- الإعلانات -

سیکریٹری پی ایچ ایف اولمپئین شہباز سینئر پر انگلیاں اٹھنے لگیں

اولمپیئن شہباز سینئر کو پاکستان ہاکی کے چند بڑے ناموں میں شمار کیا جاتا ہےالبتہ بحیثیت سیکریٹری کا عہدہ سنبھالنے والے شہباز سینئر کی موجودگی میں پاکستان ہاکی کی مشکلات کم نہیں ہو سکی ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو کھیلنے کے مواقع ملنا اب انتہائی کم ہو چکے ہیں،لندن چیمپینز ٹرافی میں ہالینڈ کے انکار کے بعد پاکستان کو شرکت کا دعوت نامہ ملا تو شہباز سینئر نے مالی مشکلات کا رونا روتے ہوئے ٹیم بھیجنے سے معذرت کر لی البتہ انہوں نے اپنے دوست اولمپئین کامران اشرف کو جونیئر ٹیم کے ساتھ چار ماہ کے دورے پر آسٹریلیا روانہ کر نے کیساتھ اپنے ہم زلف اولمپئین طاہر زمان کو ایشین ہاکی فیڈریشن کے کوچنگ کورس کے لئے بھیجنے میںذرا سوچ بیچار نہیں کی۔

اولمپئین سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ شہباز سینئر کے آنے کے بعد جو امیدیں تھیں ،اس حوالے سے ابھی تک حوصلہ افزاء نتائج کا نہ آنا تشویش کی بات ہے۔شہبازسینئر پر اس حوالے سے بھی تنقید ہو رہی ہے کہ ان کے آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان ہاکی میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس حوالے سے پی ایچ ایف کو سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔اولمپیئن سمیر حسین جو قومی ہاکی ٹیم کے کوچ کی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں ،ان کا خیال ہے کہ آزمائے ہوئے لوگوں کو باریاں دینے کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔

ادھر دوسری طرف ہاکی کے حلقوں میں عبدالستار ہاکی اسٹیڈیم کراچی میں ہاکی کی بقاء کے نام پر ہو نے والے میوزیکل کنسرٹ پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ سال اسی اسٹیڈیم میں ایک پروگرام کے دوران بلیو آسٹروٹرف پر موٹر سائیکل چلائے جانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد شہباز سینئرکا یہ کہنا ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ،حیران کن تھا۔

اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ عبدالستار ہاکی اسٹیڈیم کراچی میں ہاکی کی رونقیں کھیل سے بحال ہوںگی یا پھر ان باتوں سے جن سے ہاکی کا کوئی تعلق نہیں۔