- الإعلانات -

علیم ڈار کو امپائرنگ سے ہٹانے کا فیصلہ آئی سی سی کی نااہلی ہے،سابق کرکٹرز

اسلام آباد : سابق کرکٹرز نے امپائر علیم ڈار کو بھارت جنوبی افریقہ کی ون ڈے سیریز میں امپائرنگ سے ہٹنے کے فیصلے کو آئی سی سی کی نااہلی قرار دیا ۔ آئی سی سی اگر بھارت جنوبی افریقہ کی سیریز میں اپنے آفیشل کو تحفظ نہیں دے سکتی تو وہ آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2016 میں اپنے آفیشل کو کیا تحفظ دے گی ۔ سابق کرکٹر محسن حسن خان نے کہا کہ پی سی بی چیئرمین اور پی سی سی آئی چیئرمین کو ملاقات کے مواقع پر شیوسینا کی طرف سے بھارتی کرکٹ بورڈ پر جو حملہ ہوا ہے وہ بہت افسوس ناک ہے انہوں نے کہا کہ علیم ڈار کے حوالے سے آئی سی سی اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ وہ فیصلہ کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ امپائر علیم ڈار کو بھارت کی سیریز سے ہٹا کر واپس بلانا بہت افسوس ہوا ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو بھارت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہئے دنیا میں دیگر ممالک بھی ہیں جن کے ساتھ کرکٹ کھیل جا سکتی ہے ۔ سابق کرکٹرز وسیم اکرم اور شعیب اختر کی طرف سے بھارت جنوبی افریقہ سیریز کمنٹری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمنٹیٹروں کو بھارت کمنٹری کے لئے نہیں جانا چاہئے کیونکہ پاکستانی کھلاڑیوں کو آر پی ایل میں کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ دانش کنریا نے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امپائر علیم ڈار کو بھارت جنوبی افریقہ کی سیریز سے امپائرنگ کرنے سے روکنے کے فیصلے کو آئی سی سی کی کمزوری قرار دیا انہوں نے کہا کہ علیم ڈار کو بھارت میں امپائرنگ سے روکنا آئی سی سی کی نااہلی ہے انہوں نے کہا کہ جس میں اگر کھلاڑیوں اور آئی سی سی کے آفیشلز کو تحفظ نہیں ہے تو وہاں پر کرکٹ کے ایونٹ نہیں ہونے چاہئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھارت نہیں جانا چاہئے اور بار بار ان کی منتیں سماجت نہیں کرنی چاہئے اس سے پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے جبکہ باقی ممالک بھی موجود ہیں ۔ ان کے ساتھ کرکٹ کھیلی جا سکتی ہے ۔ سابق کرکٹر اقبال قاسم نے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی نے اپنے امپائر علیم ڈار کو تحفظ نہ دے کر اپنی کمزوری ظاہر کر دی ہے جبکہ ان کو چاہئے تھا کہ وہ بھارتی کرکٹ بورڈ سے کہتے کہ وہ ان کے آفیشل کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح کی موجودہ صورت حال بھارت میں ہے کو آئندہ سال ہونے والی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارتی کرکٹ بورڈ اور حکومت کھلاڑیوں کو وہاں پر کیا تحفظ دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں اور آفشلز کا تحفظ کرنا بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ اگر چاہے تو کھلاڑیوں اور آفشلز کو تحفظ دے سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ اور ہند انتہا پسندوں کے حملے سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کی حکومت نے جان بوجھ کر بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر میں حفاظتی انتظامات ٹھیک طریقے سے نہیں کئے ۔ انہوں نے کہا کہ انتطامیہ نے غیر مناسب سیکورٹی کا انتظام کیا تھا جس کی وجہ سے شیوسینا کے غنڈوں نے ان کے دفتر پر حملہ کیا انہوں نے کہا کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔