنگلہ دیش پریمیر لیگ میں بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت مشکل دکھائی دینے لگی ، کھلاڑیوں نے اپنی حفاظت کیلئے ڈھاکہ آنے سے قبل فول پروف وی آئی پی سکیورٹی طلب کرلی مذکورہ حالات میں آئندہ برس انڈر 19ورلڈ کپ کے انعقاد بھی مشکوک دکھائی دینے لگا ہے پاکستان کی طرح بنگلہ دیش میں بھی انٹرنیشنل کرکٹ بحران کی زد میں آگیا ، آسٹریلوی ٹیم کا دورہ ملتوی ہونے کے زخم ابھی تازہ ہی ہیں کہ بنگلہ دیش پریمیر لیگ میں بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت مشکل دکھائی دینے لگی ، کھلاڑیوں نے اپنی حفاظت کیلئے ڈھاکہ آنے سے قبل فول پروف وی آئی پی سکیورٹی طلب کرلی ، مذکورہ حالات میں آئندہ برس انڈر 19ورلڈ کپ کے انعقاد بھی مشکوک دکھائی دینے لگا ہے ۔تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی ٹیم کے دورے سے انکارنے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو مشکل میں ڈال دیا، نومبر میں پریمیئر لیگ کرانے کا پروگرام اس سے بْری طرح متاثر ہوسکتا ہے، آئندہ برس انڈر19 ورلڈ کپ کی بنگلہ دیشی میزبانی بھی خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے،غیرملکی پلیئرزڈھاکا آنے سے قبل اپنی حفاظت یقینی بنانے کیلئے حکام سے مطالبہ کردیا ہے سکیورٹی مسائل کے سبب غیرملکی کرکٹرز کے آنے سے انکار نے بنگلہ دیش بورڈ کو دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے،مستقبل میں آنے والی تمام ٹیمیں اب وی وی آئی پی سکیورٹی طلب کرنے لگے ، یہ صورتحال بی سی بی کیلیے خاصی پریشان کن ہے ، اس کیلئے آنے والی ٹیموں کا اعتماد بحال کرنا خاصا مشکل ہوگا۔ آسٹریلوی ٹیم کے دورے سے انکار پر بورڈ کو بڑے مالی خسارے کا بھی سامنا ہے، بی سی بی نے سیریز کے نشریاتی حقوق ملکی چینل غازی ٹی وی کو فروخت کیے تھے، وہ بھی نئی صورتحال میں مالی ازالے کیلیے بی سی بی کی جانب نگاہیں مرکوز کیے ہوئے ہے۔بنگلہ بورڈ نے اسٹیڈیم کے اندر بھی دیگر کمرشل معاہدے کرلیے تھے، اس کی منسوخی پر بھی مالی نقصان ہوگا، ادھر بنگلہ دیشی کرکٹرز نے بھی انٹرنیشنل سیریز ختم ہونے کے بعد ہفتے سے شروع ہونے والے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس میچز پر توجہ مرکوز کرلی، کپتان مشفیق الرحیم، تمیم اقبال اور شکیب الحسن بھی اپنی ریاستی ٹیموں کے لیے خدمات انجام دیں گے۔