- الإعلانات -

بگ تھری؛ بھارتی دعوے کا ایک اور پول کھل گیا

کولکتہ: بگ تھری کے حوالے سے بھارتی دعوے کا ایک اور پول کھل گیا۔

آئی سی سی کی جانب سے نئے فنانشل ماڈل کی تجویز سامنے آنے کے بعد سے ہی بھارت نے شور مچایا ہوا تھا کہ اس کے حصے میں 570 ملین ڈالر آتے تھے جس میں بہت زیادہ کٹوتی کردی گئی،وہ کسی بھی صورت میں اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

بی سی سی آئی کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ بڑی رقم اسے ملنے والی تھی جو اب نہیں دی جا رہی، مگر اسی کے ملک سے تعلق رکھنے والے آئی سی سی چیئرمین ششانک منوہر نے انکشاف کیاکہ 2014 میں جس بگ تھری فارمولے کی منظوری دی گئی وہ کبھی حقیقت بنا ہی نہیں تھا، اس پر عملدرآمد 2016 میں شروع ہونا تھا مگر جب میں چیئرمین بنا تو ممبران کی اکثریت نے اس کی مخالفت کردی جس کے باعث کبھی عمل ہوہی نہیں سکا۔

ششانک منوہر نے کہا کہ بھارت کو ہم نے جو 100 ملین ڈالر اضافی دینے کی پیشکش کی وہ اب بھی برقرار اور وہ مجموعی طور پر 390 ملین ڈالر حاصل کرسکتا ہے۔ آئی سی سی کی خالص آمدنی 1.8 بلین ڈالر ہے، اس میں بھارت کا حصہ 21.5 فیصد بنتا ہے، دوسرے نمبر پر سب سے بڑا حصہ لینے والے انگلینڈ کو بھی صرف 7 فیصد ملے گا، اس طرح بھارتی بورڈ انگلینڈ سے 15 بلین روپے زیادہ حاصل کرے گا کیا یہ کم رقم ہے؟ انھوں نے کہا کہ ہم آئی سی سی کی کمائی میں بھارت سے آنے والے حصے کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمیں اس رقم کو برابری کی بنیاد اور اچھی گورننس کیلیے تقسیم کرنا ہے۔

چیئرمین ششانک منوہر نے استعفیٰ واپس لینے اور اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے کے حوالے سے کہا کہ مجھ پر کوئی دباؤ نہیں تھا مگر اب میں انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے مزید کام کرنا چاہتا ہوں، مجھے یقین ہے کہ اگلے 13 ماہ کے دوران آپ انٹرنیشنل لیول پر کھیل کو زیادہ بہتر حالت میں پائیں گے۔