- الإعلانات -

معین علی پاکستانی ٹیم کیلئے خطرے کی گھنٹی.

انگلینڈ اور پاکستان اے ٹیم کے درمیان دو روزہ ٹور میچ کا ڈرا پر اختتام ہوا لیکن معین علی نے میچ کی واحد اننگ میں اپنی باؤلنگ سے پاکستانی ٹیم کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔انگلش ٹیم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے میچ کے ابتدائی دن بھرپور بیٹنگ پریکٹس کی، کپتان ایلسٹر کک 53، جو روٹ 59، جونی بیئراسٹو 66 اور عادل راشد 51 رنز بنا کر نمایاں رہے۔انگلینڈ نے میچ کے پہلے دن پورے 90 اوورز بیٹنگ کرتے ہوئے 286 رنز بنائے جبکہ پاکستان اے کی جانب سے ظفر گوہر تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے۔میچ کے دوسرے دن کے آغاز میں انگلینڈ نے بیٹنگ ڈکلیئر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان اے ٹیم کے خلاف اپنے باؤلرز کو پریکٹس کا موقع فراہم کیا۔پاکستانی اے ٹیم 36 رنز پر تین وکٹیں گنوا کر شدید مشکلات سے دوچار تھی جس کا سہرا معین علی کے سر رہا جنہوں نے خرم منظور اور علی اسد کو پویلین لوٹایا جبکہ اس سے قبل مارک وُڈ سمیع اسلم کو آؤٹ کر چکے تھے۔اس موقع پر فواد عالم اور افتخار احمد نے ذمے دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور چوتھی وکٹ کیلئے 112 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کو بحران سے نکالا۔ایک بار پھر انگلش کپتان نے معین علی کو باؤلنگ کیلئے طلب کیا جنہوں نے کپتان کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے 55 رنز بنانے والے فواد عالم کی اننگ کا خاتمہ کردیا جبکہ عثمان صلاح الدین آؤت ہونے والے آخری کھلاڑی تھے جو نو رنز بنانے کے بعد جیمز اینڈرسن کا شکار بنے۔ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے فائنل میں پشاور ریجن کی نمائندگی کرتے ہوئے کراچی بلوز کے خلاف 57 رنز کی فتح گر اننگ کھیلنے والے افتخار احمد نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہوئے مشکل وقت میں ناقابل شکست 92 رنز کی شاندار باری کھیلی۔جب دوسرے دن 90 اوورز کی تکمیل پر میچ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تو پاکستان اے ٹیم نے پانچ وکٹ پر 216 رنز بنائے تھے اور اننگ کے دوران بیٹنگ کیلئے موزوں وکٹ پر پاکستانی بلے بازوں کی سست بلے بازی ایک بار پھر کئی سوالات کو جنم دے گئی ہے۔تاہم اس میچ میں سب سے حیران کن پہلو مصباح الحق کی شمولیت تھی جنہیں بیٹنگ پریکٹس کیلئے انگلینڈ کیخلاف ٹور میچ کا حصہ بنایا گیا لیکن انہوں نے ٹیم کی مشکل صورتحال کے باوجود بیٹنگ کیلئے آنے کی زحمت گوارا نہ کی۔معین علی نے توقعات کے عین مطابق اسپن وکٹ پر خود خطرناک ثابت کرتے ہوئے میزبانی ٹیم کے بلے بازوں کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہوئے تین کھلاڑیوں کا شکار کیا اور ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔عادل راشد بحیثیت باؤلر تو زیادہ کارکردگی ثابت نہ ہو سکے لیکن بلے سے 51 رنز کی اننگ کی بدولت وہ خود ایک بار پھر آل راؤنڈر ثابت کرنے میں کامیاب رہے جبکہ جو روٹ نے ذمے دارانہ اننگ کھیل کر ایک بار پھر خود کو ورلڈ کلاس بلے باز ثابت کیا۔انگلش ٹیم آٹھ اکتوبر کو شارجہ میں پاکستان اے کے خلاف ایک اور دو روزہ پریکٹس میچ کیلئے میدان میں اترے گی جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان 13 اکتوبر سے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز ہو گا۔